تیسری جنگ عظیم کے محرکات! اور ترکی! (دوسرا حصہ)

(Malik Shafqat Ullah, Jhang)

ترکی ایک یوریشیائی ملک ہے جو جنوب مغربی ایشیاء میں جزیرہ نما اناطولیہ اور جنوبی مشرقی یورپ کے علاوہ بلقان تک پھیلا ہوا ہے۔ منگولوں کے حملہ آور ہونے کے بعد ترک قبائل نے کبھی سلجوق سلطنت کے ساتھ ،کبھی بازنطینیوں کے ساتھ تو کبھی برقعے ہان کے ساتھ مل کر منگولوں کو شکست سے دوچار کیا اور پھر ایک نئی سلطنت کاقیام سلطنت عثمانیہ کے نام سے وجود میں آیا، جس نے دنیا پر قریب چھ صدیوں سے زائد راج کیا، اورسولہویں اور سترہویں صدی میں دنیا کی طاقت ور ترین سیاسی قوت تھی۔ترکی کا جزیرہ نما علاقہ اناطولیہ قدیم ترین آباد زمینوں میں سے ایک ہے جس نے بالترتیب، کانسی، لوہے، بازنطینیوں، سلجوقوں اور عثمانی دور دیکھے ہیں، اور عثمانی دور کے 1923 میں اختتام کے بعد سے یہاں جمہوری نظام نافذ ہے جو کمال اتاترک کی زیر نگرانی تفویض کیا گیا تھا۔ تب سے ہی ترکی اقوام متحدہ اور یورپی مجلس کا حصہ ہے تاہم اسے آج تک یورپی اتحاد کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ کمال پاشا کے مرنے کے بعد سے ترکی سیاست میں بہت سے اتار چڑھاؤ آئے، پاکستان کی طرح وہاں بھی مارشل لاء کا ایک سلسلہ رہا، لادینیت کو فروغ دینے والے بزدل اور غداروں کے ہتھے حکومت چڑھی رہی اور ترکی کا دیوالیہ نکل گیا۔لیکن رجب طیب اردوگان کے صدر بننے کے بعد سے وہاں کے قوانین میں بہت سی اصلاحات لائی گئیں ہیں جس کے بعد ترکی اب لادینیت سے نکل کر اسلامی ریاست بن چکا ہے۔ یہی نہیں بلکہ رجب طیب اردوگان نے عالم اسلام کے لئے ترکی کو اسلام کا قلعہ بنانے کا کام بھی تیز کردیا ہے۔ اپنی عوام دوست پالیسوں کی بدولت رجب طیب فوجی بغاوت کو کچلنے میں کامیاب ہو چکے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ آج رجب طیب اردوگان نہ صرف ترکی بلکہ عالم اسلام کے بھی ہیرو بن کر ابھرے ہیں۔ اگر ہم تاریخ کے اوراق گردانیں تو ہمیں جنگ عظیم اول میں جو نظر آتا ہے اور جنگ عظیم دوئم میں جو ملتا ہے اس سے واضح ہے کہ کوئی بھی جنگ جب عالمی چوہدراہٹ کیلئے لڑی جاتی ہے تو اس کی لپیٹ میں صرف وہ ممالک ہی نہیں آتے جن کے مابین جنگ لڑی جاتی ہے بلکہ وہ سب بھی آتے ہیں جو ان کے اتحادی ہوتے ہیں۔ جنگ عظیم اول کو بیسویں صدی کی سب سے بڑی عالمی سازش قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔جو اگست 1914 میں بظاہر ہبز برگ کے ایک شہزادے فرانز فرڈنینڈ کے قتل سے شروع ہوئی، لیکن اس جنگ کی بنیاد یورپ کی دو گروہوں میں تقسیم کی صورت میں انیسویں صدی کے اختتام پر رکھی جا چکی تھی۔اس سے پہلے عالمی تنازعے کے دوران اتحادی قوتوں کا مقابلہ محوری قوتوں کے ساتھ تھا۔ اتحادی قوتوں میں برطانیہ ، فرانس ، سربیا، روس، جاپان، اٹلی ، یونان ، پرتگال ، رومانیہ اور امریکہ جبکہ محوری طاقتوں میں جرمنی ، آسٹریا، ہنگری اور بلغاریہ بطور اتحادی سامنے آئے۔خوف اور طاقت کی وجہ سے دنیا کے دوسرے بیشتر ممالک بھی اس جنگ کا حصہ بنتے چلے گئے۔یہ لڑائی ایک انتہائی مہنگی اور خندقوں کی ہولناک جنگ کی شکل اختیار کر گئی جس کی ایک وجہ مغربی محاذ پر خندقوں اور قلعہ بندیوں کا سلسلہ 475 میل تک پھیل گیا تھا۔پہلی جنگ عظیم میں اپنے اتحادیوں کی مدد کیلئے روس کو بالکنز کے علاقے اور بحیرہ روم کو عبور کر کے آگے جانا تھا۔ روس کی جانب سے اپنے علاقوں اور سرحدوں کی خلاف ورزی پر سلطنت عثمانیہ کو مجبوراََ اس جنگ میں کودنا پڑا ۔