بارش کے سنگ

(Yasir Farooq, Karachi)

بارش تر و تازگی کا استعارہ ہے_ انسان, حیوان, نباتات اور جمادات سبھی اس کی اداؤں کے اسیر نظر آتے ہیں_ جب گھنگھور گھٹاؤں سے بارش کی بوندیں کبھی رِم جِھم رِم جِھم کبھی چھما چھم حضرتِ انسان پر براہِ راست گرتی ہیں تو روح سرشار ہوئ جاتی ہے - اسی برسات کا پانی جب دریاؤں اور زمین میں شامل ہو کر ہم تک پہنچتا ہے تو شاید درمیانی واسطے کے زیرِ اثر وہ سرشاری کی کیفیت پیدا نہیں ہو پاتی_وہ من تو شدم تو من شدی والی بات بن نہیں پاتی_

بارش تو بارش خوش خبر بادلوں کو دیکھ کر ہی انسان مست ہوا جاتا ہے..اِسی کیف و سرور کو جناب شوکت جمال نے کیا خوب نظم کیا ہے:

انہیں دیکھو یہ دیوانے خوشی سے ہو گئے پاگل
ابھی تو ابر چھایا ہے ابھی سے ہو گئے پاگل

دنیا کے مختلف خطوں میں بادلوں کا اندازِ دلبری مختلف ہے کہیں کم بارش تو کہیں زیادہ, لہذا یہ تناسب اِن علاقوں کے باشندوں کے ذوقِ باراں پر بھی اثر انداز ہوا_

محمود درویش :

ہمارے صحراؤں میں بارش ہوئ ہے
دنیائے دل خوابوں اور آرزوؤں سے بھر گئ ہے_

اگر تم مجھے دیکھ نہ پاؤ تو غم مت کرنا
جو بادل سورج کو روک دیتے ہیں وہی تو بارش لاتے ہیں_ (عربی کہاوت)

بارش صرف ایک چھت پر نہیں برستی_ (افریقی کہاوت)

جو لوگ بارش کا انتظار کرتے ہیں انہیں کیچڑ کے لئے بھی تیار رہنا چاھیے_ (افریقی کہاوت)

بارش کی آواز کو ترجمے کی ضرورت نہیں_ (ایلن واٹ)

بارش نہیں تو قوس قزح بھی نہیں_(گلبرٹ-کے-کھیسٹرٹن)

دور دیارِ غیر میں کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا قحط کے بعد بارش جیسا ہے_ (چینی کہاوت)

شدید ترین بارش خستہ مکان پر برستی ہے_ (جاپانی کہاوت)

دریا شبنم سے نہیں بارش سے بنتے ہیں_ (سری لنکن کہاوت)

ڈوبتے ہوئے آدمی کا بارش کچھ بگاڑ نہیں سکتی_(ایرانی کہاوت)

خطۂ پاک و ہند و بنگال میں برسات کا موسم دلوں کو کچھ یوں سرسبز و شاداب اور محوِ حیرت کرتا ہے:

میری زندگی میں بادل بارش برسانے یا طوفان لانے نہیں آتے...یہ تو میرے غروبِ آفتاب کے آسمان میں رنگ بھرنے آتے ہیں_(ٹیگور)

اسے دھوپ پیاری لگتی ہے...یقینا اس نے کبھی بارش میں رقص نہیں کیا_(ہندی کہاوت)

دفتر سے مل نہیں رہی چھٹی وگرنہ میں
بارش کی ایک بوند نہ بیکار جانے دوں
(اظہر فراغ)

برسات تھم چکی ہے مگر ہر شجر کے پاس
اتنا تو ہے کہ آپ کا دامن بھگو سکے
(احسن یوسف زئ)

بارش ہوتی تھی تو دونوں بھیگتے تھے
میں راستے میں اور ماں دروازے پر
(نامعلوم)

بدنصیبی کا میں قائل تو نہیں ہوں لیکن
میں نے برسات میں جلتے ہوئے گھر دیکھے ہیں
(نامعلوم)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Yasir Farooq

Read More Articles by Yasir Farooq: 12 Articles with 3725 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Jul, 2020 Views: 227

Comments

آپ کی رائے