کورونا اور سیلاب کے دوران بہاری انتخاب

(Dr Salim Khan, India)

بہار کے اندر صوبائی انتخاب کا غیر رسمی بگل کب کا بج چکا تھا۔ ساری سیاسی جماعتوں نے تیاری شروع کردی تھی۔ شاہ جی کے بعد نتیش کمار بھی مجازی ریلی سے فارغ ہوچکے ہیں ۔ ریاست کےعوام سیلاب سے پریشان اور رہنما سیاست کے گندے تالاب میں ڈبکی لگا رہے ہیں اس دوران چیف الیکشن کمشنر سنیل اروڑا نے بہار کی 243 سیٹوں پر پولنگ کا اعلان کردیا۔ انتخابات تین مراحل میں کرائے جائیں گے۔پہلے مرحلہ میں 71 سیٹوں کی پولنگ، 31 ہزار پولنگ اسٹیشن پر ہوگی اس کے بعد دوسرے مرحلہ میں 94 سیٹوں کے لیے 42 ہزار پولنگ اسٹیشن پر ووٹ ڈالے جائیں گے۔ تیسرے مرحلہ میں 78 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ 33.5 ہزار پولنگ اسٹیشن پر ہوگا۔ نامزدگی کے وقت صرف دو افراد امیدوار کے ساتھ موجود ہوں گے۔ انتخابی مہم کے دوران کسی کو بھی مصافحہ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔گھر گھر جاکرصرف پانچ افراد مہم چلا سکیں گے۔ انتخابی سرگرمیاں بنیادی طور پر ورچوئل ہوں گی، چھوٹی ریلی کی جگہ اور وقت ڈی ایم طے کریں گے۔ ہر پولنگ بوتھ پر صابن، سینیٹائزر اور دیگر چیزیں مہیا کی جائیں گی۔ووٹنگ کے آخری وقت کورونا متاثرین کے لیے مختص ہوگا جن کے لئے علیحدہ انتظامات کیے جائیں گے۔

کورونا کے باوجود یہ انتخاب بی جے پی کے لیے غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ ؁۲۰۱۹ کا قومی انتخاب جیتنے کے بعد وہ لگاتار چار صوبائی انتخابات میں شکست سے دوچار ہوچکی ہے ۔ مہاراشٹر اور جھارکھنڈ میں اسے اقتدار سے بے دخل ہونا پڑا ۔ دہلی میں وہ کیجریوال کا بال بیکا نہیں کرسکی اور ہریانہ میں اسے دشینت چوٹالہ کی مدد لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ کسانوں کی تحریک اگر جے جے پی کو بی جے پی حمایت واپس لینے پر مجبور کردے تو یہ حکومت بھی خطرے میں ہے۔ بہار کے بعد مغربی بنگال میں انتخابات ہونے والے ہیں اور اگر آر جے ڈی کی حکومت قائم ہوجائے تو ممتا بنرجی کی راہ آسان ہوجائے گی۔ اس لیے بہار میں بی جے پی اسی حکمت عملی پر کام کرررہی ہے جس کو مسلمان اپناتے ہیں ۔ مسلمانوں کو اقتدار میں آنا نہیں ہوتا بلکہ بی جے پی کو ہرانا ہوتا ہے۔ بہار میں بی جے پی پہلے ہی اپنی ہار تسلیم کرچکی ہے۔ اس نے نتیش کمار کی قیادت میں انتخاب لڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ اس کا واحد مقصد آر جے ڈی کو اقتدار میں آنے سے روکنا ہے اور مسلمانوں کسی طرح بی جے پی کو روکنا چاہتے ہیں۔ اس لیے نتیش کمار اور تیجسوی یادو ایک طرف ہوگئے ہیں اصل مقابلہ مسلمانوں اور بی جے پی کے درمیان ہوگیا ہے۔

