جنگ بندی معاہدے پر عمل کی مکاری۔۔۔۔2

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

22فروری 2021کو جب سے پاکستان کے ڈی جی ایم او میجر جنرل نعمان ذکریا اور ان کے بھارتی ہم منصب لیفٹننٹ جنرل پرم جیت سنگھ سنگھاکے درمیان بات چیت کے بعد مشترکہ اعلامیہ میں سیز فائر پر مکمل عمل کرنے کا اعلان ہوا ہے تب سے سیز فائر لائن پر ایک بھی فائر نہیں کیا گیا۔ توپ خانے بھی خاموش ہیں۔مشترکہ اعلامیہ پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر اور بھارت کی جانب سے وزارت دفاع نے جاری کیا۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور امریکہ کی جانب سے فوری طور پرسیز فائرکا خیرمقدم ظاہر کرتا ہے کہ اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان کشیدگی کے خاتمے میں نو منتخب امریکی صدر بائیڈن کا اہم کردار ہے۔جو چین کے تعاون اور مشاورت کے بغیر ناممکن ہے۔اس میں سفارتی اور عسکری سطح پر گفت و شنید ہوئی ہے۔تا ہم قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کسی بات چیت میں اپنے کردار سے انکاری ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری پر اتفاق کے حوالے سے ایسی خبریں بے بنیاد ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں میں اتفاق معید یوسف کی ان کے بھارتی ہم منصب اجیت ڈوول سے بات چیت اور بیک چینل ڈپلومیسی کی بدولت ہوا۔معید یوسف یہ نہیں بتا رہے کہ ان کی اجیت ڈوول سے ملاقاتوں کیا بات چیت ہوتی رہی۔ اگر ان ملاقاتوں کا سیز فائر سے کوئی تعلق نہیں تو پھر کیا وہ تقسیم کشمیر کے خد و خال ، سیز فائر کو انٹرنیشنل سرحد بنانے یا مقبوضہ کشمیر میں بھارت کیبڑھتہ ہوئی ریاست دہشتگردی پر غور کر رہے تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹویٹ میں سیز فائر کی بحالی کو بھارت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے لئے فضا قائم کرنے کی مزید پیش رفت قرار دیتے ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اس اتفاق رائے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ وہ خطے میں امن کے فروغ کے لیے اسے ایک اہم قدم قرار دیتے ہیں۔یہ درست ہے کہ اگر بھارت مخلصانہ انداز سے اس پر عمل کرے تو یہ اتفاق رائے ایک اچھا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔اس سے پہلے معید یوسف نے ایک بھارتی میڈیا ادارے ’’دی وائر‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے لیے ایک پیغام بھیجا ہے۔معید یوسف قومی سلامتی کے مشیر اور وزیرِ اعظم عمران خان کی اسٹریٹجک پالیسی پلاننگ کے بھی مشیر ہیں۔فروری 2019 میں مقبوضہ کشمیر کے قصبے پلوامہ میں ہونے والے حملے کے بعد، جس میں بھارتی نیم فوجی فورس سی آر پی ایف کے 40 اہل کار ہلاک ہو گئے تھے، دونوں ملکوں میں کشیدگی بہت زیادہ بڑھ گئی ۔ یہاں تک کہ جوہری طاقت کے حامل دونوں پڑوسی جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔

