بابری مسجد کی شہادت اور رام مندر کی تعمیر

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

 ؓبابری مسجد کی شہادت کے28سال بعد سپریم کورٹ آف انڈیا کی عدالتی جارحیت اور ہندو انتہا پسندی کی مثال قائم کرتے، عدل و انصاف پر ایک اور سیاہ دھبہ لگاتے اور انصاف کے تقاضوں کا قتل کرتے ہوئے بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کے لئے ملک کے انتہا پسند وزیراعظم نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا۔30ستمبر2020کوبھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی شہادت کے 32مجرموں کو سزا دینے کیبجائے کیس سے بری کر دیا۔نومبر2019کو بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے کے لئے زمین ہندو تنظیموں کو دے دی تو گجرات کے قصائی کے طور پر شہرت رکھنے والے نریندر مودی نے اپنے چیف جسٹس کا ہندو راشٹریہ بنانے میں تعاون پر شکریہ ادا کیا۔بھارتی وزیرا عظم بھی آج بابری مسجد کی شہادت کے دن کو یوم’’ سوریا دیوس ‘‘یابہادری کے دن کے طور پر منا رہے ہیں۔ بھارتی مسلمانوں ہی نہیں بلکہ مسلم امہ کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ خاص طور پر ان مسلم ممالک کے بے غیرت حکمرانوں کے لئے جو اپنے عوام کے کروڑوں اربوں روپے روشن خیالی کے تحت مندروں اور دیگر کی تعمیر پر خرچ کر رہے ہیں۔بھارت میں مساجد شہید کرنے اور ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کرنے والینہ صرف آزاد گھوم رہے ہیں بلکہ اسی وجہ سے وہ اقتدار میں بھیبراجمان ہیں۔ بابری مسجد کیس میں بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر گہری تشویش اس لئے ہے کہ کشمیری آزادی پسندوں اور بھارتی مسلمانوں کے خلاف دیگر فیصلوں کی طرح اس فیصلے سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے۔ اقوام متحدہ بھی بھارتی سپریم کورٹ کی سست روی پر تشویش کا اظہارکرنے تک محدود رہی ہے۔بھارتی سپریم کورٹ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی درخواستوں پر بھی سست روی دکھاتا رہا۔ فیصلے سے ثابت ہوا بھارت میں اقلیتوں کو انصاف نہیں مل سکتا۔بھارتی سپریم کورٹ نے ریاست اترپریش کے شہر ایودھیہ میں بابری مسجد اور رام مندر کے طویل عرصے تک چلنے والے آثارِ قدیمہ کے تنازع کا فیصلہ سناتے ہوئے متنازع زمین مرکزی حکومت کے حوالے کرکے وہاں مندر کی تعمیر اور مسلمانوں کو ایودھیا میں متبادل جگہ فراہم کرنے کا حکم دیا ۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا، جسے 16 اکتوبر 2019 کو محفوظ کیا گیا تھا۔گزشتہ برس بھارتی سپریم کورٹ نے یہ جانتے بوجھتے کرتار پور راہ داری کھلنے پر فیصلہ سنایا،جہاں سکھ براردی میں جشن کا سماں تھا۔ اس دن فیصلہ سنانا بے حسی کی ایک نئی مثال رقم کرتا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ اس دن چھوڑ کر کسی اور دن فیصلہ سنا سکتی تھی ۔سپریم کورٹ نے اپنے ایک ہزار 45 صفحات پر مشتمل فیصلے میں مزید کہا: ’ملکیت کا دعویٰ ایمان اور عقیدے کی بنیاد پر نہیں بلکہ دعوؤں کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے۔ عقیدہ انفرادی معاملہ ہوتا ہے۔ ایودھیہ کو رام جنم بھومی سمجھنے والے ہندوؤں کے مذہبی جذبات ہیں اور مسلمان اس جگہ کو بابری مسجد کی جگہ کہتے ہیں۔