ہندوستانی سیاست میں ویسے تو ’آیا رام گیا رام‘ کی اصطلاح ہریانہ سے آئی لیکن ابن الوقتی کی سیاست میں بہار کو ہریانہ پر فوقیت حاصل رہی ہے ۔ یہاں پر دو سیاستداں ایسے رہے ہیں جو بلا لحاظ پارٹی و نظریہ اقتدار کے گلیارے میں ٹہلتے رہے۔ ان میں پہلا نام نتیش کمار اور دوسرا نام رام ولاس پاسوان کا ہے۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ نتیش کمار اپنے آپ کو اب بھی سیکولر اور سوشلسٹ کہتے ہیں اور رام منوہر لوہیا کی قسمیں کھاتے ہیں۔ مسلمانوں کے درمیان ٹوپی پہن کر اور رومال ڈالکر گھومتے ہیں ۔ رام ولاس پاسوان کا بھی یہی حال ہے ۔ وہ بھی بابری مسجد پر ایسے بیانات دے چکے ہیں جس سے مسلم رہنما بھی ہچکچاتے تھے لیکن اس کے باوجود حسب موقع کمل کا پھول تھام لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے لیے سیاسی لغت میں پلٹو رام اور ماہر موسمیات جیسی اصطلاحات وضع کی گئی ہیں جو ان کے اخلاق و کردار پر ہو بہ ہو صادق آتی ہیں ۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ فی الحال قومی جمہوری اتحاد( این ڈی اے) کے یہ دونوں گروہ آپس میں ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہیں ۔ پاسوان کا این ڈی اے سے نکل کر مہاگٹھ بندھن میں چلا جانا ہوا کے رخ کا واضح اشارہ ہوگا۔

ہندوستان کی سیاست میں پہلے ۲۵ سال کانگریس نے بلاشرکت غیرے جو حکومت کی اس کی کئی وجوہات تھیں ۔ عوام پر آزادی دلانے کی احسانمندی کے علاوہ پنڈت جواہر لال نہرو کی غیرمعمولی مقبول شخصیت ۔ ان دوجوہات کے علاوہ سب سے اہم وجہ حزب اختلاف کا انتشار تھا ۔ اس وقت سیاسی افق پر بائیں بازو میں دو اور دایاں بازو بھی دو گروہوں میں منقسم تھا۔ بائیں جانب انتہا پر کمیونسٹ یعنی اشتراکی جماعتیں تھیں جو نظریاتی سطح پر روس نواز اور چین نواز دھڑوں میں بنٹی ہوئی تھیں۔ ان کے سوشلسٹ جماعتیں تھیں جن کو رام منوہر لوہیا اور کرپوری ٹھاکر پسماندہ ذاتوں کی بنیاد پر منظم کررہے تھے ۔ دائیں جانب ایک تو سوتنتر پارٹی تھی جس میں سابق راجہ اور نوابوں کے علاوہ کچھ مغرب نواز مفکر اورسرمایہ دار جمع ہوگئے تھے اس کے علاوہ آر ایس کی تشکیل کردہ جن سنگھ تھی جو فرقہ پرستی کی بنیاد پر سرمایہ داروں اور متوسط طبقات میں اپنا رسوخ بڑھانے کے لیے ہاتھ پیر مار رہی تھی ۔ دلت سیات کا ابھی آغاز نہیں ہوا تھا اور مسلمان کانگریس کے ساتھ تھے ۔

حزب اختلاف اگر اس قدر انتشار کا شکار ہو تو کانگریس کے اقتدار کو کیا چیلنج ہوسکتا تھا ۔ اس پر اندرا گاندھی نے غریبی ہٹاو کا نعرہ لگا کر اور بنگلا دیش بناکر اپنی مقبولیت آسمان کی بلندی پر پہنچا دی تھی لیکن الہ باد کی عدالت میں ان کے انتخاب کو کالعدم قرار دے دیئے جانے کے بعد انہوں نے ایک ہمالیائی غلطی کرکے ایمرجنسی لگا دی ۔ وہ اگر اپنی بہو سونیا گاندھی کی طرح کسی منموہن سنگھ جیسے کٹھ پتلی کو وزیر اعظم بناکر پھر سے انتخاب جیت لیتیں تو انہیں وزیر اعظم بننے سے کوئی روک نہیں سکتا تھا لیکن انہوں نے ایمرجنسی لگا کر حزب اختلاف کو ظلم و جبر کے خلاف متحد کردیا۔ اس طرح نظریاتی اختلاف میں شگاف پڑگیا اور موقع پرستی کی سیاست مضبوط تر ہوگئی۔ جنتا پارٹی کی کامیابی نے جگجیون رام جیسے ابن الوقت کا شمار ہندوستان کے مقبول ترین رہنماوں میں کردیا ۔ یہ اور بات ہے کہ وہ وزیر اعظم نہیں بن سکے۔

