بہار : سیلاب اور کورونا کے بیچ سشانت اور انتخاب

(Dr Salim Khan, India)

ذرائع ابلاغ میں فی ا لحال دوقسم کی خبروں میں مسابقہ جاری ہے ۔ ایک طرف کورونا کی تباہ کاری اور دوسری طرف سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی۔ آج کل بڑے اخبارات ہر گھنٹے دو گھنٹے میں اپنی ویب سائٹ کو اپڈیٹ کرتے ہیں اوراکثرکورونا کو سشانت مات دے دیتا ہے۔ ہندوستان تو دور پاکستانی اخبارات میں بھی وہ چھایا رہتا ہے اور جو تفصیل شائع ہوتی ہیں اسے پڑھ کر عقل حیران رہ جاتی ہے۔ مثلاً پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق سوشانت کی گردن پر 33 سینٹی میٹر کے گہرے نشان تھے، ان کی زبان باہر نہیں ہوئی تھی اور ان کے دانت بھی بالکل ٹھیک تھے جبکہ جسم پر کوئی چوٹ کے نشان بھی نہیں تھے۔ آنکھوں کی پلکیں جزوی طور سے کھلی ہوئی تھیں اور جسم کے کسی بھی حصہ کی ہڈی ٹوٹی ہوئی نہیں تھی۔ اس کے علاوہ ان کے منہ یا کان سے جھاگ یا خون نہیں نکل رہا تھا، سب ہی داخلی اعضاءصحیح تھے۔ سوشانت کی گردن کی گولائی 49.5 سینٹی میٹر تھی، گلے کے نیچے 33 سینٹی میٹر کا لمبا گہرا نشان تھا جبکہ رسی کا نشان ہڈی سے 8 سینٹی میٹر نیچے تھا۔ گلے کے دائیں جانب نشان کی موٹائی ایک سینٹی میٹر تھی جبکہ گلے کی بائیں جانب نشان کی موٹائی 3.5 سینٹی میٹر تھی۔ موت سے پہلے اس نے جوس اور ناریل کا پانی پیا تھا، مگر سوشانت کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے حالانکہ وہ تو پیٹ میں رہا ہوگا۔ کمرے میں کوئی ٹول یا ٹیبل نہیں تھا تو انہوں نے کیسے خودکشی کرلی وغیرہ ۔ سوال یہ ہے کہ کیا قوم کو یہ تفصیل بتانا ضروری ہے؟

سشانت سنگھ راجپوت کی اس خودکشی نے ملک کی اہم ترین خبروں پر پانی پھیر دیا ہے مثلاًامسال مئی اور 12 اگست کے درمیان ہندوستان کی 11 ریاستوں میں 868 افراد سیلاب کی وجہ سے ہلاک ہوگئے ۔وزارت داخلہ کے تحت ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ذریعے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مغربی بنگال میں سب سے زیادہ 245 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔اس کے بعد آسام میں 136، کیرالہ میں 101، گجرات میں 98، کرناٹک میں 86، مدھیہ پردیش میں 77، اتراکھنڈ میں 46، تمل ناڈو میں 24، بہار میں 24، اروناچل پردیش میں 17 اور اتر پردیش میں 14 افراد ہلاک ہو ئے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پچھلے 13 دنوں کے اندر ان اعدادوشمار کی کوئی اپڈیٹ شائع نہیں ہوئی جبکہ ہر پل سشانت کی سی بی آئی تفتیش کے سلسلے میں کوئی نہ کوئی نیا انکشاف ہوجاتا ہے۔ سوشانت کی خودکشی کو ذرائع ابلاغ نے فی الحال بہار کا سب سے بڑا مسئلہ بنادیا ہے ۔ اس کے بعد صوبائی انتخاب دوسرے نمبر پر آتا ہے ۔ان دونوں جعلی مسائل کے داخلی گٹھ جوڑ نے اصلی سنگین مسائل یعنی سیلاب اور کورونا کے قہر کو عوام کی نظروں سے اوجھل کردیا ہے۔

سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کو جس بہار کا انتخاب جیتنے کی خاطر بھنانے کی کوشش کی جارہی ہے وہ فی الحال بھیانک سیلاب کی لپیٹ میں ہے۔ ریاستی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق ریاست کے 16 اضلاع میں 83.62 لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیںاور اب تک 27 افراد سیلاب کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ بہار کی بیش تر ندیوں میں پانی کی سطح میں اضافہ ہورہا ہے۔وزیرآبی وسائل سنجے کمار جھا نے کہا کہ دریائے گنگا گاندھی گھاٹ پر بھی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے۔ اس دوران گنگا کی آبی سطح بکسر، منگیر، بھاگلپور اور دیگھا گھاٹ میں بھی بڑھتی چلی جارہی ہے۔ ۔سشانت کے معاملے میں پل پل کی خبر دینے والا میڈیا سیلاب کی تازہ ترین صورتحال بیان کرنے سے گریز کرتا ہے۔پچھلے سال بہار کے سیلاب نے ایک کروڈ 71لاکھ لوگوں کو متاثر اور8.5 لوگوں کو بے گھر کیا تھا ۔8لاکھ ایکڑ کی فصل پوری طرح برباد ہوگئی تھی۔ ایوان بالہ میں دی گئی معلومات کے مطابق 2016 سے 2019 کے درمیان بہار میں 970 لوگ سیلاب کے سبب لقمۂ اجل بنے ۔ 2007 میں تو سیلاب نے 1287 لوگوں کی جان لے لی تھی۔ ہر سال اس کی تباہی کو روکنے کے لیے بلند بانگ دعویٰ کیا جاتا ہے جو پانی کے ساتھ بہہ جاتا ہے اس لیے کہ سرکاری خزانے کا روپیہ عوامی فلاح و بہبود پر خرچ ہونے کے بجائے سیاستدانوں کی تجوری میں چلا جاتا ہے اور اسی سے انتخابی مہم چلائی جاتی ہے ۔

کورونا کی وباء کے دوران بھی بی جے پی نے کروڈوں روپئے خرچ کرکے سو عدد ورچول جلسوں کا بے شرمی سے اہتمام کردیا۔ غیر منصوبہ بند طریقہ پر بند باندھنے اور نہریں بنانے سے فائدے کے بجائے نقصان ہواہے۔ اٹل جی نے ندیوں کو جوڑنے کی بات کہی تھی لیکن مودی جی مندر بنانے میں جٹ گئے ہیں ۔ ملک میں گئو ماتا کی بات تو بہت ہوتی ہے لیکن سیلاب میں ہزاروں مویشی بہہ جاتے ہیں ۔ انسانوں کو کشتی سے بچایا جاتا ہےاور اوپر سے کھانے کے پیکٹ گرائے جاتے ہیں مگراس سنکٹ کال میں ماتا جی کو بھلا دیا جاتا ہے۔ اس سال بھی سیلاب سے متاثر گاوں والوں کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر مویشی ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کی لاشیں جس پانی میں تیر رہی ہیں اور وہی پانی پینے کے لیے وہ مجبور ہیں ۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جو رہنما اس مشکل کی گھڑی میں مدد نہیں کررہے ہیں ہم ان کو ووٹ کیوں دیں ؟ اس کے باوجود کسی ٹیلی ویژن پر سیلاب کی دگرگوں صورتحال پر بحث نہیں ہورہی ہے۔ پچھلے سال بہار کے سیلاب میں تقریباً دوسولوگ جان بحق ہوئے تھے۔ ان پر کسی نے دو آنسو نہیں بہائے لیکن آج ہر کوئی سشانت کے لیے فریاد کناں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ انسان نہیں تھے؟ سشانت بیچارہ تو اپنے انجام کو پہنچ چکا لیکن کیا ان سیلاب زدگان کو بچانا حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے؟

