اداکارہ نیلو بیگم ---- اندھیرے میں نور سحر

(Munir Bin Bashir, Karachi)

اچھے لوگ رخصت ہوتے جارہے ہیں --

اداکارہ نیلو بیگم بھی اپنی 82 سالہ طویل زندگی میں سے 50 برس پاکستانی فلمی صنعت کے حوالے کر کے اس جہان فانی سے رخصت ہو گئیں -

ہمارے پاس اب صرف ان کی یادیں رہ گئی ہیں یا سیلو لائیڈ کے فیتے پر منتقل کی ہوئی ان کی فلمیں - نئی ایجادات کے طفیل اب یہ فلمیں ٹیلی ویژن اور موبائیل کے اسکرین پر دیکھ سکتے ہیں -

وفات کے بعد گورنر پنجاب ، تعزیت کے لئے مرحومہ کے گھر پہنچے تو کسی نے استدعا کی کہ انہیں تمغہ حسن کارکر دگی سے نوازا جائے - میرے دل کے نہاں خانے سے صدا ابھری --- ایک نہیں دو --- تمغے ملنے چاہیئیں - ---- ایک بطور فلم میں ان کی لگن ، محنت اور جدو جہد کے ---- اور دوسرا بطور ایک بہترین شفیق اور پر التفات ماں کے -

1972 میں شوہر کے انتقال کے بعد پچاس برس بیوگی میں گزار دئے اور ایک ہی مقصد ذہن میں رکھا کہ بچے سوسائٹی میں اچھے مقام کے ساتھ رہیں اور ان کی تعلیم و تربیت میں کوئی کمی نہ رہے -

انہوں نے بچوں کے لئے اپنا چین ،سکھ ، آرام سب کچھ تیاگ دیا - بچوں کے لئے اب وہی والدہ تھیں اور وہی والد - شادی کے بعد انہوں نے فلموں میں کام کرنا ترک کردیا تھا - اس دور اندیش ، خوش انتظام اور سلیقہ مند خاتون نے اندازہ لگا لیا تھا کہ صرف شوہر کی چھوڑی ہوئی دولت یا خود کا پس انداز کیا ہوا پیسہ ہمیشہ کام نہیں آئے گا - خرچ کرتے جاؤ تو قارون کا خزانہ بھی خالی ہو جاتا ہے چنانچہ وہ دوبارہ فلموں میں آنے لگیں - اس دورانئیے میں اخبارات اور رسائل میں ان کی تصاویر فلموں کے حوالے سے چھپا کرتی تھیں لیکن سوشل،لائف میں وہ ہمیشہ بچوں کے ہمراہ نظر آتی تھیں - کبھی کسی بچے کو گود میں اٹھائے ہوئے ، کبھی کسی کی انگلی تھامے ہوئے - کبھی ان کے ساتھ کھیلتے ہوئے - چہرے پر ممتا کی شفقت کی لہریں کچھ یوں عیاں ہوتی تھیں کہ اسکے اثرات دیکھنے والے کو بھی ایک تقدیس بھرے ہالے میں گھیر لیتی تھیں -

