خواتین کالم نگاروں میں زاہدہ حناکا مقام

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)
صحافیانہ نقطہ نظر سے کالم سے مراد وہ تحریر ہوتی ہے جو کوئی لکھاری کسی بھی اخبار کے اداراتی صفحہ پر یاکسی اور صفحہ پر حالات حاضرہ، سیاست، معیشت، معاشرت، ادب، کتاب و صاحب ِکتاب، شاعر ادیب اور دیگر موضوعات پر مختصر تجزیہ کسی بھی ایک عنوان کے تحت قلم بند کرے۔ اس طرح کی تحریر لکھنے والا کالم نگارکہلاتا ہے۔ لمحہ موجود میں کالم کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ معروف ادیب و کالم نگار زاہدہ حنا نے اپنے کالم ”کے ایل ایف: کالم اور کالم نگار“ میں لکھا کہ ”کالموں کو جمہوری دنیا میں نہایت اہمیت دی جاتی ہے اور وہاں کے حکمران اپنے اپنے ملکوں کے اہم کالم نگاروں کو پڑھتے ہیں تاکہ اپنی پالیسیاں بنانے میں ان کی رائے کو مد نظر رکھیں کیونکہ وہ ان کی تحریروں کو زبان خلق، تصور کرتے ہیں“۔ اردو میں کالم نگاری کی ابتدا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ 1877ء میں اس وقت ہوئی جب ہندوستان سے سجاد حسین کی ادارت میں اخبار ”اودھ پنچ“ جاری کیاگیا۔ وہی اس کے مدیر اعلیٰ تھے۔ سجاد حسین نے اس اخبار میں فکاہیہ کالم لکھنا شروع کیے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ اردو میں کچھ فارسی کی ملاوٹ سے 1731ء میں جعفر زٹلی نے طنزیہ و مزاحیہ شاعری کے طرز پر فکاہیہ کالم لکھے۔ منشی سجاد کے علاوہ کالم نگاری کرنے والوں میں تربھون ناتھ ہجر، رتن ناتھ سرشار، مچھو بیگ، ستم ظریف، جوالا پرشاد برق، نواب سید محمد آزاد، منشی علی احمد شوق اور اکبر الہ آبادی شامل تھے۔ اودھ پنچ کے بعد مولانا ابواکلام آزاد نے ہفت روزہ ’الہلال‘جاری کیا، وہ اس اخبار میں فکاہیہ کالم لکھتے رہے، 1903ء میں ظفر علی خان کے والد مولوی سراج الدین نے لاہور سے ”زمیندار“ جاری کیا،سراج الدین کے بعد مولانا ظفر علی خان اس کی ادارت کے ذمہ دار ہوئے، 1920میں عبد المجید سالک بھی زمیندار سے منسلک ہوگئے اور فکاہیہ کالم ’افکار و حوادث‘ کے نام سے لکھنے لگے، یہ سلسلہ بیس سال تک جاری رہا۔ زمیندار میں حاجی لق لق کے نام سے بھی فکاہیہ کالم شائع ہوئے، عبدالمجید سالک نے زمیندار اور انقلاب میں کالم لکھے۔ چراغ حسن حسرت نے کلکتہ سے نئی دنیا میں کولمبس کے نام سے کالم تحریر کیے، لاہور سے شیرازاخبار جاری ہوا، اس کے بعد خواجہ حسن نظامی، حاجی لق لق، مولانا محمد علی جوہر کامریڈ اور ہمدرد اخبار نکالنے میں کامیاب ہوئے۔ ادبی طنز و مزاح لکھنے والوں میں ملا رمزی، شوکت تھانوی، مرزا فرحت اللہ بیگ،مجید لاہوری، سعادت حسن منٹو، مشفق خواجہ جو خامہ بگوش کے قلمی نام سے فکاہیہ کالم لکھتے رہے۔ اس دور میں ہمیں کسی خاتون کالم نگار کا نام نہیں ملتا۔