نظریات کی جڑیں ابھی بہت کمزور نہیں ہوئی تھیں ۔ اس لیے مدھو لمئے اور جارج فرنانڈیس نے جن سنگھ کے لوگوں کی دوہری رکنیت پر اعتراض کیا۔ جنتا پارٹی کے بطن سے بھارتیہ جنتا پارٹی کا جنم ہوا اور اس سر پھٹول کا فائدہ اٹھا کر پھر سے اندرا گاندھی اقتدار میں آگئیں۔ اقتدار کی خاطر ابن الوقتی کی سیاست میں دوسرا تجربہ ؁۱۹۹۸ میں این ڈی اے یعنی قومی جمہوری محاذ کا قیام تھا۔ اس کے چیرمین اٹل بہاری واجپائی تھے اور کنونیر وہی جارج فرنانڈیس تھے جنہوں نے جن سنگھیوں سے جنتا پارٹی کو پاک کرنے کا بیڑہ اٹھایا تھا۔ بہار کے اندر سمتا پارٹی کے این ڈی اے میں شامل ہونے سے جس ابن الوقتی کا آغاز ہوا وہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اٹل جی کی سرکار میں جارج فرنانڈیس کا وزیر دفاع بن جانا اور نتیش کمار کے حصے میں وزارت ریلوے کا آجانا اس کی ابتداء تھی ۔ اٹل جی نے نتیش کمار کو ؁۲۰۰۰ میں وزیر اعلیٰ بنوایا لیکن وہ اپنی اکثریت ثابت کرنے میں ناکام رہے اور پھر سے مرکزی وزیر بن گئے ۔ پچھلے ۲۲ سالوں میں اقتدار کے اندر رہنے کی خاطر نتیش کمار نے جو سیاسی قلابازیاں کھائی ہیں وہ ہندوستانی سیاست کا نہایت دلچسپ باب ہے اور قومی سیاست کے اندر نظریات پر موقع پرستی کی مکمل غلبہ کا غماز ہے۔

؁۲۰۰۵ میں نتیش کمار کی جنتا دل نے بی جے پی کے ساتھ الحاق کرکے انتخاب لڑا اور اسے20.4% ووٹ کے ساتھ 88 نشستوں پر کامیابی ملی جبکہ بی جے پی کو15.6% ووٹ کے سبب 55نشستیں مل گئیں۔ وہ دن ہے اور آج کا دن نتیش کمار بہار کے اقتدار پر قابض ہیں۔ درمیان میں انہوں نے نتن رام مانجھی کو اپنا کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ بنایا لیکن پھر دودھ سے مکھی کی مانند نکال کر پھینک دیا۔ ویسے اب پھر سے وہ اس مکھی کو نگلنے کا من بنارہے ہیں۔ اس انتخاب میں رام ولاس پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی کو 11فیصد ووٹ کے ساتھ 10 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔ اس طرح رام ولاس پاسوان نے اپنی موجودگی کا احساس دلایا تھا ۔ اس کے بعد ؁۲۰۱۰ کے اندر منعقد ہونے والے صوبائی انتخاب میں نتیش کمار اور بی جے پی دونوں نے اپنی پوزیشن کو بہتر بنایا۔ یہی وہ زمانہ تھا جب نتیش کمار کو سوشاسن بابو (بہترین منتظم) کے نام سے یاد کیا جاتا تھا لیکن اس الحاق کا زیادہ فائدہ بی جے پی کا ہوا تھا اورنتیش کمار بی جے پی کو اپنے لیے خطرہ محسوس کرنے لگے تھے ۔ جنتا دل (یو) کو 22.6% ووٹ ملے اوراس کی نشستیں بڑھ کر 115پر آگئیں جبکہ بی جے پی نے صرف ایک فیصدووٹ بڑھا کر اپنی نشستیں 55 سے91 پر لے گئی ۔ آر جے ڈی کو اس ۲ فیصد ووٹ ملے لیکن اس کے حصے میں صرف ۲۲ نشستیں آسکیں۔ پاسوان نے لالو کے ساتھ انتخاب لڑا تھا لیکن انہیں صرف ۳ اور کانگریس نے اکیلے الیکشن لڑ کر ۴ نشستوں پر اکتفاء کیا ۔

؁۲۰۱۴ کے قومی انتخاب سے قبل نتیش کمار نے بی جے پی سے دامن چھڑایا تو لالو نے سہارا دیا۔ پارلیمانی انتخاب میں شرمناک شکست کے بعد نتیش کمار نے استعفیٰ دے دیا اور مانجھی کو وزیر اعلیٰ بنایا لیکن ؁۲۰۱۵ کے صوبائی انتخاب سے قبل نتیش کمار پلٹی مارکر لالو کے ساتھ آگئے اور کانگریس کو ساتھ مل کر مہاگٹھ بندھن بنالیا ۔ اس انتخاب میں سب سے زیادہ 25%ووٹ بی جے پی کو ملے لیکن اس کو نتیش کی غداری سزا ملی اور اس کی نشستیں گھٹ کر 53پر آگئیں۔ اسی طرح کا نقصان نتیش کمار کا بھی ہوا۔ 2010 کے انتخاب میں جنتا دل (یو) کو 22.6% ووٹ ملے تھے اور سیٹیں 115 تھیں لیکن 2015 میں اسے صرف 17.3% ووٹ ملے جبکہ نشستیں گھٹ کر آر جے ڈی سے بھی کم یعنی 71 پر آگئیں۔ آر جے ڈی کو تقریباً19 فیصد ووٹ کے ساتھ 80 نشستیں مل گئیں اور کانگریس نے بھی تقریباً 7 فیصد ووٹ کی بدولت 27نشستوں پر قبضہ کرلیا ۔پاسوان اور مانجھی 2 اور ایک پر پہنچ گئے۔
ان نتائج کا ایمانداری سے تقاضہ تو یہ تھا کہ تیجسوی یادو کو وزیر اعلیٰ بنایا جاتا لیکن مہا گٹھ بندھن کو بلیک میل کرکے نتیش کمار پھر وزیر اعلیٰ بن گئے ۔ ان کو بلیک میل کرکے بی جے پی نے اپنے ساتھ ملا لیا اور وہ پھر سے پلٹی مار کر این ڈی اے میں شامل ہوگئے ۔ آئندہ انتخاب اس تناظر میں ہونے جارہے ہیں ۔ پاسوان اپنا بھاو بڑھا رہے ہیں لیکن نتیش اور بی جے پی دونوں ان سے پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں۔ بی جے پی اس بار جے ڈی یو سے زیادہ نشستیں جیت کر اپنا وزیر اعلیٰ بنانا چاہتی ہے لیکن نتیش کمار کی گردن پھنسی ہوئی ہے ۔ آر جے ڈی اور کانگریس فی الحال ایک ساتھ ہیں بعید نہیں کہ پاسوان ان کے ساتھ ہوجائے ایسے میں بہار کا انتخاب خاصہ دلچسپ ہوجائے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ کورونا کے زمانے میں موقع پرستی کی یہ رسہ کشی کیا گل کھلاتی ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1081 Articles with 373025 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Sep, 2020 Views: 237

Comments

آپ کی رائے