کمل چھاپ ’انتخاب جیتنے کی مشین‘

(Dr Salim Khan, India)

وطن عزیز میں کچھ اور ہو نہ ہو انتخابات بڑی پابندی سے ہوتے ہیں اور سال بھر کوئی نہ کوئی انتخابی بازارگرم رہتا ہے۔ کبھی قومی تو کبھی ریاستی، کبھی بلدیاتی تو کبھی پنچایت ، کبھی ایوان ِ بالہ کے تو کبھی ایوانِ زیریں ، کبھی ضمنی تو کبھی روایتی ،کبھی وزیر اعظم تو کبھی صدر مملکت کو منتخب کیے جانے کا عمل جاری رہتا ہے ۔ ہر انتخاب میں جی بھر کے دھاندلی ہوتی ہے اس کے باوجود ان سے متعلق خبروں کو بڑے ذوق و شوق سے پڑھا جاتا ہے , خوب تبصرے ہوتے ہیں اور بے شمار قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں ۔اس قومی مشغلہ کےنشے میں سال بھر پوری قوم جھومتی رہتی ہے۔۔ انتخابی عمل میں اس کے مخالفین سمیت سب بالکل اس محاورے کی مانند جس میں ہندی، اردو ،فارسی اور عربی ساری زبان کے الفاظ شامل ہیں’ دامے درمے سخنے قدمے‘اپنا تعاون پیش کرتےہیں ۔ کسی اور میدان میں نہ سہی مگر انتخابی دنگل ہمارا ملک رستم زماں ہے ۔ دنیا میں کم ممالک ہوں گے جہاں پیٹ پر پتھر باندھنے والا ووٹر لاکھوں روپئے کی ووٹنگ مشین پر انگلی لگا کر اپنے آپ کو ’بھارت بھاگیہ ودھاتا ‘(یعنی ہندوستان کا تقدیر ساز) سمجھ لیتا ہے ۔ ای وی ایم پر تو بہت کچھ لکھا ، بولا، دیکھا اور سنا جاچکا ہے لیکن وزیر اعظم نے ایک نئی مشین ’ای ڈبلیو ایم ‘ یعنی الیکشن وننگ مشین کا انکشاف بلکہ اعتراف کرلیاہے۔
 
من کی بات بہت سوچ سمجھ کر نہیں کہی جاتی ۔ ہر ماہ وزیر اعظم آکاش وانی (ریڈیو) پر من کی بات کے نام پر جو کہتے ہیں وہ تو ان کی تقریر لکھنے والوں کے زورِ قلم کی کاوش ہوتی ہے مگر 04 جولائی( 2020 ) کو اچانک ان کےدل کی بات زبان پر آہی گئی۔ مودی جی نے اپنی پارٹی کی اترپردیش، بہار، آسام، کرناٹک، مہاراشٹر، دہلی اور راجستھان کے خدمات کو سننے کے بعد کہا کہ ’’ان کے لئے یہ تنظیم صرف الیکشن جیتنے کی مشین نہیں ہے۔ کچھ لوگ تنظیم کو صرف انتخابات کے دائرے میں دیکھتے ہیں‘‘۔ یہ بات چونکہ مودی جی نے اپنے ہم جماعت لوگوں کے درمیان کہی اس لیے یقیناً بی جے پی کے بارے میں ہے۔ اس کا مطلب ظاہر ہے کہ جن لوگوں کویہ نصیحت کی جارہی ہے وہ تنظیم کو الیکشن جیتنے کی مشین سمجھتے ہیں ورنہ اپدیش کی ضرورت ہی کیا تھی؟ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے بارے میں کہا کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو انتخاب جیتنے کی مشین نہیں بلکہ خدمت کے جذبے سے دیکھتے ہیں۔

