پاک سعودی تعلقات اور بے بنیاد پروپیگنڈا

(Musab Habib, )

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے ہمراہ سعودی عرب کا دورہ کیا اور سعودی عرب کے نائب وزیردفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے خصوصی ملاقا ت کی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اس ملاقات میں باہمی دلچسپی اور سکیورٹی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آرمی چیف سعودی عرب پہنچے تو سعودی چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حمد الرویلی نے ان کا استقبال کیا۔ انہیں سعودی وزارت دفاع میں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے سعودی چیف آف جنرل اسٹاف سمیت سعودی کمانڈر جوائنٹ فورسز جنرل فہد بن الترکی السعود سے بھی ملاقات کی اور دوطرفہ عسکری و تربیتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آرمی چیف اور آئی ایس آئی سربراہ کا یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ یہ ایسے موقع پر کیا گیا جب چند دن قبل پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی طرف سے ایک ٹی وی انٹرویو میں مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے سعودی عرب کو تنقیدکا نشانہ بنایا گیا اور اس وقت بھی یہ موضوع ہر طرف زیر بحث ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا پر اس سلسلہ میں بے پر کی اڑائی جارہی ہیں۔

پاکستان اور سعودی عرب کے شروع دن سے مضبوط برادرانہ تعلقات قائم ہیں جو دونوں ملکوں کے عوام کو باہم متحد کرتے ہیں۔برادر اسلامی ملک نے زلزلے، سیلاب ہوں یا کوئی اور موقع، پاکستان کو ہمیشہ معاشی اور ترقیاتی امداد فراہم کی ہے۔ وزیراعظم عمران خان جب برسراقتدارآئے تو وطن عزیز پاکستان سخت مشکل حالات سے دوچار تھااور خطرہ تھا کہ کہیں زرمبادلہ کے ذخائر کم ہونے اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی بروقت نہ کئے جانے پر ملک ڈیفالٹ نہ کر جائے مگر اس موقع پر بھی سعودی عرب پاکستان کے کام آیا اور فوری طور پر 6ارب ڈالر کا ایک پیکج پیش کیا جس میں سے تین ارب ڈالر غیر ملکی کرنسی کے ذخائربڑھانے کیلئے تھا۔یہ ایسا حساس موقع تھا کہ مجیب الرحمن شامی جیسے نامور دانشوروں اورتجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس وقت برادر ملک اپنے خزانے کے منہ نہ کھولتا تو پاکستان میں ڈالر چار سو روپے تک جا پہنچتا اور معاشی نظام چلانا انتہائی مشکل ہو جاتا۔ مملکت سعودی عرب نے گزشتہ برس جب سعودی ولی عہد اسلام آباد آئے تو انہوں نے پاکستان میں مختلف شعبوں میں بیس بلین ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔ برادر اسلامی ملک نے سٹیٹ بینک میں جو خطیر رقم رکھوائی یہ ایک خاص مدت تک کیلئے تھی اور قرضوں و ترقیاتی امداد کے برخلاف جمع کروائی گئی ایسی رقوم ملکی شرائط کے مطابق واپس کر دی جاتی ہیں تاہم بعض ذرائع ابلاغ میں اس معاملہ کو متنازعہ بناکر دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کو نقصان سے دوچار کرنے کی کوشش کی گئی اور کہا گیا کہ سعودی عرب جموں کشمیر کے مسئلہ پر پاکستان کی حمایت نہیں کرتا حالانکہ یہ نظریات اور خیالات سراسر بے بنیاد ہیں اور ان کی سرے سے کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اگر ہم مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے پچھلے دو برسوں کا ہی جائزہ لیں تو کئی اہم مواقع پر برادر اسلامی ملک نے پاکستان کو اپنے تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔ پاکستان اور انڈیا کے مابین جب گزشتہ برس کشیدگی بڑھی اور پاک بھارت فوجوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہونے لگا تو خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کو پاکستان کی حمایت اور اظہار یکجہتی کیلئے اسلام آباد روانہ کیا۔چار مارچ 2019کو اس وقت کے وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے ٹی وی انٹرویوز میں کہا کہ سعودی عرب نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کروانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اس سلسلہ میں یو اے ای اور امریکہ کو متحرک کیا گیا کہ وہ بھارت کو پاکستان کے ساتھ تناؤ بڑھانے سے روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔

گزشتہ برس پانچ اگست کوبھی جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت والی دفعات ختم کیں تو سعودی وزارت خارجہ نے فوری طور پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور اس امر پر زور دیا کہ خطہ کے باشندوں کے مفادات کو مدنظر رکھا جائے۔ اسی طرح رواں برس ستمبر میں جب اسلام آباد اور نئی دہلی میں ایک بار پھر تناؤ بڑھا تو سعودی وزیرمملکت برائے خارجہ عادل الجبیر اور متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ نے پاکستان اور انڈیا کا دورہ کیا اور اس دوران انہوں نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان،پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ، شاہ محمود قریشی اور دیگر اہم عہدیداران سے ملاقات کی۔ یہی شاہ محمود قریشی جن کے ایک حالیہ انٹرویو کے بعد پاک سعودی تعلقات خراب ہونے کا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، نے اس وقت ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ عادل الجبیر اور محمد بن زید کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیلئے اسلام آباد پہنچے ہیں۔ اس موقع پر وزیراعظم آفس کی جانب سے بھی پاک بھارت کشیدگی کم کرنے اورموجودہ چیلنجز کے مقابلہ کیلئے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے کردار کی تصدیق کی گئی۔ ویسے دیکھا جائے تو سعودی عرب کا کشمیر پر موقف وہی ہے جو پاکستان کا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دیا جائے۔ رواں سال کے آغاز میں سعودی عرب نے شوریٰ کونسل کے اسپیکر کے ذریعہ مقبوضہ کشمیر کے معاملہ پر بات کرنے کیلئے وابستہ اسلامی پارلیمنٹس کے سربراہان کی کانفرنس منعقد کرنے کی تجویز پیش کی کیونکہ سب جانتے ہیں کہ یہ پارلیمنٹس مسلم اقوام کی نمائندگی کرتی ہیں اور اس سے نا صرف سرکاری بلکہ عوامی سطح پر بھی ایک مقبول جہت ملتی ہے لیکن پاکستانی حکام نے اس تجویز کو مسترد کر دیا جس پر یہ کانفرنس نہ ہو سکی ۔ رواں سال اگست میں وزیراعظم عمران خان نے الجزیرۃ ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں پاکستان کی مدد کرنے میں سعودی عرب کے کردار کو تسلیم کیا اور کہا کہ براد رملک نے انتہائی مشکل معاشی بحران میں ہماری مدد کی اورہر اس موقع پر پاکستان کا ساتھ دیا جب پاکستان کو سخت مشکل حالات درپیش تھے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ہمارے ان مشکل دنوں کا دوست ہے جن کا ہم نے سامنا کیا اور یہ کہ برادر ملک میں تقریبا تیس لاکھ پاکستانی کام کر رہے ہیں جوملک میں کثیر زرمبادلہ بھیجتے ہیں۔

سعودی عرب کے خلاف حالیہ ایام میں یہ پروپیگنڈا بھی کیا گیا ہے کہ وہ اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کو اپنے قابو میں رکھتا ہے لیکن یہ بات بھی درست نہیں ہے۔ او آئی سی ایک خودمختار ادارہ ہے جسے شاہ فیصل اور ذوالفقار علی بھٹو نے بنایا تھا ۔ اس کا صدر دفتر اگرچہ جدہ میں ہے لیکن اس ادارہ کی سربراہی وقتا فوقتا مختلف اسلامی ملک کی شخصیات کرتی ہیں اور اس ادارہ نے ہمیشہ کشمیری عوام کی جدوجہد کی مکمل حمایت کی ہے۔ ابھی ایک ماہ قبل جولائی میں جموں کشمیر کی رابطہ کمیٹی نے وزرائے خارجہ کی سطح پر ایک اجلاس منعقد کیا تھا جس میں سعودی عرب، پاکستان، ترکی، آذر بائیجان اور نائیجیریا کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی تھی۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے دیکھا جائے تو ایک سال میں او آئی سی نے تین اجلاس منعقد کئے ہیں جن میں سے دو وزرائے خارجہ کی سطح پر تھے اور ان مواقع پر مظلوم کشمیریوں کے حق میں سخت بیانات جاری کئے گئے تھے۔ یعنی مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور سعودی عرب کا ایک موقف ہے لہٰذا وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی طرف سے سعودی عرب کو تنقید کا نشانہ بنائے جانے کی سنجیدہ حلقوں نے شدید مذمت کی اور اسے دونوں ملکوں کے تعلقات خراب کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ اس وقت بعض لوگ ایک دو ملکوں کے سربراہان کے کشمیر سے متعلق بیانات کا بھی ذکر کر رہے ہیں۔ ان کی طرف سے حمایت اچھی بات ہے لیکن اس سلسلہ میں ہمیں جذباتی انداز میں نہیں سوچنا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض ملک فلسطینیوں کے بڑے حامی بنتے نظر آتے ہیں لیکن اسرائیل کے ساتھ ان کے مضبوط سفارتی، تجارتی اور فوجی مراسم قائم ہیں توزمینی حقائق یہ ہیں کہ صرف بیانات سے فلسطین کی طرح کشمیر بھی آزادنہیں ہو گا۔ہمیں اس سراب کے پیچھے بھاگ کر مسلم ملکوں کو ناراض نہیں کرنا بلکہ انہیں ساتھ ملا کر اپنی قوت کو مضبوط کرنااور مظلوم کشمیریوں کو غاصبانہ بھارتی قبضہ سے نجات دلانے کیلئے عملی اقدامات کرنے ہیں۔وزیرخارجہ کی طرف سے او آئی سی کا متبادل پلیٹ فارم بنانے کی باتیں بھی درست نہیں ہیں اور اس سوچ کا اظہار درحقیقت امت مسلمہ کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔ آپ کی طرف سے بلائے گئے کسی اجلاس میں ایران، ترکی، ملائشیا اور قطر آبھی جائیں اور دوسری جانب سعودی عرب، یو اے ای اور جی سی سی کے ملک موجود نہ ہوں تو دنیا کو کیا تاثر جائے گا؟۔ لہٰذا اس طرح کی باتوں کی کسی طور حمایت نہیں کی جاسکتی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Musab Habib

Read More Articles by Musab Habib: 193 Articles with 82456 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Aug, 2020 Views: 183

Comments

آپ کی رائے