وبا کے باوجود سی پیک کی شاندار کامیابیاں

(Zubair Bashir, Beijing)
سال2020 میں کووڈ-۱۹ کی وبا کے پاکستان پر بہت گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں، لیکن چین اور پاکستان کے مختلف اداروں نے وبا پر کنٹرول کی ضمانت کو یقینی بناتے ہوئے تمام پیداواری اور تعمیراتی منصوبوں پر کام کو جاری رکھا ہواہے۔ اسی عزم کی وجہ سے بنیادی تنصیبات اور لوگوں کی زندگی سے متعلق منصوبوں کی ایک بڑی تعداد وقت پر مکمل ہوگئی ہے، صنعتوں اور توانائی کے متعدد منصوبوں کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔وبا کے دوران چین- پاک اقتصادی راہداری کی کامیابیوں کو پاکستان کے مختلف حلقوں نے سراہا ہے۔
دسمبر 2020 میں ، پاکستان میں قراقرم ہائی وے کی تعمیر نو اور توسیعی منصوبے کا دوسرا مرحلہ (حویلیاں تا تھاکوٹ سیکشن) تکمیل کے بعد چائنا روڈ اینڈ برج انجینئرنگ کمپنی لمیٹڈ سے سرکاری طور پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف پاکستان کو منتقل کردیا گیا۔ تین سالہ تعمیراتی کام کے آخری سال، اس منصوبے کو کووڈ-۱۹ کی وبا کا سامنا کرنا پڑا ، لیکن منصوبے کے تمام ملازمین نے وبائی امراض کی وجہ سے پیدا ہونے والی بڑی مشکلات پر قابو پایا اور اعلیٰ معیار کے ساتھ تمام تعمیراتی کام مکمل کیا۔

آج کے دور میں کہ جب ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ہر طرف افراتفری پھیلی ہے ، کہیں اندرونی افراتفری یا سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے لوگ جان و مال کی سلامتی اور مستقبل کے بارے میں بے یقینی کا شکار ہیں تو کہیں بیرونی ممالک کی جانب سے مسلط کی گئی جنگ نے شہروں کو کھنڈروں میں بدل کر رکھ دیا ہے اور لوگ بڑی تعداد میں اپنے علاقوں سے دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت پر مجبور ہو گئے ہیں ۔ یہ ایسا انسانی المیہ ہے جس نے ہر طبقے ہر خطے کو متاثر کیا ہے نتیجتاً اگر ایک طرف بے وطنی ہے تو دوسری طرف غربت کا عفریت منہ کھولے کھڑا ہے اور اس سب کا اثر عالمی طور پر بڑھتی ہوئی غربت کی صورت میں سامنے آرہا ہے ۔

افراتفری کے اس دور میں " اتحاد " اور " تعاون" سے " منظم انداز میں آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ مستقبل فراہم کرنا اور ان کے لیے زندگی کو آسان بنانے کا تعمیری عمل درکار ے ۔ اس فکر اور نظریئے کے ساتھ چین نےدی بیلٹ اینڈ روڈ کا خیال پیش کیا جس کا مقصد صرف اور صرف تعمیر ہے ، مستقبل کی تعمیر ایک محفوظ اور خوشحال دنیا کی تعمیر ۔