‘سپریم کورٹ کا اس فقرے سے یہ مسلمانوں کے نام پیغام ہے کہ ان کے کوئی مذہبی جذبات نہیں۔ بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں متنازع زمین کو مرکزی حکومت کے حوالے کرکے تین سے چار مہینے میں ایک ٹرسٹ قائم کرنے کا حکم دیا تاکہ وہاں مندر قائم کیا جاسکے۔ اب یہ ٹرسٹ بھی بن چکا ہے اور بھارتی وزیر اعظم نے اگست 2020کو مندر کا سنگ بنیاد بھی رکھ دیا۔ جب کہ سنی وقف بورڈ کو ایودھیہ میں پانچ ایکڑ متبادل زمین فراہم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ مسلمانوں نے بابری مسجد میں جانا چھوڑ دیا تھا۔ ہندو ہمیشہ یہ سمجھتے رہے ہیں کہ مسجد کا اندرونی صحن رام جنم بھومی ہے۔ یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ مسلمان اندرونی احاطے میں نماز پڑھتے تھے جبکہ ہندو بیرونی صحن میں پوجا کرتے تھے۔‘فیصلے کے مطابق: ’یہ ثبوت ملا ہے کہ انگریزوں کے آنے سے پہلے ہندو رام چبوترے اور سیتا رسوئی کی پوجا کرتے تھے۔ اگرچہ ہندوؤں نے رام چبوترے پر پوجا جاری رکھی لیکن انہوں نے گربھ گڑھا کی ملکیت کا دعویٰ بھی کیا ہے۔‘بھارتی سپریم کورٹ نے نرموہی اکھاڑے کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ ’نرموہی اکھاڑے کا دعویٰ محض انتظام سے متعلق ہے۔ آرکیالوجی رپورٹ کی بنیاد پر دلائل دیئے گئے۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی دستاویزات شک و شبے سے بالاتر ہیں اور اس کی تحقیق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔‘

سنی وقف بورڈ کے وکیل ظفریاب جیلانی نے فیصلے کے بعد کہا کہ ’ہم فیصلے کا احترام کرتے ہیں لیکن ہم اس سے مطمئن نہیں ہیں اور جلد اگلے لائحہ عمل کا فیصلہ کریں گے۔‘مگر بھارت میں مسلمان آزاد نہیں کہ وہ کسی لائحہ عمل کا اعلان کر سکیں۔ دوسری جانب ہندو مہا سبھا کے وکیل ورون کمار سنہا نے اس فیصلے کو ’تاریخی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اس فیصلے سے سپریم کورٹ نے تنوع میں اتحاد کا پیغام دیا ہے۔تنوع میں اتحاد کا پیغام ہندو انتہا پسندوں کے لئے ہی ہے جب کہ مسلمانوں کے لئے مسلم کشی کا یہ واضح پیغام ہے۔ ‘فیصلے کے بعد ہندوشدت پسند وکلا نے عدالت عظمیٰ کے احاطے میں ’جے شری رام‘ کے نعرے لگائے۔ ہندو قوم پرست وزیراعظم نریندر مودی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا اور ایک ٹویٹ میں کہا: ’انصاف کے ایوانوں نے عشروں سے جاری ایک معاملے کو خوش اسلوبی سے نمٹایا ہے۔ تمام فریقین اور مختلف نقطہ نظر کے اظہار کے لیے مناسب وقت اور موقع فراہم کیا گیا۔ اس فیصلے سے عدالتی عمل پر عوام کے اعتماد میں مزید اضافہ ہوگا۔‘مگر سچ یہ ہے کہ اس فیصلے نے بھارتی عدالتی عمل کے بارے میں پہلے سے موجود خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

