کشمیری مسلمان اور دہشت گرد بھارت

(Adeel Moavia, )

 مقبوضہ جموں وکشمیر میں کرفیو اور لاک ڈاون کومکمل ایک سال گزر چکا ہے، ان دنوں میں بھارت نے ظلم و ستم کی ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کبھی ڈھکے چھپے نہیں رہے، مگر ان دنوں میں کرفیو کے ساتھ عالمی میڈیا کی کشمیر تک رسائی کو ناممکن بنا دیا گیا تاکہ وہاں ہونے والا ظلم اقوام عالم کے سامنے نہ آسکے، انٹرنیٹ اور دیگر ذرائع ابلاغ پر پابندی کے ذریعے وہاں سے آنے والی خبروں کو روکا گیا۔اس کے بعد شہریت پر پابندی کا بل پاس کر کے مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی سازش کی گئی۔

ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت مسلمانوں سے خوفزدہ ہے، اگر کشمیر پر انڈیا کا دعوی سچا ہےکہ وہ اس کا اٹوٹ انگ ہے اور کشمیر میں بھارتی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے تو اسے اتنے زیادہ اقدامات کی کوئی ضرورت نہ تھی ۔پہلےزبردستی کشمیر پر قبضہ، وہاں کٹھ پتلی حکومت کا قیام اس پر بھی بس نہ چلا تو آرٹیکل 370 کے خاتمے کے ذریعے کشمیر کی خود مختار حیثیت کو ختم کر کے اس میں من مانے اقدامات کرنا صاف ظاہر کرتا ہے کہ بھارتی حکومت کو مسلمانوں پر اعتبار نہیں کیونکہ وہ پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں اور تہتر 73سال گزرنے کے باوجود ان کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔بھارتی فوج اور حکومت اب تنگ آچکے ہیں اور ظلم و ستم میں اضافے کے ساتھ اپنے ہی آئین میں تبدیلی کرنے پر مجبور ہیں ۔پاکستان کی حکومت اور عوام اول روز سے کشمیریوں کے ساتھ ہے اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی آئی ہیں ،جب تک پاکستان میں ایک مسلمان بھی زندہ ہے پاکستان کشمیر سے دستبردار نہیں ہوسکتا ،یہی حال کشمیری مسلمانوں کا بھی ہے ، آج بھی وہاں کرفیو کی فضا میں بھی پاکستان سے یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہے ۔

کشمیری مسلمان بھارتی ظلم و ستم کا شکار ہیں، وہاں گھر گھر بھوک اور بیماری نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں، موسم سرما میں برف باری کی وجہ سے مشکلات میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے، ضروریات زندگی کا حصول مشکل ہو جاتا ہے، اس پر بھارتی فوج اور پولیس کے روپ میں آر ایس ایس کے غنڈے مسلط ہیں۔گھروں سے نوجوانوں کو اغو کر لیا جاتا ہے، عورتوں کی عصمت دری معمول کی بات ہےاور تو اور بچے بھی بھارتی فوج کے ظلم سے محفوظ نہیں ۔ بچوں کو بیلٹ گنز کا نشانہ بنا کر اندھا کیا جارہا ہے ۔بھارتی فوج کے جرنیل میڈیا پر آکر کشمیریوں پر ظلم کے لئے ابھارتے ہیں ۔دراصل بھارت کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کر رہا ہے ۔

بھارت دنیا کے سامنے خود کو ایک جمہوری ملک کے طور پر پیش کرتا ہے، مگر کشمیر میں بھارتی حکومت کا غیر مہذب رویہ ثابت کرتا ہےکہ وہ ایک غیر جمہوری ملک ہے، جہاں اقلیتوں کا استحصال کیا جاتا ہے ان کو بنیادی انسانی حقوق میسر نہیں۔

بھارت ایک متعصب ہندوریاست ہے، جوہندوازم کی برتری چاہتی ہے، بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ عیسائی ،سکھ اور دیگر اقلیتیں بھی غیر محفوظ ہیں ،کشمیری عوام بھارت کے جارحانہ عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، اسی وجہ سے مظالم کا شکار ہیں ، اسکے باوجود ان کے حوصلے بلند ہیں، انھیں جلسے اور مظاہروں کی اجازت نہیں مگر وہ اپنے جنازوں کے اجتماعات میں بھی پاکستان سے یکجہتی کا اظہار نعروں کی شکل میں کرتے ہیں، ان میں جوجوش اور ولولہ نظر آتا ہے وہ آخرکار انھیں کا میاب کر کے رہے گا، یہ سب ان شہیدوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے جو بے قصور مارے گئے، ان پاک باز ماؤں بہنوں کی قربانیوں کا ثمرہےجن کی بے حرمتی کی گئی۔

مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں حکومت کو نئے سرے سے کوششیں کرنی چاہئیں، دوست ممالک خاص طور پر ترکی اور انڈونیشیا کے ساتھ ملکر لائحہ عمل طے کیا جائے تو اس معاملے میں پیش رفت ہو سکتی ہے ، کیونکہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنے جرائم چھپانے میں ہزار پابندیاں لگا کر بھی ناکام رہا ہے، آج کشمیر کے حالات سے بہت سے ملک آگاہ ہو چکے ہیں اور بھارت میں مسلمانوں کی حالت زار پر مسلم ممالک میں غم و غصہ کا اظہار کیا گیا ہے ، خاص طور پر ترکی اور انڈونیشیا کے وزرائے اعظم نے بھارت کو تنبیہ کی ہے کہ وہ کشمیریوں پر ظلم کا سلسلہ بند کرے اور انہیں ان کا حق خودارادیت دے۔

عالمی اقوام کو بھی یہ بات اچھی طرح جان لینی چاہیے کہ آج افغانستان میں امن کی بات ہو رہی ہے، طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا انتظام ہورہے ہیں تاکہ خطے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوسکے اس صورت حال میں بھارت کو بھی مجبور کیا جائے کہ وہ اپنے جارحانہ عزائم کو قابو میں رکھے اور کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کےلیے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرے اور پاکستان کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ بند کرے ۔

کشمیری عوام کو جس طرح اسیری کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا جارہا ہےاس سے خطے میں ایک لاوا پک رہا ہے جو کسی بھی وقت آتش فشاں کی صورت میں پھٹ سکتا ہے، ایسا ہوا تو یہ پورے خطے کے لئے نقصان دہ ہو گا ،اس بات کو جتنی جلدی سمجھ لیا جائے بہتر ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Adeel Moavia

Read More Articles by Adeel Moavia: 17 Articles with 8398 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Aug, 2020 Views: 121

Comments

آپ کی رائے