قیام پاکستان کے بعد کئی کالم نگار سامنے آئے ان میں انعام درانی، احمد ندیم قاسمی، نصر اللہ خان،بشریٰ رحمن، ارشاد حقانی، فکر تونسوی، ابن انشاء، جمیل الدین عالی، مجیب الرحمٰن شامی، عطا ء الحق قاسمی کے علاوہ کئی کالم نگار اپنے جوہر دکھارہے ہیں۔ البتہ خواتین کالم نگاروں میں چند نام ہی ملتے ہیں ان میں بشریٰ رحمن جن کا تعلق بہاولپور سے ہے ادب کی مختلف اصناف کے ساتھ ساتھ کالم نگاری بھی کرتی رہی ہیں۔ اس کی ایک بنیادی وجہ ان کا صحافت میں ایم اے ہونا تھا۔ انہوں نے عملی سیاست میں بھی حصہ لیا اور منتخب ایوانوں میں اپنی آواز بلند کرتی رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ”سیاست تمام عمر نہیں کی جاسکتی یہ ایک عارضی چیز ہے جب کہ ادب پوری زندگی پر محیط ہوتا ہے“۔ یہ بات انہوں نے گلزا رجاوید کو انٹر ویتے ہوئے کہی جو معروف ویب سائٹ ”پنجند ڈاٹ کام“ میں شامل ہے۔ بشریٰ رحمن روز نامہ جنگ میں ”چادر چاردیواری اور چاندنی“ کے عنوان سے کالم لکھا کرتی تھیں۔ کشور ناہید کا نام بھی ادب کے ساتھ کالم نگاری میں معروف ہے، وہ بھی روزنامہ جنگ میں کافی عرصہ سے کالم لکھ رہی ہیں۔پاکستان کی خاتون کالم نگاروں میں نسیم انجم کا نام بھی معروف اور معتبر ہے۔ ان کے کالموں کا مجموعہ ”آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے۔ کالموں کو مجموعہ۔ روزنامہ ایکسپریس“ حال ہی میں شائع ہوا ہے۔ نسیم انجم کراچی کی علمی ادبی حلقے کی جانی پہچانی شخصیت ہیں، ان سے ادبی تقاریب میں تعارف ہوا۔ استاد ہیں، لکھاری بھی ہیں۔ ان کے لکھنے کے مطابق وہ2000 سے ایکسپریس اخبار میں لکھ رہی ہیں۔ ان کے موضوعات جن پر وہ کالم نگاری کررہی ہیں سیاسیات، ادبیات، سماجیات، شخصیات اور کتب وغیرہ شامل ہیں۔

زاہدہ حنا خواتین کالم نگاروں میں سینئر کالم نگار ہیں۔ عرصہ دراز سے کالم نگاری کررہی ہیں، زاہدہ حنا سے مرتضیٰ شریف کا کیا ہوا مکالمہ 10 مئی 1999ء کو روزنامہ ’قومی اتحاد‘ میں شائع ہوا تھا۔اس انٹر ویو میں اس سوال کے جواب میں کہ آپ کو کس نے انسپائر کیا، زاہدہ حنا کا جواب تھا کہ ”شاید سب سے زیادہ متاثر روسی اور فرانسیسی ادیبوں نے کیا“۔زاہدہ حنا نے1967ء سے کالم نگاری کے سفر پر رواں دواں ہیں۔آغاز روزنامہ مشرق سے1967 ء میں کیا، اس کے بعد یعنی 1988 ء میں وہ روزنامہ جنگ سے وابستہ ہوگئیں اور ’نرم گرم‘ کے عنوان سے کالم لکھنے لگیں ، ان کا یہ کالم نرم گرم 2006 ء میں روزنامہ ایکسپریس میں منتقل ہوگیا اور وہ اب تک اسی عنوان اور اسی روزنامے میں کالم نگاری کے جوہر دکھارہی ہیں۔

زاہدہ حنا کی کالم نگاری کو علمی، ادبی اور سیاسی حلقوں میں معتبر تصور کیا جاتا ہے۔ہفتہ میں دوبار بے شمار قاری ان کے کالم کے انتظار میں ہوتے ہیں اور ہزاروں آنکھیں ان کے رشحات قلم کی منتظر رہتی ہیں۔وہ تواتر کے ساتھ ہر طرح کے موضوعات کو موضوع بنا رہی ہیں۔ ان کی تحریر ماضی کا حال بھی بیان کرتی دکھائی دیتی ہے اور وہ حال پر بھر پوراور گہری نظر رکھتی ہیں اور مستقل کے لیے اپنی صائب رائے دیتی دکھائی دیتی ہیں۔کالم نگاری اختیار کیے انہیں بہت لمبا عرصہ سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے۔ کالم نگاری کے اس طویل سفر میں انہوں نے تعداد کے اعتبار سے بے شمار موضوعات کو اپنے کالم کا موضوع بنایا اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ ان کے 70کے قریب کالم اور ان کا ایک طویل مضمون ’ضمیر کی آواز‘ اور ایک معروف افسانہ ’بودو نبود کا آشوب‘ اور اس افسانے کا انگریزی ترجمہ جو فیض احمد فیض نے کیا تھا ان کی کتاب ”امیدِ سحر کی بات سنو: جنگ زدہ دنیا امیں امن کے خواب“ میں دیکھے جاسکتے ہیں، یہ کتاب جامعہ کراچی کے پاکستان اسٹڈی سینٹر نے 2011 ء میں شائع کی تھی۔یہ کتاب زاہدہ حنا کے دفتر سے مرتضیٰ شریف تک اور پھر مجھ تک پہنچی۔ اپنے موضوع پر قابل ذکر مجموعہ ہے، زاہدہ حنا کی کالم نگاری پر تحقیق اس کتاب کے بغیر ادھوری رہے گی۔