بھارتی عدالتیں اب ہندوؤں کے ضمیر کی آواز کے تحت فیصلے کرتی ہیں۔ یہ فیصلے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی ضمیر کشی کے لئے کئے جاتے ہیں۔اب سوال کئے جا رہے ہیں کہ ہ سپریم کورٹ نے کہاہے کہ بابری مسجد کو مسمار کیا جانا غیر قانونی تھا، تو کیاعدالت نے حکومت کو مسجد کی تباہی میں ملوث تمام بالواسطہ اور بلاواسطہ افراد کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم بھی دیا؟ یا وہ بزدل جانتے ہیں کہ تمام مجرمان اب حکومت میں شامل ہیں۔ کیا اب اسے(بابری مسجد کیس) مجرم کے بغیر جرم کے طور پر دیکھا جائے گا؟۔بھارتی پولیس نے امن وامان برقرار رکھنے کے نام پرسیکڑوں مسلمانوں کو افراد کو گرفتار کیا۔انہیں احتجاج کرنے کا حق بھی نہ دیا گیا۔ ریاست اترپردیش میں تعلیمی ادارے بند کر دئیے گئے ۔ ایودھیہ میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی۔بھارتی حکومت کو فیصلے کا پہلے سے ہی پتہ تھا۔ یہ عدالتی نہیں بلکہ حکومتی فیصلہ تھا۔ اسی لئے فیصلے سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’سپریم کورٹ کے فیصلے کو کسی کی جیت اور کسی کی ہار کے طور پر نہ لیا جائے۔‘دوسری جانب اتر پردیش کے وزیراعلیٰ ادتیہ ناتھ یوگی جو مسلمانوں کے قاتل کے طور پر جانے جاتے ہیں،نے بھی ریاست کے عوام سے اپیل کی کہ ’عدالت کا جو بھی فیصلہ ہو، اسے قبول کریں اور ہر قیمت پر ریاست میں امن بر قرار رکھیں۔‘1992 میں ہندو قوم پرستوں کی جانب سے ایودھیہ میں بابری مسجد کوشہید کیے جانے کے واقعے کے بعدبھارت میں فسادات پھوٹ پڑے تھے۔مغل بادشاہ ظہیرالدین محمد بابر کے نام سے منسوب بابری مسجد ایودھیہ میں 1528 میں ایک مقامی فوج کے کمانڈر نے بنوائی تھی۔بہت سے ہندوؤں اور ہندو مذہبی رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ بابر نے یہ مسجد ایودھیہ میں ان کے بھگوان رام کے پہلے سے قائم ایک مندر کو توڑ کر اس کی جگہ تعمیر کروائی تھی۔ہندوؤں کا موقف تھا کہ ’یہ مقام ان کے بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے اور اس دعوے کی توثیق 2003 محکمہ آثارِ قدیمہ کے سروے سے نہ ہو سکیکہ جس مقام پر 16ویں صدی میں بابری مسجد قائم کی گئی تھی وہاں ایک مندر ہوا کرتا تھا۔رواں برس مئی میں وزیراعظم نریندر مودی کے دوسری مرتبہ اقتدار میں آنے کے بعد اس معاملے نے دوبارہ سر اٹھایا، جب مودی کی قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بابری مسجد کیشہید کیے جانے کے مقام پر ایک نیا مندر تعمیر کرنے کی مہم شروع کی تھی۔یہ مقدمہ تین فریقین کے درمیان زمین کے حقوق کا تنازع ہے، جن میں مسجد کا نمائندہ ریاستی سنی وقف بورڈ، رام کے عقیدت مند جو اس مقام پر عارضی طور پر مندر کو برقرار رکھے ہوئے ہیں اور رام کی نمائندگی کرنے والے وکلا شامل ہیں۔بھارتی قوانین کے مطابق ہندو دیوتا کسی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر سکتے ہیں جبکہ ان کے خلاف بھی قانونی چارہ جوئی ہو سکتی ہے۔2002-03 میں بھارت کے محکمہ آثار قدیمہ نے اس مقام پر کھدائی کی تھی۔ اس کی 574 صفحات پر مشتمل حتمی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بابری مسجد سے پہلے اس جگہ پر پائے جانے والے واحد آثار مغربی کنارے کے ساتھ ایک بڑی دیوار اور مرکزی حصے کے اُس پار 50 چھوٹے ’ستونوں کی بنیادوں‘ پر مشتمل ہیں۔رپورٹ کے آخر میں محکمہ آثارِ قدیمہ نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ ایک ’بڑے پیمانے پر تعمیر‘ کا ثبوت ہے اور اس وجہ سے یہاں ماضی میں ممکنہ طور پر بھگوان رام کا مندر موجود ہو سکتا تھا، تاہم غیر جانب دار مبصرین نے محکمہ آثارِ قدیمہ کے نتائج پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ ’محکمہ آثارِ قدیمہ کی رپورٹ میں اصل شواہد کسی قدیم مندر کی طرف اشارہ نہیں کرتے، کیوں کہ اگر یہ مندر ہوتا تو اس میں کم از کم ایک چوکور بنیاد ضرور موجود ہوتی، لیکن موجودہ شواہد اس امکان کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ اس مقام پر ایک بڑی مسجد موجود تھی۔