دیار مغرب میں جا بسنے کا جنون

(Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA)

ہمارے ایک کافی دور پرے کے رشتہ داروں میں سے ایک شخص ویزٹ ویزے پر امریکہ آیا اور اس کی میعاد ختم ہونے کے بعد غیر قانونی طور پر مقیم ہو گیا ۔ دوران قیام ہی ایک دیسی لیگل فیملی سے مراسم استوار ہو گئے تھے ۔ ان کی ایک لڑکی اس کے دل کو بھا گئی اس سے شادی کا موڈ بن گیا اور اپنی خواہش کا اظہار بھی کر دیا ۔ پھر اپنے غیر قانونی قیام کو جائز بھی کرنا تھا ۔ لڑکی خود اور اس کے گھر والے اس شخص کا تمام پس منظر جاننے کے باوجود اس شادی پر راضی ہو گئے بس صرف ایک شرط رکھی کہ پہلے والی بیوی کو طلاق دینی ہو گی ۔ اور موصوف نے طلاق کے پیپر تیار کر کے اسے بھجوا دیئے اور فون پر بیوی سے کہا کہ یہ میں تمہیں سچ مچ طلاق نہیں دے رہا ہوں دل سے نہیں دے رہا ہوں یہ صرف ایک کاغذی کارروائی ہے تم آج بھی میری بیوی ہو ۔ وہ ایک خوشحال گھرانے سے تعلق رکھنے والی پڑھی لکھی خوبصورت لڑکی دو بچوں کی ماں رو رو کر پاگل ہو گئی ۔

ساس نے اس سے کہا میرے بیٹے نے کوئی تم کو طلاق نہیں دی ہے بس کسی مجبوری کی وجہ سے ایسا کیا ہے ۔ تم اب بھی میری بہو ہو اور اسی طرح میرے ساتھ میرے گھر میں رہو گی اور راج کرو گی ۔

بہو کے میکے والے آئے اور اس کے باپ نے کہا پاگل مت بن ۔ کچھ عقل سے کام لے دیکھ تیری قربانی سے تیرے بچوں کی زندگی بن جائے گی ۔ چل بند کر یہ رونا دھونا اور آگے کی اپنے بچوں کی سوچ ۔

میکے والے بیٹی کو سمجھا بجھا کر چلتے بنے اور ساس نے بہو کو کوئی سوگ منانے سیاپا ڈالنے سے سختی سے منع کیا عدت تو بہت دور کی بات ہے اور اسے حسب سابق بن ٹھن کر سجا سنورا رہنے پر زور دیتی رہی ۔

یہ سب پڑھ کر آپ کو یقین نہیں آ رہا نا؟ اب آپ ذرا آگے کی سنیں ۔ چار یا پانچ سال بعد وہ شخص واپس آیا دو ماہ بیوی کے ساتھ رہا جانے کے بعد بیٹا پیدا ہوا ۔ پھر آیا ساتھ رہا پھر ایک اور بچہ یا بچی ہوئی بس اسی طرح آتا جاتا رہا اور اس دوران خوب دل کھول کر گھر پر خرچ بھجواتا رہا ۔ پھر بچوں کے پیپر فائل کر دیئے اور بیوی سے کہا میں چکر لگاتا رہوں گا تمہیں بچوں سے بھی ملواتا رہوں گا ۔

یہ سب پندرہ برس پہلے تک کی باتیں ہیں اس کے بعد کی ہمیں خبر نہیں کہ آگے پھر کیا ہؤا؟ بچوں کی زندگی بنی یا نہیں؟ اس نامراد امریکہ اور یورپ میں قیام اور روزی روزگار کے نام پر بیوی کو اپنی زندگی ہی میں بیوہ کر کے اور بچوں کو یتیم کر کے پتہ نہیں کون سی زندگی بن جاتی ہے جو اپنے وطن میں ہی اپنوں کے ساتھ رہ کر نہیں بن سکتی ۔ مجبوریاں اپنی جگہ مگر پردیس خصوصاً مغربی ممالک میں رہائش اور روزگار کے حصول کی خاطر لوگ اپنی آخرت تک کو داؤ پر لگا دینے سے دریغ نہیں کرتے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Tabassum Pasha(Daur)

Read More Articles by Rana Tabassum Pasha(Daur): 150 Articles with 926572 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Sep, 2020 Views: 1560

Comments

آپ کی رائے