کالم نگاری کے میدان میں متعدد خواتین اخبارات میں کالم نگاری کرتی نظر آتی ہیں، بعض مستقل مزاجی سے کالم نگاری کررہی ہیں، بعض اپنے ذوق کی تسکین کے لیے، بعض کا پیشہ صحافت ہے اور کالم نگاری اس کا ایک حصہ ہے اور کچھ اپنی جماعت یا اس کے سربراہ کی وکالت کے لیے کالم لکھ رہی ہیں۔ تما م ہی خواتین کالم نگار اپنے اپنے طور پر کالم نگاری کا حق احسن طریقے سے انجام دے رہی ہیں۔ ان میں سے بعض معروف خواتین کالم نگاروں میں پروفیسر رفعت مظہر، ڈاکٹر صغرا صدف،صبا ممتاز بانو،تبسم فاطمہ،ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر،رفعت بلخی، ڈاکٹر ثناء غوری، عندلیب عباس، یگانہ نجمی، سعدیہ کیانی، ریحام خان، فاطمہ بھٹو، نادیہ عنبر لودھی، ثمینہ رشید، عاصمہ شیرازی، مسرت جبیں، عظمیٰ صدیقی،، جہاں آرا منظور وٹو، ڈاکٹر ملیحہ لودھی، ڈاکٹر سمیعہ راحیل قاضی، نفیسہ شاہ، ڈاکٹر یاسمین راشد، خوش بخت شجاعت، ماروی میمن، مہر بخاری، جویریہ صدیق، نادیہ حسین، حاجرہ خان، ناجیہ اشعر، ڈاکٹر لبنی ظہیر، سارہ لیاقت ا ور دیگر شامل ہیں۔ مرد کالم نگاروں کی مانند خواتین کالم نگاروں میں بھی کئی کالم نگار مختلف سیاسی جماعتوں کی باقاعدہ رکن ہیں، ان کی تحریر میں ان کی جماعت کی پالیسی غالب نظر آتی ہے۔صحافت، میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا سے وابستہ خواتین کالم نگار یا تجزیہ نگار ایسی بھی ہیں جن کی تحریر اور گفتگو میں کسی سیاسی جماعت یا کسی جماعت کے سربراہ سے وابستگی عیاں ہوتی ہیں۔ زاہدہ حنا کی یہ بات جو انہوں نے اپنے کالم ’کے ایل ایف۔کالم اور کالم نگار‘ میں لکھی درست معلوم ہوتی ہے کہ ”کالموں کا معیار پہلے جیسا نہیں رہا اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ سیاسی پارٹیوں کے عسکری ونگ کی طرح ان کا میڈیا ونگ بھی وجود میں آچکا ہے۔ بہت سے کالم نگاروں کی تحریر سے صاف جھلکتا ہے کہ ان کا تجزیہ بے لاگ نہیں اور وہ کسی خاص سیاسی جماعت کے نقطہ نظر کی وکالت کررہے ہیں۔ یہ بات پڑھنے والوں کو ناگوار گزرتی ہے اور کالم نگار کی غیر جانبداری پر حرف آتا ہے“۔

