خود کفیل ہندوستان: نئی بوتل میں پرانی شراب

(Dr Salim Khan, India)

ماہرقمار باز اپنی ساری رقم ایک ہی گھوڑے پر نہیں لگاتا بلکہ دوتین پر لگاتا ہے۔اس کو توقع ہوتی ہے کہ ان میں سے کوئی ایک تو جیت ہی جائے گا اور اس سے اتنا فائدہ ہوگا کہ ہارنے والے گھوڑوں پر لگائی جانے والی رقم کا خسارہ بھی پورا ہوجائے گا۔ آج کے شاطر سرمایہ دار بھی کئی برانڈ ایک ساتھ مارکٹ میں لانچ کرتے ہیں تاکہ کوئی بھی مال بکے تو منافع انہیں کو آئے گا ۔ اب تو یہ معاملہ ذرائع ابلاغ میں بھی آگیا ۔ دینک جاگرن نے اپنے ایک بڑے حریف امراجالا کو یہ سوچ کر خرید لیا کہ وہ بکے یا یہ اپناہی اخبار پڑھا جائے گا اور دونوں کے اشتہار انہیں کے حصے میں آئیں گے ۔ سیاست کے اندر یہ تینوں عناصر شامل ہیں ۔ یہ رائے عامہ کی تجارت بھی ہے اور جوا بھی ہے اس لیے کہ کوئی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ وہ جیت ہی جائے گا۔ موجودہ سیاست چونکہ کارکردگی کے بجائے نعروں کے پہیے پر چلتی ہے اس لیے بیک وقت مختلف و متضاد نعرے لگائے جاتے ہیں تاکہ جو بھی چل پڑے اسی پر سواری شروع کردی جائے۔ شمسی مینائی نے جوکہا تھا وہ (معمولی ترمیم) کے ساتھ آج بھی قومی کی سیاست پر صادق آتا ہے ؎
سب کچھ ہے اپنے دیس میں روٹی نہیں تو کیا
نعرہ لپیٹ لو جو لنگوٹی نہیں تو کیا

ملک کی حالیہ دگرگوں معاشی صورتحال میں سب کا ساتھ اور سب کا وکاس والے نعرے نے سشانت سنگھ راجپوت کی مانند چرس پی کر خودکشی کرلی۔ اس کام میں ریا چکرورتی کی طرح حکومت نے بھی اپنا گھناونا کردار ادا کیا۔ دراصل ہوا یہ اقتدار سنبھالنے کے چند ماہ بعد محمد اخلاق کا ہجوم کے ذریعہ قتل ہوگیا۔ اترپردیش میں اس وقت اکھلیش یادو کی سرکار تھی اور اس کا دامن مظفر نگر فساد سے داغدار تھا ۔ اس سے قومی انتخاب میںبی جے پی کو بڑا فائدہ ہوچکا تھا اس لیے اکھلیش نے محمد اخلاق کے معاملے میں ہمدردانہ رخ اختیار کیا اور بی جے پی نے اس کی آڑ میں فرقہ وارایت کے شعلے بھڑکائے۔ حملہ آور غنڈوں کو بچانے سے لے کر ان کی پذیرائی تک کی گئی ۔ وہی زمانہ تھا کہ جب بی جے پی کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ ظالم اور مظلوم دونوں کا ساتھ ممکن نہیں ہے۔ یعنی سب کا ساتھ کے بجائے کسی ایک کا ساتھ دینا ہوگا۔ اترپردیش میں اس کا حریف اول چونکہ مظلوم کے ساتھ تھا اس لیے وہ ظالم کی پشت پناہی کرنے لگی ۔ اکثریتی فسطائیت کو فروغ دینا ویسے بھی بی جے پی کی سیاسی مجبوری ہے۔ جب سب کا ساتھ ختم ہوا تو وکاس کا بھی انکاونٹر کردیا گیا۔ اچھے دن یعنی خوشحالی کا سارا دارومدار وکاس یعنی ترقی پر تھا ۔ اب جب کہ وکاس ہی نہ رہا تو اچھے دنوں کے خواب ازخود کافور ہوگئے ۔

