بھارتی کسانوں کا احتجاج

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

بھارت میں زرعی اصلاحات کے ظالمانہ قوانین کے خلاف20روز سے احتجاج جاری ہے۔ کسان تنظیموں نے اس احتجاج کو اب مزید تیز کردیا ہے ۔مودی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے کسانوں نے بھوک ہڑتال شروع کر دی گئی ہے۔یہ ہڑتال نئی دہلی کے غازی پور، ٹیکری، سندھو سرحد اور دیگر مقامات پرجاری ہے۔ کاشتکار تنظیمیں زرعی اصلاحات کے تین قوانین کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر قائم ہیں۔ دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال نے بھی بھوک ہڑتال پر جانے کا اعلان کیا ہے۔ وہ عام آدمی پارٹی کے کارکنوں سے کسانوں کی تحریک میں شامل ہونے کی اپیل کر رہے ہیں۔ہریانہ کے نائب وزیر اعلی دشینت چوٹالہ مرکزی وزراء سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور مذاکرات کاکا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کسان تنظیموں نے ملک بھر میں متعدد مقامات پر ٹول پلازوں پر مظاہرہ کر کے ٹول ٹیکس کی وصولی کو روک دیا ہے۔ مختلف ریاستوں سے کسانوں کے دستے دہلی پہنچ رہے ہیں۔ مودی حکومت نے کسان تنظیموں کو زرعی اصلاحی قوانین میں ترامیم کی تجویز پیش کی ، جسے مسترد کردیا گیا ۔بھارتی حکومت ٹال متول سے کام لے رہی ہے۔ وہ کالے قوانین کے خاتمے پر ابھی تک آمادہ نہیں ہوئی ہے۔ کسانوں کی تنظیمیں گذشتہ 20 دن سے دہلی کی سرحد پر احتجاج کر رہی ہیں۔ حکومت نے دہلی بارڈر کے ساتھ حفاظتی انتظامات سخت کردیئے ہیں۔ سرحد کے ساتھ سکیورٹی اہلکاروں کی ایک بڑی تعدادگشت کر رہی ہے۔

مودی حکومت ایک طرف کسانوں کے ساتھ مذاکرات کے اعلانات کرتی ہے تو دوسری طرف کسانوں کے مظاہروں میں شامل یا ان کی حمایت کرنے والے افراد کونیشنل انٹلی جنس ایجنسی یا این آئی اے نوٹس جاری کر رہی ہے۔ جس پرکسان سخت برہم ہیں۔ کسان تنظیموں نے مودی حکومت پر ظالمانہ طرز عمل اپنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ ملک سے غداری کے معاملے میں پوچھ تاچھ کیلئے کسان رہنماؤں کو نوٹس جاری ہو رہے ہیں۔کسانوں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت ان کی حمایت کرنے والوں کو ٹارچر کررہی ہے۔این آئی اے نے ان لوگوں کے خلاف کیس درج کرنا شروع کردیئے ہیں جو احتجاج کا حصہ ہیں یا پھر مظاہرہ کی حمایت کررہے ہیں۔ کسانوں کی تمام یونینیں اس کی مذمت کرتی ہیں۔ کسان حکومت کے خلاف محاز سے پیچھے نہ ہٹنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ کسانوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ 26جنوری کو یوم جمہوریہ کے موقع پرٹریکٹر ریلی کا اہتمام کریں گے اوریہ ریلی دہلی میں ہوگی، اس میں ایک ہزار سے بھی زیادہ ٹریکٹر شامل کیے جائیں گے۔ اس معاملے پر سپریم کورٹ میں سماعت سے قبل اعلان کیا گیا کہ اب کسی بھی صورت میں تحریک کو روکا نہیں جائے گا ۔

کسانوں نے مودی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ جب اس کا کوئی بس نہیں چل رہا ہے تو اب کسانوں پر ظلم و زیادتی شروع کر دی گئی ہے۔حکومت نے شر پسند عناصر کی خدمات حاصل کہ ہیں تا کہ کسانوں کی حکومت مخالف پریڈ درہم برہم کریں۔کورونا بحران کے دوران مودی حکومت کے ظالمانہ اور کسان کش تین زرعی قوانین کیخلاف ملک بھر کے کسانوں کا احتجاج مودی حکومت کے لئے کوئی معنیٰ نہیں رکھتا۔کسانوں کے خلاف قوانیں ستمبر2020 میں پہلی بار منظور کئے گئے تھے۔ کسانوں کا کہناہے کہ نئے قوانین کارپوریشنوں کو زرعی کارکنوں کا استحصال کرنے میں آسانیاں پیدا کرنے اور بڑی کمپنیوں کو قیمتوں میں کمی کرنے میں مدد فراہم کرکے ان کو مزید خراب کردیں گے۔ نومبر کے آخر سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ان ظالمانہ قوانینکے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔نئی دہلی کی تین سرحدوں میں سے ہر ایک کے ساتھ دھرنے ہو رہے ہیں۔ کسانوں نے سڑکیں بند کردی ہیں اور عارضی کیمپ لگائے ہیں،کسان سڑک پر سو رہے ہیں یا اپنے ٹریکٹروں میں۔ وہ مختلف ریاستوں سے بڑے پیمانے پر مظاہروں میں شریک ہونے کے لئے پہنچ رہے ہیں۔ پولیس سے جھڑپیں بھی ہورہی رہیں۔دسیوں ہزاروں کسانوں نے انضباطی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے ہندوستان کے دارالحکومت کو مسلح کردیا ہے۔پہلے سپریم کورٹ نے چار رکنی ثالثی کمیٹی تشکیل دی۔مگر کسان عدالت کے مقرر کردہ کسی ثالثی میں حصہنہ لینے کا اعلان کر رہے ہیں - یہ درست ہے کہ مودی حکومت کی یہ ارت ہے کہ وہ دباؤ کم کرنے کے لئے عدالت کا سہارا لے رہی ہے۔ عدالتوں نے انصاف کے بجائے مودی حکومت کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی ہے۔یہ زرعی قوانین اس لئے متنازعہ ہیں کیونکہ بھارت کی 1.3 ارب آبادی میں سے تقریبا 58 فیصد آبادی کا ذریعہ معاش زراعت ہے اور کاشتکار برسوں سے اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ قیمتوں میں اضافہ کیا جائے۔ وہ ملک کا سب سے بڑا ووٹر بلاک ہیں -مگر مودی حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی۔کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے عالمی ادارے بھی اس جانب متوجہ نہیں۔ اگر پنجاب، ہریانہ، راجستھان، مغربی اتر پردیش اورمدھیہ پردیش جیسی ریاستوں کے کسان تہیہ کر لیں تو وہ حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔یہ کشمیر یا پنجاب نہیں جہاں سرکاری دہشتگردی سے عوام کی آواز کو طاقت اور بندوق سے دبا دیا جائے۔ اگر حکومت نے ان تینوں کالے قوانین ختم نہ کئے اور ایم ایس پی کو قانونی شکل میں جاری نہ رکھا تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 575 Articles with 220675 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
20 Jan, 2021 Views: 322

Comments

آپ کی رائے