وزیر اعظم کو ان وجوہات کا پتہ لگانا چاہیے کہجن کے سبب ان کے اندھے بھکتوں نے پارٹی کو مشین سمجھ لیا ہے؟ اس سوال کا جواب ان کی تقریر کے آگے والے حصے میں پوشیدہ ہے جو کسی سمجھدار آدمی نے لکھ کر دی ہوگی۔ سب سے پہلے تو وہی پرانا گھسا پٹا جملہ دوہرا یا گیا کہ ’ ان کی پارٹی کے لئے ملک سب سے مقدم ہے‘۔ ہر مرتبہ جب حزب اختلاف کے ارکان کو خریدنے کے لیے شاہ جی تجوری کا دہانہ کھولتے ہیں تو اس کے اندر ساری دنیا کونظر آ جاتا ہے کہ اس پارٹی کے لیے مقدم اور مؤخر کیا ہے؟ اب تو بی جے پی نہ صرف الیکش جیتنے کی بلکہ دولت کمانے کی مشین بھی بن چکی ہے ؟ اور یہ مشین اپنے پرائے میں تفریق بھی نہیں کرتی بلکہ مخالفین اگران کی اپنی پارٹی سے غداری کرکے کمل تھام لیں تو ان کو زیادہ نوازتی ہے۔ اس سے ملک و قوم کی کون سے خدمت ہوتی ہے یہ تو صرف شاہ جی اور وہ ضمیر فروش رہنما جانتے ہیں جو پالا بدل کر بی جے پی سے بغلگیر ہوجاتے ہیں ۔ ابھی تک تو اس مشین کے صرف دو اوصاف ظاہر ہوئے ہیں ۔ آگے چل کر یہ کیا گل گل کھلائے گی یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

مودی جی نے اپنی تقریر میں کورونا بحران کے دوران پارٹی کے کارکنوں نے غریبوں کی فلاح و بہبود اور مدد کے جذبے سے کیے جانے والے کام کو سراہا۔ اس پر لوگوں کو حیرت ہوئی کیونکہ اس دوران بی جے پی کے ذریعہ کوئی خدمت خلق کا کام تو کہیں نظر نہیں آیا۔ وہ اپنے مرکزی رہنماوں کی حمایت اور مختلف ریاستوں میں اپنے سیاسی مخالفین کی مخالفت کرتے ہوئے ضرور نظر آئے۔ اتر پردیش میں بارڈر سیل کرنے کے بعداپنے ہی صوبوں کے مہاجر مزدوروں پر ڈنڈے برسانے کے مناظر بھی دکھائی دیئے۔ کانگریس کے ذریعہ مہیا کی جانے والی بسوں کو واپس کرنے کی سنگدلی کو کون بھول سکتا ہے؟ ویسے پارٹی تو دور سرکار نے بھی تارکین وطن مزدوروں کے تئیں جس سفاکی کا مظاہرہ کیا وہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ ان کی مدد کرنے کے بجائے عدالت عظمیٰ میں اپنے وکیل سے کہلوا دیا کوئی بھی سڑک پر نہیں ہے۔ کسی مسئلہ کو اگر تسلیم ہی نہ کیاجائے تو حل کیسےہوگا؟

اس کے بعد وزیر اعظم نے اپنے روایتی انتخابی خطاب کا آغاز کردیا اور اپنے ہی ارکان کو بتایا کہ ’بی جے پی کے اندر 52 دلت، 43 قبائلی اور 113 پسماندہ طبقہ کے ممبران پارلیمنٹ ہیں۔ اس کے علاوہ پارٹی کے اندر ملک بھر میں 150 قبائلی ممبران اسمبلی ہیں، جس کی وجہ سے پارٹی ہر طبقہ سے وابستہ ہے اور اسے معاشرے کے ہر طبقہ کا اعتماد حاصل ہے‘۔ کورونا کی خدمت کا جائزہ لیتے ہوئے اس فضول کی معلومات کا کوئی جواز نہیں تھا لیکن ہر موقع پر انتخابی فائدہ اٹھانے کی جو لت لگ گئی ہے اس سے وہ مجبور ہیں ۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ جن سنگھ سے بی جے پی تک کے سفر کا مقصد خدمت کے جذبے سے ملک کو خوشحال اور مستحکم بنانا ہے۔ وہ خدمت کے جذبے کے ساتھ سیاست میں آئے ہیں۔ خدمت ہی اقتدار کا ذریعہ ہے۔ پارٹی نے کبھی اقتدار کو اپنے مفادات کا وسیلہ نہیں بنایا‘۔سوال یہ ہے کہ اگر واقعی ایسا ہے تو اپنے ہی ارکان کو یہ بتانے کی ضرورت کیا ہے؟ سچ تو یہ پردھان منتری ہی جب پرچار منتری بن جائے تو اس کی پارٹی انتخابی مشین نہیں تو اور کیا بنے گی؟

