العوام کالانعام

(Dr Salim Khan, India)

کیوں بھائی للن شیخ کیا بات ہے؟ آپ بہت خوش نظر آرہے ہیں ؟ ؟ خیریت تو ہے؟؟؟
للن بولے جی ہاں کلن خان صاحب ۔ ویسے کوئی خاص نہیں ایک محاورہ میں نے کئی سال قبل سنا تھا ۔آج اس کا مطلب سمجھ میں آگیا۔
کلن نے قہقہہ لگا کر کہا لطیفے کے بارے میں سنا تھا کہ وہ کسی کو دوچار دن بعد سمجھ میں آیا تو کلکاریاں مارنے لگا مگر میں اب آپ کے بارے میں کیا کہوں ؟
اچھا تو آپ مجھے گدھا کہہ رہے ہیں ؟
یہ میں نے کب کہا؟ یہ تو آپ نے خود ہی سوچ لیا خیر ہمیں بھی تو پتہ چلے کہ وہ محاورہ کیا ہے؟
جب میں وہ محاورہ بتاوں گا تو آپ کی بھی ساری ہیکڑی نکل جائے گی ۔
ارےشیخ صاحب آپ بلاوجہ برا مان گئے ۔ میں معذرت چاہتا ہوں لیکن آپ محاورہ تو بتائیں ۔
بھئی جب میں سعودی عرب میں تھا تو سنا تھا ’العوام کالانعام‘ یعنی عوام چوپائے کی مانند ہوتے ہیں ۔
ارے بھائی ملوکیت میں تو عوام کی حیثیت بھیڑ بکری سے زیادہ نہیں ہوتی لیکن اب تو آپ ہندوستان جیسے عظیم جمہوری ملک میں لوٹ چکے ہیں ۔
جی ہاں لیکن اتفاق سے جو بات مجھے ملوکیت نہیں سمجھا سکی وہ جمہوریت نے سمجھا دی ۔
جمہوریت نے!! وہ کیسے ؟ ؟؟
بھائی یہ سمجھ لو کہ ایک چوپائے نے دوسرے چوپائے کو آئینہ دکھا دیا ۔
تو کیا آپ جمہوریت کو چوپایہ کہہ کر اس کی توہین کررہے ہیں ۔
بھئی میں کون ہوتا ہوں اس کی توہین کرنے والا یہ تو آپ لوگ خود ہی کہتے ہیں کہ جمہوریت کی چار ٹانگیں یعنی ستون ہوتے ہیں ۔
تو کیا آپ ستون اور ٹانگ میں فرق نہیں سمجھتے ؟
بھائی ایسا ہے ستون تو ایک بے جان عمارت کے ہوتے ہیں جبکہ یہ تو ایک زندہ و پائندہ نظام سیاست ہے ۔
اس میں کیا شک ہے فی الحال اس نے باقی تمام نظامہائے حیات کو موت کی نیند سلا دیا ہے۔
اچھا اگر ایسا ہے اس جاندار کے ستون نہیں بلکہ ٹانگیں ہونی چاہییں جس پر وہ چوپایہ کی مانند چلتا پھرتا نظر آئے ۔
اچھا چلو اگر جمہوری نظام کو چوپایہ بھی سمجھ لیا جائے تو اس کی روح عوام ہے ۔
یہ تو آپ نے میری تائید کردی کہ چوپایہ کی روح بھی چوپایہ ہی ہوگی اور عوام انسان نہیں چاپایہ ہی ہوں گے ۔
اچھا چلو مان لیا لیکن تمہیں یہ معرفت کیسے حاصل ہوئی یہ تو بتاو؟
للن شیخ نے کہا دیکھیں پہلے جمہوریت کی چار ٹانگیں مقننہ، عدلیہ ، انتظامیہ اور ذرائع ابلاغ ہوا کرتے تھے ٹھیک ہے ؟
چلیے مان لیا ۔ ہم ستون کہتے ہیں آپ ٹانگیں کہہ دیں ۔
جی ہاں لیکن ہوا یہ کہ پچھلے دنوں جمہوریت نے منہ کھول کر اپنے نوکیلے دانتوں سے ذرائع ابلاغ والی ٹانگ کو نوچ کر زخمی کردیا ۔
ارے بھائی یہ تو تمہاری ملوکیت میں بھی ہوتا ہے۔
دیکھیے صاحب میں خلافت والا آدمی ہوں آپ مجھے ملوکیت سے نہ جوڑیں ۔
ہاں خلافت کہیے یا ملوکیت بات تو ایک ہی ہے ۔
اچھا اگر میں جمہوریت اور آمریت کے بارے میں کہوں دونوں الیکشن لڑتے ہیں اس لیے ایک ہی بات ہے تو کیا آپ مان لیں گے ؟
جی نہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ وہ دونوں تو ایک دوسرے کے متضاد نظریات ہیں ۔
ہاں تو بس جیسے وہ دونوں الگ الگ ہیں اسی طرح یہ دونوں بھی متضاد ہیں لیکن اس پر پھر کبھی بات ہوگی ٹھیک ہے ۔
اچھا چلو مان لیا میں پھر سے معذرت چاہتا ہوں ۔
ہاں تو جب ذرائع ابلاغ کی ٹانگ کمزور ہوگئی جمہوریت لنگڑا کر چلنے لگی۔ اس کا فائدہ اٹھا پلاسٹک سرجری کے ذریعہ ایک نقلی دم پیوستہ کردی گئی ۔
جمہوریت میں دم ۔ یہ کیا بکتے ہوشیخ صاحب ؟ آپ کا دماغ تو درست ہے ؟؟
بالکل درست ہے۔ یہ ذرائع ابلاغ کی ٹانگ سے مختلف ہے ۔ اول الذکر زمین پر ٹکتی ہے اور مؤخرالذکر ہوا میں جھولتی رہتی ہے ۔
جی ہاں سمجھ گیا آپ کا اشادہ گودی میڈیا کی طرف ہے ؟
