عرب ممالک کی بے وفائی

(Syed Maqsood ali Hashmi, )

 عرب ممالک نے اللہ کے حکم کو پس پشت ڈال دیا حالانکہ انکو دنیا کی لینڈنگ حکمرانی سونپی گئی ہے۔یہود۔مشرک ۔کفار کو تو اللہ نے دوزخ کا ایندھن قرار دیا ہے اچھا ایک بات حقیقت ہے جس نے بھی قرآن اور اور رسول صلی اللہ والہ وسلم کے حکم سے رو گردانی کی اس نے دنیا ہی میں عذاب ذلت اور بر بادی اس کے مقدر میں لکھ دی گئی اب عربوں نے امت ، رسولؐ ، اللّه کیساتھ بےوفائ کی ، زاتی مفادات کے حصول کیلئے ۔

بھارت کو چین نے گلے سے پکڑا ہوا ہے ، امریکہ ، اسرائیل کی خطے میں اب دال نہیں گل رہی تھی ، خطے میں موجودگی برقرار رکھنے کیلئے ، گلف ممالک کو استعمال کیا جا رہا ہے ، ٹرائیکا کے عرب ممالک کے حوالے سے دیگر عزائم پچھلے آرٹیکلز میں موجود ہیں ۔

اسرائیل ، عرب ممالک کو قابو کرنے کے بعد اب اگلا ٹارگٹ پاکستان کو بنا چکا ہے ۔ ۔ ۔ پاکستان آرمی ، نیوی ، ایئر فورس ، اسلامی بم ٹارگٹ ہیں ۔ ۔ ۔ انکے پاس وہ ٹیکنالوجی ہے جس سے یہ پورے پاکستان کی بجلی بند کر سکتے ہیں ، انٹر نیٹ ، موبائل فون نیٹ ورک ، لاء انفورسمنٹ ایجنسیز کی ایمرجنسی کمیونیکشن بند کر سکتے ہیں ۔

یہ سب کچھ الیکٹرو میگنیٹک پلز ویپن کے ذریعے ممکن ہے ، یہ جنگی طریقہ کار الیکٹرانک وار فیئر کہلاتا ہے ۔ ۔ ۔ پاکستانی ایجنسیز سب جانتی ہیں ، ہم بھی ٹیکنالوجی لیکر بیٹھے ہیں ، میڈیٹیرین سی میں ترکی کو قابو کرنے کا پلان ہے جبکہ پاکستان کیساتھ ڈائریکٹ جنگ ہوگی ۔ اگر اسرائیل ہر طریقے سے تیار ہے ، تو پاکستان بھی تیار ہے ۔ ۔ ۔ بھارت کی مدد کو بھی اور گوادر کے سامنے بھی عرب ممالک کی مدد سے پہنچ چکا ہے ۔

یہ بات آہستہ آہستہ اسرائیلی اخبار اوپن کر رہے ہیں کہ 2015 سے نتن یاہو ، محمّد بن سلمان کے درمیان خفیہ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے ، نتن یاہو کئ موقعوں پر سعودیہ آ چکا ہے ، بہت سے سعودیہ کے اعلیٰ عہدیدار خفیہ طور پر اسرائیل جا چکے ہیں ۔ ۔ ۔ ابھی آگے بہت بڑے بڑے رازوں سے پردہ اٹھے گا ، اصل ایشو وہی ہے جو میں پچھلے کئ آرٹیکلز میں زکر کر چکا ہوں ، مسجد اقصیٰ کی کسٹوڈین شپ اسرائیل کے آفیشل طور پر حوالے کرنی ہے ، ڈیل یہاں رکی ہوئی ہے ، امت مسلمہ کے ری ایکشن کا خوف ، امت مسلمہ کو کچلنے کیلئے پاکستان کو قابو کرنا ضروری ہے ۔ ۔ ۔ سعودیہ امت مسلمہ کی لیڈر شپ اپنے ہاتھ سے جاتا نہیں دیکھ سکتا ، نہیں چاہتا کے پاکستان امت کو لیڈ کرے ۔ ۔ ۔ دوسری طرف انکو ترکی سے خلافت عثمانیہ کی بحالی سے خوف ہے ۔ ۔ ۔

