بھارت ہوش کے ناخن لے

(Hammad Asghar Ali, )

گزشتہ سال 5اگست سے تاحال پورے گیارہ ماہ جس طرح کشمیری قوم کا محاصرہ جاری ہے اس سے بھلا کسے آگاہی نہیں۔علاوہ ازیں سبھی جانتے ہیں کہ سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق ، یاسین ملک ، شبیر شاہ اور سبھی حریت قیادت ہر چند دنوں کے بعد گرفتار کر لی جاتی ہے اور بر ہان وانی اور ریاض نائیکو جیسے بیشمار کشمیری نوجوانوں کی شہادت اور خصوصاً مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے جانے کے بعد سے تو یہ سلسلہ ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ۔ اسی پس منظر میں مبصرین نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں جو ظلم و زیادتی کا بازار گرم کر رکھا ہے اس سے کون آگاہ نہیں ۔ درندگی کی انتہا یہ کہ پیلٹ گنوں کے استعمال سے سینکڑوں نہتے کشمیریوں سے ان کی بینائی مکمل طور پر چھین لی گئی ۔ وحشت و بربریت کے ان واقعات کو محض انسانی حقوق کی پا مالی قرار دینا بھی بہت چھوٹی بات ہے کہ ایسی صورتحال کے اظہار کے لئے لفظ بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں ۔

غیر جانبدار میڈیا رپورٹس کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے 31مئی 2020 تک 95,592کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔ 7,141 افراد کو حراست کے دوران شہید کیا گیا جبکہ 160,487معصوم شہریوں کو گرفتار کیا گیا اور 110,327مکانوں اور رہائشگاہوں کو مسمار یا نذرِ آتش کیا گیا ۔ بھارتی بربریت کے نتیجے میں 22,915خواتین کو بیوہ کیا گیا جبکہ 107,792بچوں کے سر سے ان کے والدین کا سایہ ہمیشہ کے لئے چھن گیا اور 11,204خواتین کے ساتھ اجتماعی بے حرمتی کے مکروہ واقعات پیش آئے ۔ اس ضمن میں یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ یہ مندرجہ بالا اعداد و شمار انتہائی محتاط اندازوں پر مبنی ہیں وگرنہ تو اکثر ذرائع اس سے کئی گنا زیادہ نقصانات کا اظہار کرتے آئے ہیں ۔

دوسری جانب دنیا بھر میں سالانہ 8 لاکھ افراد خودکشی کرتے ہیں جن میں سے 135,000 افراد بھارت سے تعلق رکھتے ہیں، یعنی دنیا کے تمام خودکشی کرنے والے افراد کا 17 فیصد بھارتی ہوتے ہیں۔ ہندوستان کے سرکاری ادارے ’’ نیشنل کرائمز ریکارڈ بیورو ’’ کے اعداد و شمار کے مطابق ’’ سال 2017 ‘‘ کے دوران ’’ 1,33,623 ‘‘ افراد نے خود کشی کی ۔ ظاہر سی بات ہے کہ محض ایک برس کے اندر اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا خود اپنے ہاتھوں اپنی جان لے لینا ایسی بات نہیں جسے سرسری کہہ کر نظر انداز کیا جا سکے ۔ بلکہ یہ ایسا انسانی المیہ ہے جس پر وطنِ عزیز میں بوجوہ خاطر خواہ ڈھنگ سے توجہ نہیں دی جا رہی ۔ اس معاملے کی مزید تفصیلات کے مطابق بھارت میں سال 2017 میں خود کشی کرنے والوں میں خواتین کی تعداد 42088 ہے ۔ اٹھارہ سال سے ساٹھ سال کے درمیان کی عمر کے 79834 مردوں نے جبکہ اسی ایج گروپ کی 34381 خواتین نے خود کشی کی ۔ اس کے علاوہ اٹھارہ سال سے کم عمر 9408 لڑکے لڑکیوں نے اپنے ہاتھوں موت کو گلے لگایا ۔ سماجی ماہرین نے اس صورتحال کے پس منظر میں کہا ہے کہ یہ اپنے آپ میں اتنا بڑا انسانی المیہ ہے جس پر نہ تو خود بھارت کے اندر خاطر خواہ ڈھنگ سے توجہ دی جا رہی ہے اور نہ ہی عالمی رائے عامہ اس طرح سے اس جانب کان دھر رہی ہے جو اس صورتحال کی متقاضی ہے ۔ایسے میں کوئی بھارتی حکمران خود کو انسانی حقوق کے احترام کا سب سے بڑا دعوے دار قرار دے تو اسے ایک ستم ظریفی قرار دیا جا سکتا ہے۔

اس ضمن میں یہ بات بھی اہم ہے کہ ساری دنیا اس امر پر متفق ہے کہ کفر کی حکومت تو شائد زیادہ دیر تک چل سکے لیکن ظلم و سفاکی پر مبنی حکمرانوں کے دن گنے چنے ہوتے ہیں اور یہ بات بھی کسی تعارف کی محتاج نہیں کہ مودی کے ہندوستان میں تو ظلم اور کفر پہلو با پہلو اکٹھے چل رہے ہیں لہذا دیکھیں یہ سلسلہ کب تلک چلتا ہے کہ ’’ظلم رہے اور امن بھی ہو ،کیا ممکن ہے تم ہی کہو؟؟
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 123 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hammad Asghar Ali

Read More Articles by Hammad Asghar Ali: 10 Articles with 1888 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: