جنابِ سیدنا حضرت امیر حمزہ رضی اﷲ عنہ

(Tanzila Bakhshi, )

تحریر : ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ
سید الشہداء کا نام مبارک آسمان پر لکھا ہوا ہے سیدنا امیر حمزہ رضی اﷲ عنہ رسول خدا صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے شیر ہیں سید الشہدا ء حضرت سیدنا امیر حمزہ رضی اﷲ عنہ کو شرفِ صحابیت کے ساتھ ساتھ رحمۃ للعالمین صلی اﷲ علیہ والہ وسلم سے نسبت قرابت بھی حاصل ہے اور رشتہ رضاعت بھی آپ نسبی رشتہ کے لحاظ سے حضوراکرم صلی اﷲ علیہ والہ وسلم کے چچا جان اور دودھ کے لحاظ سے رضاعی بھائی بھی تھے۔ حضرت سیدنا امیر حمزہ رضی اﷲ عنہ بہادر، سخی ، نرم مزاج والے ، خوش اخلاق، قریش کے دلاور جوان اور غیر ت مندی میں انتہائی بلند مقام کے مالک تھے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم نے جو پہلا جھنڈا تیار کیا وہ سید الشہداء ہی کے لئے تھا۔ جب 2 ھ 623 میں حضور سید عالم صلی اﷲ علیہ والہ وسلم نے انہیں قوم جہینہ کے علاقے سیف البحر کی طرف(ایک دستے کے ہمراہ) بھیجا ’’رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم کے حکم پر آپ پہلے تلوار چلانے والے تھے جن کے سر پر جھنڈا تھا ،آپ کا اسم گرامی : سیدنا امیر حمزہ ، کنیت: ابوعمارہ ، لقب : اسد اﷲ و اسد رسول اﷲ ، سلسلہ نسب اس طرح ہے:
سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب لوئی بن غالب (الیٰ آخرہ ) ، والدہ کا اسم گرامی : ہالہ بنت وہب بن عبد مناف بن زہرہ۔حضرت ہالہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ والہ وسلم کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رضی اﷲ عنہا کی چچازاد بہن تھیں۔سیدنا امیر حمزہ رضی اﷲ عنہ نبی اکرم صلی اﷲ علیہ والہ وسلم کے چچا اور رضاعی بھائی ہیں۔ ابولہب کی آزاد کردہ کنیز ثوبیہ رضی اﷲ عنہا نے ان دونوں ہستیوں کو دودھ پلایا تھا۔ حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ کی عمر نبی اکرم صلی اﷲ علیہ والہ وسلم سے دو سال یا چار سال زیادہ تھی۔بعثت کے دوسرے سال اسلام لائے
اسلام لانے کے دن انہوں نے سنا کہ ابو جہل نبی مکرم صلی اﷲ علیہ والہ وسلم کی توہین کہہ رہا ہے تو انہوں نے حرمِ مکہ میں اس کے سر پر اس زور سے کمان ماری کہ اس کا سر پھٹ گیا ، اور حضرت سیدنا امیرحمزہ رضی اﷲ عنہ نے نبی مکرم صلی اﷲ علیہ والہ وسلم سے گزارش کی آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے دین اسلام کا کھل کر پر چار کیجئے
اﷲ تعالیٰ کی قسم !
مجھے دنیا بھر کی دولت بھی دی جائے تو میں اپنی قوم کے دین پر رہنا پسند نہیں کروں گا ،
آپ سیدنا امیر حمزہ رضی اﷲ عنہ کے اسلام لانے سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم کو تقویت حاصل ہوئی مشرکین آپ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم کی ایذا رسانی سے کسی حد تک رک گئے بعد ازاں ہجرت کرکے مدینہ منورہ چلے گئے۔
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : گزشتہ شب جب میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ (حضرت) جعفر طیار رضی اﷲ عنہ جنت میں فرشتوں کیساتھ پرواز کر رہے ہیں اور سید الشہداء امیر حمزہ رضی اﷲ عنہ ایک عظیم تخت پر ٹیک لگائے بیٹھے ہیں(المستدرک للحاکم ، حدیث 4878)
حضرت علی مرتضی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے :
جس دن اﷲ تعالیٰ تمام مخلوق کو جمع فرمائے گاان میں سب سے افضل انبیاء و مرسلین ہی رہیں گے اور رسولوں کے بعد سب سے افضل شہداء کرام ہوں گے اور یقینا شہداء کرام میں سب سے افضل سید الشہداء سیدنا امیر حمزہ رضی اﷲ عنہ ہوں گے ،
بحوالہ جامع الاء حادیث للسیوطی ، حدیث4003
حضرت جابررضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن اﷲ تعالی کی بارگاہ میں سید الشہداء جنابِ امیر حمزہ رضی اﷲ عنہ بن عبدالمطلب شفاعت کرنے والوں کے سردار ہیں بحوالہ مستدرک للحا کم صحابہ کرام ؓ نے فرمایا:
جب سیدنا امیر حمزہ رضی اﷲ عنہ شہید ہوئے تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم ارشاد فرمانے لگے :آپ کی جدائی سے بڑھ کر میرے لئے کوئی اور صدمہ نہیں ہو سکتا،پھر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا اور اپنی پھوپھی جان حضرت صفیہ رضی اﷲ عنہا سے فرمایا :خوش ہو جاؤ ! ابھی جبریل امین علیہ السلام میرے پاس آئے تھے انہوں نے مجھے خوشخبری سنائی ہے کہ حضرت سید الشہداء امیرحمزہ رضی اﷲ عنہ کا نام مبارک آسمان والوں میں لکھا ہوا ہے،سیدنا امیر حمزہ رضی اﷲ عنہ رسول صلی اﷲ علیہ والہ وسلم کے شیر ہیں(المستدرک للحا کم ،حدیث4869)غزوہ احد میں آپ نے 31 مشرکوں کوجہنم رسید کیا،پھر آپ کا پاؤں پھسلاتو آپ تیر اندازوں کی پہاڑی کے پاس واقع وادی میں پشت کے بل گر گئے ،زرہ آپ کے پیٹ سے کھل گئی ، جبیر بن مطعم کے غلام وحشی بن حرب نے کچھ فاصلے سے خنجر پھینکا
اور اﷲ تعالیٰ نے اس کے ہاتھوں آپ سیدنا امیر حمزہ رضی اﷲ عنہ کو سید الشہداء کے مرتبہ شہادت سے سرفراز فرمایا۔بعد ازاں مشرکین نے آپ کے اعضاء کاٹے اور پیٹ چاک کیا ایک عورت نے آپ کا جگر نکال کر چبایالیکن اسے اپنے حلق سے نیچے نہ اتار سکی ناچار اسے تھوک دیا ،جب رسول صلی اﷲ علیہ والہ وسلم کو یہ اطلاع ملی
تو آپ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم نے فرمایا :اگر یہ جگر اس کے پیٹ میں چلا جاتا تو وہ عورت آگ میں داخل نہ ہوتی۔کیونکہ اﷲ تعالی کی بارگاہ میں میرے سید الشہداء امیر حمزہ رضی اﷲ عنہ کی اتنی عزت ہے کہ ان کے جسم کے کسی حصے کو آگ میں داخل نہیں فرمائے گا۔
جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم تشریف لائے اور سیدنا سید الشہداء کے مسل کیے ہوئے جسم کو دیکھاتو یہ منظر آپ کے دل اقدس کے لئے اس قدر تکلیف دہ تھاکہ اس سے زیادہ تکلیف دہ منظر آپ کی نظر سے کبھی نہیں گزرا تھانبی مکرم صلی اﷲ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اے چچا سیدنا امیر حمزہ رضی اﷲ عنہ آپ پر اﷲ تعالیٰ کی رحمت ہو،کیونکہ آپ رضی اﷲ عنہ جب تک عمل کرتے رہے بہت نیکی کرنے والے اور بہت صلہ رحمی کرنے والے تھے۔پھر ان کے جسد مبارک کو قبلہ کی جانب رکھااور ان کے جنازے کے سامنے کھڑے ہوئے اور اس شدت سے روئے کہ قریب تھا آپ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم پر غشی طاری ہو جاتی ،نبی کریم صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فرما رہے تھے اے اﷲ کے رسول کے چچا اﷲ اور اس کے رسول کے شیر اے امیر حمزہ رضی اﷲ عنہ! اے نیک کام کرنے والے ! امیر حمزہ رضی اﷲ عنہ! مصیبتوں کو دور کرنے والے اے امیر حمزہ رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم کا دفاع کرنے والے یہ بھی فرمایا ہمارے پاس جبرائیل تشریف لائے اور ہمیں بتایا کہ حضرت سیدنا امیر حمزہ رضی اﷲ عنہ کے بارے میں ساتوں آسمانوں میں لکھا ہوا ہے: ’’امیر حمزہ رضی اﷲ عنہ بن عبدالمطلب ، اﷲ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ والہ وسلم کے شیر ہیں ‘‘نبی اکرم صلی اﷲ علیہ والہ وسلم نے انہیں ایسی چادر کا کفن پہنایا کہ جب اسے آپ کے سر پر پھیلاتے تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور پاؤں پر پھیلاتے تو سر ننگا ہو جاتا ، چنانچہ وہ چادر آپ کے سر پر پھیلا دی گئی اور پاؤں پر اذخر ( خوشبودار گھاس ) ڈال دی گئی ، انہیں ایک ٹیلے پر دفن کیا ،چالیس سال کے بعد شہداء احد کی قبریں کھولی گئیں تو ان کے جسم تر و تازہ تھے ان کے ہاتھ پاؤں مڑ جاتے تھے اور ان کی قبروں سے کستوری کی خوشبو آتی تھی ،حضرت امیر حمزہ رضی اﷲ عنہ کے پاؤں پر کدال لگ گیا تو اس سے خون بہنے لگا ،حضرت جابر رضی اﷲ عنہ کے والد ماجد( حضرت عبداﷲ انصاری رضی اﷲ عنہ ) کا ہاتھ چہرے کے زخم سے ہٹایا گیا تو وہاں سے خون بہنے لگا، ہاتھ دوبارہ اسی جگہ رکھ دیا گیا تو خون بند ہوگیا ،نبی کریم صلی اﷲ علیہ والہ وسلم نے شہداء احد کے بارے میں فرمایا کہ جو شخص قیامت تک ان کی زیارت کرے گااور ان کی خدمت میں سلام عرض کرے گا تو وہ اسے خود جواب دیں گے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 153 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanzila Bakhshi

Read More Articles by Tanzila Bakhshi: 16 Articles with 12608 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