‘اس میں کسی چکور بنیاد کے ثبوت نہیں ملے ہیں۔ دو مبصرین نے 2010 میں ایک علمی مقالہ بھی شائع کیا جس میں کہا گیا: ’یہ ظاہر ہے کہ محکمہ آثار قدیمہشہید مسجد کے نیچے کسی مندر کی باقیات کو دریافت کرنے کے تصور کے تحت ہی کام کر رہا تھا، یہاں تک کہ اس مفروضے کے مطابق ہی ثبوتوں کو بھی منتخب کیا گیا تھا۔‘اسی سال اس معاملے پر سماعت کرنے والی الہ آباد ہائی کورٹ نے اس جگہ کو قانونی چارہ جوئی کرنے والے تینوں فریقین کے مابین تقسیم کرنے کی سفارش کی تھی- یہ اُسی فیصلے کی اپیل تھی، جس پر اب سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے۔ آزاد مبصر ین نیبتا رہے ہیں کہ عدالت کے فیصلے سے قطع نظر، اس کیس میں سائنسی شواہد پر الجھن نے بھارت میں علم آثارِ قدیمہ کی ساکھ پر سایہ ڈال دیا ہے۔دہلی میں جواہر لال یونیورسٹی کی پروفیسر سپریہ ورما نے میڈیا کو بتایاکہ ایودھیہ کے کیس کو آثارِ قدیمہ کا اہم ترین تنازع کہا جا سکتا ہے، مگر ’بھارت امریکہ اور یورپ کی طرح نہیں ہے جہاں لوگوں کو بہتر معلومات ہیں کہ آثارِ قدیمہ ہمیں کیا بتا سکتا ہے اور کیا نہیں۔‘انہوں نے کہا: ’عدالت میں ایک موقف یہ اختیار کیا جا رہا ہے کہ یہ ایک سوشل سائنس ہے اور اس میں تشریح کی گنجائش ہے، جبکہ دوسرا موقف یہ ہے کہ علم آثارِ قدیمہ ٹھوس سائنس ہے اور مکمل طور پر درست ہے۔ تو ظاہر ہے کہ یہاں مسئلہ ہے۔‘ڈاکٹر ورما نے کہا: ’یہ بہت مایوس کن ہے اور ایک طرح سے یہ اس علم پر بے اعتمادی کا باعث بھی بنتا ہے۔‘کچھ مسلمان تنظیموں نے اس کیس پر شواہد کی بنیاد پر جرح کرنا بند ہی کر دیا تھا اور ریاستی اور ملکی سطح پر بڑھتی ہوئی ہندو قوم پرستی کی وجہ سے مطالبہ کیا کہ تازہ فسادات کو روکنے کے لیے اس مسئلے پر عملی طریقہ کار اپنایا جائے۔’امن کے لیے بھارتی مسلمان‘ کے نام سے سابق سرکاری افسروں اور مسلم دانشوروں پر مشتمل ایک تنظیم نے تجویز دی تھی کہ معاملے کا حل عدالت سے باہر ہی ہو جائے جس میں متنازع جگہ تحفے کے طور پر مقدمہ لڑنے والے ہندوؤں کو دے دی جائے تاکہ وہ اس پر اپنا مندر بنا سکیں۔ تاہم اس کے بدلے میں ’پکی ضمانت‘ دی جائے کہ جو انجام 1992 میں بابری مسجد کا ہوا وہ ملک بھر میں دیگر مساجد کے ساتھ نہ ہو۔یہ مجبور مسلمانوں کی بے کسی اور بے بسی کی تصویر ہے۔

سابق بھارتی ڈپٹی چیف آف آرمی سٹاف جنرل ضمیرالدین شان نے کہا تھا: ’ہمیں سچائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر عدالت مسلمانوں کے حق میں فیصلہ دے بھی دے تو بھی کیا وہاں مسجد بنانا ممکن ہوگا؟ ملک میں بھڑکتا ماحول دیکھ کر تو لگتا ہے کہ یہ ایک خواب ہے جو پورا نہیں ہو سکتا۔‘’امن کے لیے بھارتی مسلمان‘ تنظیم عدالت میں زیرِسماعت کیس میں خود شامل نہیں تھی اور اس کی تجویز کو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھی رد کر دیا تھا، جو بھارت میں مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والی سب سے بڑی سرکاری تنظیم ہے۔بورڈ کے ترجمان نے مذکورہ تنظیم کی تجویز کو ’شکست قبول کر لینا‘ قرار دیا تھا۔تاہم اس معاملے پر دہائیوں سے جاری بحث کے بعد اب سوال یہی ہے کہ آیا بھارت میں سب لوگ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے پر عمل کرتے ہیں یا نہیں۔ظاہر ہے یہ فیصلے مسلمانوں کے خلاف صادر ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کو شاید لاوارث سمجھ لیا گیا ہے۔

