ہم نے سینچا ہے اسے خون جگر سے اپنے

(محمد ساجدرضا مصباحی, اتردیناج پور بنگال انڈیا)
یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہےکہ جد وجہد ِآزادی کے ابتدائی سو سال تک مَین رول میں صرف یہاں کے مسلمان ہی رہے جو اپنےعلما کی قیادت میں برطانوی سامراج سے ٹکرا کر ہر طرح کی قربانی دیتے رہے،بعد میں برادرانِ وطن بھی ساتھ آئے، مگر ١٩٢٠ء تک ان کا کوئی قابل ذکر اورمرکزی کردارنظر نہیں آتا۔ ١٩٢٠ء کے بعد آزادی کے تیسرے اور آخری دور میں پورے جوش وخروش سے انہوں نے بھی حصہ لیا، مگر مسلمان اب بھی کسی سے پیچھے نہیں تھا، ان کی متعدد جماعتیں ، تنظیمیں اور تحریکیں سر گرم عمل تھیں، ان کے قائدین اور کارکنان قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے تھے،جنگ آزادی کی تقریبادو سو سالہ تاریخ میں مسلمانوں نے کبھی بھی انگریز سے سمجھوتہ نہیں کیا، بلکہ ہر موڑ اور ہر منزل پر اس کے ناپاک عزائم کی راہ میں حائل رہے، اور اس کے ناپاک چنگل سے وطن عزیز کو آزاد کرانے کے لیے ہر طرح کوشاں، اور ہر قسم کی قربانی دینے کے لیےتیار رہے ۔ ایک اندازے کے مطابق پوری جنگ آزادی میں پانچ لاکھ مسلمانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔

یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ ہندوستان کو انگریزی ظلم واستبداد سے نجات دلانے اور یہاں کے باشندوں کو بر طانوی سامراج کی غلا می سے آزاد کرانے میں علماے کرام کا اہم کردار رہا ہے۔ ہندوستانی علما اور یہاں کے عام مسلمان آزادی کی پوری جد وجہد میں مکمل جوش و خروش کے ساتھ پیش پیش رہے ۔ یہی وجہ ہے انگریز اپنا اصل حریف اور دشمن یہاں کے مسلمانوں ہی کو سمجھتے تھے ، اورزندگی کے ہر میدان میں مسلمانوں کا قافیۂ حیات تنگ کرنے کے لیے طرح طرح سے کوششیں کی جارہی تھیں اورانہیں جبر وظلم کا نشانہ بنایا جارہا تھا نیر منظم طور پر ہر شعبۂ حیات میں انہیں بے اثر بلکہ پس ماندہ بنانے کی مسلسل سازش رچی جا رہی تھیں۔

آزادی کی پہلی جنگ انقلاب ۱۸۵۷ء میں اگر چہ یہاں کے ہندو بھی شریک تھے ، لیکن قومی حیثیت سے ان کے اندر وہ جو ش وجذبہ مفقود تھا جس کی چنگاریاں مسلمانوں کے دلوں میں بھڑک رہی تھیں ،یہی وجہ ہے کہ ہندو مورخین کے اندر تاریخ انقلاب کے حوالے سےوہ دل چسپی نظر نہیں آتی جو ہو نی چاہیے ، اور جن مورخین نے دل چسپی دکھائی تو انہیں تاریخی حقائق سے چھیڑ چھاڑ کر کے اپنی آبرو بچانے کی ضرورت پڑگئی ۔

یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہےکہ جد وجہد ِآزادی کے ابتدائی سو سال تک مَین رول میں صرف یہاں کے مسلمان ہی رہے جو اپنےعلما کی قیادت میں برطانوی سامراج سے ٹکرا کر ہر طرح کی قربانی دیتے رہے،بعد میں برادرانِ وطن بھی ساتھ آئے، مگر ١٩٢٠ء تک ان کا کوئی قابل ذکر اورمرکزی کردارنظر نہیں آتا۔ ١٩٢٠ء کے بعد آزادی کے تیسرے اور آخری دور میں پورے جوش وخروش سے انہوں نے بھی حصہ لیا، مگر مسلمان اب بھی کسی سے پیچھے نہیں تھا، ان کی متعدد جماعتیں ، تنظیمیں اور تحریکیں سر گرم عمل تھیں، ان کے قائدین اور کارکنان قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے تھے،جنگ آزادی کی تقریبادو سو سالہ تاریخ میں مسلمانوں نے کبھی بھی انگریز سے سمجھوتہ نہیں کیا، بلکہ ہر موڑ اور ہر منزل پر اس کے ناپاک عزائم کی راہ میں حائل رہے، اور اس کے ناپاک چنگل سے وطن عزیز کو آزاد کرانے کے لیے ہر طرح کوشاں، اور ہر قسم کی قربانی دینے کے لیےتیار رہے ۔ ایک اندازے کے مطابق پوری جنگ آزادی میں پانچ لاکھ مسلمانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔

۱۸۵۷ء میں ناکامی کے بعد انگریزوں نے ظلم وستم کاجو بازار گرم کیا اور قتل و غارت گری کی جو داستان رقم کی، اس کا اصل نشانہ یہاں علما ہی بنے ، انگریزوں نے علماے کرام پر جو لرزہ خیز مظالم ڈھائے اس کو سن کر کلیجہ منھ کو آتا ہے ، تاریخ نگاروں کے بقول صرف تین دن میں چودہ ہزار علما کو شہید کر دیا گیا، چاندنی چوک سے لے کر خیبر تک کوئی درخت ایسا نہیں تھا، جس پر علما کی لاشیں نہ لٹک رہی ہوں، بادشاہی مسجد لاہور میں ایک ایک دن میں چالیس چالیس علما کو پھانسیاں دی گئیں، انہیں توپ کے دہانے سے باندھ کر توپ چلا دیا جاتا، جس سے ان کے جسم کے پرخچے اڑ جاتے تھے، انہیں زندہ آگ میں جلایا گیا، ہزاروں کو کالا پانی کی سزا سنائی گئی، بے شمار لوگوں کو نذرِ زنداں کیا گیا، ان کے املاک کو ضبط کر لیا گیا اور نہ جانے کن کن مصائب وآلام سے انہیں دو چار ہو نا پڑا۔
پہلی جنگ آزادی کے میں علماے کرام کی قر بانیوں کے حوالے سے معروف دانشور اورصحافی حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی لکھتے ہیں :
’’ انقلاب ۱۸۵۷ء کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ علماے اہل سنت نے اس جنگ کو جہاد کا نام دیا تھا ،علامہ فضل حق خیر آبادی ، مولانا احمد اللہ شامدراسی، مولانا فیض احمد بدایونی ، مولانا کفایت علی کافی مراد آبادی ، مولانا لیا قت علی الہ آبادی ، مفتی عنایت احمد کاکوروی ،سید مبارک شاہ رام پوری ، مولانا رضا علی بریلوی وغیرہ سیکڑوں علماے اہل سنت نے فتواے جہاد کی اپنے اپنے علاقوں میں خوب تشہیر کی اور ملک بھر میں ایثار وقر بانی کی عا م لہر پیدا کر دی ۔ یہ اسی فتواے جہاد کا اثرتھا کہ ہزاروں علما نے اس جنگ میں حصہ لیا اور جیل کی سلاخوں سے لے کر پھانسی کے پھندوں تک کا سفر بہ آں عزم وحوصلہ مسکراتے ہوئے طے کیا۔‘‘[ماہ نامہ اشرفیہ ، انقلاب ۱۸۵۷ نمبر شمارہ اگست ۲۰۰۸ء، ص: ۴]
الغرض ہمارے علماے کرام اور ہمارے پُر کھوں نے ہر طرح کی قربانی دے کر اس ملک کو انگریزوں کے پنجہ استبداد سے آزاد کرایا، لیکن شو مئی قسمت کہ جب آزادی کا وقت قریب آیا تو وہ قومیں جو ہزاروں سال سے باہم شیر و شکر تھیں، ایک سازش کے تحت انہیں آپس میں ٹکرادیاگیا، اور فسادات کی اس آگ کو اتنا بھڑکایا گیا کہ بظاہر یہ محسوس ہونے لگا کہ اب اس ملک میں ہندو مسلمان ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ پھر تقسیم کا فارمولا سامنے رکھا گیا، یہاں ہزار سالہ باہمی پیار و محبت کی تاریخ ہار گئی، اور مفاد پرستی غالب آگئی، اور ملک دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ بظاہر یہ ملک کی تقسیم تھی، لیکن در حقیقت یہ ہندوستان کے مسلمانوں کی تقسیم تھی، تاکہ سیاسی طور پر برّصغیر میں مسلمانوں کو بے وزن کر دیا جائے۔ تقسیمِ وطن کےمذکورہ فارمولے پر گرچہ زعماے ہند نے اپنی دستخطوں سے مہر تصدیق ثبت کردیاتھا، تاہم مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت نے مذہب کے نام پر بنائے گئے اس الگ ملک کو قبول نہیں کیا، اور ہندوستان ہی میں رہنے کو ترجیح دی، ہندوستانی آئین نے بھی ان کے حقوق کی مکمل ضمانت دی، انہیں مساوات کا حق دیا، اور پھلنے پھولنے اور ترقی کرنے کا یکساں موقع فراہم کیا۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ڈاکٹر بھیم راوُ امبیڈکر اور ان کی ٹیم کا تیار کردہ آئین [جس کے بنانے میں ہمارے اکابر بھی شریک تھے]نے ہمیں جو حقوق عطا کیے تھے، آزادی کے بعد سے ہی اس کی پامالی لگاتار جاری ہے۔ ایک پلاننگ کے تحت فوج، پولیس، عدلیہ، مقننہ اور دوسرے سرکاری اداروں سے ریٹائر ہونے والے مسلم اہلکاروں کی جگہ مسلم نوجوانوں کو خدمت کا موقع فراہم نہیں کیا گیا، جس سے حکومتی اداروں میں ان کا تناسب آٹے میں نمک کے برابر ہوگیا۔ بابری مسجد میں مورتی رکھ کر پہلے اسے مقفل کیا گیا، پھر ١٩٩٢ءمیں فرقہ پرست طاقتوں نے آئین و قانون کا سرِ عام مذاق اڑاتے ہوئے دن کے اجالے میں اسے شہید کرکے یہاں کے مسلمانوں کو واضح طور پر یہ پیغام دے دیا، کہ ہم جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ آزادی کے بعد سے فسادات کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہے، ہندوستان کے جس حصے میں بھی مسلمان معاشی و اقتصادی طور پر اُبھرے، منظم طریقے پر فسادات کی آگ بھڑکاکران کی معیشت کو تباہ کر دیا گیا، عصمتوں پر ڈاکے ڈالے گئے، اور قتل و خون ریزی کا ننگا رقص کیا گیا، باقی کسر ہماری بہادر پولیس مظلوم مسلمانوں کو جیلوں میں ڈال کر اور طرح طرح کے مقدمات میں پھنساکرپوری کرتی رہی، جس پر مختلف کمیشنوں کی رپورٹیں شاہد ہیں۔ تعلیم یافتہ اور برسرروزگار مسلم نوجوانوں کوخود ساختہ الزمات کی وجہ گرفتار اور دہشت گردی کے فرضی مقدمات قائم کرکے دس دس سال پندرہ پندرہ سال جیلوں میں ڈال کر ان کے کیریئر کو تباہ کرنے کا مذموم سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

