دنیا کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا ٹی وی شو

(Zubair Bashir, Beijing China)
چائنا میڈیا گروپ کا جشن بہار ایوننگ گالا دنیا میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا ٹی وی پروگرام ہے۔ اس گالا میں میں مختلف شوز کے ذریعے دنیا بھر میں موجود چینی شہریوں کو جشن بہار منانے کے لئے مثبت اور خوشگوار ماحول فراہم کیا جا تا ہے۔ سن 1983 میں شروع ہونے والا جشن بہار ایوننگ گالا گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں دنیا کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے ٹی وی پروگرام کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔یہ ایسا رنگا رنگ ٹیلی ویژن پروگرام ہے جس کی پوری چینی قوم دیوانی ہے۔رواں برس چائنا میڈیا گروپ کے جشن بہارایونینگ گالا میں جدید ترین ٹیکنالوجیز کا استعمال کیا جائے گا ۔ یہ گالا فائیو جی،فورکے/ ایٹ کے اور مصنوعی ذہانت سمیت جدید ترقی ٹیکنالوجیز کے استعمال کا حسین امتزاج بن چکا ہے۔ رواں برس یہ گالا پہلی بار ایٹ کے ریزولوشن سے سج چکا ہے۔ اس کا کوریج ایریا امریکہ ،فرانس،روس اورجاپان سمیت ایک سو ستر سے زائد ممالک یا علاقوں تل پہنچ چکا ہے۔ اس گالا کی کوریج چھ سو سے زائد نشریاتی ادارے کریں گے۔

ایوننگ گالا کا دلکش منظر

چین میں جشن بہار کا رنگ غالب ہے۔ درخت اور عمارتیں رنگا رنگ برقی قمقموں کا لباس پہنے سال نو کا استقبال کر رہے ہیں۔ سڑکوں کے کنارے لگے خوبصورت فانوسوں(لالٹین)، تہنیتی پیغامات کے بینرز ،گھروں، ہوٹلوں اور تقریباً سبھی نجی و سرکاری عمارتوں کی داخلی اور اندرونی سجاوٹ میں سرخ رنگ غالب ہے۔ ان دنوں چینیوں کے لباس اور کھانوں میں بھی ثقافت کی جھلک دکھائی دے رہی ہے۔ ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں اور جشن کا سماں ہے۔ ان تمام مناظر میں ایک خوبصورت اور دلکش اضافہ چائنا میڈیا گروپ کا جشن بہار"ایوننگ گالا" ہے۔

چین میں ایک خاص روایت یہ ہے کہ نئےقمری سال کے پہلے مہینے "چنگ یوئے "میں پیش کرنے کے لئے بنیادی کھانے پہلے سے تیار کر لئے جاتے ہیں۔ یہ اشیا عام طور پر آٹے سے تیار کی جاتی ہیں کیونکہ انہیں محفوظ بنانا زیادہ آسان ہوتا ہے۔ یہ کام12 ویں مہینے کی 28 تاریخ کو شروع ہوتا ہے اور اگلے ایک سے دو روز تک جاری رہتا ہے۔

چین کے شمالی علاقوں کے رہنے والے لوگوں بھاپ کی مدد سے بند تیار کرتے ہیں یہ بند مختلف جانوروں یا پھولوں کی شکل میں تیار کئے جاتے ہیں۔ جبکہ جنوبی علاقوں کے لوگ ایک خاص قسم کا کیک بناتے ہیں جسے چینی زبان میں "نیان گاؤ" کہتے ہیں۔ یہ لیس دار چاولوں کی مدد سے تیار کیا جاتا ہے۔

جشن بہار کی شام کی خاندانوں کے ملن میں خصوصی اہمیت ہے۔ ۔ عیسوی کلینڈر کے مطابق اس سال 11 فروری کی شام چین میں چاند رات ہوگی۔ اس روز وہ نوجوان یا افراد جو اپنے گھروں اور شہروں سے تعلیم حاصل کرنے یا نوکری کی کی غرض سے باہر گئے ہوتے ہیں وہ واپس لوٹ آتے ہیں۔

اس رات لوگ اپنے اہل خانہ کے ساتھ اکھٹے ہو کر ایک بڑی ضیافت کا اہتمام کرتے ہیں۔ وہ رات دیر تک جاگتے ہیں۔ ان کی آنکھیں نئے سال کے استقبال کے لئے منتظر رہتی ہیں۔ اس رات وہ چیز جو ضرور کھائی جاتی ہے وہ ہے ڈمپلنگ۔

ہماری عیدین کی طرح چین کا سب سے بڑا تہوار جشن بہار ہے وقت کے ساتھ ساتھ جشن بہار منانے کے طریقہ کار میں تبدیلیاں آتی رہی ہیں تاہم چینیوں کی زندگی اور تصور میں جشن بہار کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ اس تہوار کی تاریخ چار ہزار سال پرانی ہے۔ آغاز میں اس تہوار کا نہ کوئی خاص نام تھا اور نہ ہی منانے کی کوئی مقرر تاریخ تھی۔ دو ہزار ایک سو سال قبل مسیح کے زمانے میں چینیوں نے سیارہ مشتری کی ایک مکمل گردش کے عرصے کو ایک سال کی مدت قرار دیا اور جشن بہار کو زوئی کا نام دیا یعنی سال۔ پھر ہزار سال قبل مسیح کے زمانے میں چینی لوگ جشن بہار کو نیان کے نام سے پکارنے لگے نیان کا مطلب ہے عمدہ فصل کا سال ۔

چین کے لوگ روایتی رسم و رواج کے مطابق جشن بہار کا موسم قمری کیلنڈر کے بارہویں یعنی آخری مہینے "لایوئے" کی 23ویں تاریخ سے شروع ہوتا ہے اور اگلے سال کے پہلے ماہ یعنی "چنگ یوئے" کی 15 ویں تاریخ کو لالٹین تہوار تک منایا جاتا ہے ۔ اس دوران سال گذشتہ کی آخری رات اور نئے سال کا پہلا دن سب سے اہم دن ہیں۔

جشن بہار کی شام کی خاندانوں کے ملن میں خصوصی اہمیت ہے۔ عیسوی کلینڈر کے مطابق اس سال 11 فروری کی شام چین میں چاند رات ہوگی۔ اس روز وہ نوجوان یا افراد جو اپنے گھروں اور شہروں سے تعلیم حاصل کرنے یا نوکری کی کی غرض سے باہر گئے ہوتے ہیں وہ واپس لوٹ آتے ہیں۔

اس رات لوگ اپنے اہل خانہ کے ساتھ اکھٹے ہو کر ایک بڑی ضیافت کا اہتمام کرتے ہیں۔ وہ رات دیر تک جاگتے ہیں۔ ان کی آنکھیں نئے سال کے استقبال کے لئے منتظر رہتی ہیں۔ اس رات وہ چیز جو ضرور کھائی جاتی ہے وہ ہے ڈمپلنگ۔ یہ رات خاندانوں کو آپس میں جوڑتی ہے اور جشن بہار ایوننگ گالا پوری قوم کو ایک ساتھ جوڑتا ہے۔


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zubair Bashir

Read More Articles by Zubair Bashir: 37 Articles with 12729 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Feb, 2021 Views: 272

Comments

آپ کی رائے