جواہر لا ل یونیورسٹی دہلی اور شیو نادر یونیورسٹی کے ماہرین آثار قدیمہ پروفیسرز نے اپنی ریسرچ میں صاف طورپر کہا کہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کے کھنڈرات کے کوئی نشانات نہیں ملے ہیں۔ انتہا پسند بابری مسجد کے یوم شہادت کو شوریا دیوس( یوم فتح )کے طور پر مناتے رہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کے شر پسند سپریم کورٹ کے ماورا شہید بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے کے لئے حکومت پر صدارتی آرڈیننس جاری کرانے کی مہم چلا رہے تھے۔ہندو انتہا پسند بھارت میں دیگر مساجد کو بھی شہید کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ بی جے پی کے ساکشی مہاراج نامی رکن پارلیمنٹ اور انتہا پسند سادھو نے یہاں تک بڑھک مار دی کہ ہندو رام بھگتوں نے 17منٹوں میں بابری مسجد شہید کی ۔ اب جامع مسجد دہلی کو بھی شہید کر دیا جائے کیوں کہ اس مسجد سمیت تین ہزار مساجد کی جگہ کبھی مندر تھے، مغلوں نے انہیں مسمار کیا اور مساجد تعمیر کر لیں۔ گزشتہ برس آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا ایک وارث بابری مسجدکا وارث ہونے کادعویٰ کرتے ہوئے اسیمسجد کا متولی بنانے کا مطالبہ کر رہاتھا۔یہ شہزادہ یعقوب حبیب الدین تقی کہلاتے ہیں۔ جن کی عمر 44سال ہے اور حیدر آباد دکن میں رہتے ہیں۔یکم نومبر2017کو لکھنوء میں پریس کانفرس میں شہزادہ یعقوب نے اپنا تعلق آخری مغل حکمران کی چھٹی نسل سے جتلایا اور کہا کہ انھوں نے یو پی سنی سنٹرل وقف بورڈ کوبابری مسجد کا متولی بنانے کی درخواست دی ہے۔کیوں کہ وہ ڈی این اے سے ثابت شدہ وارث ہیں۔حیدر آباد کی سول عدالت نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ اگر درخواست پر غور نہ ہوا تو سپریم کورٹ سے رجوع کروں گا۔اس پریس کانفرنس سے ایک دن قبل وراثت کے دعویدار نے بابری مسجد مسلہ کے حل کے لئے شری روی شنکر کی ثالثی کی حمایت کی۔ روی شنکر نے یو پی کے وزیراعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ سے ملاقات کے بعد ایودھیہ کا دورہ کیا۔ وہ تمام مسائل ڈائیلاگ سے حل کرنے کی تجویز دے رہے تھے۔اس سے پہلے جسٹس منموہن سنگھ کی رپورٹ پراس وقت کے وزیراعظم منموہن سنگھعمل کئے بغیر سبکدوش ہو گئے تھے۔جب کہ یو پی شیعہ وقف بورڈ نے بھی ایک نیا فارمولہ پیش کیا کہ ایودھیا میں مسجد کے بجائے رام مندر اور لکھنؤ میں بابری مسجد تعمیر کی جائے۔ 16ویں صدی مغل بادشاہ بابر کی تعمیر کردہ بابریمسجد 6دسمبر 1992 کو شہید کر دی گئی۔تب سے مسلمان مسجد کو شہید کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ بابری مسجد ایکشن کمیٹی بھی یہی مطالبہ کر تی رہی۔ بھارت نے حاضر سروس جج جسٹس منموہن سنگھ لبراہن کمیشن تشکیل دیا۔کمیشن پر 12لاکھ ڈالر خرچ کرنے کے باوجود اس کی سفارشات پر عمل نہ کیا گیا ۔