آذر بائیجان اور آرمینیا کی جنگ۔

(Syed Maqsood ali Hashmi, )

آرمینیا ، آذر بائیجان کی لڑائی ترکی کو بیچ میں گھسیٹنے کیلئے ، انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی سازش کے ذریعے شروع کروائی گئی ہے ۔ جب سے سوویت یونین ٹوٹا ہے ، تب سے یہ معاملہ چل رہا ہے ، آذر بائیجان کے علاقوں فیضولی ، جبریل پر آرمینیا نے قبضہ کرلیا تھا ۔ ۔ ۔

مدت کے بعد کفار سامنے سے مقابلہ کرنے آئے ہیں ، آرمینیا ، اسرائیل و امریکہ کا چہیتا ہے ، اس نے ہمارے برادر اسلامی ملک آذربائیجان سے جنگ چھیڑ لی ہے ، جسکے جواب میں ، الحمدللہ ترکی ، آذربائیجان مل کر آرمینیا کے کئی علاقے قبضے میں لے چکے ہیں ۔ سات دیہات قبضے میں آ چکے ہیں ۔ ۔ ۔
ترکی آذر بائیجان کو مکمل سپورٹ کرتا ہے جبکہ روس آرمینیا کیساتھ کھڑا ہے ، حال ہی میں ترکی اور روس بہت نزدیک آ چکے ہیں ، ترکی ہر طریقے سے آذر بائیجان کیساتھ کھڑا ہے ۔

یہ مذہبی جنگ ہے ، اسکے پیچھے وہی کردار ہیں جو دنیا کو تیزی سے تباہی کیطرف لیکر جا رہے ہیں ، آرمینیا ایک عیسائی ملک ہے ، جبکہ آذر بائیجان ایک اسلامی ملک ہے ، آرمینیا کے آفیشل ٹوئیٹر اکاؤنٹ سے ایک پادری صلیبی جنگ کیطرف اشارہ کر رہا ہے ، اگر ہم مسلمان جہاد کا اعلان کر دیں تو مغرب کو موت آ جاتی ہے ، صیہونی زائیونسٹ کیجانب سے یہ اشارہ شائع کرنا ، مسلم امہ کیلئے واضح پیغام ہے ، یا تو لڑو ، یا ہمیشہ کیلئے غلام بنو ۔ ۔ ۔

شامی جنگجو جن کو حال ہی میں ترکی کے ذریعے آذر بائیجان لایا گیا تھا ، جہادی سامان کیساتھ ، نعرے لگاتے ہوئے مورچوں کیطرف جا رہے ہیں ، آذر بائیجان کی عوام استقبال کر رہی ہے ۔ ۔ ۔

روس ، ترکی ، چین ، پاکستان قریب آ رہے تھے ، نئے بلاک کیطرف جا رہے تھے ، نئے بلاک کے وجود کو خطرے سے دوچار کرنے کی یہ ایک صیہونی سازش ہے ، اس میں سی آئ اے ، بلیک واٹر ، زی ، موساد ، ساری کراۓ کی افواج انوالو ہونگی ، بہت بڑا کھیل شروع ہونے جا رہا ہے ، یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا ، نا کچھ بھی اچانک ہوتا ہے ، پیچھے پوری پلاننگ ہوتی ہے ۔ ۔ ۔

بڑے پلیئرز کی پراکسیز ہوتی ہیں یہ ، پاکستان ان شاء اللّه تعالیٰ اپنے ترکی ، آذر بائیجانی بھائیوں کیساتھ کھڑا ہے ۔

پاکستانی دفتر خارجہ کیجانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے پاکستان ، آذر بائیجان کیساتھ کھڑا ہے ، آذر بائیجان کے دفاع کی حمایت کرتا ہے ، پاکستان کو ( نگورنو کرا باخ ) میں کشیدگی پر سخت تشویش ہے ۔ ۔ ۔ پاکستان آذر بائیجان کی حمایت کا اعادہ کرتا ہے ۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Maqsood ali Hashmi

Read More Articles by Syed Maqsood ali Hashmi: 110 Articles with 37224 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Oct, 2020 Views: 154

Comments

آپ کی رائے