تخلیق اور تحقیق

(Muhammad Nasir Iqbal Khan, Lahore)

فرشتہ اجل کے ساتھ انسانوں کی روحیں پروازکرتے ہوئے آسمان پر چلی جاتی ہیں لیکن ان کامنفی یامثبت "کردار"ایک زندہ وجود کی صورت میں زمین پررہ جاتا ہے ۔"لوگ" اوران کے" روگ" تک مٹ جاتے ہیں لیکن ـ"کردار "فنانہیں ہوتا،اسلئے جوافراداپنے کردارکوداغدار نہیں ہونے دیتے انہیں دوست اور دشمن سبھی رک اور جھک کرسلام کرتے ہیں۔ جوانسان اپنے قابل قدرکرداراوروقارسے دوسروں کے قلوب و اذہان پرانمٹ نشان چھوڑجاتے ہیں ان کی قبورکومزاراوران کے اعلیٰ افکار کومشعل راہ بنالیاجاتا ہے ۔ہرآدَم زاد کی مورت مٹی کے ساتھ مٹی ہوجاتی ہے لیکن ان کی سیرت سے زندہ انسانوں کی محفلیں سیراب ہوتی ہیں۔ اِنتقال کے بعدبھی ابن آدَم کا دنیا میں ایک مختلف طرز کا سفر جاری رہتا ہے۔ہمارے آس پاس ایسے کئی انسان ہیں جوزندہ ہوتے ہوئے بھی زندہ نہیں ہیں اورکچھ افراد وہ ہیں جودہائیاں پہلے ہم سے بچھڑے تھے لیکن آج بھی ہمارادل ان کے ساتھ دھڑکتا ہے،ملک عزیزپاکستان اورافواج پاکستان کے ایک قابل قدربلکہ قابل رشک کردارکانام لیفٹیننٹ جنرل حمیدگلؒ ہے،انہوں نے اپنی "دانائی" کے بل پر افغانستان سے روس کی "پسپائی" میں جو کلیدی کرداراداکیاوہ فراموش نہیں کیاجاسکتا۔وہ ڈینگیں نہیں بلکہ اپنی سوچ سے مادروطن پاکستان کے دشمن مارتے تھے۔حمیدگل کی دعاؤں اوروفاؤں کامحورومرکزاسلام اورپاکستان تھا،وہ ہم میں نہیں رہے لیکن پاکستان کیلئے ان کی بے پایاں عقیدت و محبت آج بھی زندہ ہے ۔بے رحم موت بھی لیفٹیننٹ جنرل حمیدگل کے منفردمقام کودوام بخش گئی ،وہ ایک زندہ ضمیر ،پراعتماد ،خوددار،بیدار ،باوقاراوربارعب شخصیت تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل حمیدگل20نومبر1936ء کوپیدا ہوئے جبکہ15اگست2015ء کو78 برس کی عمر میں وہ حق رحمت سے جاملے۔صمیم قلب سے دعا ہے اﷲ رب العزت دین فطرت اسلام کے فدائی اورپاکستان کے شیدائی حمیدگل مرحوم کے اوران کی اہلیہ کے درجات مزید بلندفرمائے ۔و ہ 1956ء سے1993ء تک پاک فوج سے" وابستہ" اوردفاع وطن کیلئے" کمربستہ "رہے ،لیفٹیننٹ جنرل حمیدگل کی ریٹائرمنٹ محض ایک رسمی کارروائی تھی کیونکہ ہرفوجی کی طرح ان کا بھی پاک فوج سے رشتہ اٹوٹ تھا،وہ باوردی اوربغیر وردی دونوں صورتوں میں "ٹرسٹ وردی" تھے۔پاکستان کاہر وردی پوش اورسرفروش فوجی اورجموں کشمیرکاہرکفن پوش مجاہد حمیدگل کواپنارول ماڈل سمجھتا تھا۔لیفٹیننٹ جنرل حمیدگل کے نام اورکام سے ہم وطن متاثر جبکہ دشمن مرعوب ہوجایاکرتے تھے ۔وہ وردی اتارنے کے بعدبھی ایک منجھے ہوئے دفاعی تجزیہ کار کی حیثیت سے پاکستان اور ا فواج پاکستان کابھرپوراورکامیاب دفاع کرتے رہے۔لیفٹیننٹ جنرل حمیدگل نے زندگی میں"تخلیق "اور"تحقیق "کواپنااوڑھنا بچھونابنایا ،وہ بجا طورپرحضرت اقبال ؒ کے شاہین اورفطری طورپرانتہائی ذہین وفطین تھے۔