زاہدہ حنا کے اس تجزیے سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ جن خواتین کالم نگاروں کے نام تحریر کیے گئے ہیں ان میں سے بعض سیاسی جماعتوں سے اعلانیہ وابستہ ہیں، کچھ صحافی یا الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والی کالم نگار کسی بھی سیاسی جماعت کے پروگرام سے متفق دکھائی دیتی ہیں۔ اس کلیہ پر چند خواتین ہی پورا اترتی ہیں جو غیر جانبدار ی اور بے لاگ کالم تحریر کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ زاہدہ حنا کے سیاسی موضوعات پر لکھے گئے کالموں میں غیر جانبداری جھلکتی ہے، ان کے تبصرے بے باکانہ ہوتے ہیں۔ان کی تحریر سے ان کے ادبی شعور کی غمازی بھی ہوتی ہے۔وہ ملکی اور عالمی دنیا کے مسائل پر بھی واشگاف الفاظ میں دو ٹوک لکھتی ہیں، نازک، حساس اور سنجیدہ موضوعات پر بے خوف ہوکر اور کھل کر تبصرہ کرتی ہیں۔ ان کی تحریر میں کسی سیاسی جماعت کی طرف داری کا شائبہ تک نہیں ہوتا، وہ غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہنے کی جرأ ت رکھتی ہیں۔ البتہ نظریات پر قائم رہنے کا حق ہر ایک کو ہے سو وہ بھی اپنے نظریات پر سیسہ پلائی دیوار کی طرح قائم ہیں۔ زاہدہ حنا کیونکہ بنیادی طور پر ایک ادیبہ ہیں۔وہ سیاست کو اپنا موضوع بناتی ہیں تو دوسری جانب وہ ادبی موضوعات کو بھی اپنے کالموں میں بلند مقام دیتی دکھائی دیتی ہیں۔اس کی بنیادی وجہ جو کہی جاسکتی ہے کہ وہ بنیادی طور پر ایک ادیب، افسانہ نگارہیں،وہ بلندپایہ کی افسانہ نگار اور ناول نگار بھی ہیں، ان کے افسانوں کے تراجم کئی زبانوں میں ہوئے۔انگریزی میں ان افسانوں کا ترجمہ محمد عمر میمن اور ثمینہ رحمن نے کیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کے ایک افسانے کا انگریزی ترجمہ اردو کے معروف شاعر جناب فیض احمد فیض نے کیا۔
زاہدہ حنابنیادی طور پر افسانہ اور ناول نگار ہیں۔ ان کے افسانوں کے کئی مجموعے اور ناول منظر عام پر آچکے ہیں، افسانے اور ناول اپنی جگہ اہم اور معیاری ہونے کے ساتھ ساتھ فن افسانہ نگاری اور فن ناول نگاری میں قابل تعریف اضافہ ہیں۔ یہاں ان کے مجموعوں کے نام لکھنے پر ہی اکتفا کیا جائے گا، اس لیے کہ بنیادی موضوع زاہدہ حنا کی کالم نگاری ہے۔ معروف ادیب و شاعر اکرم کُنجاہی نے اپنی کتاب ’نسائی ادب اور تانیثیت‘ میں زاہدہ حنا کی افسانہ نگاری کے حوالے سے لکھا ہے کہ ”خواتین کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک اور ظلم و جبر کا ادراک رکھنے کے باوجود حقوقِ انسانی کی علم بردار ہیں۔ جاپان میں آئندہ نسلوں تک منتقل ہوتے ہوئے ایٹمی تابکاری کے اثرات ہوں یا روس میں بڑھتی ہوئی غربت کی وجہ سے انسانی مسائل، دکھ اور پریشانیاں، زاہدہ حنا کے افسانوں کا موضوع انسان ہے صرف عورت نہیں“۔ زاہدہ حنا کے کالموں کا موضوع بھی صرف عورت نہیں بلکہ یہاں بھی ان کے موضوعات انسان،انسانی مسائل اور اس سے متعلقہ موضوعات ہیں۔ وہ سیاسی، معاشرتی، تاریخی، ادبی، سماجی، کتاب اور صاحب کتاب، خواتین کے مسائل پر بات کرتی نظر آتی ہیں۔ڈاکٹر جعفر احمد نے زاہدہ حنا کی کتاب ”امیدِ سحر کی بات سنو“ کے سر آغاز میں انہیں ’معاشرے کی نبض شناس‘ قرار دیا ہے۔