جسٹس لبراہن نے اپنی رپورٹ میں مسجد کی شہادت کا ذمہ دار’’ ہندو دہشت گردی ‘‘ کو ٹھہرایا۔بھارتی عدالتیں بھی ہندو انتہا پسندوں کے مفادات کی حفاظت کرتی ہیں۔ آج تک یہ بابری مسجد کی اراضی کی ملکیت کا تعین نہ کر سکیں۔27سال بعد بھی تاریخی مسجد کو شہید کرنے والوں کو سزا نہیں ملی۔ایل کے ایڈوانی جیل جانے کے بجائے بھارت کے نائب وزیر اعظم بنے۔ مرلی منوہر جوشی کو مرکزی وزیر بنایا گیا۔ ان کے خلاف قانون حرکت میں نہ آ سکا۔اتر پردیش میں کلیان سنگھ کی وزارت اعلیٰ بھی قائم رہی ۔

اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہندوستان میں عدالتوں اور کمیشنوں کی کیا اہمیت ہے۔ انصاف کے تقاضے کیسے پورے ہوتے ہیں۔ دنیا نے دیکھاکہ کس طرح مسجد کے تین گنبد ریاستی مشینری کی سرپرستی میں زمین بوس کر دیئے گئے۔بھارتی حکومت نے خفت مٹانے کے لئے لبراہن کمیشن بنایا۔یہ دعویٰ کیا گیا کہ کمیشن تحقیقا ت کر ے گا۔قصور واروں کوانصاف کے کٹہرے میں لائے گا۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں سابق وزیر اعظم اے بی واجپائی، ایل کے ایڈوانی ، کلیان سنگھ، مری منوہر جوشی سمیت 68افرا کو ملزم نامزد کیا ۔کمیشن مسجد کی شہادت کے دس دن بعد تشکیل دیا گیا۔ جس کی مدت تین ماہ تھی۔ لیکن یک نفری کمیشن کو 50بار توسیع دی گئی۔ 17سال بعد2009کوجسٹس منموہن سنگھ نے اپنی رپورٹ وزیراعظم منموہن سنگھ کو پیش کی ۔ خفیہ ایجنسی آئی بی کے اس وقت کے جوائنٹ ڈائریکٹر ملوئے کرشنا دھر نے اپنی کتاب Open Secretsیا ’’کھلے راز‘‘ میں لکھا ہے کہ انہیں ہدایت ملی تھی کہ آر ایس ایس ، بی جے پی اور وی ایچ پی کے ایک اجلاس کی کوریج کا بندوبست کیا جائے۔اس اجلاس کے ٹیپ اس نے خود تیار کئے۔ اجلاس میں بابری مسجد کی شہادت کا منصوبہ بنایا گیا۔ جن سنگھیوں کی یہ میٹنگ مسجد کی شہادت سے دس ماہ پہلے ہوئی ۔یہ کانگریس اور ہندو انتہا پسندوں کا ایک مشترکہ منصوبہ تھا۔بھارتی حکومت نے ابھی تک بابری مسجد کی شہادت کی ذمہ داری قبول کرنے، جشن منانے اور اس کا فخر سے کریڈٹ لینے والوں کیخلاف کارروائی نہیں کی۔کیوں کہ ہندوستان میں انصاف کے پہیے جام ہیں۔ اقلیتوں کو خاص طور پر بھارت کے سیکولر ازم، جمہوریت اور جوڈیشل سسٹم پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔ کشمیری نوجوان افضل گورو کو بھارتی عدلیہ نے یک طرفہ کارروائی کرتے ہوئے قتل کرا دیا۔یہ عدالتی قتل بھارت میں انصاف کا قتل تھا۔افضل گورو کا تختہ دار پر لٹکایا جانابھارتی انصاف کی جانبداری اور انتقام کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ہندوستان کے مسلمانوں کے اس حوالے سے بعض مطالبات انتہائی توجہ طلب تھے۔جو اب سوال ہی رہیں گے۔

1۔ لبراہن کمیشن کی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کر کے اس پر بحث کی جائے۔اس رپورٹ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ عمل کرنا تو دور کی بات ہو گی۔
2۔ عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کو نمٹایا جائے۔لیکن مقدمات سالہا سال تک زیر التوا رکھے جاتے ہیں۔جوڈیشری میں مسلمانوں کو جج کے طور پر شال کرنے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔
3۔ سپریم کورٹ، آلہ آباد ہائی کورٹ کے سپیشل بنچ کے احکام کو زیر غور لایا جائے۔