اس منصوبے کا ایک اہم حصہ سی پیک جو چین اور برادر دوست ملک پاکستان کے درمیان ، دوستی اور تعاون کی ایک مثال بھی ہے یہ خود پاکستان اور اس خطے کے لیے ایک " گیم چینجر " بھی ہے ۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ منصوبہ صرف صنعتوں اور کارخانوں کی تعمیر تک محدود ہے تو یہ زیادتی ہو گی ۔ یہ ایک کثیر الجہت منصوبہ ہے اور اس کا مقصد " تعمیر " ہے ۔مستقبل جن نوجوانوں اور بچوں کے ہاتھ میں ہے کیسے ممکن ہے کہ اس منصوبے میں ان کو نظر انداز کیا جائے ۔ خاص طور پر تعلیم کے شعبے میں اس منصوبے کو خاص اہمیت دی گئی ہے ۔دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ سال تعاون کا معاہدہ بھی طے ہوا جس کے تحت چین پاکستان میں ای لرننگ کی سہولت فراہم کرے گا اور اسمارٹ اسکولوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ سی پیک کا سب سے اہم حصہ گوادر جو اپنے مخصوص جغرافیائی محلِ وقوع کے باعث عالمی توجہ کا مرکز ہے ، کچھ سال پہلے تک ایک پسماندہ علاقہ تھا۔ اس وقت اگر ہم صرف گوادر ہی کی طرف دیکھِیں تو تعلیم کا وہ سلسلہ جو دور دراز علاقوں کے لیے محض خواب تھا چین کے اشتراک سے وہ خواب شرمندہِ تعبیر ہو رہا ہے ۔ سی پیک کے تحت تعلیمی اور طبی منصوبوں کے ذریعے مقامی لوگوں کی معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ پاک-چائینہ فرینڈشپ پرائمری سکول فقیر کالونی گوادر اور پاک چین ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ (پی سی ٹی وی آئی) گوادر قابلِ ذکر ہیں ۔ چین – پاک گوادرفقیر پرائمری اسکول کو ۲۰۲۰ میں مڈل اسکول کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ یہ اسکول چائنا فاونڈیشن فار پیس اینڈ ڈیویلپمنٹ کے تعاون سے اب تک ۴۰۰ طلبہ کو جدید اور معیاری تعلیم فراہم کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ پاک چین ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت پہلا پاکستانی پیشہ ورانہ اسکول ہے جو بندرگاہ کے انتظام و انصرام اور ترسیلی امور کے بارے میں مکمل تربیت دینے کے ساتھ ساتھ ضمنی طور پر دیگر تکنیکی امور میں مہارت حاصل کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے ۔اس منصوبے کےمکمل ہونے کے بعد ، گوادر اور پورے بلوچستان کے علاقوں میں تعلیم یافتہ ، ہنرمند مزدور قوت پیدا کریں گے ۔

تعلیم تمام صنعتوں کا پہیہ ہے اور ہنر مند افراد ترقی کا انجن ہیں ۔ سی پیک اسی نقطے کو ذہن میں رکھ کر اگر ایک طرف کاروبار ک اور توانائی کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے تو دوسری طرف اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے ذریعے صحت مند ذہن اور جسم پر بھی بھرپور توجہ دے رہا ہے کہ جو اس ترقی کی رفتار کا اصل ایندھن ہیں ۔

پاکستان میں چینی سفیر نونگ رونگ نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں ، چین -پاک اقتصادی راہداری سے متعلق تعاون نے نتیجہ خیز کامیابیاں حاصل کی ہیں اور پاکستان کی قومی تعمیرات میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ پچھلے ایک سال میں کووڈ-۱۹ کی وبا کے خصوصی چیلنجوں کے باوجود ، چین- پاک اقتصادی راہداری سے متعلق منصوبوں نے مشکلات پر قابو پا کرمتعدد کامیابیاں حاصل کی ہیں ، جس سے وبا سے لڑنے ، معیشت کو مستحکم کرنے اور لوگوں کی زندگی کو آسان بنانے میں ایک اہم معاون کردار ادا کیا گیا ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے وبا کے دوران چین- پاک اقتصادی راہداری کی کامیابیوں کو بے حد سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین- پاک اقتصادی راہداری کی مدد سے پاکستان میں مواصلات اور توانائی کے شعبوں میں بہت بہتری آئی ہے۔ مستقبل میں سی پیک سے پاکستان کی صنعتی ، زرعی ، اور معاشرتی ترقی کو مزید فروغ ملے گا۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zubair Bashir

Read More Articles by Zubair Bashir: 37 Articles with 12316 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Jan, 2021 Views: 173

Comments

آپ کی رائے