ان کی تصانیف میں قیدی سانس لیتا ہے، عورت زندگی کا زنداں، تتلیاں ڈھونڈنے والی، رقصِ بسمل ہے، راہ میں اجل ہے، زاہدہ حنا کے معروف ناول’نہ جنو رہا نہ پری رہی‘(ناولٹ)، ’درد جا آشوب‘(ناول)، ’درد کا شجر‘(ناول) اور ٹی وی ڈرامہ’زرد پتوں کا بن‘ شامل ہے۔ زاہدہ حنا کی پہلی تخلیق ما ہنامہ ”انشا“ میں 1962میں شائع ہوئی، اس وقت ان کی عمر عزیز 16برس رہی ہوگی اس لیے کہ وہ 1946میں اس دنیا میں آئیں۔ خیال کیا جاسکتا ہے کہ اسکول کی طالبہ کی حیثیت سے انہوں لکھنے کا آغاز کیا۔ا کرم کنجاہی نے اپنی کتاب میں شامل مضمون ”زاہدہ حنا“ میں زاہدہ کے ایک افسانے ’قیدی سانس لیتا ہے‘ کے حرف آغاز میں لکھی زاہدہ کی اپنی تحریر نقل کی ہے وہ کہتی ہیں ”انہوں نے پہلی کہانی 9 برس کی عمر میں لکھی“۔ افسانے اور ناول نگاری کے ساتھ ساتھ انہوں نے صحافتی دنیا میں قدم رکھا، آغاز ہفت روزہ”اخبار خواتین“ سے کیا، پھر ماہنامہ روشن خیال کی ادارت کی، کچھ عرصہ عالمی ڈائجسٹ سے وابستہ رہیں، تلاش و جستجو کے باوجود یہ معلوم نہ ہوسکا کہ وہ افسانہ اور ناول نگاری سے کالم نگاری کی جانب کیسے آئیں اور اپنا زیادہ وقت کالم نگاری کو دیا، بہت اچھے، بروقت کالم لکھ کر عوام میں شعور بیدار کیا، حکومت وقت کو غلط اور صحیح کا احساس دلایا۔ گویا ان کا قلم بے باکی، بہادری، سچائی اور ایمانداری سے حق کی آواز بلند کر رہا ہے۔ اس سچائی سے انکار ممکن نہیں ساتھ ہی ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے جسے اکرم کنجاہی نے اپنی کتاب کے صفحہ 152پر لکھا کہ ”ان کی افسانہ نگاری کو بہت حد تک کالم نگاری نے متاثر کیا ورنہ وہ خالص ادب میں مزید اضافے کرسکتی تھیں“۔ یہاں اکرم کنجاہی کی مراد افسانہ اور ناول ہی نظر آتی ہے۔ دیکھا جائے تو وقت کے ساتھ کالم نگاری نے بھی ادب کی ایک اہم صنف کی حیثیت اختیا ر کرلی ہے۔ ادبی موضوعات بھی کالموں کا ایک اٹوٹ انگ ہوگئے ہیں۔کالم خالص سیاسی و معاشی حالات پر ہی نہیں ہوتے بلکہ ان میں ادب، شاعری، طنز و مزاح، خود نوشت، تنقید، مکتوبات، کتاب اور صاحب کتاب، ڈرامہ، فلموں پر تبصرے،اسٹیج ڈراموں پر تنقید و تعریف،خواتین کے مسائل، مردوں کی مشکلات، تاریخ و سوانح،خاکے، بچوں کے لیے معلومات، انہیں ایک اچھا شہری بنانے کی باتیں بھی ہوتی ہیں۔زاہدہ حنا کی افسانہ نگاری، ناول نگاری پر بہت کچھ لکھا گیا، جامعات کی سطح پر ان کی افسانہ نگاری کو تحقیق کا موضوع بھی بنا یا گیا۔ جامعہ کراچی کے شعبہ اردو میں ڈاکٹر شمع افروز کی نگرانی میں تحقیقی مقالہ برائے ایم اے (اردو) کرن شہزادی نے 2019ء میں تحریر کیا جس کا عنوان ہے ”زاہدہ حنا کے افسانوں میں انسان دوستی کا تصور (تجزیاتی مطالعہ)۔

بہاء الدین ذکریہ یونیورسٹی سے ارم سلیم نے ان کے اور کشور ناہید کے کالموں کا جائزہ لیا۔ یہ ان کا ایم اے کا تھیسس ہے۔ اسی طرح حیدر آباد دکن سے رخسانہ بیگم نے ان پر اپنا پی ایچ ڈی کا تھیسس لکھا۔ اس کے علاوہ حیدر آباد سندھ سے کنول رعنا اور بہاء الدین ذکریہ یونیورسٹی سے ایم اے اور ایم فل کے مقالے لکھے۔ آسیہ نازلی نے اپنی تحقیق کو کتابی شکل میں شائع کرایا۔ میری معلومات کے مطابق ان کی کالم نگاری پر جامعہ سندھ میں ایم فل کی سطح پر تحقیق کا عمل جاری ہے۔ زاہدہ حنا کے تما م کالموں کا احاطہ ممکن نہیں اس لیے کہ وہ تعداد میں بہت زیادہ ہیں، یہی نہیں وہ اس وقت سے کالم لکھ رہی ہیں جب انٹر نیٹ پر کالم کی موجودگی کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا۔ زاہدہ حنا کی کالم نگاری جامعات کی سطح پر ایم فل اور پی ایچ ڈی تحقیق کی متقاضی ہے اور اس پر کچھ کام بھی ہوا ہے، ان کے کالم مختلف موضوعات پر ہیں انہیں الگ الگ تحقیق کا موضوع بنانے کی ضرورت ہے جیسے ملکی سیاست و معیشت، عالمی سیاست، جنگ و امن کے موضوعات، ادب میں شخصیات، علمی ادبی ادارے، تصانیف و تالیفات پر تجزیہ و مطالعات وغیرہ ان کے کالموں تک پہنچنے کے لیے اخبارات کے دفاتر کی خاک چھاننی پڑے گی۔ ذیل میں ان کے چند کالموں کا تجزیاتی مطالعہ کرنے کی سعی ئ کی جائے گی۔