یہ حادثات ہی کیا کم تھے کہ ٢٠١٤ء میں بی جے پی کے مسندِ اقتدار پر فائز ہونے کے بعد فرقہ پرست طاقتوں نے موب لنچنگ[MOB LINCHING] کے عنوان سے ظلم وستم کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا، جنونی عوامی بھیڑ کے ذریعے جس کو چاہا پیٹ پیٹ کر قتل کردیا۔ دادری کے اخلاق سے لے کر حافظ جنید، پہلو خان اور اکبر خان سمیت کتنے ایسے بے گناہ ہیں،جو ان کے ظلم کا نشانہ بنے۔ طرّہ یہ کہ علا نیہ طور پر یہ لوگ اپنے ان مذموم کرتوتوں کا ویڈیو بنا کر سوشل سائیٹس پر ڈال دیتے ہیں۔ ان کے دلوں میں قانون کا کوئی خوف نہیں،اور ہو بھی کیوں؟ جب اقتدار میں بیٹھے کچھ فرقہ پرست لوگوں کے مضبوط ہاتھ ان کی پشت پر ہیں،پھر خواہ گھر واپسی کا مسئلہ ہو یا طلاق ثلاثہ کا، علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی اور جامعہ ملیہ کے اقلیتی کردار کا معاملہ ہو، یا مرکزی حکومت کا تعصب پر مبنی شہریت بل لانے کا معاملہ، موجودہ حکومت کی ان تمام مسائل میں گہری دلچسپی رہی، اور درِ پردہ ان سازشوں کو تقویت پہنچانے کے لیے اس کی مکمل تائید حمایت اور مدد بھی شامل رہی ۔

پولرائزیشن کی سیاست کے ذریعہ ۲۰۱۴ میں اقتدار کی کرسی تک رسائی حاصل کر نے والی حکومت نے ۲۰۱۹ ء میں بھی اسی ہتھکنڈے کو مکمل شد ومد کے ساتھ استعمال کیا ، الیکشن میں کام یابی کے لیےایک منظم منصوبے کے تحت ہندوستان کے اکثریتی طبقہ کو باور کرایا گیا کہ ان کا مذہب خطرے میں ہے ، اگر یہاں کوئی دوسری پارٹی بر سر اقتدار ہو گئی تو یہ ملکی مفادات کے ساتھ اکثریتی طبقہ کے مذہبی مفادات کے لیے بڑ خطر ناک ثابت ہو گا ، ملک کی ساخت کمزور ہو جائے گی ، پڑوسی مسلم ملک [ جو خود اپنے مسائل سے پریشان ہے] ہندوستان کو نگل جائے گا، اکثریتی طبقہ کا نام ونشان یہاں سے مٹ جائے گا ،ان مفروضات کو اس طرح سجا سنوار کر اور منظم انداز میں پیش کیا گیا کہ ہندوستان کی بھولی بھالی عوام اس پر یقین کر بیٹھی اور پروپیگنڈہ کر نے والےاپنے مقصد میں صد فی صد کام یاب ہو گئے ۔
۲۰۱۹ ء میں مرکز میں بی جے پی حکومت آنے کے بعد یہاں کے امن پسند باشندوں کا خوف وہراس بلکل فطری تھا، لیکن حکومت سازی کے دوران وزیر اعظم نے اپنے ممبران پار لیمنٹ کو جس انداز میں خطاب کیا اور جس طرح یہاں کے تمام باشندوں کے یکساں تحفظ اور اور یکساں ترقی کا وعدہ کرتے ہوئے ’’ سب کا ساتھ ، سب کا وکاس کے پرانے نعرے کے ساتھ’’ سب کے وشواش‘‘ کا اضافہ کیا اس سے یہاں کی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں میں ایک طرح سے امید جگی اور وزیر اعظم کے اس خطاب کی ہر چہار جانب ستائش بھی ہوئی ، لیکن حکومت سازی کے چند دنوں کے بعد ہی سے ملک میں جس طرح کے حالات پیدا ہو ئے اور جس طرح نفرتوں کا بازار گرم ہوا ، اس نے اس خطاب اور ’’سب کا ساتھ ، سب کا وکاس، اور سب کا وشواش ‘‘کے نعرے کی معنویت یک لخت ختم کر دی ،مر کز میں بھاری اکثریت کے ساتھ دوبارہ بی جے پی حکومت بننے کے بعد گو یا شر پسند عناصر کو کھلی چھوٹ مل گئی ہو ، اب نہ تو انہیں پو لیس کا ڈر ہے اور نہ قانون اور سزا کا خطر ہ ، انہیں لگتا ہے پولیس بھی ہماری ہے ، کورٹ بھی ہمارا ہے، جیل خانے ہمارے لیے چند دنوں کی تفریح گاہ ہیں ، ہم یہاں کے حکمراں ہیں یہاں کے مسلمان ہماری بے دست وپا رعایا۔

