عوام کے بعد زمین اور ثقافت پر حملے

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

 مقبوضہ کشمیر میں بندوبستی رقبہ جات سمیت سرکاری ، شاملات، خلاصہ سرکار،شامالات دھہ اورگھاس چرائی اراضی بھارتی فورسز اور غیر کشمیریوں کو تیزی سے منتقل کی جارہی ہے اور اس طرح مقبوضہ خطے کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کیاجارہاہے -مقبوضہ ریاست میں گورنر حکومت نے حال ہی میں سٹریٹجک علاقوں میں تعمیراتی سرگرمیوں کو باقاعدہ بنانے کے لئے خصوصی اختیارات کی منظوری دی ہے جو کہ فوجی عملے کے کام کاج اور تربیتی ضروریات کے لئے لازمی قرار دی گئی ہے۔بھارت اس فیصلے کے بارے میں میڈیاپر غلط تاثر پیدا کرنے کا الزام لگا کر حقائق کی پردہ پوشی کر رہاہے۔آزادی پسند اور بھارتی پالیسیوں سے تنگ سیاسی جماعتوں پرجان بوجھ کر عوام کو گمراہ کرنے کا پروپگنڈہ کیا گیا ہے۔بھارتی فوج کو زمین کی منتقلی اور حصول و ضرورت پر اس ضمن میں لاگو موجودہ کالے قوانین اور قواعد و ضوابط کا اطلاق جار ی ہے۔ نئی زمینیں فوج کو منتقل کی جا رہی ہیں ۔ فوجی کنٹونمنٹ علاقوں میں فوج کی تحویل میں زمین پر فوج کا حق لازم ٹھہرایا گیا ہے۔ فوجی دستوں کے لئے اراضی کی ضرورت میں باقاعدگی نہ لاناگورنرحکومت کی واضح پالیسی ہے۔دفاعی عملے نے دہلی حکومت کی نوٹس میں جو مسائل لائے ہیں ، اُنہیں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی آر میں حل کیا جا رہا ہے۔چھاؤنیوں میں فوج کی تحویل میں موجودہ زمین پر تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ تا کہ فوجیوں کو رہائشی سہولیات دی جائیں۔ جوکہ کسی ماسٹر پلان کے ڈیولپمنٹل کنٹرول ریگولیشن کے مطابق نہیں اور نہ ہی ان میں ماحولیاتی قواعد و ضوابط کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔ کئی علاقوں میں تعمیراتی سرگرمیوں کے لئے تمام اختیارات فوجی عملے کوتفویض کئے گئے ہیں۔ان قواعد و ضوابط کے غلط استعمال کے تناظر میں کوئی معقول اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں ۔مقبوضہ ریاست میں فوجی حکام فوجی سرگرمیوں اور فوج کے عملے کی تربیتی ضروریات کے لئے ایسے علاقوں کو بطور سٹریٹجک علاقے مقرر کرنے کی گورنرحکومت سے کر رہے ہیں۔ چھاؤنیوں کے گردونواح والے علاقوں کوسٹریٹجک علاقے قرار دینے کے لئے کوئی ٹھوس وجوہات بیان نہیں کئے گئے۔ ایسے علاقوں کو تیزی سے نوٹیفائی کیا جا رہا ہے۔یہ واضح ہے کہ یہ خصوصی رعایت فوجی دستوں کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں مزید اراضی کے حصول کے اختیار دیتی ہے۔ فوج کو بے لگا م اختیارات تفویض کئے جارہے ہیں اور انہیں ماسٹر پلان کے قواعد و ضوابط اور ماحولیاتی تحفظات پر عمل پیرا رہنے سے مستثنیٰ قرار دیا جارہا ہے۔
"