ڈاکٹر معید یوسف نے کرن تھاپر کو دیئے گئے انٹرویو میں اس بارے میں تفصیل نہیں بتائی کہ بھارت نے کب اور کس طرح مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ؟ لیکن انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ اس بات چیت میں کشمیریوں کو تیسرے فریق کی حیثیت سے شامل کیا جائے۔ انھوں نے یہ واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے مسئلے پر بھی بات چیت کے لیے تیار ہے۔جب کہ یہ بھارت کا موقف رہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں دہشت گردی کے مسئلے پر بھی تبادلہ خیال ہونا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ ہمیں بالغ النظری کے ساتھ ایک ساتھ بیٹھنا چاہیے۔ دونوں ملکوں کے درمیان دو مسئلے ہیں۔ کشمیر اور دہشت گردی۔ اور میں دونوں مسئلوں پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ پاکستان امن کے ساتھ کھڑا ہے اور ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔معید یوسف نے یہ بات بار بار دوہرائی کہ بات چیت میں کشمیریوں کو تیسرے فریق کے طور پر شامل کیا جائے اور دوسری بات یہ کہ دو پیشگی شرطیں ہونی چاہئیں یعنی بھارت ’’کشمیر کا محاصرہ ختم کرے‘‘ اور شہریت کے نئے ڈومیسائل کا قانون واپس لے۔اس قانون کے تحت غیر کشمیریوں کو بھی غیر منقولہ جائیداد خریدنے کی اجازت مل رہی ہے جس کی کشمیر کے عوام نے مخالفت کی ہے۔کیوں کہ اس سے کشمیر کی آبادی کا تناسب تبدیل ہو جائے گا۔

جنگ بندی کی پابندی کشمیرکے آر پار کے دونوں جانب شہریوں کے حق میں بھی ہے اور دونوں ممالک کے فوجی بھی گولہ باری اور فائرنگ کی تباہیوں سے بچتے ہیں۔اگر دونوں جنوبی ایشیائی ممالک اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ کسی غیر متوقع صورت حال یا غلط فہمی کے حل کے لیے دونوں ممالک کو موجودہ دوطرفہ معاہدوں اور بارڈر سیکیورٹی کے حکام کے درمیان ملاقاتوں کی راہ اپنانے کی ضرورت ہے، تو اس میں کوئی غلط بات نہیں۔ پاکستان بھی بھارت کی مکاری کا شکار ہو کردہلی پر دنیا کا دباؤ کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔وزیراعظم عمران خان کیا بتا سکتے ہیں کہ پاکستان کا یہ موقف کہاں گیا جس میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد تب تک دہلی سے کوئی بات نہیں کرے گا جب تک مقبوضہ کشمیر میں 5اگست 2019کے بھارتی اقدامات واپس نہیں لئے جاتے۔ ہاٹ لائن پر ہونے والا عسکری رابطہ کئی مہینوں سے جاری تعلقات میں بگاڑ کے بعد ہوا جو کہ مثبت پیش رفت ہے۔ مگر مسلہ کشمیر حل کئے بغیر دونوں ممالک کے درمیان یہ تمام رابطے اور معاہدے بے کار ہیں۔ جب تک مسلہ کشمیر ہے تب تک امن کا قیام ناممکن ہے۔ یہ مسئلہ دونوں ممالک میں جھڑپوں اور خطے میں کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے۔بھارت کا کشمیر پر جابرانہ قبضہ ہے۔مقبوضہ لداخ بھی کشمیر کا حصہ ہے۔ بھارت اپنی فوجی قوت اور کشمیریوں کے قتل عام سے لداخ پر کسی ملک کے ساتھ سودا بازی نہیں کر سکتا۔جب بھی عالمی دباؤ یا توجہ محسوس ہو تو بھارت عیاری اور مکاری سے دنیا کی توجہ کشمیر سے ہٹانے کے لئے پاکستان کے ساتھ بات چیت اور معاہدوں کا ذکر چھیڑ دیتا ہے۔اگر یہ سب عالمی دباؤ پر پرویز مشرف کی پالیسی اور تقسیم کشمیر کا احیاء نہیں تو پھرپاکستان بار بار بھارت کے سفارتی داؤ پیچ کا شکار ہو کر کشمیر ایشو کو پس پشت ڈالنے کی طفلانہ حکمت عملی سے کب باز آئے گا؟
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 587 Articles with 230323 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
07 Mar, 2021 Views: 132

Comments

آپ کی رائے