اس کے بعد رافیل کا معاملہ سامنے آیا اور چوکیدار چور ہے کے نعرے لگنے تو مودی جی کے پاکستان اور ائیر اسٹرائیک کے سوا جائے پناہ نہیں رہی۔ اس کی مدد سے انتخاب جیتنے کے بعد کشمیر کی دفع 370 کی مدد صوبائی انتخاب لڑا گیا لیکن مہاراشٹر اور ہریانہ میں اکثریت نہیں ملی۔ رام مندر کے نام جھارکھنڈ ہار گئے اور شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) پر دہلی نہیں جیت سکے ۔ اس لیے خودکفیل ہندوستان کی نئی پڑیا چھوڑی گئی ہے۔ آج کل ہر کوئی ’آتم نربھر بھارت‘ یعنی خود کفیل ہندوستان کا راگ الاپ رہا ہے۔خزانہ خالی ہونے کے سبب وزیر دفاع اپنا فوجی بجٹ گھٹانے پر مجبور ہوتے ہیں تو اسے آتم نربھر بھارت سے جوڑ دیتے ہیں اور وزیر داخلہ تو کسی کومبارکباد کا ٹویٹ بھی کرتے ہیں تو اس میں خود کفیل ہندوستان کا ذکرکرنے سے نہیں چوکتے۔ ان لوگوں نے اس بات کواتنا دوہرایا ہے کہ عدالت نے مرعوب ہوکر کفیل خان کو رہا کردیا۔ خیراس شر میں سے یہ خیر کا پہلو نکل آیا۔

مودی سرکار کے بارے میں اب یہ بات زبان زدِ عام ہوگئی ہے کہ اس کے پاس ندرت و تنوع کا مکمل فقدان ہے ۔ یہ لوگ پرانی باتوں کو دوہرانے یعنی وہی رات کی دال کو صبح بگھار کر دوبارہ پروسنے کے فن میں مہارت رکھتے ہیں ۔ اس کی ایک مثال یہ خود کفالت کی مہم بھی ہے۔ آزادی سے قبل 1906میں انگریزوں نے صوبہ بنگال کو تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت بنگال کے اندر آسام اور آس پاس کے صوبے بھی شامل تھے ۔ آزادی کی جدوجہد کرنے والوں کو اس سرکاری فیصلے نے ایک موقع عطا کردیا اور’سودیشی (اپنے دیش کی) تحریک‘ چلا کر اس کی مخالفت کی گئی ۔ یہ دلچسپ اتفاق ہے انگریزوں نے 1911 میں اپنا فیصلہ بدل دیا لیکن اسی تحریک کا حوالہ دے کر آتم نربھر بھارت کی مہم چلانے والی بی جے پی نے ایک ننھے سے صوبے جموں کشمیر کے اندر سے لداخ کو الگ کردیا اور مقامی رہنماوں کے متفقہ مطالبے پر کان دھرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ سرکار انگریزوں سے بھی زیادہ بے حس اور سخت گیر ہے۔

