کل یگ کے سگریو اور وبھیشن

(Dr Salim Khan, India)

ہندوستان کے قدیم مذہب یعنی سناتن دھرم کے مقدس صحیفے وید اور ان کی تفاسیر اپنشد وپرُان ہیں ۔ ان کے علاوہ رامائن اورمہابھارت نامی رزمیہ داستانیں خوب مقبول و مشہور ہیں ۔ ہندوسماج رامائن کو اخلاقیات اور مہابھارت کو سیاسیات کا درس دینے والی کتاب سمجھتا ہے۔ رامائن کے بھی سارے اہم کردار چونکہ حکمراں طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے وہ بھی خاصی سیاسی ہے۔ اس کو نہایت دلچسپ انداز میں لکھا گیا مثلاً رام کے دو بھائی لکشمن اور بھرت ، اسی طرح راون کے دو بھائی کمبھ کرن اور وبھیشن ۔ نام دیکھیں تو رام اور راون میں قدرے یکسانیت ہے اسی طرح لکشمن اور وبھیشن بھی یکساں ہیں ۔ یہ چاروں کردار نہایت اہمیت کے حامل ہونے کے ساتھ ایک دوسرے سے بالکل متضاد بنا کر پیش کیے گئے ہیں۔رامائن کا راون بے شمار خوبیوں کا مالک ہونے کے باوجود راکشس ہے اس لیے ہے کہ اوتار رام کا مخالف ہے ۔ آج کل میڈیا کا معیار حق دیش بھکت (قوم پرست) سرکار ہے اس لیے اس کے ہر مخالف کو دیش دروہی (غدارِ وطن) بنادیا جاتاہے۔ لکشمن اپنے بھائی رام کا وفادار ہونے کے سبب قابلِ تعریف ہے مگر وبھیشن اپنے بھائی راون سے غداری کرنے باوجود قابلِ تعظیم ہے کیونکہ وہ بھی رام کا وفادار ہے۔ اس پرمپرا (روایت ) کو سندھیا اور پائلٹ نے زندہ کررکھا ہے۔

والمیکی کی رامائن میں مریادہ پرشوتم رام کی زندگی کے تین ادواربیان ہوئے ہیں ۔ بچپن سے جوانی تک وہ ولیعہد تھے اس لیے سازش کا شکار کرکے بن باس بھیج دیا گیا۔ بن باس ایودھیا واپس آکر رام راجیہ قائم کردیا۔ رام کو وبھیشن کی ضرورت پہلے یا آخری دور میں نہیں پیش آئی کیونکہ پہلے راجہ دشرتھ کی حکومت تھی اور آخری میں سرکاراورفوج موجودتھی اس لیے اشو میگھ نام کا گھوڑا چھوڑ دیا کہ وہ مختلف علاقوں کو فتح کرتا چلا جائے ۔ دوسرے مرحلے میں وبھیشن اور سگریو کی ضرورت پڑی کیونکہ اقتدار نہیں تھا۔ بی جے پی کا بھی ایسا ہی معاملہ ہے کہ جن صوبوں میں وہ اقتدار سے کوسوں دور ہوتی ہے تو کوئی وبھیشن تلاش نہیں کرتی مثلاً دہلی ، پنجاب یا تمل ناڈو وغیرہ اور جہاں اقتدار کی باگ ڈور مضبوط ہوتی ہے مثلاً اترپردیش ، گجرات اور آسام وغیرہ تو وہاں سگریو کی ضرورت نہیں پڑتی لیکن جب درمیانی کیفیت ہوتی ہے مثلاًکرناٹک ، مدھیہ پردیش اور راجستھان جیسی ریاستیںتو سندھیا اور پائلٹ جیسے سگریو اور وبھیشن کی مدد لینی پڑتی ہے ۔