وزیر اعظم کی کم ظرفی انہیں ہر موقع کو ا انتخابی فائدہ اٹھانے پر اکساتی رہتی ہے مثلاً چین جیسے نازک مسئلہ پر ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کے خطاب کو دوردرشن سے نشر کروادینا یا وزیر دفاع کے بجائے خود لیہہ پہنچ جانا وغیرہ ۔ اس دورے کے دوران زخمی فوجیوں سے وزیر اعظم کی ملاقات کا جو ڈرامہ کیا گیا اس کی سماجی رابطوں کے ذرائع ابلاغ میں خوب ہنسی اڑائی گئی۔ ایک آڈیٹوریم کو اسپتال کے وارڈ میں ایسے بھونڈے طریقہ پر تبدیل کیا گیا تھاکہ عوام کو بے ساختہ’منا بھائی ایم بی بی ایس‘کی یاد آگئی ۔منا بھائی نے توفلم کے پردے پر اپنے والدین کو دھوکہ دینے کے لیےایک مصنوعی اسپتال تیار کروا یا تھا لیکن وزیر اعظم نے قوم کو فریب دینے کے لیے اپنے فوجیوں کو استعمال کرنے کی حرکت کردی ۔

اس معاملے میں جب ہنگامہ بہت بڑھ گیا تو فوج کو وضاحت کرنی پڑی کہ ’’وزیر اعظم نے جس جگہ کا دورہ کیا وہ جنرل اسپتال کمپلیکس کا کرائسس ایکسپانشن ہے اور اس میں 100 بستر ہیں۔ یہ آڈیو ویڈیو ٹریننگ ہال تھا جسے ایک وارڈ میں تبدیل کر دیا گیا‘‘ لیکن اسپتال میں بستر کے علاوہ دیگر آلات بھی ہوتے ہیں ۔ اس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سیکولر انڈین 72 نامی صارف نےٹوئٹر پروزیر اعظم کی تصویرلگاکرلکھا: ’نہ دواؤں کی ٹیبل ہے، نہ ڈاکٹر، نہ مرہم، نہ کوئی مریض سو رہا ہے، نہ کسی کو ڈرپ لگی ہے، نہ آکسیجن سیلنڈر ہے، نہ ہی وینٹیلیٹر۔ایسا لگتا ہے کہ یہ منا بھائی ایم بی بی ایس کا کوئی سین ہے‘۔ڈاکٹر جوالا نے لکھا یہاں ’مریضوں کا آئی ڈی بینڈ نہیں ہیں، پلس آکسی میٹر نہیں ہیں۔ ای سی جی کے تار نہیں ہیں۔ مانیٹر نہیں ہیں۔ آئی وی کینولا نہیں ہے۔ ایمرجنسی کریش کارٹ نہیں ہے۔ اور نہ ہی کوئی ڈاکٹر مریض کی کیفیت بتا رہا ہے۔ اس طرح کے تصاویر بنانے سے قبل کسی ڈاکٹر کی خدمات ہی حاصل کر لیتے۔‘ ٹوئیٹر کے صارفین میں سے ایکاتل ترپاٹھی نے شدید اعتراض جتاتے ہوئے لکھا ’جس جوان کو بندوق اٹھائے رکھنا چاہیے تھا وہ وزیر اعظم کی تشہیر کے لیے کیمرہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اس وزیر اعظم نے فوجیوں کو اپنی گندی سیاست کے لیے استعمال کیا ہے۰۰۰ منا بھائی ایم بی بی ایس۔‘ جس پارٹی کا وزیر اعظم ایسی اوچھی حرکت کرے تواس کو اگر اپنے اور پرائے انتخابی مشین سمجھیں تو اس میں کیا غلط ہے ؟
(۰۰۰۰۰۰۰۰جاری)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1241 Articles with 457524 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Jul, 2020 Views: 194

Comments

آپ کی رائے