برصغیر کی د و اہم شخصیات جنہوں نے اپنے اپنے ملک کو جوہری قوت بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔زاہدہ حنا نے اپنے ایک کالم ”تین ستاروں کی کہانی“، یہ کالم 27اگست2006میں ایکسپریس اخبار میں شائع ہوا، اپنے اس کالم میں انہوں نے تین ستاروں کی کہانی سنائی۔ استاد بسم اللہ خان، دوسرے بھارت کے صدر ابو لفقیر زین العابدین عبد الکلام(گیارویں صدر) اور تیسرے فرد ہیں پوکھران کا جواب دینے والے پاکستانی سائنس داں ڈاکٹر عبد القدیر خان۔ اپنے اس کالم میں انہوں نے تینوں شخصیات پر گفتگو کی۔ اس کی تفصیل میں نہ جاتے ہوئے کالم کا آخری جملہ لکھنے پر اکتفا کروں گا۔ لکھا ہے ”عجب منظر ہے دو ستارے اوج پر ہیں، چمک رہے ہیں، ایک ستارہ ٹوٹ کر بجھ رہا ہے اور ہم خاموش تماشائی ہیں“۔ اس ایک جملے سے سارا منظر آسانی سے واضح ہوجاتا ہے۔ یہی کالم نگار کی خوبی بھی ہے۔ زاہد حنا کا ایک کالم سرونسٹن چرچل جس کا انتقال 30جون1965ء میں 90برس کی عمر میں ہوا کو اپنے کالم کا موضوع بنایا۔ کالم کا عنوان ہے ”بیسویں صدی کا ایک ہیرواور ظالم تاریخ“، یہ کالم روزنامہ ایکسپریس میں 12جولائی 2020کو شائع ہوا۔کرسٹوفر کولمبس پر ان کا کالم ”کولمبس۔ ہیرو سے زیرو“ بہت معلوماتی ہے۔

سیاست بھی ان کا موضوع ہے۔ ایک کالم ستمبر2006میں بعنوان ”گیارہ کروڑ بے گناہوں کا قتل“ کے عنوان سے لکھا۔ اس کالم کا آغاز اس طرح کیا کہ ”نائن الیون کی پانچویں سالگرہ سے چند دن پہلے نیویارک کے میئر نے اس سانحہئ کو اکیسویں صدی کا سب سے بڑ سانحہئ اور دہشت گردی کا واقعہ ٹہرا یا، انہوں نے کہا کہ اس خوفناک دہشت گردی کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی“۔ اس بات کا جواب اگلے ہی پیراگراف میں زاہدہ حنا نے اس طرح لکھا جو بے باکی کی اعلیٰ مثال ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ”یہ جملہ اکیسویں صدی کا شاید سب سے بڑا لطیفہ ہے“۔ انہوں نے سیاسی شخصیات، سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والی شخصیات، تعلیم، سماجی علوم، لکھاریوں، شاعروں، اداکاروں کو بھی اپنا موضوع بنایا۔ سیاست کے حوالے سے ہی ان کا یک کالم امریکہ میں سیاہ فام پر تشدد، ظلم کی داستان کے حوالے سے ہے جس کا عنوان ہے ’امریکہ پر صدیوں پرانا قرض“ کے عنوان سے لکھا۔ اس کا ایک جملہ امریکہ میں نسل پرستی کی صورت حال ظاہر کرتا ہے۔ ”امریکیوں کی خاصی تعداد نسل پرستی کے سحر میں آج بھی گرفتار ہے۔ ان میں ادیب اور دانشور بھی شامل ہیں“۔

کالم نگار وقت اور حالات کو اپنی تحریر کا موضوع بناتا ہے۔ یہی کالم نگار کی سب سے بڑی خوبی شمار کی جاتی ہے۔ جیسے چند ماہ سے کورونا وائرس یعنی Covid-19 دنیا میں تباہی پھیلارہا ہے۔کوئی شاعر ادیب، کالم نگار ایسا نہیں جس نے کورونا کو اپنا موضوع نہ بنایا ہو۔ اس لیے کہ کالم نگار کی نگاہ دنیا میں ہونے والے تمام سیاسی، سماجی، معاشرتی، علمی، ادبی واقعات پر ہوتی ہے۔ زاہدہ حنا نے بھی کورونا کو مختلف انداز سے اپنا موضوع بنایا اور کورونا کئی پہلوؤں پرکالم لکھے اور اس موضوع پر لکھنے کا عمل جاری ہے۔ زاہدہ حنا کا کالم 14جون 2020کو بعنوان ”ہیٹی کے صدر، ٹرمپ سے زیادہ دانش مند‘ کے عنوان سے لکھا۔اپنے اس کالم کا آغاز کورونا وائرس اور پاکستان کی صورت حال سے کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ”ان دنوں پاکستان مکمل طور پر کورونا وائرس کے چنگل میں پھنس چکا ہے۔ بہت سے لوگوں کا یہاں تک کہنا ہے کہ اس بات کا فیصلہ ہم نہیں کریں گے کہ کورونا کو اپنے ملک سے کب ختم کرنا ہے بلکہ یہ فیصلہ کورونا وائرس خود کرے گا کہ اسے یہاں سے کب جانا ہے اور جاتے ہوئے ہماری کوتاہیوں کا کتنا جانی اور مالی تاوان وصول کرنا ہے۔ یہ مایوسی پھلانے والی بات نہیں جب تک ہم حقیقت تسلیم نہیں کریں گے اس وقت تک قابل عمل لائحہ عمل بھی اختیار نہیں کرسکیں گے“۔ کورونا کے حوالے سے ہی ان کا ایک کالم بعنوان ”پولنگ بوتھ بہ مقابلہ کورونا وائرس“ 3مئی2020کو شائع ہوا جس میں تاریخ میں غیر معمولی ترقی کرنے والی قوم جنوبی کوریا نے کورونا پر جس تیزی اور ترتیب و ترکیب اور دانشمندی سے قابو پایا اس کی تفصیل،انتخابات کا ذکر کیا گیا ہے۔ کورونا کے حوالے سے ایک کالم ”عالمی وبا کے مثبت و منفی اثرات“ کے حوالے سے ایک کالم شائع ہوا جس میں انگریزی اخبار گارجین میں لکھے گئے پٹیر بیکر کے کالم کو بنیاد بنا یا گیا ہے۔ بیکر نے کورونا کے بارے میں جو باتیں کیں اس کالم میں انہیں آگے بڑھایا گیا ہے۔ اپنے موضوع پر معلوماتی کالم ہے۔اسی موضوع پر ایک اور کالم بعنوان ”چین کا مشورہ مان لیا جائے“ لکھا جس میں چین میں کورونا کے مرض کے آغاز کی تفصیل اور تدارک پر بات کی گئی ہے۔ زاہدہ حنا کے کالموں میں موضوع کے بارے میں معلومات بھی درج ہوتی ہیں۔