مرکز میں دوہرا معاملہ ہے ایوانِ زیریں جہاں دوتہائی اکثریت حاصل ہے وبھیشن کی مجبوری نہیں ہے لیکن ایوان بالہ میں سگریو کی ضرورت پیش آتی ہے جسے مختلف علاقائی جماعتیں وقتاً فوقتاً پورا کردیتی ہیں ۔ رام راجیہ کی طرح جمہوریت میں بھی اکثریت سے محرومیکی صورت میں وبھیشن اور سگریو اہم ہوجاتے ہیں ۔ وہ لوگ اپنے ہی بھائی کے ساتھ غداری کرتے ہیں لیکن اس کے اس عمل کو خوشنما بناکر پیش کیا جاتا ہے ۔ وبھیشن چونکہ سرکار کا وفادار ہوتا ہے اس لیے اس سے نفرت کے بجائے محبت کی جاتی ہے۔ ذرائع ابلاغ میں جیوتردیتیہ سندھیا اور سچن پائلٹ کے تئیں جو ہمدردی پائی جاتی ہے وہ اسی قدیم روایت کا فروغ ہے۔ سگریو کی کہانی میںاس کی مثال دیکھیں ۔ رامائن کے مطابق کشکندہ کے علاقہ میں بندروں کی سلطنت اور والی کی حکومت تھی۔ راجہ کا چھوٹا بھائی سگریوتھا۔ مایاوی نامی ایک راکشش نے والی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی کوشش کی اور وہ دونوں بھڑ گئے ۔ اپنی جان بچانے کے لیے مایاوی کسی غار میں چھپ گیا ۔ اپنے چھوٹے بھائی کو دہانے پرکھڑا کرکے والی بھی اندر گھس گیا۔ والی اندر سے بہت دیر تک باہر نہیں آیا مگر خون کی پھوار آئی تو سگریو نے سوچا کہ بھائی مارا گیا۔ اس کے بعد اس میں اندر جاکر اپنے بھائی کا انتقام لینے کی ہمت نہیں ہوئی۔ اس نے یہ بھی نہیں سوچا کہ اگر والی مارا جاتا ہے تو مایاوی کو باہر آکر اپنی فتح کا اعلان کرنا چاہیے۔ ممکن نے سوچ لیا اچھا ہی ہوا دنوں مارے گئے ورنہ باہر آکر مایا وی اس کو ماردیتا خیر سگریو نے سوچ بچار کی زحمت نہیں کی ۔ خوشی خوشی دہانے سے محل میں آکر اقتدار پر قابض ہوگیا۔

اقتدار حاصل کرنے کی جلدی میں انسان کی عقل پہلے بھی ماری جاتی تھی اب بھی ماری جاتی ہے۔والی جب مایاوی سے فارغ ہوکر باہر آیا تو دیکھا کہ سگریو حکومت کررہا ہے ۔ اس نے غصے میں آکر سگریو کو معزول کرکے بھگادیا اور اس کی بیوی روما کو اپنے پاس رکھ لیا۔ بھرت نےجس طرح بن باس کے بعد رام کو بخوشی راج پاٹ سونپ دیا تھا اگر وہی کام سگریو کرتا تو یہ نوبت ہی نہیں آتی۔خیر جنگل میں ہنومان نے سگریو کی ملاقات رام سے کروا دی اور اس نے بتایا کہ کس طرح والی نے اس پر ظلم کیا۔ دونوں اپنی بیویوں کے فراق کی آگ میں جل رہے تھے اس لیے ایک دوسرے کے ہمنوا بن گئے ۔ آج کل سچن پائلٹ اسی طرح کی کہانی اشوک گہلوت کے بارے میں امیت شاہ کو سنا رہے ہیں اور راجستھان کے اندر دونوں کا غمِ اقتدار مشترک ہے۔

