عطائی ڈاکٹر مسیحا یا قاتل؟

(Imran Attari Abu Hamza, )

پیارے دوستوں !مشرقی ممالک میں بالخصوص لالچ و حرص اس قدر بڑھ چکا ہے کہ لوگوں نے مقدس سمجھے جانے والے پیشوں کو بھی ایک کاروباری صنعت کا درجہ دے دیا ہے جس کی سب سے واضح مثال ڈاکٹروں اور حکیموں کا پیشہ ہے ۔پاکستانی قوم جسے تبدیلی ، ترقی ،روشن خیالی وغیرہ کے پرکشش ناموں پر لوٹا جارہا ہے ،بے وقوف بنایا جارہا ہے۔ وہیں ایک بہت بڑا طبقہ علاج معالجہ کے نام پر ہماری قوم کی صحت سے کھیل رہا ہے۔ اس صحت سے جو کہ ایک عظیم نعمت ہے۔ اور وہ طبقہ عطائی حکیموں اور ڈاکٹروں کا ہے جو کہ اصل میں ڈاکو ہیں۔ یہ مال کے حریص لوگ کھلے عام لوگوں کی زندگیوں سے کھلواڑکررہے ہیں۔ ایام قربانی میں چھریاں چاقو لے کر برآمد ہونے موسمی قصاب تو فقط تین دن کے مہمان ہوتے ہیں لیکن ہمارے یہاں بغیر کسی مخصوص موسم کا انتظار کیے عطائی ڈاکٹر اور حکیم رنگ برنگی دوائیوں کی شیشیاں لے کر ،مختلف قسم کے سرنج لے کر نکل پڑے ہیں اور انسانی جانوں کا ضیاع کررہے ہیں ۔ مسیحا کا روپ دھار کر یہ لوگ قاتلوں والا کام کررہے ہیں۔ ہر دوسرے دن غلط دو ا، غلط انجیکشن سے بچوں ، بڑوں کی ہلاکتوں کی داستانیں اخبار کی سطروں میں، چینلز کی خبروں میں کچھ عرصے تک تو گردش کرتی ہیں اور پھر اسی طرح سے سکون ہو جاتا ہے جیسا کہ کچھ ہوا ہی نہیں ۔ لاکھ منتوں مرادوں کے بعد پیدا ہونے کسی ماں کا پھول ،کسی کے گھر کا واحد کفیل لباس خضر میں ملبوس قاتلوں کے لالچ و ناتجربہ کاری کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے ۔لیکن افسوس کے ان ظالموں کو لگام دینے والا کوئی نہیں ۔علامہ ابن حجر ہیتمی متوفی ۹۷۴ھ۔ سے ان کے زمانے میں عطائی ڈاکٹروں ، طبیبوں کے بارے میں سوال ہوا کہ ان جاہل لوگوں کامریضوں کا علاج کرنا اوراس پر لوگوں سے پیسے لینا کیسا ہے ؟آپ نے کس عمدگی کے ساتھ اس سوال کا جواب دیا ، خود بھی اسے پڑھیں اور اس مضمون کو عام بھی کریں کہ شایدراہِ ہدایت سے بھٹکا کوئی عطائی ڈاکٹر ، حکیم اپنے اس ناپاک دھندے کو چھوڑ کر اللہ پاک کی بارگاہ میں رجوع کرے ۔شاعر مشرق ڈاکٹر اقبال کا یہ شعر اگرچہ معاشرے کے ایک دوسرے طبقے کے لیے تھا لیکن ان عطائی حکیموں ، ڈاکٹروں پر بھی یہ شعر بالکل صادق آتا ہے :
لباسِ خضر میں یاں سینکڑوں رہزن پھرتے ہیں ۔۔۔ گرجینے کی خواہش ہے تو کچھ پہچان پیدا کر
سوال: ایک شخص جسے علم طب(Medical science) میں مکمل طور پر مہارت نہیں ہے مریض(Patient) اس کے پاس آتے ہیں اوروہ طب کی کتب (Medical books)میں جس دوا کو ان کے مزاج (Medical temperament)کے موافق پاتا ہے اسکے ذریعے ان کا علاج کردیتا ہے لیکن وہ طبیب (ڈاکٹر)مریض کے مرض کی تشخیص(Diagnosis of the disease) میں مہارت نہیں رکھتا بلکہ مریض سے کہتا ہے اس طرح سے علاج کرلو تو بعض مریض تو صحت یاب ہوجاتے ہیں اور بعض ٹھیک نہیں ہوتے تو ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ اور جو چیز یہ لوگوں سے ان کی خوشی سے لیتا ہے اسکے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب: جو شخص کتب طب کا مطالعہ کر کے اس میں درج علاج ،مرض کی تشخیص کئے بغیر لوگوں کوبتا دیتا ہے تو بلا شبہ ایسا شخص سخت برا کام کرنے والا ہے ۔لوگوں کے اجسام() کو نقصان پہچانے اور انہیں خراب کرنے کی جرأت کرنے والا ہے۔ جو شخص مرض کی تشخیص نہیں کرسکتا اور علم طب کے کلیات( Principles of medical science) پر یقینی معرفت(Sure knowledge) نہیں رکھتا اسکے لیے علم طب کے کسی جزئیہ(Partial) کے بارے میں لوگوں کو خبر دینا ہر گز جائز نہیں اسلئے کہ جزئیات تو کلیات کے تابع ہوتے اسی بناء پر بعض ماہر اطباء (Expert Physician)نے کہا ہے کہ ’’ہماری کتب سمجھداروں کو ہلاک کرنے والی ہیں‘‘ مراد یہ ہے کہ وہ لوگ دیکھیں گے کہ فلاں چیز فلاں مرض کی دوا ہے اور اسے استعمال کرلیں گے لیکن وہ جسم میں مو جود اس مخفی بیماری(Hidden disease) کو سمجھ نہیں سکیں گے اور ان کی تجویز کردہ دوائی اس مرض کے متضاد ہوگی تو وہ جس دوا کو وہ نفع بخش گمان کر رہے ہوں گے وہ دوامریض کو قتل کرنے والی بن جائے گی ۔طبیب کی لئے کسی بھی دوا کو تجویز کرنا اسی وقت درست ہوتا ہے جبکہ وہ جانتا ہو کہ مریض کے جسم میں کوئی ایسی بیماری نہیں ہے کہ جس میں یہ دوا فائدے کے بجائے نقصان دے گی ۔اور اس بات کو کماحقّہ حاذق اور ماہر طبیب
( Expert Physician) ہی جان سکتا ہے جس نے اس فن کے ماہرین سے یہ علم حاصل کیا ہو ۔فقط کتب بینی
(Book reading) کے ذریعے اس علم کو حاصل نہ کیا ہو اور اس میں علم طب ہی کی کیا خصوصیت ہے بلکہ ہر وہ شخص جس نے کتب بینی ہی سے علم حاصل کیا ہو (کسی ماہر فن کے آگے زانوئے تلمذ تہہ نہ کیا ہو )وہ خود بھی گمراہ ہے اور لوگوں کو بھی گمراہ کرنے والا ہے ۔اسی بناء پر امام نووی علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا : کو ئی شخص مثال کے طور پر دس کتابوں میں کوئی شرعی مسئلہ دیکھ لے تب بھی اس کے لیے اس قول کے مطابق فتوی دینا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ احتمال ہے کہ ان تمام ہی کتب میں ضعیف قول ہی نقل کیا گیا ہو۔