شخصیات کے حوالے سے زاہدہ حنا کا ایک کالم ”وہ پیش گوئی جو سچ ثابت ہوئی“ کے عنوان سے ایک نامور سائنسدا ں ڈاکٹر ٹیڈروز کے بارے میں لکھا۔ ڈاکٹر ٹیڈروز کا بھائی خسرہ کی وبا میں بچپن میں انتقال کر گیا تھا، ٹیدروز جب بڑا ہوا تو اس نے متعدی اور وبائی امراض سے بچاو کے علم میں ماسٹرز کی ڈگری لی اور اسی فیلڈ میں ترقی کرتا چلا گیا، ایڈز کی بیماری، گردن توڑ بخار اور خسرہ کے ٹیکے لگانے کی مہم میں اہم کردار ادا کیا، یہاں تک کہ وہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائیزیشن کا ڈائریکٹر جنرل بھی بنا۔ اس کالم کا بنیادی مقصد حکومتوں کو اپنے اپنے ملکوں میں صحت کے نظام کی جانب خصوصی توجہ مبذول کرانا تھا۔اسی موضوع پر زاہدہ حنا کا ایک اہم کالم ”جون المیڈا ہے، جس نے سب سے پہلے کورونا وائرس دیکھا“ یہ کالم موضوع پر اہم اور دلچسپ معلومات فراہم کرتا ہے۔ المیڈا کا تعلق اسکالینڈ سے تھا، کالم نگار نے لکھا المیڈا کا انتقال 2007ء میں ہوگیا تھا۔ اپنی زندگی میں اس نے الیکٹرانک خورد بین کے ذریعے سر مئی رنگ کے کانٹے دار اور انتہائی باریک وائرس کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے والی پہلی آنکھ تھی۔ اس کی تحقیق کے مطابق اس کی شکل سورج کے گرد نظر آنے والی روشنی کے ہالے جیسی تھی اس لیے اسے کورونا کا نام دیا گیا۔ المیڈا کے حوالے سے کالم نگار کا لکھنا ہے کہ ”کورونا وائرس کا پورا ایک خاندان دنیا میں موجود ہے جس میں 50کے قریب وائرس شامل ہیں لیکن ان میں سے محض 4یا5ہی انسانوں کو ہلاک کرنے کی خطر ناک صلاحیت رکھتے ہیں۔ کوروناخاندان کا جدید وائرس کووڈ19کہلاتا ہے”۔جاپان اور جرمنی سے سبق سیکھا جائے“بھی ایک معلوماتی کالم ہے۔اس میں بھی کورونا کے حوالے سے قیمتی مشورے شامل ہیں۔ انہوں نے اداروں اور اداروں کی روداد کو بھی اپنا موضوع بنایا۔ جیسے ”کے ایل ایف: کالم اور کالم نگار“ یعنی کراچی لٹریری فیسٹیول کی ادبی سرگرمیوں کا احاطہ کیا۔ اسی طرح انہوں نے ’انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹاریکل اینڈ سوشل سائنس ریسرچ (IHSR)‘کی افتتاحی تقریب کی کہانی پر ایک کالم 3فروری 2020کو لکھا ”آئی ایچ ایس آر: ایک خوش آئند پیش رفت“۔

