سوکھی چائے

(Iftikhar Chohdury, )

ہمارے ہاں اگر کوئی خالی چائے لا کر دے اور اس کے ساتھ لوازمات نہ ہوں تو کہا جاتا ہے جناب سوکھی چائے ۔میری بھی دلی خواہش ہے کہ مولانا کام ایسا کریں کہ انہیں چائے کے ساتھ ہنڈی کی سوغات گھراٹو جلیبی ملے -

لوگ حیران ہیں کہ پاکستان کی گیارہ پارٹیوں کے اتحاد کے سربراہ جمعیت العلمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ سر عام پاکستان کی فوج کو للکار رہے ہیں ۔کیا کسی اور ملک کے سیاست دان یہ کہتے ہیں کہ ہم فوج کے ہیڈ کوارٹر کی جانب مارچ کریں گے ۔یقین کیجئے یہ سن کر عام پاکستانی کو بھی ان کی ذہنی کیفیت پر شک ہونا شروع ہو گیا ہے ۔پنجابی میں کہتے ہیں کہ ڈگا کھوتے توں تے غصہ کمیار تے۔

مولانا کی پارٹی ماضی کی نسبت اچھی نمایندگی کے ساتھ اسمبلی میں موجود ہے ان کے بھائی بیٹے اور چند عزیز بھی منتحب ہو کر پاکستان کے اسمبلیوں میں موجود ہیں

ایک مولانا اسمبلی میں نہیں ہیں اور اگر وہ چاہیں تو سینیٹ میں ا کر وہ کمی بھی پوری ہو سکتی ہے تو پھر کون سی ایسی مصیبت آن پڑی ہے کہ وہ آگ اگلتے رہتے ہیں ہر پل غصہ رعونت غصہ ۔کیا ذیابیطس اور بلند فشار خون تو نہیں بگڑا ہوا ۔

وزیر اعظم عمران خان بڑھے بزلہ سنج ہیں وہ جلتی آگ پر تیل ڈال کر انہیں مزید غصہ دلاتے ہیں کہ یہ پہلی اسمبلی یے جو ڈیزل کے بغیر چل رہی ہے ۔بات تو مزاح میں کی گئی ہے لیکن بات تو سچی ہے گزشتہ دو عشروں سے تو ہم مولانا فضل الرحمن کو قومی اسمبلی میں دیکھ رہے ہیں دور چاہے آصف علی زرداری کا ہو نواز شریف ،بے نظیر اور مشرف کا مولانا بذات خود اسمبلی میں موجود ہوتے ہیں ۔