اور مزے کی بات یہ ہے کہ اب یہ جمہوری چوپایہ سر کی جانب نہیں بلکہ دم کی طرف چلتا ہے اور دم سر کے اشارے پر ہلتی ہے۔
بھئی للن شیخ آپ نے سر کو دم میں چھپا کر سارے معاملے کو جلیبی کی طرح پیچیدہ کردیا ہے ۔
نہیں خان صاحب اس میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے ۔ اب آپ ہی بتائیں کہ فی الحال اپنےعوام کے سب سے اہم مسائل کون سے ہیں ؟
سب سے بڑا تو کورونا ہے ، پھر بیروزگاری ، مہنگائی ، جی ڈی پی ، چین، اسکول، امتحان اور نہ جانے کیا کیا یہ تو ایک لامتناہی سلسلہ ہے ۔
جی ہاں لیکن آپ کی دم پہلے تو سشانت کے لیے ہلتے ہلتے سی بی آئی تک جاپہنچی اور کیا ملا ؟
کچھ نہیں اب تو سی بی آئی نے بھی مان لیا کہ اس بیچارے نے زندگی سے بیزار ہوکر خودکشی کرلی ۔
ٹھیک اس کے بعد پھر یہ دمُ روپیہ کی لوٹ کا بہانہ بناکر انفورسمنٹ ڈائرکٹر تک چلی گئی جو قومی سطح کی لوٹ مار کی تحقیق کرتا تھا ۔ اس کا کیا ہوا؟
یار کمال ہے ریا چکرورتی تو اس سے بھی بچ نکلی ۔
لیکن اب نارکو ٹک شعبے نے اسے حراست میں لے ہی لیا ہے کیونکہ اسی سشانت سنگھ راجپوت کو نشے کا عادی بنایا تھا ۔
یار شیخ صاحب آپ تو ایسے کہہ رہے ہیں جیسے سشانت کوئی دودھ پیتا بچہ تھا اور ریا اس کو چرس پلاتی تھی ۔
ہاں بھئی خان صاحب میں سشانت کا بڑ مداح تھا ۔ ان کمبختوں نے اسے چرسی ثابت کرکے مجھے جو دکھ پہنچایا ہے میں بیان نہیں کرسکتا ۔
اور دیکھنا یہ نارکوٹک والے بھی اس کا کچھ بگاڑ نہیں پائیں گے بلکہ ریا چکرورتی ان کے ہاتھ سے بھیمچھلی کی مانند پھسل جائے گی
یار مجھے تو لگتا وہ لڑکی واقعی بنگال کا کالا جادو جانتی ہے ۔ اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔
اس میں کہاں کا بنگال اور کیسا جادو؟ وہ تو کہتے ہیں نا کہ جھوٹ کے پاوں نہیں ہوتے ہاں ایک دُم ہوتی ہے۔
مجھے پتہ ہے وہ اپنے آقا کے اشارے پرہلتی رہتی ہے۔
لیکن جمہوری نظام میں دُم سے بھی لمبی زبان ہوتی ہے جو ا پنے آقا کے تلوے چاٹتی رہتی ہے ۔
شیخ صاحب آپ نے بات کہیں اور سے شروع کی اور کہیں اور لے گئے ۔
جی نہیں خان صاحب میں تو وہیں ہوں آپ یہ بتائیں کیا ہماری جمہوریت میں عوام اس دم کے پیچھے پیچھے بھیڑ بکریوں کی طرح نہیں چلتے ؟
جی ہاں شیخ صاحب چلتے تو ہیں لیکن ! کوئی یہ سوال نہیں کرتا کہ ہم لوگ اپنے اہم ترین مسائل سے آنکھیں موند کر کہاں کھوئے ہوئے ہیں ؟
اچھا یہ بتائیے کہ آخر یہ کنگنا راناوت کون سی توپ ہے جسے ممبئی کو مقبوضہ کشمیر کہنے کے سبب وائی پلس سیکیورٹی مل جاتی ہے؟
بھئی شیخ صاحب اس سارے معاملے میں مجھے سنجے راوت کی بات سب سے زیادہ پسند آئی ۔
اچھا وہ کیا ۔ اس کے اندر تو ارنب گوسوامی کو انٹرویو دینے کی بھی جرأت نہیں ہوئی۔
جی ہاں لیکن اگر وہ ڈرپوک ہوتا تو کسی کو انٹرویو نہیں دیتا ۔ سنجے نے تو یہ کہہ کر ارنب کو دھتکار دیا کہ میں صحافیوں کو انٹرویو دیتا ہوں ۔
وہ تو ٹھیک ہے شیخ صاحب لیکن ارنب بھی تو ۰۰میرا مطلب ہے کیا ارنب صحافی نہیں ہے؟ مودی کے بعد ہندوستان کے 130کروڈ اسی کے ساتھ ہیں۔
جی نہیں سنجے کے خیال میں وہ صحافی نہیں دلال ہے۔ اور میں اس کی تائید کرتا ہوں ۔
اچھا اگر ارنب دلال ہے تو اس کے چینل کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟
میں تو ریپبلک ٹی وی کو چینل نہیں بلکہ چکلہ سمجھتا ہوں ۔ کسی شریف انسان کو اس قریب بھی نہیں پھٹکنا چاہیے اس لیے سنجے راوت کو سلام کرتا ہوں ۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1082 Articles with 373833 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Sep, 2020 Views: 86

Comments

آپ کی رائے