پاکستانی ورلڈ آڈر یا یہودی اسرائیلی ورلڈ آڈر

(Syed Maqsood ali Hashmi, )

دنیا تو ایک کھیتی ہے جو آج بیج رہے ہو کل ہر حال میں کاٹنا ہی ہوتا ہے۔ یہ ہی قدرت کا اصول ہے جیسے
امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کیمطابق چین کریش
نیوکلیئر پروگرام شروع کر چکا ہے ، چین کے شمال مغربی علاقے لوپ نور ، علاقے کا رقبہ ایک ہزار اسکوائر کلو میٹر ہے ، یہ دنیا کی سب سے بڑی نیوکلیئر سائٹ ہے ، یہاں ہر طرح کے نیوکلیئر ٹیسٹ کئے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ شارٹ ، میڈیم رینج ، انٹرکانٹیننٹل بیلسٹک میزائل بھی ٹیسٹ کئے جاتے ہیں ، لوپ نور چینی صوبہ سنکیانگ میں واقع ہے ۔ ۔ ۔ چین کے پاس 320 نیوکلیئر ہتھیار موجود ہیں ، مزید کی تیاری تیزی سے جاری ہے ، جو یو کے ، فرانس کے پاس موجود نیوکلیئر ہتھیاروں سے زیادہ ہیں ، فرانس کے پاس 215 ، یو کے 290 ، امریکہ 5800 ، روس کے پاس 6375 ایٹم بم موجود ہیں ۔ گلوبل ٹائمز آٹھ مئی چین نے کہا تھا کہ اپنے دفاع کیلئے ایک ہزار ایٹم بم ، 41 ڈونگ فینگ نامی انٹر کانٹیننٹل سٹریٹیجک میزائل درکار ہونگے ، تاکہ جنگ کی صورت میں براعظم امریکہ تک ایٹمی ہتھیار پہنچاۓ جا سکیں ، امریکہ کو اسکی حدود میں ہی تباہ کیا جائے گا ۔ ۔ ۔ یہی وجہ ہے امریکہ ہر صورت ، چین کو نیوکلیئر ٹریٹی کا حصہ بنانا چاہتا ہے ، جبکہ چین اس ٹریٹی کا حصہ بننے سے انکار کر چکا ہے ۔ چین نے نیوکلیئر ہتھیاروں کے حوالے سے امریکہ سے بات چیت کو مسترد کردیا ہے ۔ چین کے فارن منسٹری کے سپوکس پرسن کا کہنا تھا چین امریکی جھانسے میں نہیں آنا چاہتا ، پہلے اپنے ہزاروں ایٹم بم تلف کر کے تعداد چین کے برابر کرے ، پھر بات ہوگی ۔ نیوکلیئر ہتھیاروں کا معاملہ ، چین ، امریکہ کے درمیان مزید کشیدگی کا باعث بن رہا ہے ، امریکہ کو خوف ہے کہ چین ، امریکی افواج کا مقابلہ نیوکلیئر بموں سے کرے گا ۔ برطانیہ نے جونہی ہانگ کانگ کے دو لاکھ شہریوں کو برطانوی شہریت دی ہے ، برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئ سکس کے سابق چیف رچرڈ نے خبردار کر دیا ہے ، چین کسی بھی وقت برطانیہ پر خفیہ سائبر حملہ کر سکتا ہے ، چین کے پاس بہت خطرناک خفیہ ٹیکنالوجی موجود ہے ۔ جیسے آسٹریلیا کیساتھ ہو چکا ہے ۔ 19 جون 2020 کو آسٹریلوی وزیر اعظم نے کہا تھا ، آسٹریلیا کے سسٹم پر بڑا سائبر حملہ ہوا ہے ، جو انتہائی پیچیدہ ہے ، اسکے نتیجے میں آسٹریلوی کریٹیکل انفارمیشن کا ڈیٹا چوری ہوا ، ان حملوں کے پیچھے چین کو ذمہ دار قرار دیا جا رہا تھا ۔ ۔ ۔ اب ڈیل فائنل ہو چکی چین ، ایران ، پاکستان ، روس ، ترکی ، سینٹرل ایشیا کے کئ ممالک ، کئ یورپین ممالک امریکی معیشت کو بڑا دھچکا دیتے ہوئے ، ڈالر کی موت کی بنیاد رکھ چکے ہیں ، تجارت اب یا تو باہمی کرنسی میں ہوگی یا ڈیجیٹل یوآن میں ۔ ۔ ۔ ایکطرف اسرائیلی ، امریکی ، بھارتی نیو ورلڈ آرڈر تیار ہے ، دوسری طرف ہمارے خطے سے اسکو مسلسل چیلنج کیا جا رہا ہے ، اسرائیلی فائیو جی ٹیکنالوجی ، چینی فائیو جی ٹیکنالوجی ، اسرائیلی ڈیجیٹل کرنسی ، چینی ڈیجیٹل کرنسی ۔ اسرائیلی جدید ترین ہتھیار ، چینی جدید ترین ٹیکنالوجی ، سیٹلائٹ سسٹم کی جنگ بھی شروع ہو چکی ہے ۔ ۔ ۔ خیر امریکی قرضوں میں جکڑے ممالک کیلئے خوش خبری ۔ ۔ ۔ ڈالر کی موت ۔ ۔ ۔ نظام انشااللہ نیو بلاک کا چلے گا ۔ ۔ ۔ بہرحال میں اکثر لکھتا رہتا ہوں ، دنیا کی تین نظریاتی مملکتوں کی باہمی جنگ کی اصل وجہ اپنے اپنے نظام / نظریے کا نفاذ ہے ۔ ۔ ۔ بھارت کیساتھ تو بہت بری ہو رہی ہے ، ایران سے مکمل باہر ، افغانستان سے مکمل باہر ، کشمیر سے بھی جانیوالا ہے ، بنگلہ دیش ، نیپال ، بھوٹان ، چین سب دشمن ۔ ۔ ۔ نظریہ اکھنڈ بھارت تو وڑ گیا ۔ ۔ ۔ اب رہ گئے اسرائیل ، پاکستان ۔ ۔ ۔ ان ڈائریکٹ امریکہ ، چین ۔ ۔ ۔ دیکھتے ہیں ، اللّه کیا دکھاتا ہے ۔ ۔ ۔ جمہوری نظام زائیونسٹ کا تخلیق شدہ ہے ، ایک عالَم میں چل رہا ہے ، اب اسلامی نظام کی باری ہے ، جو افغانستان سے انشااللہ تعالیٰ شروع ہوگا ، اللّه کا نظام ، افغان طالبان ، چین ، روس ، پاکستان ، ترکی ، ایران ، یورپین ، سینٹرل ایشین ممالک سے مکمل رابطے میں ہیں ، امریکہ ، افغان طالبان معاہدے کی رو سے افواج نکال رہا ہے ، بھارت ، اسرائیل کی نہیں مان رہا ۔ ۔ ۔ جونہی امریکی افواج نکلتی ہیں ، ایک بڑی جنگ غنی حکومت کیخلاف ۔ انشااللہ تعالیٰ کابل فتح ۔ ۔ ۔ پہلی کونپل پھوٹے گی ، اسلامی نظام کی ، پھر پاکستان ، پھر ترکی ، پھر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دعا کیجیئے گا ۔ بہت خاص گمنام ہیروز کی کامیابی کیلئے ، اپنی فوج کیساتھ کھڑے رہنا ، حالات کچھ بھی ہوں ، انشااللہ تعالیٰ وہ سب ملے گا ، جوایک مسلمان چاہتا ہے ۔
بقول قرآن " تم ہی غالب رہو گے"۔ آ
یا اللہ کریم میرے ملک کے ہر ذرہ کی حفاظت فر ما آمین

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Maqsood ali Hashmi

Read More Articles by Syed Maqsood ali Hashmi: 127 Articles with 45958 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Jul, 2020 Views: 271

Comments

آپ کی رائے