رامائن کے اندر یہ نہیں ہوتا رام دونوں بھائیوں کے درمیان صلح صفائی کرادیں اس لیے ایسا کرنے میں کوئی سیاسی فائدہ نہیں تھا ۔ دوسرا متبادل یہ تھا کہ والی کی فوج سے دو بدو جنگ کی جاتی لیکن رام کو آگے چل کر اسی فوج کی مدد سے لنکا پر چڑھائی کرنی تھی اس لیے اسے محفوظ رکھنا بھی ضروری تھا ۔ یہی بات کوموجودہ سیاست میں بھی نظر آتی ہے کہ الیکش سے قبل جن کانگریسیوں کو ہرانے کی کوشش کی جاتی ہے بعد میں جب وہ غداری کرکے آتے ہیں تو انہیں گلے لگایا جاتا ہے ۔ رامائن میں سگریو اور والی کی فوج کے استعمال کی خاطر انفرادی لڑائی کی سازش کی رچی گئی اورپیڑ کے پیچھے چھپ کر رام نے اپنے تیر سے والی کو ماردیا ۔ اس سازش کو خوشنما بنانے کے لیےآئی ٹی سیل کی طرح گھڑی ہوئی کہانی دیکھیں ۔ والی کویہ وردان حاصل کہ سامنے آنے والے ہر شخص کی نصف طاقت اس میں منتقل ہوجاتی۔ اس طرح گویا ارکان اسمبلی کو چھپاتے پھرنے کا جواز بھی مہیا ہوگیا۔ والی کے بعد کشکندہ کے اقتدار پر سگریو فائز ہوا اور اس کی فوج کے ساتھ رام نے لنکا پر چڑھائی کی ۔ مدھیہ پردیش یہ رامائن دوہرائی جاچکی اب راجستھان میں تیاری ہے۔

راون کے بارے میں رامائن کہتی ہے کہ وہ دنیا میں سب سے زیادہ طاقتور حکمراں تھا اس لیے بندروں کی فوج سے اس کو شکست دینا ممکن نہیں تھا ۔ اس لیے لنکا میں اس کے چھوٹے بھائیوبھیشن کو تلاش کیا گیا ۔ اس نے بتایا کہ راون کا آب حیات اس کے معدے میں ہے اس لیے جب تک تیر پیٹ پر لگے نہیں لگے گا وہ ہلاک ہوگا ۔ وہیں سے یہ محاورہ بنا ’گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے‘، اس لیے کہ اگر یہ راز فاش نہ ہوتا تو راون کا ودھ (قتل) ممکن نہیں تھا ۔ اس کے سینے اور سرپر لگنے والے سارے تیر بیکار ہوجاتے اس لیے پیٹ پر لات مارنا لازم ہوگیا تھا ۔ یہ حسنِ اتفاق ہے تریتا یگ میں بھی راون جیسے عالم فاضل حکمراں نے کا آب حیات کو رکھنے کے لیے قلب و دماغ کے بجائے معدے کا انتخاب کیا ۔ قلب و دماغ کو فکر و خیال کا مرکز سمجھا جاتا ہے اور معدے کو دھن دولت کے مادی وسائل سے بھرا جاتا ہے۔ کل یگ کے سیاستداں دھن دولت کی مدد سے اقتدار حاصل کرتے ہیں تاکہ اپنے مال و اسباب میں اضافہ کرکے عیش کرسکیں ۔ اس قدیم روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے فی الحال فکر و نظریہ کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے اور اس کے نظارے آئے دن مختلف ریاستوں میں دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ اس کی تازہ مثال راجستھان کی سیاسی اٹھا پٹخ ہے۔

اس میں شک نہیں کہ اقتدار سے محرومی افسردہ خاطرکردیتی ہے ۔ کمل ناتھ کی صورتاس کی چلتی پھرتی مورت ہے لیکن ان کی جگہ آنے والے شیوراج سنگھ چوہان بھی کم پریشان نہیں ہیں ۔ ایک زمانے تک شیوراج سنگھ چوہان بی جے پی کے اندر لال اڈوانی کیمپ کے آدمی ہونے کے سبب مودی کے حریف تھے۔2013 میں شیوراج نے بڑی زبردست کامیابی حاصل کی تھی اس لیے مودی نے انہیں ہٹوانا ضروری نہیں سمجھااور برداشت کرلیا ۔ اس بار وہ انتخاب ہار کر اقتدار سے محروم ہوگئے ۔جیوتردیتیہ سندھیا کو توڑنے کا کام امیت شاہ نے مدھیہ پردیش میں موجود اپنے لوگوں کی مدد سے کیا اس لیے شیوراج کے ٹکٹ کٹنے کا قوی امکان تھا ۔ لوگ یہ توقع کررہے تھے کہ ماما کی جگہ کوئی مرکز کا چہیتا چاچا وزیر اعلیٰ بنے گا ۔ اس لیے شیوراج سنگھ چوہان کو دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے کافی پاپڑ بیلنے پڑے ۔ وزیر اعلیٰ بن جانے کے بعد مصیبتوں کا سلسلہ تھما نہیں بلکہ اس میں مزید اضافہ ہوتا چلاگیا ۔وزارت سازی میں ان پر چہار جانب سے دباو آنے لگا ۔ مرکز اپنے وفاداروں یعنی شیوراج کے حریفوں کی تعداد بڑھانا چاہتا تھا لیکن ان کے پرانے وفادا ر حمایتی اپنا حق مانگ رہے تھے ۔ اس کے برخلاف جیوتردیتیہ کے ساتھ آنے والے نئے رنگروٹ الگ سے بلیک میل کررہے تھے