انہوں نے زندگی میں ایک پل کیلئے بھی تقدیرکارونا نہیں رویا بلکہ اپنے تدبر اوراپنی موثر تدبیرسے اپناراستہ بنایاجبکہ دوست اوردشمن دونوں سے خودکومنوایا۔زندگی کے ہرمیدان میں کامیابیاں اورکامرانیاں ان کی منتظر تھیں، انہوں نے زندگی میں کبھی پیچھے مڑکرنہیں دیکھا تھا۔حمید گل زبردست مقرر،مدبر، منفرد اسلوب کے" مصنف "اورسچے "منصف "بھی تھے ،انہوں نے زندگی میں اپنے ہرمنصب اوربیوی بچوں سمیت ہرتعلق کے ساتھ بھرپورانصاف کیا۔اِن کی شہرہ آفاق تصنیف" ایفائے عہد"کو مختلف طبقات کی طرف سے بہت سراہا گیا۔پاکستان کی سیاسی یادفاعی قیادت میں سے جس کسی نے جنوبی ایشیاء کا"نقشہ "بدلناہے اسے لیفٹیننٹ جنرل حمیدگل کے "نقش قدم" پرچلناہوگا۔

حمید گل کی طرح جوسرفروش مادروطن کی حفاظت کے دوران بار بار موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا اوردشمن کے سینے پرمونگ دلناسیکھ جاتے ہیں توشعبہ دفاع کا انتہائی متعصب مورخ بھی اپنی کتاب کاانتساب ان کے نام کردیتا ہے ،برادراسلامی ملکوں اورچین سمیت دشمن ملک میں آج بھی حمیدگل کانام عزت وعقیدت سے لیاجاتاہے ۔پاکستان کی پاک سر زمین جہاں سونااگلتی ہے وہاں اس نے حمید گل سمیت کئی گوہرنایاب پیداکئے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل حمید گل سے کچھ افراد کی زندگی "تحریک "جیسی ہوتی ہے جبکہ موت کے بعد وہ ـ"تاریخ" بن جاتے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل حمید گل ہماری قومی تاریخ کاایک جلی عنوان ہیں جبکہ مادروطن پاکستان کے ساتھ سودوزیاں سے بے نیاز وفااوراس کے دفاع کیلئے ان کاکرداربحیثیت قوم ہماراسرمایہ افتخار ہے ۔اگراسلامیت،روحانیت ،انسانیت اورپاکستانیت کوایک ساتھ لکھیں تو تصور میں مادروطن کے باوفااورباصفامحافظ"حمید گل "کاروشن چہرہ ابھرتا ہے ۔ لیفٹیننٹ جنرل حمید گل فطری طورپرایک درویش لیکن دفاعی میدان میں انتہائی زیرک اور دوراندیش تھے،ان کے متعدد دفاعی تجزیے وقت کے ساتھ ساتھ درست ثابت ہوئے ۔حمیدگل اوصاف حمیدہ اورخدادادصلاحیتوں کے حامل تھے۔ان کی فرض شناسی اورمردم شناسی کے کئی قصے آج بھی زبان زدعام ہیں ۔لیفٹیننٹ جنرل حمید گل زندگی بھراپنے پرجوش انداز سے پاکستانیوں کو نوید سعیدسناتے اور مایوسی کے سومنات پاش پاش کرتے رہے، انہوں نے زندگی بھر اپنااوراپنے ہم وطنوں کامورال نہیں گرنے دیا ۔انہیں اپنے مخصوص دبنگ انداز سے دشمن پردھاک بٹھانے اوراسے دھول چٹانے کافن خوب آتا تھا،کاش پاکستان کے پاس ایک محمدعلی جناح ؒ اورایک حمیدگل اورہوتا۔ لیفٹیننٹ جنرل حمید گل کی قیادت میں آئی ایس آئی نے مادروطن کے مفادات کی حفاظت کرتے ہوئے کامیابی کے جھنڈے گاڑے،انہوں نے ڈی جی ایم آئی جبکہ1987ء سے1989ء تک ڈی جی آئی ایس آئی کی حیثیت سے اپنا فرض منصبی جانداراورشاندار انداز سے انجام دیااورہمارے پاک وطن کے ناپاک دشمنوں کومنطقی انجام تک پہنچایا ۔آئی ایس آئی کے ڈی جی کی حیثیت سے لیفٹیننٹ جنرل حمید گل کی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ حساس معلومات تک بروقت" رسائی" سے دشمن کوکئی بار" پسپائی "اختیار کرناپڑ ی ۔