مشرف دور سے پہلے وہ بے نظیر کی حکومت میں امور خارجہ کی کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے ہیں ۔کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ جو وفاقی وزیر کے برابر ہوتی ہے انکے لئے مخصوص رہی ہے بے نظیر کے بارے میں عورت کے خلاف کارڈ کو استعمال کرتے رہے جب پوچھا گیا تو فرمانے لگے آئینی سربراہ تو غلام اسحق ہیں ۔یعنی فتویٰ بائیں جیب میں رکھتے ہیں حالانکہ کہلاتے کبیر مولانا ہیں لیکن آج تک ایک کتاب تک نہیں لکھی
اب کیا کریں کہ ڈیرہ اسمعیل کی سیٹ سے عمران خان کے ایک دبنگ ساتھی نے انہیں چاروں شانے چت کر دیا ہے
علی امین گنڈا پور ان کی کرپشن سے گاہے بگاہے پردہ اٹھاتے رہتے ہیں اور انہیں چیلینج بھی کرتے رہتے ہیں ۔
یاد رہے یہ وہ سیٹ ہے جس پر ان کے والد محترم ذوالفقار علی بھٹو کو مولانا کے والد مفتی محمود نے شکست فاش دی تھی اور یہ ان دنوں کی بات ہے جب پیپلز پارٹی کا سیلاب آیا ہوا تھا مفتی محمود نے اس سیٹ سے پاکستان کے ایک نامور شخص ذوالفقار علی بھٹو کو ہرایا تھا
مولانا فضل الرحمن کی اس شکست کو عبرت ناک قرار دیا گیا وہاں کے لوگوں نے علی آمین گنڈہ پور کو کامیاب کرایا جو آج کل ماور کشمیر کے وزیر ہیں اور فاتح گلگت بلتستان بھی ۔یہ صدمہ گہرہ صدمہ تھا جسے مزید وزارت کشمیر دے کر ایک گھائو کی شکل بنا دیا گیا ہے
بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ مولانا فضل ایک بار پھر اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے اور عمران خان سے دوستی بنا لیں گے لیکن کپتان نے انہیں اقتدار سے دور رکھا
کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ اگر عمران خان ق لیگ سے ہاتھ ملا سکتے ہیں ایم کیو ایم سے اقتتدارمیں شراکت داری کر سکتے ہیں تو جمعیت العلمائے اسلام سے کیوں نہیں
وہ وجہ اب پاکستان کے لوگوں کی سمجھ میں ا گئی یے کہ عمران خان نے ہر اس پارٹی اور شخص سے ہاتھ ملایا جو پاکستان کا حامی پاک افواج کا ساتھی اور دو قومی نظریے کا پرچارک ہے
میرے پڑھنے والے جانتے ہیں کہ ق لیگ وفاقی سوچ کی حامل پارٹی یے اور الطاف حسین کے بغیر ایم کیو ایم قابل قبول ہے ۔ایک جمعیت العلمائے اسلام ایسی پارٹی یے جس نے پاکستان کے قیام کے دوران کانگریسی سوچ کا ساتھ دیا گرچہ سارے لوگ ان کی اس سوچ کے ساتھی نہ تھے ان میں مولانا عثمانی جیسی شخصیات بھی تھیں جنہوں نے قائد اعظم کا جنازہ پڑھایا لیکن جن کا زیادہ اثر تھا وہ قائد اعظم کی مخالف صفوں میں کھڑے رہے اور ان کی ذات ہر بے ہودہ الزامات لگاتے رہے انہیں قاید اعظم کی بجائے کافر اعظم کہا گیا ۔یہ لوگ گاندھی اور جواہر لعل نہرو کے دوست بنے نہ صرف یہ پاکستان کے صوبہ سرحد سے غفار خان اور عبدالصمد اچکزئی بھی انہی کی آواز میں آواز ملاتے رہے ۔یہ مسئلہ نیا نہیں یہ مرض بہت پرانا ہے
ہزارہ نہ ہوتا تو کے پی کے پختونستان بن گیا ہوتا اور بلوچستان کے پشتون مل کر افغانستان کا حصہ ہوتے
اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ جلال بابا اور ہزارہ کے غیور لوگوں نے قائد اعظم کا بھر پور ساتھ دیا
مفتی محمود کا وہ تاریخی بیان آپ کو یاد ہو گا جب انہوں نے پاکستان کی اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر کہا تھا کہ اللہ کا شکر ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے جرم میں شامل نہیں ہوئے
یعنی دس لاکھ سے زائد قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا یہ ملک جہاں آج کروڑوں لوگ آرام سے زندگی گزار رہے ہیں یہ ایک گناہ کے نتیجے میں بنا تھا ۔سلام ان گنہگاروں کو جنہوں نے ہمیں یہ خطہ ء زمین عطا کیا جہاں ہم تجھے ڈکار مارتے ہیں ۔یہ لوگ تو بارڈر کے اس پار جائیں انہیں حکمران تھیلیاں پیش کرتے ہیں
آج بھی دیو بند سے پاکستان دشمنی کی آوازیں بلند ہوتی ہیں ۔کیا ہم آج جل۔نہی۔ دیکھ رہے کہ مفتی کفایت اللہ جیسے لوگ پاکستان کے نجی چینلوں پر آگ اگلتے رہتے ہیں ۔میرے دوستو ہمیں نئی نسل کو بتانا ہے کہ یہ لوگ پاکستان کے ویری ہیں یہ عمران خان کے مخالف نہیں یہ پاکستان کے مخالف ہیں کسی کو افغانستان سے پیار ہے کوئی انڈیا کو اپنا مربی مانتا ہے
حد ہو گئی جناب جب یہ اے پی ایمڈیئے لوگ گجرانوالہ شہر میں کھڑے ہو کر کہتے ہیں اردو کو قومی زبان نہیں ہونا چاہئے جی وہی گجرانوالہ جہاں کے لوگوں نے تحریک پاکستان میں شاندار خدمات انجام دیں ۔انیی شہہ دے رہے تھے خرم دستگیر خان جو معروف مسلم لیگی دستگیر خان کے فرزند ارجمند ہیں ۔افسوس یہ لوگ شہر گجرانوالہ کو طائف بنا گئے لیکن کسی نے ان کو روکا نہیں یہ شہر وہ شیر یے جہاں مفتی محمود کے استقبال کے استقبال کے لئے لوگ شیرانوالہ باغ میں بیس گھنٹے انتظار کرتے رہے ۔اے ہی ڈی ایم کے کیڈر محمود خان اچکزئی نے اردو ہر وار کیا انہیں شاید معلوم نہیں کہ اردو اب ہماری رابطے کی زبان بن چکی ہے
اردو بہتر سال کے سفر کے بعد اب صدیوں کا سفر طے کر چکی ہے بلکہ دو سو سالوں کا سفر کہہ لیں جس نے اقبال فیض جیسے شاعر دے دیئے اب وہ دھرتی کسی اچکزئی کی باتوں میں نہیں آئے گی
ارود کے خلاف بولتے ہوئے اس شخص کو
روکنا کیا بعد میں مذمت نہیں کی گئی یہ حال لاہور میں ہوا اچکزئی کے فرزند نے سر عام پنجابیوں کو گالیاں دیں یہ ان دنوں کی بات ہے جب فیصل آباد میں پشتون بلوچی پنجابیوں کے درمیان پھول وصول کر رہا تھا محبت سمیٹ رہا تھا یہ منظر میں نے بھی دیکھا جب برادر ظفر سندھو کے بھتیجے کی شادی میں قاسم خان سوری شریک تھے
فضل الرحمن عمر کے اس حصے میں ہیں جب انسان کو اللہ سے ڈر کر سچ کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے ۔
لوگ پوچھتے ہیں کہ اے ہی ڈی ایم کی بربادی کی وجہ کیا ہے
مختصر سا جواب کہ ملک جس کی وجہ سے بنا تھا اے ہی ڈی ایم اس کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے
لوگ ہنڈی کی جانب بڑھنے کے اس عمل کو شدید نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل ندیم بابر کے اس بیان کو سراہتے ہیں جس میں انہوں نے جی ایچ کیو کی جانب بڑھنے والوں کو چائے پانی پلانے کی بات کی ہے