شیوراج سنگھ کو اسی سبب سے ایک طویل مدت تک بغیر وزیر اور پھر مختصر وزراء کی ٹیم کے ساتھ کام چلانا پڑا لیکن جب ارکان اسمبلی کا پیمانۂ صبر لبریز ہوگیا تو وزارت سازی کے لیے مجبور ہوگئے ۔ بڑے جوڑ توڑ کے بعد ہر ایک کے کوٹے کا خیال رکھ کر وزراء کی حلف برداری کی گئی تاکہ کوئی ناراض نہ ہو ۔ اپنی کامیابی جیوتردیتیہ نے ٹویٹ کیا ’’ٹائیگر ابھی زندہ ہے‘‘ اس کے برعکس پریشان حال شیوراج چوہان کا ٹویٹ یہ تھا کہ : امرت منتھن کے نتیجے میں نکلنے والے امرت (آب حیات) سے تو سبھی فیضیاب ہوتے ہیں لیکن زہر کا پیالہ شیو کو پینا پڑ تا ہے۔ یہ دراصل شدید کرب کا اظہار تھا لیکن آزمائش پھر بھی ختم نہیں ہوئی۔ اب قلمدانوں کے لیے چھینا جھپٹی شروع ہوگئی۔ مرکز چاہتا تھا کہ وزارت داخلہ جیسا قلمدان اس کے وفادا ر کو ملے تاکہ شیوراج کو قابو میں رکھا جاسکے ۔ سندھیا چاہتے تھے کہ وزارت خزانہ و محصول جیسی وزارتیں ان کے لوگوں کو ملیں تاکہ جس دولت کے حصول کی خاطرانہوں نے اپنی پارٹی سے غداری کی ہے وہ حاصل ہوسکے ۔

شیوراج سنگھ چوہان اپنے حامیوں کو یہ اہم قلمدان وفاداری کا صلہ کے طوردینا چاہتے تھے تاکہ اسے باقی رکھا جاسکے ۔ سیاست میں آج کل احسان کا بدلہ فوراً چکانا پڑتا ہے ورنہ احسان فراموشی کی سزا بھگتنی پڑتی ہے۔ اس طرح جس وقت صوبے کی عوام کورونا سے جوجھ رہے تھے وزیر اعلیٰ شیوراج چوہان وزارت سازی کی عذاب میں مبتلا تھے ۔ خیر وہ مرحلہ بھی گزر گیا ۔ راجستھان کے بی جے پی والوں نے اس کا مشاہدہ کیا لیکن جب اقتدار کی کرسی آنکھوں کے سامنے منڈلا رہی ہو تو کچھ اور نظر نہیں آتا ۔ مہا بھارت میں ارجن سے جب سوال کیا گیا تھا اس نے تیل میں دیکھ کرمتحرک مچھلی کی آنکھ میں نشانہ کیسے سادھا تو اس کا جواب تھا مجھے اس وقت صرف وہ آنکھ نظر آرہی تھی یہی حال سیاستدانوں کا ہے کہ انہیں عوام کے بے شمار مسائل نہیں بلکہ صرف اور صرف سنگھاسن نظر آتا ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1241 Articles with 457334 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Jul, 2020 Views: 252

Comments

آپ کی رائے