کورونا کی وبا کو دیکھیں تو بہار کے اندر تفتیش کی شرح بہت کم ہے اس کے باوجود متاثرین کی تعداد ایک لاکھ پندرہ ہزار ہوگئی ہے اور اب تک524 لوگ ہلاک ہوچکے ہیں لیکن یہ کوئی اطمینان کی بات نہیں ہے۔ کورونا اب صوبے میں تیزی سے پھیلنے لگا ہے یا یوں کہیں کہ جانچ کی شرح کے بڑھنے سے زیادہ مریضوں کا انکشاف ہونے لگا ہے۔ اس مسئلہ کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے ابتدائی دس ہزار متاثرین کے لیے 102دن لگے تھے اور اس کے بعد 45 دنوں میں 90ہزار مریض سامنے آگئے ۔ اس کی ایک وجہ جانچ میں اضافہ ضرور ہے لیکن دوسرے اسباب بھی ہیں جیسے شہروں سے لوٹنے والے مزدوروں کے ذریعہ اس کا پھیلاو وغیرہ ۔ مارچ کے اندر بہار میں جب پہلا مریض آیا اسی وقت سے سوشاسن بابو نتیش کمار کی قلعی کھل گئی ۔ سب سے پہلے قرنطینہ مراکز قائم کرنے کا کام شروع ہوا۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق یکم جون تک صوبے میں بلاک کی سطح پر 12291قرنطینہ مراکز قائم کیے گئے جن میں ۔13لاکھ 71 ہزار662لوگوں کو رکھا گیا اور اس پر 14 کروڈ 22لاکھ سے زیادہ خرچ ہوالیکن اس کے باوجود ان مراکز پر کھانے اور دیگر سہولیات کی شکایت موصول ہوتی رہی اور لوگوں فرار ہونے کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ یوریا اور چارہ گھوٹالہ میں جو کچھ ہوا تھا وہی بدعنوانی اب کورونا کے دوران بھی جاری ہے، فرق یہ ہے کہ لالو پرشاد یادو جیل میں ہے اور نتیش کماع و سشیل مودی محل میں ہیں۔

بہار میں کورونا سے متاثر ہوکر مرنے والوں کی تعداد نے جب لوگوں کو چونکایا توصحت عامہ کے شعبے کی جانچ پڑتال بھی شروع ہوئی اور حیرت انگیز حقائق سامنے آئے۔ ریاستِ بہار میں جملہ 10609ڈاکٹروں کے عہدے ہیں ان میں سے بھی 6437 خالی پڑے ہوئے ہیں ۔ اسی کے ساتھ نرسوں اور دیگر اہلکاروں کی بھی بھاری کمی ہے۔ صوبے کے 13 میڈیکل کالجس میں سے صرف 10 اس وباء کا علاج کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ عالمی معیار پر ڈبلیو ایچ او کے مطابق فی ہزار کی آبادی پرایک ڈاکٹر ہونا چاہیے۔ ہندوستانی طبی کونسل نے یہ رعایت کی ہے کہ 1681 کی آبادی پر ایک ڈاکٹر ہو مگر بہار میں 28 ہزار 391 لوگوں پر ایک ڈاکٹر ہے یہ فرق تقریباً 20 گنا کا ہے۔ ایسے میںیہ سوال تشویشناک ہے کہ کورونا جیسی وبا کا مقابلہ کیسے کیا جائے گا ؟ اس لیے سرکاری افرا تفری صاف دکھائی دے رہی ہے۔ گزشتہ تین ماہ میں ۲وزارت صحت کے سکریٹریز کا تبادلہ اس کی حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

اس بد نظمی کی قیمت عوام بھگت رہے ہیں حکومت نے 18 نجی اسپتالوں کو کورونا کا علاج کرنے کی اجازت تو دے دی مگر نرخ نہیں طے کرپائی ۔ اس لیے مریضوں کے اہل خانہ سے من مانی فیس وصول کی جارہی ہے اور وہ کورونا کے بجائے علاج خرچ سے مارے جارہے ہیں۔ ایک طرف کورونا دوسری طرف سیلاب کے 75 لاکھ متاثرین اور ان کو راحت پہنچانے کے لیے صرف 7 ریلیف کیمپ ، ایسے میں سوشیل ڈسٹنسنگ کیسے ہوگی ؟ اور سینی ٹائزر و ماسک کہاں سے آئے گا ؟ ان بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے کی خاطر سوشانت سنگھ راجپوت کا ہواّ کھڑا کردیا گیا ہے۔اس کی آڑ میں مہاراشٹر کی حکومت کو بدنام کرکے انتخاب جیتنے کی سازش رچی جارہی ہے۔ اس طرح کے انتخاب سے آخر بہار کے پریشان حال عوام کا کیا بھلا ہوگا؟ یہ ایک بنیادی سوال ہے۔ ایسے میں ووٹ مانگنے والے اگرکسی رکن اسمبلی کو گاوں والے دوڑا کر مارتے ہیں تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے ؟ خیر ان بنیادی مسائل سے توجہ ہٹا کر رام مندر، سشانت سنگھ راجپوت وغیرہ کی مدد سے انتخاب جیتنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ عوام اس جعلی سیلاب کے جھانسے میں آتے ہیں یا اس سے بچ جاتے ہیں؟
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1091 Articles with 377010 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Aug, 2020 Views: 125

Comments

آپ کی رائے