انگریزوں کی ہندوستان میں آمد سے قبل یہاں کے اشیاء خاص طور ریشمی کپڑا وغیرہ یوروپ کے اندر بڑے پیمانے پر در آمد کیا جاتا تھا۔ انگریزوں نے کس طرح اس صنعت کو تباہ و تارج کیا اس کا بیان ششی تھرور کی کتاب میں موجود ہے۔ اس کے بعد صورتحال بدلی اورانگریز یا ان کی ایسٹ انڈیا کمپنی اس ملک کا خام لے کر اس سے اپنی مصنوعات بنا کر فروخت کرنے لگے۔سودیشی تحریک نے غیر ملکی مصنوعات کے استعمال کی مخالفت کی اور ان کو چوراہوں پر جمع کرکے جلایا ۔ سودیشی تحریک نے انگریزوں کو نقصان پہنچایا ۔ یہ اپنے اچھے مقاصد کے باوجود یہ ایک ردعمل کی تحریک تھی۔ اس کے بعد 1990میں جب لال کرشن اڈوانی ملک میں فرقہ پرستی کا زہر گھول رہے تھے آر ایس ایس نے دانشوروں کو متوجہ کرنے کے لیے سودیشی جاگرن منچ قائم کیا۔ گرومورتی نے اسے منظم کرنے کے لیے پہلے مرحلے میں سنگھ کی طلبا، کسان اور مزدور یونین کو اس میں شامل کیا بعد دیگر شاخیں بھی اس سے منسلک ہوگئیں۔ یہ لوگ بھی غیر ملکی مصنوعات اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے سخت ممالک ہیں یعنی آتم نربھر بھارت سرے سے کوئی نئی شئے نہیں ہے۔

مرکز میں جب کانگریس کی سرکار ہوتی ہے تو سودیشی جاگرن منچ کے لیے حکومت کی مخالفت بہت آسان ہوتی ہے اور بہت سرگرم ہوجاتی ہے لیکن بی جے پی اس کے لیے دھرم سنکٹ کھڑا کردیتی ہےکیونکہ بی جے پی وہ سب کام بڑے شدو مد کے ساتھ کرتی ہے جو کانگریس شیوہ ہوتا ہے۔ اپنی حکومت کی مخالفت منچ کے لیےحکمت کے خلاف ہوجاتا ہے۔ مودی سرکار کا جہاں تک سوال اس نے درآمدات کو جس طرح سے فروغ دیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ یوگاجیسی مذہبی ورزش کے لیے بڑے فخر کے ساتھ چین سے چٹائی منگوائی جاتی تھی۔ اس سے بڑی شرم کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ ان لوگوں نے ولبھ بھائی پٹیل کا مجسمہ تک چین سے بنوا کر منگوایا۔ غیر ملکی سرمایہ کاری پر مودی حکومت فخر جتاتی رہی ہے ۔ چین کے سرحدی تنازع کے بعد ماحول بدلا مگر اس کے باوجود دہلی کے اندر ایک سرنگ بنانے کا کام کئی ہندوستانی کمپنیوں کو درکنار کرتے ہوئے ایک چینی ادارے کو دے دیا گیا ۔

حکومت کے اس دوغلے پن دہلی کی ہائی کورٹ نے محسوس کرکے اس کی بڑے کھلے الفاظ میں تنقید کردی۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ عدلیہ نے یہ بات اس دن کی جب اپنے من کی بات میں وزیراعظم ترک موالات کی تحریک کا حوالہ دے کر کہا تھا گاندھی جی نے جس طرح اس کو خوداعتمادی کا ذریعہ بتایا اسی طرح کا معاملہ آتم نربھر بھارت کی تحریک کا بھی ہے۔ عدالت عالیہ میں اس وقت علاقائی ہوئی اڈوں پر گراونڈ ہینڈلنگ آپریشنس کے ٹنڈر کے ضابطوں پر اعتراض زیر بحث تھا ۔ عدالت نے کہا اگر آپ مقامی پیشہ وروں کو فروغ نہیں دے سکتےتو میک ان انڈیا اور آتم نربھر ہونے کے دعوے کھوکھلے لگتے ہیں۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ ایک طرف سرکار میک ان انڈیا کی بات کرتی ہے اور دوسری طرف چھوٹے اداروں کو مسابقت سے باہر کردیا جاتا ہے۔ عدالت نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ اگر آپ ان چھوٹی کمپنیوں کو باہر کرنا چاہتے ہیں تو صاف کہہ دیجیے۔ اپنی تقاریر میں اتنا منافق نہ بنیے آپ کے رہنماوں کی کتھنی اور کرنی میں فرق ہے۔اس ٹینڈر کو حاصل کرنے کے لیے 35 کروڈ سے زیادہ حوالہ اوراسی کام میں دو سال کا عملی تجربہ ایسی شرائط ہیں کوجو نئے لوگوں خارج کردیتا ہے ۔کورٹ نے کہا اس طرح آپ بڑے سرمایہ داروں کی مدد کررہے ہیں جن میں غیر ملکی ادارے بھی آئیں گے۔