ادب اور ادبی شخصیات پر ان کے کالم سرپٹ دوڑتے دکھائی دیتے ہیں۔اگر یہ کہا جائے کہ ”ادب تو ہے ہی ان کا اوڑھنا بچھونا،“تو غلط نہ ہوگا کہ وہ چاہے کسی سیاسی موضوع پر لکھیں ان کی تحریر ادب کا مرقع ہوتی ہے۔انہوں نے ادب کے کئی موضوعات اور ادبی شخصیات کو اپنا موضوع بنایا۔ 10مئی 2020 ء کو کارل مارکس: شاعری، ادب اور فلسفے کا شناور“ کے عنوان سے کالم سا منے آیا۔ جس میں انہوں نے کارل مارکس کی شخصیت اور شاعری کا بھر پور احاطہ کیا، انہوں نے لکھا کہ ”مارکس افراد کی ذہانت اور ان کی دانشورانہ گہرائی کو جانچنے کی سب سے بڑی کسوٹی یہ ہے کہ وہ عظیم ادب کا کتنا فہم رکھتے ہیں“۔ اپنے کالم کے آخر میں لکھا کہ یہی وہ مارکس ہے جس کے لیے اقبال نے کہا تھا۔
آں کلیمِ بے تجلی‘ آں مسیحِ بے صلیب
نیست پیغمبر ولے در بغل دارد کتاب

شخصیات کے حوالے سے ان کا ایک کالم معروف صحافی احفاظ الرحمان کے انتقال پر شائع ہوا، اس کالم کے الفاظ اور جملے ایک ایسے شخص کی یاد تازہ کرتے دکھائی دیتے ہیں جس سے کالم نگار کا گہرا تعلق تھا۔ وہ احفاظ کوشاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتی ہیں۔ یہ کالم 26اپریل 2020 ء کو روزنامہ ایکسپریس میں شائع ہوا۔خواتین کے عالمی دن 8مارچ 2020ء کے کالم کا عنوان تھا ”عورت: کامریڈ سے کاری“ اس میں انہوں معروف شاعر اکبر الہٰ آبادی جو کہ عورتوں کی آزادی اور پردہ وغیرہ پر سخت مؤقف رکھتے تھے کو اپناموضوع بنایا اور اکبر الہٰ آبادی کے کئی اشعار بھی لکھے جیسے۔
بے پردہ کل جو نظر آئیں چند بی بیاں
اکبر زمیں میں غیرتِ قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو ان سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کے پڑگیا

بلا شبہ زاہدہ حنا ایک کہنہ مشق صحافی ہیں، ادب اور صحافت ان کی رگ و پے میں بسی ہوئی ہے، ان کے کالم مختصر، زبان معیاری و ادبی اور شستہ ہوتی ہے، ان کے بعض جملے گہری کاٹ رکھتے ہیں اور قاری کو سوچنے پر مجبور کردیتے ہیں۔زاہدہ حنامختصر لفظوں میں بڑی بڑی باتیں کر جاتی ہیں۔ زاہدہ حنا کے کالموں کی تعداد بے شمار ہے، ہفتہ میں دو کالم مہینے میں 8اور ایک سال میں 96۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے کالموں کی تعداد کتنی ہوگی، ایکسپریس اخبار سے پہلے روزنامہ جنگ میں اور 2006سے روزنامہ ایکسپریس میں کالم نگاری کررہی ہیں۔ کالم لکھنا اتنا سہل نہیں۔ مجھے اس کا خاصہ تجربہ ہے اس لیے کہ میں خود بھی کافی عرصہ سے مختلف اخبارات و ویب سائٹس میں کالم لکھ رہا ہوں۔ مجھے زاہدہ حنا کے کالموں کا ایک ہی مجموعہ ملا۔ حالانکہ ان کے کالموں پر ایک نہیں بلکہ کئی مجموعے کتابی شکل میں بہ آسانی مرتب ہوسکتے ہیں۔ انہیں اس جانب بھی توجہ دینی چاہیے، جامعات کی سطح پر تحقیق کرنے والوں کو اس حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جہاں تک میرے علم میں ہے زاہدہ حنا کی کالم نگاری پر جامعہ کراچی میں تحقیقی کام ہوا ہے اور سندھ یونیورسٹی میں بھی ان کی کالم نگاری پر تحقیق ہورہی ہے۔ اس مضمون کو لکھنے کے دوران میں نے ان کے متعدد کالم پڑھے وہ دوسرے کالم نگاروں کی طرح موضوع پر سرسری نہیں لکھتیں بلکہ متعلقہ موضوع پر سیر حاصل مواد شامل ہوتا ہے، وہ اعداد و شمار کے علاوہ کتابوں کے حوالے بھی دیتی ہیں۔مختصر یہ کہ انہیں اپنے کالموں کے مجموعہ کی اشاعت کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔ تحقیق کرنے والوں کی یہ اشد ضرورت ہے۔

 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 723 Articles with 602798 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
18 Oct, 2020 Views: 308

Comments

آپ کی رائے