1972 کے بعد حکومت کی پالیسی کے تحت ایسی فلمیں بننے لگیں تھیں جنہیں آپ خاندان کے ہمراہ نہیں دیکھ سکتے تھے- لیکن نیلو بیگم نے ایسی فلموں سے مکمل اجتناب کیا اور اخلاقی اقدار کو مقدم رکھا- غیر مناسب کردار قبول نہیں کئے - حفظ وقار ان کی اولین ترجیح بنی تاکہ ان کے کردار کی طرف کوئی انگلی نہ اٹھے اور بچوں کو سبکی محسوس ہو - اسی زمانے میں فلم ۔خطرناک، بھی بنی تھی جو شائستگی کے تمام حدود پار کر گئی تھی - اداکار نیلو نے اس میں بھی کام کیا لیکن اپنے اوپر رقص کا کوئی منظر نہیں فلمایا
--------------------------------------------------
یہ سال 1983 کی بات ہے - اداکار کمال نے اپنی خود نوشت ، اخبار جہاں ، میں شائع کروانا شروع کی - جو بعد میں کتابی صورت میں بھی چھپی - اپنی خود نوشت میں کمال نے نیلو کی انسان دوستی ، اور ساتھیوں سے ہمدردی کی بہت تعریف کی ہے - وہ لکھتے ہیں کہ فلم ۔ گلفروش - کی آؤٹ ڈور شوٹنگ کے دوران ان کے ہاتھ میں فریکچر آگیا اور دو ہڈیاں ٹوٹ گئیں - انہیں طویل عرصے کے لئے پلاسٹر کگا دیا گیا اور ہسپتال میں رکنا پڑا - فریکچر کے طویل دورانئیئے میں مریض مریض پر مایوسی اور ڈیپریشن کا دوراہ پڑنا ایک عمومی بات ہے - مریض سوچتا ہے کہ آیا وہ صحیح ہو سکے گا یا نہیں - جوڑ صحیح نہ ہوا تو پھر کیا ہو گا - روزی حاصل کرنے کے قابل ہو جائے گا یا نہیں اور ایسا ہی اداکار کامل کے ساتھ ہوا- وہ سوچنے لگے کہ فلمی کیرئرتو اب ختم ہو گیا -اب فلموں میں کون لے گا - انہیں آگے اندھیرا ہی اندھیرا نظر آرہا تھا - سونے پر سہاگہ یہ کہ ہدایت کار انور کمال پاشا جن کی فلم میں ان کا ہاتھ ٹوٹا تھا اس دوران میں نئی فلم ۔ سولہ آنے ، بنانے کا اعلان کیا - اس میں کمال کو بالکل نظر انداز کر دیا تھا حالانکہ اس کے لئے کمال سے معاہدہ ہو چکا تھا- یہ ان کی ڈیپریشن اور مایوسی کو اور بڑھا رہا تھا- ایک روز وہ انہی سوچوں میں گم خلا میں دیکھ رہے تھے - اچانک اداکارہ نیلو اور نغمہ نگار قتیل شفائی کمرے میں داخل ہوئے - نیلو نے بتایا کہ وہ قتیل شفائی کے ساتھ مل کر دو فلمیں شروع کر رہی ہیں اور وہ دونوں فلموں میں کمال کو بطور ہیرو لینا چاہتی ہیں - اداکار کمال کہتے ہیں کہ نیلو کے اس جذ بے کو دیکھ کر میری آنکھیں بھر آئیں - قتیل شفائی نے چیک بک نکالی اور دو ہزار کا چیک لکھ کر کمال کے سرہانے رکھ دیا - اداکار کمال کہتے ہیں کہ بات پیسوں کی نہیں تھی بلکہ اس جذبے کی تھی جسے انسانیت کہتے ہیں - میں معذور تھا - سامنے تاریک شب نظر آرہی تھی- وہ نور سحر بن کر مجھے ایک نیا حوصلہ دے گئیں - میں ایک نئی توانائی محسوس کر نے لگا - اداکار کمال کہتے ہیں کہ میں نیلو کی اس نیکی کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا -
-------------------------------
اداکارہ نیلو کی بیا سی سالہ زندگی میں ایک واقعہ ایسا بھی ہے جس نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کو ہلانے کی کوشش کی تھی لیکن ظلم و استبداد کا حبس اتنا تھا کہ ایک پتہ بھی جنبش نہ کر سکا - میں سیاسیمعاملات پر کم ہی مباحث کرتا ہوں سو یہاں بھی مختصر سا ہی بیان کروں گا تاکہ نئی نسل تاریخ سے نابلد نہ رہ جائے - گورنر مغربی پاکستان ملک امیر محمد خان نے شاہ ایران کی فرمائش پر نیلو سے مطالبہ کیا کہ شاہ ایران کے سامنے رقص کرے - نیلو کو شمع محفل بننا اچھا نہیں لگا -چنانچہ انہوں نے شائستہ الفاظ میں آنے سے معذوری ظاہر کی - ان کے آنے سے انکار پر حکمرانوں کی جانب سے زبردستی لے جانے کا عندیہ دیا گیا - چنانچہ نیلو بیگم نے مایوسی کے عالم میں خواب آور گولیاں کھالیں اور بے ہوش ہو گئیں

