فطرت ‘عوامی پسندیدگی پیمرا کی چھریوں پر حاوی آگئی

(Shazia Anwar, Karachi)

عبداللہ کادوانی اور اسد قریشی کے سیونتھ اسکائی انٹرٹینمنٹ کی پیش کش فطرت ‘ ایک ایسا ڈرامہ جسے معاشرتی اقدار کے منافی قرا ردیئے جانے کے باوجود لوگ اس لئے دیکھنے پر مجبور ہیں کہ یہ ڈرامہ حقیقت سے نہایت قریب ہے۔ فطرت کا مرکزی کردار فاریہ (صبور علی)نے کچھ اس طرح سے اس کردار کو نبھایا ہے کہ لوگ واقعتا ان سے نفرت کرنے لگے ہیں اور ایسا ہونا کسی بھی کردار کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔

فطرت کی کاسٹ میں صبور علی‘علی عباس‘مرزا زین بیگ‘زباب رانا‘ صبیحہ ہاشمی ‘سیمی پاشا‘ سیف حسن ‘فضیلہ قاضی‘ فرحان علی آغا‘ عادلہ خان‘ عائشہ گل‘ کامران جیلانی اور مریم نفیس شامل ہیں۔فطرت کی کہانی نزہت ثمن نے لکھی ہے جبکہ ہدایات اسد جبل نے دی ہیں۔

جیوٹی وی پر نشر ہونے والے ڈرامہ سیریل ”فطرت“کی کہانی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی فاریہ کے گرد گھومتی جو پیسے کے حصول کے لئے ہر جائز و ناجائز راستہ اختیار کرنے کی خواہاں ہے اور ایسا کر بھی کرگزرتی ہے جب کہ فاریہ کے برعکس اس کے چھوٹے اور بہن محنتی اور ایماندار ہیں‘ جو اپنے بل بوتے پر زندگی میں کامیاب ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ فاریہ دولتمند گھرانے سے تعلق رکھنے والے مرد شہباز(علی عباس( سے خفیہ شادی کرتی ہے جو بعدازاں اپنی بیوی کی اصلیت سامنے آنے کے بعد اسے طلاق دے دیتا ہے‘چلتر فاریہ دولت کا ہاتھ سے جاتا دیکھ کر اپنے شوہر کے ہی چھوٹے بھائی ارباز(مرزا زین بیگ) پر ڈورے ڈال کر اس سے شادی کرلیتی ہے ۔ شادی تو یہ بھی کامیاب نہیں ہوتی لیکن فاریہ دولت کے حصول میں کامیاب ہوکر ایک ایسے راستے پر چل پڑتی ہے جو تباہی و بربادی پر جاکر ختم ہوتا ہے۔دولت کی چمک دمک اور خودغرضی کی چادر اسے خونی رشتوں سے بھی دور کردیتی ہے۔

رائٹر‘ صحافی‘ سابقہ ڈائریکٹر اور پروڈیوسر نزہت ثمنکے قلم سے تحریر کی گئی یہ دلچسپ کہانی ہر گزرتی قسط کے ساتھ دلچسپی اختیار کرتی جارہی ہے اور ناظرین ایک قسط کے بعد دوسری کے بے چینی سے منتظر نظر آرہے ہیں۔نزہت ثمن منجھے ہوئے انداز میں کچھ اتنا منظم لکھتی ہیں کہ ان کے ڈرامے دیکھنے والے پلک بھی بمشکل جھپک پاتے ہیں۔نزہت قبل ازیںدہلیز‘خوشحال سسرال‘ مریم کیسے جئے‘ سسرال میرا‘دل برباد‘اکیلی‘ بھیگی پلکیں‘ بندھن‘ سنگسار‘ایک ہی بھول‘ سویا میرا نصیب اور بھروسہ پیار تیرا جیسے قابل ذکر ڈر امے اور دو درجن سے زائد ٹیلی فلمز لکھ کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکی ہیں ۔
پیشے کے اعتبار سے وکیل نزہت ثمن کے والدکی صحبت ان کی تحریر یں نظر آتی ہے ۔ ڈرامہ سیریل فطرت کے ڈائیلاگ اور منظر نگاری انتہائی جاندار اور جامع ہے جو فی زمانہ ڈراموں میں دیکھنے میں نہیں آتی۔ اگر گھر میں خوشحالی دکھائی گئی ہے تو درودیوار سے خوشحالی چھلکتی دکھائی اور اگر کہیں غربت ہے تو وہ بھی نظر آرہی ہے۔ مرکزی کردارفاریہ کو بچپن سے ہی سہولیات کیلئے ترستا دکھایا گیا ہے جس کے نتیجے میں اس میں دولت کی چاہ اور ہوس کچھ اس طرح سے بیدار ہوتی ہے کہ اسے اپنے اردگرد کچھ نظر نہیں آتا‘ اس کے نزدیک دولت کے حصول کیلئے اٹھایا گیا ہر قدم جائز ہے جبکہ اسی ماحول میں پلنے والے اس کے بھائی اور بہن صحیح اور غلط کی تفریق رکھتے ہیں ‘محنت کی سیڑھی پر چڑھ کر کامیابی کے حصول کے خواہاں ہیں ۔انہوں نے غلط راستے پر چلنے والے کو تیزی سے اس سے انجام کی جانب بڑھایا ہے اور توقع ہے کہ اس ڈرامے پر تنقید کرنے والے اس کے انجام پر تالیاں بجاتے ہوئے نظر آئیں گے۔