اس طرح سلطنت عثمانیہ نے اپنے علاقے بچانے کیلئے محوری قوتوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔پہلی عالمی جنگ کے دوران مشرقی محاذ پر وسیع تر علاقے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر خندقوں کی لڑائی تو ممکن نہ ہوئی لیکن اس لڑائی کی شدت مغربی محاذ کے برابر ہی تھی۔ عثمانیہ سلطنت کو لپیٹ میں لینے سے عالمی سازش ظاہر ہو گئی ، یہی وجہ تھی کہ بعد میں یہ جنگ یورپی علاقوں سے سمٹتے ہوئے صرف سلطنت عثمانیہ تک ہی محدود ہو کر رہ گئی۔مغرب میں پہلی عالمی جنگ بنیادی طور پر نومبر 1918 کے دن چڑھے ہی ختم ہو گئی تھی، جرمنی کے جنگ سے نکلنے کے بعد محوری قوتوں کے اتحادیوں کو بھی شکست و ریخت کا سامنا کرنا پڑا اور جنگ کے بنیادی مقصد کے تحت اتحادی قوتیں سلطنت عثمانیہ کا شیرازہ بکھیرنے میں کامیاب ہو گئیں۔اسلامی دنیا پر اس معاہدہ کا بہت برا اثر پڑا ۔ چونکی سلطنت عثمانیہ جرمنی کی اتحادی تھی اس لئے اسے اس جنگ کی بڑی بھاری قیمت چکانا پڑی۔ انگریزوں نے عربوں کو ترکوں کے خلاف جنگ پر اکسایا اور اس طرح سلطنت عثمانیہ میں مسلمانوں کے مابین قومیت کی بنیاد پر جنگیں شروع ہو گئیں۔ ان جنگوں میں بہت سے عرب علاقے ترک سلطان کے ہاتھ سے نکل گئے ۔ اسی جنگ کے اختتام پر مسلمانوں کی وحدت کی علامت عظیم خلافت عثمانیہ کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ برصغیر پاک و ہند اور خراسان کے دیگر اسلامی ممالک کی خلافت بچاؤ تحریک کے دباؤ کی وجہ سے خلافت کی علامت کے طور پر ترکی کو مسلمانوں کی دسترس میں رہنے دیا گیا۔28 جون 1919کو فریقین کے مابین معاہدہ و رسائی کے بعد عالمی جنگ تو رک گئی لیکن اس کے اثرات بین الاقوامی سطح، سیاسی ، اقتصادی اور سماجی شعبوں میں آنے والی کئی دہائیوں تک جاری رہے۔فتنہ تاتار کے بعد پہلی عالمی جنگ جدید تاریخ کا سب سے بڑا تباہ کن معرکہ تھا۔جس میں دنیا کی بہترین اور جدید تر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ، پہلی بار دنیا نے کیمیائی اور زہریلی گیس کا استعمال دیکھا ، یہ پہلی جنگ تھی جو میدانوں ،سمندر کے علاوہ فضا میں بھی لڑی گئی۔اس جنگ عظیم میں دنیا میں پانچ کروڑ کے قریب لوگ جاں بحق اور معذور ہوئے۔1919 کے اس معاہدے کے بارے میں بہت سی حکایات زبان زد عام ہو چکی ہیں ان میں سے ایک بہت زیادہ پھیلی ہے اور وہ یہ کہ ’’ترک خلافت کے خاتمے پر ہونے والا سیورے معاہدہ ایک صدی کا تھا جو 2023میں ختم ہونے جا رہا ہے ‘‘۔ جس کے بعد ترکی نہ صرف اپنی باقی سلطنت کے بکھرے ہوئے حصوں بلکہ عرب کی سرزمین پر حاکمیت کا بھی دعویدار ہوگا۔ یہ بات سچ ہے یا جھوٹ، لیکن ترکی کے موجودہ اقدامات،جس میں پاکستان کے قریب آنا، ملائشیا اور انڈونیشیا سمیت دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ اتحاد قائم کرنے کیلئے کوششیں کرنا، اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے عوام میں جذبہ جہاد کو پیدا کرنا اس کی طرف واضح اشارہ ہے کہ تیسری جنگ عظیم کے دوران یورپ میں ترکی اسلامک بلاک کا اہم کردار ادا کرنے والا ملک ہوگا، پھر چاہے یہ اس کے اپنے مفاد کیلئے ہی کیوں نہ ہو!۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 364 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Shafqat ullah

Read More Articles by Malik Shafqat ullah : 196 Articles with 72320 views »
Pharmacist, Columnist, National, International And Political Affairs Analyst, Socialist... View More

Comments

آپ کی رائے
Language: