ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے للن ّ کلنّ

(Dr Salim Khan, India)

ابوظبی کی ایک سرد صبح میں نمازِ فجر کو آتے ہوے للنخانکی نظرمسجد کھڑکی کے باہر کھڑے جانے پہچانے خاکروب پر پڑی جو شیشے سے اندر جھانک رہا تھا۔ للن نے اسے پہلے بھی کئی بار ایسا کرتے دیکھاتھا لیکن یہ سوچ کر استفسار نہیں کیا کہ وہ اعتراض سمجھ کر برا نہ مانے ۔
اس دن خلاف معمول للن نے اجنبی خاکروب کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا کیوں بھائی باہر سے کیا دیکھتے ہو اندرچلو ۔
خاکروب نے چونک کر جواب دیا۔ اندر؟ اندر ؟؟ میں کیسے چل سکتا ہوں ؟؟؟ میں تو ہندو ہوں ۔
اچھا تمہارا نام کیا ہے؟
میرا نام کلن سنگھ ہے۔
بہت خوب لیکن تم اگر باہر سے دیکھ سکتے ہو تو اندر کیوں نہیں آسکتے ؟
اچھا ! تو کیا میں واقعی مسجد کے اندر آسکتا ہوں ؟ کیوں نہیں جیسے تم مندر میں جاسکتے ہو اسی طرح مسجد میں بھی آسکتے ہو۔
مندر! میں تو مندر کے اندر کبھی نہیں گیا۔
للن نے پوچھا کیوں؟
کلن بولا کیونکہ میںنیچی ذات کا دلت ہوں ۔مجھے مندر میں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔
اچھا ! للن کو تعجب ہوا وہ بولالیکن مسجد میں نہکوئی سوورن (اونچی ذات )ہے نہ شودر(نیچی ذات ) کا ہے۔ تم چلو! میرے ساتھ چلو۔
کلن نے پوچھا اچھا مگر آپ اُدھردوسری طرف کیوں جارہے ہیں؟
وہ ایسا ہے کہ میں پہلے وضو کروں گا ۔ تم بھی چاہو تو کرسکتے ہو۔
میں ؟ جی ہاں میں بھی کروں گا لیکن مجھ اس کا طریقہ نہیں آتا ۔
للن بولا یہ تو بہت آسان ہے ۔ جیسا میں کروں ویسا ہی تم بھی کرو۔
کلن وضوگاہ میں للن کی ہو بہو نقل کرنے لگا۔وضو سے فارغ ہو کر للن اور کلن مسجد کے اندر آگئے۔ کلن ایک کونے میں بیٹھ گیا اور للن سنت پڑھنے لگا ۔ کلن اس کی حرکات و سکنات کو بڑے غور سے دیکھتا رہا ۔ اس کوزیادہ اچھا لگ رہا تھا بڑا سکون مل رہا تھا۔ اقامت ہونے لگی تو للن نے دیکھا کلن غائب ہے۔ اس نے مسجد میں نظر دوڑائی تووہ کونے میں بیٹھا نظر آگیا۔ للن نے سوچا اسے الگ تھلگ دیکھ کر کوئی اعتراض نہ کردے اس لیےاس کے پاس آکر ہاتھ پکڑ ااوراپنے ساتھ صف میں لاکر برابر میں کھڑا کردیا۔ کلن پر لرزہ طاری ہوگیا۔ ایک ہی صف میں عربی، ایرانی، ہندی اور سوڈانی سب تھے۔اس کامدیر پیچھے تھااورمسجد کامنتظم بھی برابرمیں کھڑا تھا ۔ اس بار پھر کلن نے للن کی نقل کی اور نماز پوری ہوگئی۔
مسجد سے باہر نکلنے کے بعد للن نےپوچھا کیوں ؟ کیسا لگا ؟؟
کلن بولا دیکھیے صاحب نمازیوں کو دیکھ کرچونکہ مجھے اچھا لگتا ہے اسی لیے ہر روزمیں مسجد کےاندر جھانکتا تھا لیکن آج جو سکون ملا میں اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا ۔
للن نے حیرت سے پوچھا کیوں؟ ایسی کون سی خاص بات تھی ۔
کلن بولا میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہاں کوئی ریزرویشن نہیں ہوگا اورمیرا مدیر میرے پیچھے عبادت کرے گا ۔
للن سمجھ گیا مگر بات بدلنے کے لیے پوچھا لیکن بھارت میں ریزرویشن تو آپ لوگوں کی بھلائی کے لیے ہی ہے؟
جی ہاں صاحب ملازمت میں ہمارے لیے ۵۰ فیصد تک ریزرویشن ہے مگر مندر میں تو ان کا صد فیصد قبضہ ہےہمارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔
للن نے حیرت سے کہا اچھا یہ تو بہت بری بات ہے۔
جی ہاں صاحب اب آپ ہی بتائیے کہ عبادتگاہ سے ذلت کے ساتھ نکال دیئے جانے بعد اگر باہر ملازمت کےٹکڑے ڈال دیئے جائیں تو اس کاکیا فائدہ؟ للن نے بات بدلنے کے لیے کہا لیکن آگے پیچھے نماز پڑھنا تو عام سی بات ہے ایسا روز ہوتا ہے۔
یہ آپ کے ساتھ ہر روز ہوتا ہے آپ کے لیے عام سی بات ہے لیکن میرے ساتھ زندگی میں پہلی بار ہوا ہے اس لیے خاص بات ہے۔
اب وہ لوگ مسجد سے نکل کر چائے خانے میں آگئے تھے ۔
للن نے چائے پیتے ہوئے کہا دیکھو کلن اگر تم ہرروز اسی طرح میرے ساتھ نماز پڑھوگے تو تمہیں اس دنیا میں سکون ملے گا
کلن بولا جی ہاں صاحب اب میں نے سوچ لیا ہے کہ ہر روز نماز پڑھوں گا
لیکن دیکھو اگر کلمہ پڑھ کر یہی کروگے تو پرلوک میں بھی کامیاب ہوجاوگے ۔
کلن نے پوچھا یہ پرلوک کی کامیابی کیا ہے؟
للن بولا جس مالک نے ہمیں اس دنیا میں بھیجا ہے اس کے سامنے پھر حاضر ہونا اورجیون بھر کا حساب دے کر کامیاب ہوجانا۔
اچھا لیکن یہ حسان کتاب دینا تو بڑا مشکل کام ہے۔
دیکھو کلن تم میرے ساتھ گھر چلو پرلوک کے حساب کتاب کی تفصیل بیان کرنے والی ایک کتاب تمہیں دوں گا ۔ تم کون سی زبان پڑھ سکتے ہو؟
کلن بولا صاحب میں ہندی ، انگریزی اورگجراتی تینوں زبانیں جانتا ہوں ۔
اچھا کہاں تک پڑھے ہو؟ میں گریجویٹ ہوں مگر حالات کی مجبوری یہ کام کروارہی ہے ۔
کتاب لےکرجانے والے کلن سنگھ نے جاتے جاتے للنخان کواسلامی مساوات کی نعمت عظمیٰ کی معرفت کرادی ۔
اس لیے کلن کی طرح للن بھی بہت خوش تھا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1091 Articles with 379623 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Sep, 2020 Views: 252

Comments

آپ کی رائے