مفتی صاحب کے فرزند جو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ چائے 27 فروری کو ایک بڑی مونچھوں والے کو پلائی گئی تھی ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ تو ملک دشمن تھا اور بارڈر کے اس پار سے آیا تھا اور یہ تو پاکستان کے اندر سے ایک ایسا شخص آنے کی بات کر رہا ہے جو اپنے آپ کو گیارہ پارٹیوں کا سربراہ کہتا ہے
ان کے اس بیان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔یہ فوج کس کی فوج ہے ؟کیا یہ فوج یوگنڈہ بھارت کی فوج ہے جس ہر آپ چڑھ دوڑنے کی بات کر رہے ہیں
میں پاکستان میں گزشتہ پچاس سالوں میں چلنے والی تحریکوں کا عینی شاہد ہوں
کسی بھی تحریک میں اس قسم کی سوچ کا مظاہرہ نہیں کیا گیا ۔میں حیران ہوں اگرتلہ سازش کیس اور معمولی بات ہر شاعری کرنے والے حبیب جالب فیض احمد فیض کو تو دھر لیا جاتا ہے اور مولانا فضل الرحمن کو کھلی چھٹی دی جا رہی ہے ۔قوم مطالبہ کر رہی ہے کہ ان کے اس بیان کو بغاوت کے زمرے میں لیا جائے قومی لیڈر ایسے نہیں ہوتے
مجھے یہ بتائیں کہ جی ایچ کیو کی جانب دھاوہ بولنا دھرنہ دینا یہ کن کے مقاصد ہوتا کرنے کی بات ہو رہی ہے
کیا یہ بات بھارت نہیں کر رہا کیا وہ ملک دشمن جو بلوچستان میں ہمارے بیٹوں کو شہید کر رہے ہیں یہ ان کی سوچ نہیں ہے
اگلے روز 502 گجر گھر میں نوید افتخار نے ایک ایسی عظیم خاتون جو بلایا جس کے گھر والے کی پولیس میں ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے شہادت ہوئی تھی ۔یہ بات نوے کی دہائی کے آخری سالوں جی یے وہ پہاڑ جیسی خاتون جب بیوی ہوئی تو اس کے تین بچے تھے ایک بیٹی اور دو بیٹے تیسرا بیٹا شہادت کے بعد ساڑھے تین مہینے بعد پیدا ہوا
شہید کی بیوہ نے تہیہ کیا کہ وہ اپنے ان بچوں کو پالے گی کسمشکل سے اس نے دن گزارے اور جوان بیٹا ناصر فوج میں بھرتی کرایا ۔لیفٹینٹ ناصر ایک انتہائی قابل جوان تھا جس نے کیڈٹ کالج میں ایوارڈ حاصل کیئے پھر وہآسٹریلا ٹریننگ کے لیے گیا وہاں بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا
پچھلے دنوں وزیرستان میں میں شہید ہو گیا بائیس سال کا جوان۔اس عورت کا دوسرا بیٹا بھی فوج میں یے اور وہ تیسرا جس نے باہ بھی نہیں دیکھا وہ فوج میں جانے کو پر تول رہا ہے
ماں کہہ رہی تھی میرے تینوں بچے فوج کے ہیں اللہ ان دو کو سلامت رکھے آنسوؤں میں اس نے کہا کہ اگر یہ دو بھی وطن ہر فدا ہو جائیں تو اعزاز ہو گا
مولانا صاحب وہ ماں ہنڈی رحمت آباد میں رہتی ہے ۔کیا وہ آپ کو اس پنڈی میں آنے دے گی ؟جہاں آپ آنے کی بات کر رہے ہیں ۔اپ کسے لائیں گے انصار الاسلام کو ،پیلی وردی والوں کو یا پھر مدارس کے بچوں کو ۔اس روز ضیاء شاہد نے ہنے کالم میں اس بات کا ذکر بھی کیا تھا کہ وہ بچے جو گھروں سے قرآن سیکھنے آتے ہیں انہیں اے ہی ڈی ایم کے جلسوں میں لانا اچھا نہیں ہے