پھر جب کسی ایسے طبیب نے کسی کو ایک دوا فائدہ مند سمجھ کر دیدی اور اس دوانے مریض کو نقصان پہنچایا تو اس طبیب پر آخرت میں سوائے سخت گناہ اور عذاب عظیم کے کچھ نہیں۔ ایسے شخص کو چاہیے کہ اللہ پاک کا خوف کرے اور اس کام سے باز رہے ورنہ ہلاک یافتہ لوگوں میں سے ہوجائے گا۔

عطائی ڈاکٹر وطبیب کی کمائی کا حکم :
عطائی ڈاکٹر وطبیب جو مال لوگوں سے لیتے ہیں ان کے لیے اس مال کا کھانا حرام ہے کیونکہ جن لوگوں نے انہیں یہ مال دیا ہے انھوں نے یہی گمان کرکے دیا ہے کہ یہ لوگ علم طب میں مہارت رکھتا ہے ۔اگر لوگوں کو معلوم ہوجاتا کہ یہ اپنے اس فعل سے گناہ کا مرتکب ہو رہا ہے تو کوئی بھی شخص اسے کچھ نہ دیتا تو یہ شخص اس مال کو لوگوں سے دھوکا دہی کرکے ،بہتان اور ظلم وزیادتی کرکے لینے والا ہوا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Imran Attari Abu Hamza

Read More Articles by Imran Attari Abu Hamza: 50 Articles with 13316 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Mar, 2021 Views: 150

Comments

آپ کی رائے