لارنس آف عریبیہ کے ذریعے یہودیوں نے ہی عربوں کو خلافت عثمانیہ کے ہوتے ، بغاوت پر مجبور کیا تھا ، اسوقت بھی خلافت عثمانیہ کیجانب سے یہی کہا گیا تھا ، ان مقامات مقدسہ ( مکہ ، مدینہ ) کے احترام کی خاطر کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ہوگا ، آپ شوق سے حکومت کریں ۔ ۔ ۔

اب یو اے ای نے یونائیٹڈ نیشنز میں ترکی کیخلاف شکایت درج کروائی ہے کہ ترکی عرب ممالک میں انتشار ، دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے ، سعودیہ ، یو اے ای دونوں کیطرف سے ترکی کیخلاف مسلسل شکایات ،،،،،،، عالمی سطح پر ترکی کیخلاف منصوبہ بندیوں میں یو اے ای کی ڈائریکٹ شمولیت ۔ ۔ ۔ لیبیا ، یونان جیسے معاملات میں براہ راست ترکی سے ٹکراؤ ۔ ۔ ۔ پاکستان مخالف گروپ ٹرائیکا و اتحادیوں کیلئے سہولت کاری ۔ ۔ ۔ صرف ذاتی مفادات کیلئے ، امت ، رسولؐ ، اللّه سے بے وفائی ہے ۔ ۔ ۔ اقتدار کیلئے مسجد اقصیٰ ، فلسطین ، کشمیر ، امت ، او آئی سی کا سودا ، یہ بھول چکے ہیں ، اقتدار ، اسرائیل نہیں اللّه پاک دیتا ہے ۔ ۔ ۔ بہرحال احادیث مبارکہ کو بھی تو پورا ہونا ہے ۔

اب امریکہ ہمارے خطے میں بھارت ، آسٹریلیا ، جاپان کو ساتھ ملا کر نیٹو طرز کا بلاک تشکیل دینے جا رہا ہے ، ایک ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا ، اگر چین ، امریکہ یا پاکستان ، بھارت جنگ ہوتی ہے تو یہ تمام ممالک ملکر حملہ کریں گے ، اس بلاک میں مزید ممالک کو شامل کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ عرب ممالک انکا ساتھ دیں گے ، اب سمجھ آیا آپ لوگوں کو محمّد بن سلمان ، پاکستان کو کوالا لمپور سمٹ میں جانے سے کیوں روک رہا تھا ؟ کیوں ہمارے ورکرز کو سعودیہ سے نکالنے کی دھمکی دی ، یہ محمّد بن سلمان کے منہ میں نتن یاہو کے الفاظ تھے ۔ ۔ ۔

اسرائیل تمام عرب ممالک سے پاکستانیوں کو نکالے گا ۔ ۔ ۔ او آئی سی عملی طور پر ختم ، جنرل راحیل کو فوری طورپر پاکستان بلوایا جاۓ ۔

اب چین ، پاکستان ، روس کی دفاعی ، خارجہ محاذ پر میٹنگ ہونے جا رہی ہے ، روس میں ، جو خطے میں گیم چینجر ثابت ہوگی ۔ ۔ ۔ چین اپنے دوست ممالک کو لاۓ گا ، پاکستان اپنے ، روس اپنے ، یہ خطے کی تین ایٹمی قوتیں ملکر بہت بڑا بلاک بنانے جا رہی ہیں ، نیٹو ، او آئی سی طرز کا ، جو خطے میں اس بلاک کو ناقابل تسخیر بنا دے گا ۔ ان شاء اللّه تعالیٰ ۔ ۔ ۔ چیزیں آہستہ آہستہ سامنے لائی جائیں گی ۔ ۔ ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Maqsood ali Hashmi

Read More Articles by Syed Maqsood ali Hashmi: 109 Articles with 36547 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Sep, 2020 Views: 93

Comments

آپ کی رائے