پاکستان میں صحت و تعلیم کورونا کا سب سے زیادہ شکار کیوں؟

(Qayuum Raja, )

ترقی کا صحیح ادراک رکھنے والی قوموں نے ہمیشہ تعلیم اور صحت عامہ کو پہلی ترجیح بنایا ہے۔ اسی اصول کی بنیاد پر ترکی نے حالیہ دہائی میں ملک کو دنیا کی چھٹی بڑی معیشت بنا دیا ہے حالانکہ سامراجی قوتوں کی پراکسی وار کی وجہ سے خطے کی سیاسی اور دفاعی صورت حال دن بدن بگڑتی جا رہی ہے ۔ جنگوں کا آغازہمیشہ ترقی یافتہ ممالک نے کیا مگر انہوں نے اپنے تعلیم اور صحت کے شعبوں کو متاثر نہیں ہونے دیا۔ ترقی یافتہ ممالک کی مجموعی تعلیمی شرح 99.2 فی صد جبکہ جنوبی و مغربی ایشیائی ممالک کی یہی شرح 70.2 فی صد ہے۔ پاکستان اپنے ریجن میں ۵۸ فی صد تعلیمی شرح کے ساتھ آتھویں نمبر پر جبکہ بھارت اس سے صرف ایک فی صد آگے ہے۔ صرف افغانستان پاکستان سے پیچھے ہے۔ مالدیپ، سری لنکا، بنگلہ دیش اور ایران باالترتیب پاکستان سے تعلیمی میدان میں آگے ہیں حالانکہ ایران گزشتہ چالیس سالوں سے مسلسل عالمی اقتصادی پابندیوں کا شکار ہے۔ پاکستان اپنے بجٹ کا صرف 2.6 فی صد تعلیم اور ایک فی صد سے بھی کم صحت عامہ پر خرچ کرتا ہے جبکہ ستر کی دہائی میں پاکستان کا دفاعی بجٹ 6.50 تھا اور امریکہ کی ختم نہ ہونے والی جنگ میں شامل ہو کر اپنا یہ بجٹ اب 47.6 فی صد تک لے جا کر تعلیم اور صحت کے شعبوں کو مزید متاثر کیا ہے۔ حالیہ بجٹ میں کورونا وائرس کی وجہ سے صحت اور تعلیم کے بجٹ میں اضافہ کے بجائے حیران کن کمی کی ہے جبکہ دنیا ساری کورونا وائرس کے مقابلہ کے لیے صحت عامہ اور تعلیم کو بہتر بنانے کی کوششیں اور کاوشیں کر رہی ہے۔ مشرقی پاکستان کوہمیشہ پاکستان کی تنزلی کے طعنے دیا جایا کرتے تھے مگر بنگلہ دیش کا تعلیمی بجٹ آج 11.69فی صد اور تعلیمی شرح73 فی صد جبکہ سری لنکا کی تعلیمی شرح ۹۱ فی صد اور بجٹ 2.11 فی صد اور ایران کی تعلیمی شرح 86 فی صد اور بجٹ 19.3 فی صد ہے۔ عمران خان نے تعلیم و صحت کے شعبوں میں نوجوانوں کے ساتھ بہتری کی جو وعدے کیے تھے وہ دھر ے کے دھرے رہ گے۔سابقہ تعلیمی اور صحت عامہ کے بجٹ میں اضافہ کے بجائے کمی کر دی گئی ہے۔ تعلیمی بجٹ ۹۷ بلین سے کم کر کے ۷۷ بلین کر دیا گیا۔ یعنی ایک دم بیس فی صد کٹوتی کا بڑا دھچکا جسکی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔پاکستان کے انگریزی روزنامہ ڈان کے مطابق پاکستان کی سرکاری یونیورسٹیوں کے تمام وائس چانسلرز نے حکومت کے اس فیصلہ کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے۔ بھارت نے بھی حالیہ سالوں میں دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا مگر اس نے تعلیمی بجٹ میں بھی اضافہ کیا۔ دنیا کے اکثر ممالک کورونا سے تعلیمی نظام کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے نئے نئے تجربات کر کے اہم اقدامات اٹھا رہے ہیں مگر پاکستان نے انتہائی غیر یقنینی صورت حال پیدا کر رکھی ہے۔ ہر چند ہفتے بعد ایک نیا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا جاتا ہے۔ نیا فیصلہ ہر پہلے فیصلہ کو غلط قرار دے رہا ہے۔ چین اور اٹلی کورونا سے سب زیادہ اور پہلے متاثر ہونا شروع ہوئے مگر انہوں نے جاپان، جرمنی، سکنڈی نیویا اور اسرائیل کی طرح معاشرتی میل جول اور سوشل حد بندیوں اور پابندیوں پر مختلف تجربات کر کے سکولوں کو آہستہ آہستہ کھولنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ برلن اور کوپن ہیگن سے ایک مشترکہ رپورٹ کے مطابق سکولوں میں بچوں کے میل جول نے کورونا وائرس میں اضافہ نہیں کیا۔ پاکستان اس طرح کے تجربات کرنے کے بجائے غیر منطقی فیصلے کر رہا ہے مسلا منگل اور جمعہ کو پاکستان مین کورونا نہیں آتا اس لیے ان دنوں چھٹی کی جاتی ہے۔بیرون ملک سے آنے والوں کو ہوائی اڈوں پر برائے نام ٹیسٹ لے کر کہا جاتا ہے گھر چلے جاؤ اگر ٹیسٹ مثبت آیا تو اپکو اطلاع دی جائے گی۔ کہا جا رہا ہے کہ بیرون ملک سے آنے والوں کے لیے قرنطینہ کے اخراجات برداشت کرنا مشکل ہے مگر سوال ہے کہ جب بیماری پھیلتی ہے تو پھر اخراجات کم ہوتے ہیں یا بڑھتے ہیں؟ جنازوں، شہروں اور بازاروں میں وہی پرانا رش اور طریقہ کار ہے۔ المختصر کہ کسی فیصلہ میں کوئی منطق نظر نہیں آتی ۔ برحال پاکستان کو ہر صورت میں تعلیم اور صحت عامہ کا نظام بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں عرصہ دراز سے بے شمار تعلیمی ادارے آن لائن تعلیمی نظام قائم کیے ہوئے ہیں مگر پاکستان میں آج بھی کورونا جیسی وائرس سے نمٹنے کے لیے آئن لائن کورسز کے لیے بجلی اور انٹرنیٹ کی سہولیات تسلی بخش نہیں ہیں۔ محکمہ صحت نے انتہائی مشکل حالات میں انتہائی محدود سہولتوں کے باوجود اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ حکومت کو ہر صورت میں صحت کے بجٹ میں اضافہ کرنا چائیے تھا مگر ہسپتالوں میں تو ایمبولنس بھی آسانی سے دستیاب نہیں۔ آزاد کشمیر کے اندر اور بھی صورت حال ابتر ہے۔ یہاں تمام ہسپتال فرسٹ ایڈ تک محدود ہیں اور ادویات تو سرے سے ہے ہی نہیں۔ کسی کو معلوم نہیں سرکاری ادویات کہا ں غائب ہو جاتی ہیں؟ سرکاری ہسپتالوں سے نسخہ ملتا ہے دوائی نہیں جبکہ کسی بھی اپریشن کے لیے آزاد کشمیر کے مریضوں کو پنڈی و اسلام آباد کا رخ کرنا پڑتا ہے جن میں سے بعض راستے میں ہی دم توڑ جاتے ہیں۔ پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں آنے کے لیے تو شاید صدیاں لگ جائیں مگر اپنے ریجن کے دوسرے ممالک کے تو برابر ہونا چائیے۔ آخر وہ کونسے حالات و حقائق ہیں جنہوں نے پاکستان کو اس ریجن کا آٹھواں ملک بنا کر سری لنکا اور بنگلہ دیش سے بھی بہت پیچھے دھکیل دیا ہے۔ انٹر نیٹ پر شائع ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان انگریزوں کے پیدا کردہ وڑیروں کا ملک ہے جنہوں نے وڈیرہ شائی قائم رکھنے کے لیے پہلے عام ادمی کو عام تعلیم سے محروم رکھنے کی کوشش کی مگر نام نہاد جمہوریت پر بھی ایسے لوگ چھا گے جنکو انگریزوں نے خرید کر غیر ملکی زبان میں غیر ملکی نصاب کے زریعے عام لوگوں کی تعلیم تک رسائی انتہائی مشکل بنا دی ہے ۔ تعلیم کو عام اور آسان بنانے کے لیے ملک کے محب وطن اور باشعور طبقے کو قومی زبان میں قومی نصاب کے لیے جد و جہد کرنی پڑے گی۔ جس ملک کے اساتذہ غیر ملکی زبان میں غیر نصاب کو خود نہ سمجھ سکیں وہ بچوں کو کیا پڑھائیں گے؟ عمومی تبدیلیوں اور مستقل نظام کے لیے تو ایک طویل المدت پالیسی اور جد و جہدکی ضرورت ہے مگر کورونا وائرس سے پیدا شدہ صورت حال کے مقابلہ کے لیے عوام کی طرف سے حکومت پر ہنگامی فیصلوں کے لیے فوری دباؤ کی ضرورت ہے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qayuum Raja

Read More Articles by Qayuum Raja: 49 Articles with 22574 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Jul, 2020 Views: 267

Comments

آپ کی رائے