ان دنوں روزانہ موب لنچنگ کے واقعات رو نما ہو رہے ہیں ،مسلمان ہر جگہ اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کر رہاہے ، پولیس محکمہ بھی مسلمانوں کے ساتھ مکمل تعصب کا برتاؤ کررہا ہے ،اب جب کہ پوری دنیا میں ہندوستان کے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے اور وطن عزیز کی عالمی سطح پر بدنامی ہور ہے ، ایسے نازک حالات میں بھی حکو مت کی جانب سے کوئی سخت قدم نہیں اٹھا یا جانا انتہائی تشویش کی بات ہے ۔

ہندوستان کی تعمیر وترقی کے لیے علماے کرام نے جو قربانیاں پیش کیں اور ہندوستانی مسلمانوں نے جس طرح اپنا خون جگر پیش کیا، وہ یقینا وطن کے تئیں ان کے پاکیزہ جذبات کی عکاسی کرتا ہے، ہندوستانی مسلمانوں نے کبھی بھی اس کی پیشانی پر دھبہ لگنے نہیں دیا ، ہر موڑ پر اسے اپنا وطن سمجھا اور اپنی قربانی پیش کی ، لیکن اس کے باجود یہاں کے اکثریتی طبقہ کے لوگ انھیں شک کی نگاہ سے دیکھنے سے باز نہیں آتے ، یہاں کے مسلمانو ں نے بارہا یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ پڑوسی ملک پاکستان کی حرکتوں سے ان کاکوئی لینا دینا نہیں ہے،وہاں سے اگر ہمارے وطن عزیز کے خلاف کوئی شر انگیزی ہوتی ہے تو اسے منہ توڑ جواب دیا جانا چاہیے ،ہر ہندوستانی مسلمان اپنے ملک کی حفاظت اور سالمیت کو ہر حال میں مقدم رکھتا ہے ،یہی ہمارے اسلاف اور اکابرکی روش رہی ہے ، اسی پر ہم بھی مضبوطی کے ساتھ قائم ہیں ۔

منظم پلاننگ کے تحت ماب لنچنگ کا جو ناپاک کھیل کھیلا جارہا ہے وہ یقینا ہندوستان کے ماتھے پر ایک بد نما داغ ہے ، اسی طرح ہندوستان میں ہندو مذہب کی بالادستی ثابت کر نے کے لیے مسلمانوں سے جبرا’’جئے شری رام ‘‘کے نعرے لگواناہندوستانی آئین کے بھی خلاف ہے اورتہذیب وشائستگی کے بھی منافی،ان حالات میں ہندوستانی میڈیا کی ذمے داری تھی کہ غیر جانب دار ہو کر حقائق کو اجاگر کرنے اور مظلوموں کو انصاف دلانے کا کام کرتا، لیکن یہاں کی میڈیا نے چاپلوسی کی انتہا کردی ، یہا ں کاٹی وی اینکرحکمراں پارٹی کے ہر قدم کو درست ٹھہرا نےکا ذمہ اپنے سر لے کر ایڑی چوٹی کا زرو لگاتا ہے ،اس وقت ہندوستان کا الیکٹرانک میڈیا ہندو مسلم کے درمیان منافرت پھیلانے والے موضوعات پر ڈیبیٹ کراکر جلتی میں تیل ڈالنے کا کام کررہا ہے، کچھ ٹی وی چینلز تو کھلے عام مسلمانوں کو گالی دینے اور ان کے خاتمے کی بات کر کے ہندوؤں کو بھڑکا کر اپنی ٹی آرپی بڑھانے میں مگن ہیں اور برسر اقتدار پارٹی کی چاپلوسی میں صحافت کے سارے اصولوں کاخون دن کے اجالے میں کررہے ہیں ۔حال ہی میں اناؤ کے ایک مدرسہ کے طلبہ کے ساتھ زدوکوب اور انہیں جبرا جے شری رام کے نعرے لگوانے کا معاملہ سامنے آیا ،سارے ٹی وی چینلجز نے اس افسوس ناک خبر کو کوریج دیا، لیکن دوسرے ہی یہ ساری کہانی بدل دی گئی ،چوبیس گھنٹے کے اندر ٹی وی چینلز نے مجرم کوبے قصور اور مظلوم طلبہ اور ان کے اساتذہ کو امن وشانتی کا دشمن بناکر پیش کر دیا۔یقینا یہ حالات بہت افسوس ناک ہیں ، ملک کے ان نا گفتہ بہ حالات پر کسی کو اضطراب ہو یا نہ ہو ،یہاں کے مسلمانوں میں شدید اضطراب ہے ، صرف اس لیے نہیں کہ ان پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں ، بلکہ اس لیے بھی کہ یہ وطن ہمارا ہے ، اس گلشن کی آبیاری کے لیے ہمارے آبا واجداد نے خونِ جگر پیش کیا ہے ، اس کی بقا کے لیےہمارے علما نے قید وبند کی صعوبتیں برداشت کی ہیں ،انگریزوں کے لرزہ خیز مظالم کا سامنا کیا ہے اور اس کے استحکام کے لیے اپنی جانوں تک کا نذرانہ پیش کیا ہے۔
جب پڑا وقت ، گلستاں کو خون ہم نے دیا
بہار آئی تو کہتے ہیں تیر ا کا م نہیں