مولانا کے بارے میں بات کی جاتی ہے کہ ان کے پاس طاقت ہے اور وہ طاقت مدارس کے بچوں کی طاقت ہے ۔ان بائیس لاکھ بچوں کے بارے میں عمران خان ہمیشہ بات کرتے ہیں ۔ہم نے پہلے بھی جماعہ حقانیہ کی معاونت کی اب ان مدارس کے مدرسین جو دس ہزار روپے مشاہرہ دیا جا رہا ہے مساجد کو شمسی توانائی سے بجلی دینے کا پروگرام ہے ۔یہ اللہ کے کرم سے میری تجاویز تھیں اور مجھ جیسے وہ لوگ جو سمجھتے ہیں مدارس جنت کی کیاریاں ہیں ہمیں ان معصوم بچوں کا خیال ہے جنہیں بڑی چالاکی اور ہشیاری سے مولنا فضل الرحمن استعمال کر رہے ہیں ۔ اس روز اسامہ ستی کی شہادت پر غفور حیدری اور عبدالمجید ہزاروی تعزیت کے کیے آئے تو میں بھی وہاں موجود تھا کہہ رہے تھے کہ مولانا نے درست مطالبہ کیا ہے کہ باہر کی ایجنسیاں آئیں اور تفتیش کریں اب سوچا جائے کہ کیا مطالبہ درست ہے حکومت نے جے آئی ٹی بنا دی اس پر اعتبار نہیں ان سے میں نے پوچھا یہ بتائں کہ جب امریکہ میں ایک سیاہ فام کی گردن پر بوٹ رکھ کر اسے موت کے گھاٹ اتارا گیا تو کون سی آئی ایس آئی کو بلایا گیا تھا
اس قدر بے چینی اس قدر ملک دشمنی کہ ایک قتل پر واویلا کہ باہر کے لوگ آئیں اور اسے حل کریں بے نظیر کی موت ہر زرداری نے بھی باہر کی ایجینسی چلائی تھی ۔عمران خان سے پنجہ آزمائی کرنی ہے ضرور کیجیے میدان حاظر ہے اب کچھ جگہوں پے ضمنی انتحابات ہو رہے ہیں وہاں زور آزمائی کریں اگر جیت جاتے ہیں تو اسمبلی میں ا جائیں لیکن فوج کو نشانے ہے کیوں رکھتے ہو میجر گورو آریہ کو بھی فوج سے دشمنی نواز شریف کو بھی باجوہ، فیض سے ویر آپ جب یہ کہتے ہیں کہ امیر جمعیت العلمائے اسلام کو نیب میں بلاناپوری جمعیت کو بلانا یے تو حضور باجوہ صاحب جو للکارنا پوری فوج کو للکارنا نہیں ہے ۔اپنء دماغوں میں بھرے اس خناس سے جان چھڑوائو جو آپ کو چین سے نہیں بیٹھنے دیتا ۔2023 تک صبر کریں البتہ مارچ میں سینیٹ کے انتحابات کا جو ڈر آپ سب کو ہے وہ تو ہونا ہی یے آئین اور قانون کے تحت ہونے والے ان انتحابات میں پاکستان تحریک انصاف اللہ کے کرم سے جیتنے جا رہی ہے اب اس کا علاج ہمارے پاس کوئی نہیں 73 کے آئین کے تناظر میں وہ ہو کے رہیں گے
مولانا پنڈی ضرور آئیں یہاں کی گھراٹو جلیبی کھائیں دوستوں سے ملیں یہ شہر ان کا ہے یہاں کے چاول کباب اچھے ہیں مری روڈ کی مچھلی اچھی یے ۔۔اگر وہ سمجھتے ہیں کہ وطن عزیز ان کا اپنا ملک ہے تو پھر اس قسم کی باتیں نہ کریں جس سے اس قوم کے محترم اداروں کی عزت مجروح ہو ۔کام وہ کریں کہ جنرل ندیم بابر ان کے لیے چائے کے ساتھ گھراٹو جلیبی بھی منگوا لیں اب ان ہر منحصر ہے کہ پر تکلف چائے پینا چاہتے ہیں یا پرتکلف

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry

Read More Articles by Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry: 408 Articles with 167284 views »
I am almost 60 years of old but enrgetic Pakistani who wish to see Pakistan on top Naya Pakistan is my dream for that i am struggling for years with I.. View More
17 Jan, 2021 Views: 168

Comments

آپ کی رائے