سانحہ ہزارہ اور حکومتی بے حسی

 محمد ریاض
ایک ہفتہ ہونے کو ہے مچھ، کوئٹہ کے اندر ہزارہ برادری کے کم و بیش دس کے قریب افراد کو وحشت ناک طریقہ سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، اور ایک ہفتہ ہی ہوچکا ہے کہ ہزارہ برادری کے افراد اپنے پیاروں کو لحد میں اتارنے کی بجائے حکومتی بے حسی کے خلاف پرامن احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے ہوئے منفی درجہ حرارت میں دھرنا دیے بیٹھے ہوئے ہیں وہ کچھ نہیں چاہتے، سوائے اسکے کہ سالوں سے ہونے والے ظلم پر ریاست کا سب سے بڑا یعنی وزیراعظم پاکستان انکے پاس آئے اور انکی دادرسی کرے۔ ہزارہ برادری کے خلاف ہونے والا یہ ظلم پہلی مرتبہ نہیں ہوا بلکہ اسکی تاریخ بہت پرانی ھے۔

حکومتی بے حسی جن کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا، آج تو حد ہی ہوگئی کہ جب ریاست مدینہ ثانی کے خلیفہ جناب عمران خان صاحب نے کوئٹہ جانے کی یہ شرط رکھ دی کہ آج لاشوں کو دفن کردیں اور فورا کوئٹہ چلے جائیں گے۔ دوسرے الفاظ میں جب تک لاشوں کو دفن نہیں کیا جائے گا وہ کوئٹہ نہیں جائیں گے۔ اور یہ بھی کافی نہ ھوا تو مظلوموں کے زخموں پر مزید نمک چھڑک دیا جب انہوں نے دہشت گردی کا نشانہ بننے والے ورثا جو دھرنے دئیے بیٹھے ہیں انکو اپنے عجیب و غریب بیانات کی وجہ blackmailers قرار دے دیا، وزیراعظم پاکستان کے ان الفاظ کی وزیر مشیر جتنی چاہیں وضاحتیں دیں یہ سب ناقابل قبول ہونگی۔ راقم سمیت بہت سے پاکستانی یہ سمجھتے تھے کہ شائد سیکورٹی معاملات کی بناء پر وزیراعظم کا کوئٹہ وزٹ پروگرام فائنل نہیں ھو رہا مگر وزیراعظم کے بلیک میلنگ والے بیان پر سب کچھ کھل کر سامنے آگیا۔

اس میں کچھ شک نہیں کہ وزیراعظم کوئٹہ جائیں یا نہ جائیں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے کبھی بھی اس دارفانی میں واپس نہیں آسکتے اور وزیراعظم پاکستان کوئٹہ جائیں یا نہ جائیں اپنے الفاظ پر ہی کنٹرول کرلیں تو کیا ہی بہتر ہوتا۔

سانحہ ہزارہ پر جہاں پر پاکستان میں بسنے والے ہر رنگ، مذہب، مسلک، سیاسی، سماجی، مکتبہ فکر کے افراد نے پرزور مذمت کی ھے وہی پر اس سانحہ کے زمہ دار دہشت گردوں کے خلاف اٹھنے والی نفرت، تنقید کا رخ اس وقت وزیراعظم پاکستان عمران خان کی طرف ھوچکا ھے جو کہ بہت ہی زیادہ تکلیف دہ امر ھے۔

میرے سمیت بہت سے پاکستانی حکمران عمران خان کے اس قدر تکلیف دہ رویہ کو دیکھ کر حیران و پریشان ہیں کیونکہ عمران خان تو ایسے تو نہ تھے ہم جس عمران خان کو جانتے تھے وہ تو ظالموں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوا کرتے تھے، زیادہ دور کی بات نہیں پچھلے دور حکومت میں جب ہزارہ برادری دہشت گردی کا شکار ہوئی، اس وقت عمران خان سب سے پہلے ہزارہ برادری کے احتجاج میں شریک ہوئے اور اس وقت کے صدر پاکستان پر تنقید اور حکومت بلوچستان کو مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
وزیراعظم عمران خان کے رویہ نے ہزارہ دہشت گردی کے شکار متاثرین کے غم و غصہ میں اصافہ کردیا ھے۔

بہت سے لوگ وزیراعظم کے آج کے بلیک میلنگ والے بیان کا یہ مطلب بھی لے رہے ہیں کہ شاید مسئلہ وزیراعظم کی سیکیورٹی کا نہیں بلکہ وزرات عظمی کی کرسی پر براجمان شخص کی Ego کا ھے، اب لوگ طنزیہ باتیں کرتے ہوئے کہ رہے ہیں کہ ہزارہ والے بڑے ظالم لوگ ہیں جو وزیراعظم کو بلیک میل کر رہے ہیں

ایک طرف پوری پاکستانی عوام کی نظریں جہاں حکومت پاکستان کی ہزارہ دہشت گردی کے متاثرین کی دادرسی کی منتظر تھیں تو دوسری طرف ریاست مدینہ ثانی کے نام لیوا خلیفہ عمران خان کی مصروفیات جیسا کہ YouTubers اور ارطغرل ڈرامہ کی ٹیم کے ساتھ ملاقاتوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔

تحریک انصاف کے ساتھ لگاؤ رکھنے والے نوجوان بجائے اپنی حکمران پارٹی کی بے حسی پر تنقید کریں وہ سوشل میڈیا پر فوراً ماڈل ٹاؤن سانحہ کا ذکر شروع کرکے تحریک انصاف حکومت کی بے حسی کا دفاع کرنے کی ناکام کوشش شروع کر دیتے ہیں۔ انصافی دوستوں اگر سانحہ ہزارہ اور کپتان کی بلیک میلنگ والی بات کی مذمت نہیں کرسکتے تو چلو اپنی حکومت سے آج سانحہ ماڈل ٹاؤن کے زمہ داروں کو سزا دلوانے کی اپیل ہی کرکے دیکھا دیں، ماڈل ٹاؤن سانحہ پر سب سے زیادہ موجودہ وزیراعظم عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے لیڈر طاہر القادری نے مظلومین کے لئے آواز اٹھائی تھی، مگر آج دو سال سے زیادہ اپنی حکومت میں سانحہ ماڈل ٹاون کے لئے اپنی آوازوں کو خاموش کیا ھوا ھے، ایسا کیوں ھے؟
کچھ لوگ تو توہم پرستی والی باتوں کا بھی اظہار کرتے ہیں کیونکہ پنجاب میں توہم پرستی کی وجہ سے اکثر لوگ فوتگی والے گھر نہیں جاتے جسکو ''سودق'' کا نام دیا جاتا ھے، کہیں وزیراعظم صاحب کی کوئٹہ نہ جانے کی وجہ بھی ''سودق'' تو نہیں؟؟

سب سے اہم نوٹ: ریاست میں بسنے والے تمام افراد کی حفاظت ریاست کی زمہ داری ھے، جس سے کوئی بھی ریاست نظریں نہیں چرا سکتی
 

M.H BABAR
About the Author: M.H BABAR Read More Articles by M.H BABAR: 83 Articles with 64483 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.