موجودہ ملکی حالات اور تناؤ کی تشویش ناک صورت حال پر ہندوستان کا ہر امن پسند شہری مضطرب ہے ، ایسا نہیں ہے کہ یہاں کا ہر ہندو مسلمانوں کے خلاف بر سرِ پیکار ہے بلکہ ایک طبقہ ہے جو مسلسل زہر افشانی کر کے ماحول کو گرم بنائے رکھنے میں اپنی عافیت محسوس کرتا ہے ،ہندو انتہا پسند تنظیمیں اس سلسلے میں اہم کردار ادا کررہی ہیں ، آزادی کے بعد سے جن ہندو تنطیموں نے ہندوؤں کا ٹھیکہ اٹھارکھا ہے اور یہاں کی نئی نسل میں مسلمانوں کے حوالے سے زہر بھر نے کی کوششیں کر رہی ہیں اب انھیں اپنا خواب شر مندہ ٔ تعبیر ہو تا ہوا نظر آرہا ہے ، انھیں لگ رہاہے کہ یہاں کے مسلمانوں کا عرصہ ٔحیات تنگ کر نے کا یہ صحیح وقت ہے ،اسی سنہرے وقت میں اپنے سارے ناپاک منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچا لیا جائے ،برسوں کی محنت کا پھل کھا لیا جائے، حالاں کہ ہندوستان کی تاریخ سے واقفیت رکھنے والا شخص ان کے ان نظر یات کو خام خیالی سے زیاد ہ اہمیت نہیں دے گا ۔ ہندوستان میں اس سے بھی زیادہ پُر اشوب دور گزرچکے ہیں ، ہندوستانی تاریخ کے صفحات میں ہندو ومسلم تصادم کے بڑے بھیانک واقعات موجود ہیں ، لیکن اس سر زمین کی یہ خوبی رہی ہے کہ یہاں ہمیشہ نفرت وعداوت کی ہار ہوئی ہے اور قومی یک جہتی ہمیشہ سر خرو رہی ہے ، جس دن ہندوستانیوں کو سیاسی بازیگروں کا اصل چہرہ نظر آگیا اور ہندو مذہب کے ٹھیکیداروں کے مذموم مقاصد کا صحیح علم ہو گیا اسی دن ان شاء اللہ حالات بدلیں گے اور ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیت کا بول بالا ہو گا۔


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد ساجدرضا مصباحی

Read More Articles by محمد ساجدرضا مصباحی: 39 Articles with 21840 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Sep, 2020 Views: 96

Comments

آپ کی رائے