ایک طرف قابض فورسز کو مقبوضہ ریاست کی اراضی الاٹ کی جا رہی ہے۔ ہزاروں غیر کشمیریوں کو روزانہ ہزاروں کی تعداد میں ڈومیسائل اسناد اجراء کی جا رہی ہیں۔کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد اب انتہا پسند ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت اسی نظریے کی حامل دیگر تنظیموں اور افراد نے اردوزبان کو ہٹا کرہندی زبان کو مسلط کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ 130 برس تک کشمیر کی سرکاری زبان ہونے کا اعزاز حاصل کرنے والی اردوکے خلاف باضابطہ طور پر عدالتی و میڈیا ٹرائل شروع کیا گیا ہے نیز سخت گیر ہندو تنظیموں بشمول بی جے پی نے اردو کوویلن کے طور پر پیش کرنے کی 'پروپیگنڈا مہم' تیز کردی ہے۔کشمیر سے اسے بے دخل کرنے کے لئے عربی اور فارسی جیسا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ کشمیر ہائی کورٹ میں ماگھو کوہلی نامی ہندو انتہا پسند شخص، جنہیں مبینہ طور پر بی جے پی اور دیگر ہندو تنظیموں کی پشت پناہی حاصل ہے، نے ایک مفاد عامہ کی عرضی دائر کی ہے جس میں ہندی کو مقبوضہ کشمیر کی سرکاری زبان قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ہائی کورٹ نے اس عرضی کو سماعت کے لیے منظور کیا ہے۔ بھارتی حکومت کو نوٹس جاری کر دیا گیا ہے جس میں اس سے معاملے پر جوابطلب کیاگیا ہے۔ عرضی گزار کا استدلال ہے کہ جموں میں ڈوگری اور ہندی زبانیں استعمال ہوتی ہیں اور اردو زبان سے نابلد ہونے کی وجہ سے یہاں (جموں) کے لوگ نا انصافی کا شکار ہیں۔ماگھو کوہلی کی جانب سے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرنے کے ساتھ ہی کچھ بھارتی ٹی وی چینلزاور بی جے پی سمیت کئی ایک ہندو تنظیموں نے کشمیر میں اردوکی جگہ'ہندی کوبطور سرکاری زبان نافذ کرنے کے مطالبے پر شور مچانا شروع کردیا ہے۔ صحافی ظہور حسین کو خدشہ ہے کہ آج جو مہم کشمیر سے اردوکو ہٹانے کے لیے جاری ہے، ایسی ہی ایک مہم 2014 میں اس متنازع خطے کی خصوصی آئینی حیثیت کے خلاف شروع کی گئی تھی جو 5 اگست 2019 کے فیصلوں پر منتج ہوئی۔بی جے پی مقبوضہ جموں و کشمیر یونٹ کے نائب صدر یدویر سیٹھی کا الزام ہے کہ اردو کا جال بن کر ہماری (ہندوؤں کی) زمین اور نوکریاں ہڑپ لی گئی ہیں اور آنے والے وقت میں سرکاری کاغذات ہندی میں لکھے جائیں گے اور نوکریوں کے امتحانات ہندی میں لیے جائیں گے۔ اس طرح سے ہندی نافذ ہونے سے ہمیں نا انصافی سے نجات ملے گی۔ڈوگرہ برہمن پرتیندھی سبھا نامی تنظیم نے لیفٹیننٹ گورنر گریش چندرا مرمو کے نام مکتوب میں تمام سرکاری فرامین ہندی میں جاری کیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔مقبوضہ کشمیر کے 20 میں سے 15 اضلاع میں لوگوں کی اکثریت اردو پڑھنے، لکھنے اور بولنے والوں کی ہے۔ ہندو اکثریتی اضلاع کٹھوعہ، جموں، سانبہ، اودھمپور اور ریاسی میں بھی 40 سے 50 فیصد آبادی اردوجاننے والوں کی ہے۔ریونیو اور پولیس جیسے اہم محکموں کا سرکاری ریکارڈ اردو میں ہے۔ طلبا کے لیے دسویں جماعت تک اس زبان کو ایک مضمون کے طور پر پڑھنا لازمی ہے۔ اخبارات کے قارئین میں سے 70 فیصداردو اخبارات خرید کر پڑھتے ہیں۔ اس کے برعکس کشمیر کے مسلم اکثریتی اضلاع میں دو فیصد لوگ بھی ہندی لکھنا یا پڑھنا نہیں جانتے ہیں۔کشمیر میں لوگوں کی اردو اور ہندی میں دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے پوسٹ گریجویٹ کورس میں داخلے کے لیے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں امیدوار قسمت آزمائی کرتے ہیں جب کہ اسی یونیورسٹی میں 1956 سے قائم شعبہ ہندی میں بمشکل ہی کوئی طالب علم داخلہ لینے میں دلچسپی لیتا ہے۔کشمیر یونیورسٹی سمیت سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی اور جموں یونیورسٹی بھی اردومیں ریگولر پوسٹ گریجویٹ کورس کراتی ہیں جس میں طلبا غیر معمولی دلچسپی دکھاتے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ 5 اگست 2019 کو بی جے پی حکومت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے ساتھ ہی اردو زبان بھی سرکاری زبان ہونے کا اعزاز کھو بیٹھی ہے۔جموں و کشمیر تنظیم نو قانون 2019، جس کے تحت کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے 'یونین ٹریٹری آف جموں و کشمیر' اور یونین ٹریٹری آف لداخ' کا نیا نام دیا گیا ہے، کے سیکشن 47 کے مطابق کشمیر میں معرض وجود میں آنے والی نئی اسمبلی ہی کسی ایک یا ایک سے زیادہ یا ہندی کو سرکاری زبان منتخب کرسکتی ہے۔اب دارالحکومت سری نگر میں پہلی بار ہندی زبان میں بڑی ہورڈنگز نمودار ہوئیں ہیں۔'ملک کی ترقی' کے متعلق ہندی زبان میں بڑی سائز کی یہ ہورڈنگز، جو اس وقت بھی سری نگر کے مختلف علاقوں میں نصب ہیں، پر لگی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی تصویر کو تو راہگیر پہچانتے ہیں لیکن ان پر ہندی زبان میں تحریر عبارت سے قطعی طور پر بے خبر اور ناواقف ہیں۔بھارت ایک طرف کشمیر کی اراضی فورسز کو لاٹ کر رہا ہے اور دوسری طرف خطے کی زبان و ادب پر حملے ہو رہے ہیں۔ یہ کشمیری عوام کو جدوجہد آزادی کے نصب العین سے ہٹا کر نان ایشوز کی طرف مائل کرنا ہے۔ تا ہم جس طرح مخلصانہ طور پر تحریک کشمیریوں کی پہلی ترجیح ہے ، اسی طرح اپنی روایات اور ثقافت کی حفاظت بھی ضروری ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 574 Articles with 219823 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
23 Jul, 2020 Views: 298

Comments

آپ کی رائے