اس موقعے پر مشہور شاعر حبیب جالب نے اپنی مشہور نظم لکھی
تو کہ نا واقف آداب شہنشاہی ہے ابھی ------ رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے

ممتاز فلمی کہانی نویس ریاض شاہد جو اس سے پہلے ترقی پسند رسالے لیل و نہار اور شورش کاشمیری کے چٹان سے وابستہ تھے نے ان سے شادی کرنے کا اظہار کیا اور یوں نیلو ان کی زوجہ بنیں - ریاض شاہد نے بعد میں اسرائیل کے خلاف عربوں کی جدو جہد پر ایک فلم زرقا بنائی جس میں نیلو نے مرکزی کردار ادا کیا - اس میں حبیب جالب کی اسی مقبول نظم کو رد و بدل کے ساتھ شامل کیا گیا - اب اس کے بول یہ تھے
تو کہ ناواقف آداب غلامی ہے ابھی ------ رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے

اس فلم نے کامیابی کا تمام ریکارڈ توڑ دئے - اس فلم میں نیلو کی اداکاری اوج کمال کو پہنچی ہوئی تھی - وہ افراد جو فلمیں نہیں دیکھتے وہ بھی اس فلم کو دیکھنے گئے - عبدالستار ایدھی نے کہا کہ انہوں نے صرف ایک ہی فلم دیکھی ہے اور وہ ہے ذرقا - کراچی کے ایک بڑے دینی مدرسے کی انتظامیہ کے ایک رکن نے کہا کہ وہ فلمیں نہیں دیکھتے لیکن فلم زرقا کو دیکھ ہی لیا -

اس زمانے میں جب حبیب جالب عوام کو اس واقعے کی اصل حقیقت بتانے کی جد و جہد کر رہے تھے تو کچھ افراد نے اسے منفعت کا ذریعہ بنانے کی بھی کوشش کی تھی - اس واقعے کے وقت نیلو کی ایک فلم ۔ فریب ، کی نمائش جاری تھی - اس فلم کا اشتہار کچھ اس قسم کا چھپنے لگا --- نیلو نے خود کشی کیوں کی --یہ جاننے کے لئے دیکھئے فلم ۔ فریب ، حالانکہ اس فلم کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں تھا -
--------------------------------------
نیلو بیگم کی اداکاری کے رموز پر بات چیت کرنے کے لئے اس کالم کی وسعت تنگ پڑجائے گی بس اتنا کہوں گا کہ ان کی اداکاری سے نئی نسل بہت کچھ سیکھ سکتی ہے - ابھی اسی ماہ فروری کے ایک خواتیں کے رسالے میں ٹی وی ڈراموں کے ایک اداکار کا انٹرویو چھپا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ مرنے کے سین بہت مشکل ہوتے ہیں کیوں کہ اس میں آپ کے ایموشن اور جذبات جڑے ہوتے ہیں - لیکن نیلو نے اپنی فلموں میں ایسے رول بہت ہی مہارت سے بغیر کسی جھول کے کئے ہیں - فلم بیٹی کی مثال دی جاسکتی ہے -
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Munir Bin Bashir

Read More Articles by Munir Bin Bashir: 105 Articles with 183166 views »
B.Sc. Mechanical Engineering (UET Lahore).. View More
14 Feb, 2021 Views: 829

Comments

آپ کی رائے