4۔حکومت بابری مسجد کی شہادت کے بعد شہید کئے گئے مسلمانوں کے لواحقین، معذوروں کو معاوضے دے ۔ نذر آتش کی گئی سیکڑوں تعمیرات کے بھی معاوضے دیئے جائیں۔
5۔ ایودھیا میں شہید مساجد اور قبرستانوں کی باؤنڈری دیوار یں تعمیر کرنے کی اجازت دی جائے۔
6۔ مساجد کے تحفظ کے لئے حکومت مذہبی مقامات کی سکیورٹی سے متعلق1991کے قانون کو نافذکرے۔
بابری مسجد کی شہادت کے27سال بعد مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کے فیصلے کے بعد بھارت میں تاج محل سمیت مسلم آثار قدیمہ اوردرجنوں مسجدوں کو شہید کرنے کے خدشات بڑھ چکے ہیں۔ لا تعدادمساجد شہید اور مدارس بند کر دیئے گئے ہیں۔ یہ بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کا تعصب ہے جس کا سلسلہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دراز ہوتا جا رہا ہے۔ بھارت میں اسلامی ثقافتی ورثہ کو لا حق خطرات ہیں ۔ کیوں کہ بھارتی سیاست اور حکمرانی اب مسلم اور پاکستان دشمنی پر قائم ہو چکی ہے۔ بی جے پی اور جن سنگھیوں کے عروج سے کانگریس اور نام نہاد سکیولر ازم کی دعویدار پارٹیاں اپنے نئے اہداف مقررکر چکی ہیں۔ اس وجہ سے بھارتی کانگریس پارٹی کے نئے ولی عہد راہول گاندھی بھارت میں مسلمانوں کے کردار کو مشکوک قرار دے رہے ہیں۔ مسلمانوں کو منظم ہونے سے روکا جا رہا ہے۔ ان کی تنظیم سازی اور اتحاد کی کوششوں کو بھارتی ادارے سبوتاژ کرتے ہیں۔

بھارتی مسلمان ہر لحاظ سے امتیاز کا نشانہ بن رہے ہیں۔ آرمڈ فورسز میں ان کی شمولیت مشکوک سمجھی جاتی ہے۔ اس وقت سوا ارب سے زیادہ آبادی والے ملک کی فوج میں صرف تین فی صد مسلمان شامل ہیں۔ 19کروڑ مسلمان آبادی میں سے صرف 25ہزار مسلمانوں کو فوج میں بھرتی کیا گیا۔ اگر مقبوضہ جموں و کشمیر کے فوجی فورس جسے جیکلائی (JAKLI) میں 50فی صد مسلم فوج کو شامل نہ کیا جائے تو یہ اعداد و شمار اور بھی کم ہیں۔ یہی حال بیورو کریسی کا بھی ہے۔ جس میں مسلمان برائے نام ہی شامل ہیں۔ یہ غیر اعلانیہ سنسر شپ ہے۔ جو مسلمانوں کے خلاف نافذ العمل ہے۔اب اعلانیہ سنسر شپ لگائی جا رہی ہے۔ ا متیاز کا یہ عالم بھی ہے پارٹیوں اور محفلوں کے بورڈ آویزان کر دیئے جاتے ہیں،’’ یہاں کتوں اور مسلمانوں کا داخلہ ممنوع ہے‘‘۔ بھارت میں جو لوگ غیر جانبداری پر یقین رکھتے ہیں وہ یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ بھارتی مسلمان ہندو جنونیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیئے گئے ہیں۔پاکستان کراچی ایگریمنٹ کے تحت بھارتی مسلمانوں پر ریاستی جبر کے خلاف آواز بلندکرنے کا پابند ہے۔ یہ قیام پاکستان، دفاع اور استحکام پاکستان کی نفی ہے کہ بھارتی مسلمانوں کو ہندو دہشت گردوں کی حکومت اور عدلیہ سمیت حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔بھارتی مسلمانوں کے خلاف ظلم و جبر، حکومتی اور عدالتی جارحیت، نسل کشی پر خاموش تماشائی کا کردار اداکرنے کے بجائے پاکستان مسلم امہ کو بیدار کرنے میں کردار ادا کرے۔مذمتی بیانات کے ساتھ عملی اقدامات کی طرف بھی توجہ دی جائے۔


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 575 Articles with 220728 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
11 Dec, 2020 Views: 121

Comments

آپ کی رائے