سولہ دسمبر

(Amir jan haqqani, Gilgit)

یہ اکتوبر 2017 کی بات ہے. ICRC اور شریعہ اکیڈمی کے اشتراک سے مارگلہ ہوٹل اسلام آباد میں 17 سے 20 اکتوبر تک چار روزہ ٹریننگ بعنوان " اسلام اینڈ ہومینیٹرین لاء" منعقد کیا گیا تھا. پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے اہل علم و قلم اور پروفیسروں کو مدعو کیا گیا تھا. گلگت بلتستان سے شرکت کامجھے موقع ملا.

اس چار روزہ بین الملکی ٹریننگ میں بنگلہ دیش ڈھاکہ کی ایک یونیورسٹی سے ایک بوڑھا عالم دین پروفیسر بھی مدعو تھا.

وہ پروگرام میں کئی بار رویا. فرط محبت میں ہر ایک سے گلے لگ رہا تھا. بار بار پاکستان کے ٹوٹنے پر افسردہ ہورہا تھا. ایک موقع پر بلک بلک کر رویا بھی.

اس کے جذبات انتہائی خالص تھے. پاک فوج کی طرف سے بنگلہ عوام پر کیے گئے مظالم پر افسردہ بہت تھا مگر پاکستان اور پاکستانیوں سے محبت کا جذبہ اس کے انگ انگ میں رچا بسا ہوا تھا. وہ پاکستان میں رہ چکا تھا اس لیے پاکستان کو بھولنا اس کے لیے مشکل تھا.

ایک موقع پر میں نے ان سے اپنا تعارف کروایا اور گلگت بلتستان کا بھی اور جی بی کی محرومیوں کا بھی. بڑے غور سے میری بات سنی اور کہا بیٹا سب کچھ ہوتا رہے گا، ریاست ظالم نہیں ہوتی، ریاست کے نام پر کچھ ادارے یا کارندے ظلم ڈھاتے ہیں مگر یاد رکھنا!

اسی پاکستان کے ساتھ آپ کی عزت و وقار اور آپ کی ترقی و تعمیر مضمر ہے. بس اس چیز کا خیال رکھنا. کہیں گلگت بلتستان کی تاریخ میں کوئی 16 دسمبر نہ آئے.

میں پروفیسر بابا جی کی باتیں، منہ میں انگلیاں دابے، سنتا جارہا تھا اور بابا جی! بس اپنی محبتوں اور ہماری نفرتوں کا ذکر کیے جارہا تھا. اس ذکر میں بھی غلبہ خلوص اور محبت کا تھا. دعا ہے کہ GB کی تاریخ میں بھی کھبی سولہ دسمبر نہ آئے اور نہ ہی ایسے اسباب پیدا ہوں جو بنگلہ دیش بننے کے ہوئے تھے.

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amir jan haqqani

Read More Articles by Amir jan haqqani: 335 Articles with 188640 views »
Amir jan Haqqani, Lecturer Degree College Gilgit, columnist Daily k,2 and pamirtime, Daily Salam, Daily bang-sahar, Daily Mahasib.

EDITOR: Monthly
.. View More
16 Dec, 2020 Views: 218

Comments

آپ کی رائے