فطرت کے ہر اداکار نے اپنے کردار کو نہایت خوبی سے نبھایا ہے بطور خاص فاریہ یعنی صبور علی گو کہ قبل ازیں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھاچکی ہیں لیکن یہ ڈرامہ ان کے کیرئیر کیلئے سنگ میل ثابت ہورہا ہے۔

ڈرامہ فطرت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نزہت ثمن نے کہا ”میں نے عام زندگی اور شوبز کی دنیا میں نوجوانوں کو شارٹ کٹ اختیار کرکے آگے بڑھنا چاہتے ہیں وہ محنت کرکے کامیابی کے حصول کا حوصلہ نہیں رکھتے ۔ ہمارا معاشرے کا سینہ بالخصوص ایسی لڑکیوں کیلئے بہت تنگ ہے ۔ ہماری لڑکیاں حدود قیود سے آزادہ ہیں‘ بچیوں کو ایسا لگتا ہے کہ پیسا ہے تو سب کچھ ہے۔ میرے اردگرد ایسے بہت سے کردار ہیں اور فاریہ بھی ان ہی میں سے ایک ہے جسے میں نے زندگی سے منتخب کیا ہے۔“

ایک سوال کے جوا ب میں نزہت ثمن نے کہاکہ ”آج لڑکیوں کی اکثریت شرم ‘ لحاظ اور جھجک کو پیچھے چھوڑ کر اپنے کیرئیر بنانے کی جدوجہد میں لگی ہوئی ہیں اور اس کیلئے ہر طرح کے راستے پر چلنے کیلئے آمادہ نظر آتی ہے۔ میں نے ایک ایسی ہی لڑکی کی کہانی تخلیق کی ہے ‘ مجھے تنقید کا بھی سامنا ہے لیکن میں ان سب سے صرف یہ کہنا چاہتی ہوں کہ اپنے اردگر د دیکھیں‘ آپ کو ایسی لڑکیاں نظر آتی ہیں ‘عام زندگی میں نچلے طبقے میں بھی ایسی لڑکیاں ہیں جو معاشرے‘ اقدار‘ مذہب اور انسانی رشتوں کو اہمیت نہیں دیتیں‘ ان کے نزدیک پرتعیش زندگی سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ میں صرف یہ بتانا چاہتی ہوں کہ ایسی لڑکیاں وقتی طور پر اپنے مقاصد حاصل کرلیتی ہیں لیکن بعد میں ان کا انجام کیا ہوگا ہے۔ دوسری جانب میں نے رافعہ کا کردار بھی اسی ڈرامے میں متعارف کرایا ہے اور اسے کامیاب ہوتے ہوئے دکھایا ہے۔ اگر میرے اس ڈرامے کے ذریعے ایک بھی بچی گمراہی کے راستے سے واپس آجاتی ہے تو میں سمجھوں گی کی میری محنت سوارت ہوگئی۔“


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shazia Anwar

Read More Articles by Shazia Anwar: 180 Articles with 178373 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Jan, 2021 Views: 232

Comments

آپ کی رائے