ہمارے یہاں چونکہ خودکفالت کی باتیں عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے کی جاتی اور کام نہیں ہوتا اور بات آگے نہیں بڑھتی۔ آج کل چین کا بائیکاٹ کرنے کے لیے یہ شور ہورہا ہے پہلے کوکا کولا کے خلاف یہ علامتی جنگ لڑی گئی تھی لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ملک میں پیداوار کی کمی ہوگی تو چین سے نہ سہی ، کسی اور ملک سے مال درآمد ہوگا ۔ آج کل حال یہ ہے کہ ساری دنیا کے برانڈ چین میں بنتے ہیں اس لیے دوسرا برانڈ مثلاً آئی فون تک چین میں بنا ہوسکتا ہے نیز اگر جاپان یا جرمنی میں بنے ہوےکے اجزاء بھی چین سے درآمد شدہ ہوسکتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہوا کہ چین نے پچھلے بیس سالوں میں اپنی پیداوار اور ایجادات میں غیر معمولی اضافہ کیا ۔ وہ کام کرتا ہے تو لوگ اس پر انحصار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ہم باتیں کرتےاس لیے دوسروں پر انحصار کرناہماری مجبوری ہوتی ہے۔

چینی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پیٹنٹ رجسٹریشن میں اس بار وہ امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر پہلے نمبر پر آگیا ہے ۔1999 میں چین نے صرف 276 پیٹنٹ فائل کیے تھے اب2019 میں یہ تعداد بڑھ کر 58990 پر پہنچ گئی یعنی 20 سال میں 200گنا کاغیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ اس کے برعکس 2019 میں کل 2,65,800 درخواستوں کے مقابلے ہندوستان کے صرف 2053 ہیں یعنی 1% سے بھی کم ۔ اس فہرست میں جہاں چین پہلے تو ہم 14ویں نمبر پر ہیں اور چین کی بہ نسبت 97 فیصد پیچھے ہیں۔ اس معاملے میں ترقی یافتہ ملک تو دور چار نجی کمپنیاں بھی ہندوستان سے آگے ہیں جس میں پہلے نمبر پر چین کی ہواوے ہے۔ ٹریڈ مارک بھی کسی ملک کی ترقی کے پیمائش کی ایک کسوٹی ہے اس میں جملہ21,807 درخواستوں میں ہندوستان کی حصہ داری صرف ۳ یعنی 0.7 فیصد پر ہے۔ یہ کوئی جادو ہے نہ سازش نہیں ہے ۔ ہمارے ملک میں تحقیق پر کل جی ڈی پی کا صرف 0.6 سے 0.7فیصد خرچ ہوا جبکہ چین نے ہم سے کئی گنا بڑی جی ڈی پی کا 2.1 فیصد خرچ کیاہے۔ مودی جی کا آبائی پیشہ تیل نکالنا ہے اس لیے ان سے زیادہ یہ کون جان سکتا ہے کہ ’’ جتنا تلہن ڈلو اتنا تیل نکلتاہے‘‘ ۔ وزیر اعظم اگر ہندوستان کو واقعی خود کفیل بنانا چاہتے ہیں توتحقیق و ترقی زیادہ خرچ کرنا ہوگا ورنہ بھوکے پیٹبھاشن تو لوگ سن سکتے ہیں مگر تحقیق یا ایجاد نہیں کرسکتے ۔ تحقیق کے میدان میں پچھڑنے والے خوکفالت پر تقریر کو کرسکتے ہیں مگر کبھی بھی حقیقی معنیٰ میں خود کفیل نہیں بن سکتے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1081 Articles with 373028 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Sep, 2020 Views: 138

Comments

آپ کی رائے