زور کا جھٹکا سینٹ انتخابات

(Hafsa Saqi, Islamabad)

سینٹ کے انتخابات کے بعد وزیراعظم پاکستان نے ایسا بے ربط قوم سے خطاب کیا جو ان کی بوکھلاہٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ میں ان کو رلاوں گا، انہیں چھوڑوں گا نہیں جیسے بچگانہ جملے جو ان کے منصب کے وقار کے مطابق نہیں۔ جناب والا احتساب نیب کا کام ہے اسے کرنے دیں جو آپ کے ذمہ ہے وہ کام تو کر دیں!!!!۔ وہی عمران خان جو جہاز والے جہانگیر ترین کے سپہ سالار ہے آج قوم کو رشوت اور چھانگا مانگا سیاست کے نقصانات سے آگاہ کرنے لگے۔ جیسے اس انتخابات سے ہی آپ کو فکر آخرت ہوئی اور خشیت الٰہی نے آپ دامن طاہرہ میں انگڑائی لی۔ کیا پیسے سے جب نوٹوں کی بوریاں بھر بھر کے جہاز پہ بیٹھ کر آزاد امیدواروں کی بولیاں لگائی گئی تب آپ کو احساس نہ ہوا کہ خدا دیکھ رہا ہے؟
جیسے
فقیرانہ آئے صدا کر چلے
میاں خوش رہو دعا کر چچلے

آپ نے مری لے جانے کا کہہ کر ووٹ نہ دینے پہ نا اہلی کا عندیہ دے کر اپنے اراکین سے تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنوایا ہے مگر اس انتخاب سے پہلے آپ کو جاگ نہیں أئی۔کل تک جس الیکشن کمیشن کے قصیدے پڑھے جا رہے تھے أج آپ کی نظروں میں کھٹک رہا ہے اور اس پر لا قانونیت کے فتویٰ صادر کرنے لگے۔ اور الیکشن کمیشن نے بھی سفید کورا جواب دیا کہ جو سیٹ آپ جیت گئے اس پر کوئی شکوہ نہیں لیکن جو ہار گئے اس پرغیر شفافیت کا واویلا!!!۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں ؟؟؟؟

یقیناً یوسف رضا گیلانی کے جیتنے سے حکومت کے سینے پہ سانپ لوٹ رہے ہیں لیکن سرکار ذرا نظر کرم اپنی ڈھائی سالہ کارکردگی پر بھی فرمائیں۔ حق تو یہ ہے کہ أپ کی حکومت میں مہنگائی کا جن بے قابو ہو گیا اور جس کی معاشی پالیسی کی وجہ سے ہوا اسی حفیظ شیخ کو آپ نے اس حساس سیٹ کے لئے کھڑا کردیا۔ ادھر آپ کے اپنے اراکین قومی اسمبلی آپ سے فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم پہ نالاں ہے۔ دیگر غیر منتخب لوگوں کو آپ منتخب لوگوں پر حاوی کر رہے ہیں۔ مزید سونے پہ سہاگہ یہ کہ کل تک جو آپ کی طرف سے اپوزیشن سے رابطے میں تھے اور آپ کی انگلی پکڑ کر چلا رہے تھے۔ انھوں نے اپنے ہاتھ آپ کے سر سے سرکا لئے ہیں۔نئے نئےجوان کی طرح آپ گھوڑے پر سوار تو ہوگئے ہیں لیکن ایڑھی کیسے لگانی ہیں دوڑانہ کیسے ہیں؟ بڑوں کے بغیر یہ آپ کو نہیں آرہا۔ قیادت تو ایک طرف باقی آپ کی جماعت میں سیاسی نا بالغی اور غیر سنجیدگی کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ کوئی عامر لیاقت جیسا کہہ رہا تھا میں نے صرف ٹک کا نشان لگایا ہے ۔ کوئی ون کوئی الف کہہ رہا اور کوئی دائرہ بنا کر آگیا تو کسی زرتاج گل جیسے نے دو دو نشان لگا کر پوری قوم کو لطیفے سنائے ہیں۔اور باقی رہے آپ کے کارکنان تو خدارا عرض ہے اخلاقی تربیت کا تھوڑا درس انہیں بھی دیں ۔ کوئی سیاسی لیڈروں کو جوتے مار رہا ہے کوئی گالیاں کس رہا ہے۔ اور پرسوں تو بڑے چھوٹے کی تمیز اتار کے عورت کے احترام کی تہذیب بھلا کر جو کچھ آپ کے کارکنوں نے کیا وہ ناگفتہ بہ ہے۔

16 اراکین تو ویسے آپ سے ناراض ہیں اور ثابت ہوا آپ کےنمائندے کو تو ووٹ نہیں دیا مگر آپ کی نا اہلی کے دیئے ڈراوے میں آپ کو اعتماد کا ووٹ دے دیا۔ مگر یہ تمام حالات آپ کے لئےwake up call ہونے چاہئے۔ اور اس بار حکومت کو بھی ہنی مون سے نکل کر باقی ماندہ مدت میں محنت کرنی چاہئے۔ ورنہ اگلے انتخابات کی جیت آپ کا صرف خواب بن کر رہ جائیگی۔

حکومت،سپریم کوٹ، الیکشن کمیشن اور تمام سرکاری و غیر سرکاری اداروں کو سینٹ انتخابات سے سبق لینا چاہیے کہ مسئلہ اوین بیلٹ یا خفیہ بیلٹ تک محدود نہیں بلکہ اصل مسئلہ شفافیت یے،ایمانداری ہے اور قوم کی خدمت ہے۔
تو ادھر ادھر کی نہ بات کر
یہ بتاکہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں
تیری رہبری کا سوال یے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hafsa Saqi

Read More Articles by Hafsa Saqi: 27 Articles with 8829 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Mar, 2021 Views: 137

Comments

آپ کی رائے