لیفٹیننٹ جنرل حمید گل کے مقدس قومی مشن کاپرچم اب اِن کے باصلاحیت ،متحرک ،مستعد اورنیک نیت فرزندارجمند عبداﷲ گل نے مضبوطی سے اپنے ہاتھوں میں تھام لیا ہے اوروہ اپنے ٹیم ممبرز کے ساتھ حمیدگل کافلسفہ پاکستانیت نوجوانوں سمیت پاکستانیوں میں عام کررہے ہیں۔عبداﷲ گل اپنے والد حمیدگل کا پارٹ ٹو ہیں ، عبداﷲ گل کاپاکستان کیلئے جوش وجذبہ اورجنون دیکھیں توحمیدگل کاعہدشباب یادآجاتا ہے۔عبداﷲ گل اپنے والدحمید گل کی زندگی میں ان سے جوکچھ سیکھتے رہے وہ آج اُن کی" تحریروں" اور"تقریروں" سے جھلک اورچھلک رہا ہے۔کسی سیمینارسے خطاب یاٹاک شوزمیں گفتگوکرتے ہوئے عبداﷲ گل کو جذبات کی رومیں بہنا نہیں آتا بلکہ وہ زمینی حقائق کی روشنی میں سنجیدہ اورتعمیری بات کرتے ہیں۔حمید گل کی طرح عبداﷲ گل کی باتوں میں بھی ہم وطنوں کیلئے" امید"اور"نوید" کارازپنہاں ہوتا ہے ۔جس عبداﷲ گل کی تعلیم وتربیت حمیدگل نے کی ہواس کے ہوتے ہوئے پاکستانیت پرآنچ نہیں آسکتی۔ لیفٹیننٹ جنرل حمید گل اپنے فرزند ارجمند عبداﷲ گل کیلئے جوسمت متعین کرگئے تھے وہ انتہائی استقامت کے ساتھ اسی راہ حق پراپنے قدم بڑھارہے ہیں ۔ لیفٹیننٹ جنرل حمید گل کی تربیت اورصحبت نے عبداﷲ گل کی صلاحیت اورقابلیت کوچارچاندلگادیے ۔ تحریک جوانان ِ پاکستان کے مرکزی چیئرمین عبداﷲ حمید گل کواسلامیت اورپاکستانیت اپنے والد لیفٹیننٹ جنرل حمید گل سے ورثہ میں ملی ہے ،وہ پاکستان کے نوجوانوں میں پاکستانیت کے فروغ اورانہیں دفاع وطن کیلئے متحدومنظم کرنے کیلئے کوشاں ہیں ، پاکستان کاہر نوجوان عبداﷲ گل کے کارواں میں شریک ہونا اپنااعزازسمجھتا ہے۔صوبائیت اورمنافرت پر کاری ضرب لگانا جبکہ پنجاب سمیت چاروں صوبوں کے محب وطن نوجوانوں کواسلامیت ، روحانیت اورپاکستانیت کی بنیاد پرآپس میں جوڑنا عبداﷲ گل کے نزدیک ان کافرض اوران پرمادروطن کاقرض ہے۔عبداﷲ گل پاک فوج میں نہیں رہے لیکن ان کی رگ رگ میں پاک فوج کے ایک پروفیشنل ، نڈر اورانتھک جرنیل کاخون دوڑتا ہے ، پاکستان اورپاک فوج کی نیک نامی کیلئے عبداﷲ گل کی" استدلال" اور"استقلال "سے بھرپورترجمانی قابل رشک ہے۔ پاک فوج ایک خاندان ہے اورعبداﷲ گل اس کاحصہ ہیں۔ قائدؒ سمیت اپنے باپ دادا کے نظریات پرکاربندعبداﷲ گل سے پرعزم نوجوان پاکستان کامستقبل اورہماری یوتھ کاآئیڈیل ہیں۔پاکستان کاہرطبقہ حمید گل کی طرح ان کے فرزند عبداﷲ گل کوبھی پسندکرتااوران کے مثبت طرز سیاست کوسراہتا ہے ۔آج بدقسمتی سے پاکستان میں ہر طرف" مالیاتی "سیاست کادوردورہ ہے وہاں عبدا ﷲ گل کی خوب صورت شخصیت ملک میں ناپیدہوتی "نظریاتی" سیاست کیلئے تازہ ہواکاجھونکا ہے، دعا ہے ہماری ریاست اورقوم عبداﷲ گل کی صورت میں نوجوان قیادت سے مستفید ہو۔نظریہ پاکستان کی آبیاری کے ساتھ ساتھ ایٹمی ریاست کی سا لمیت کیلئے نظریاتی سیاست کاعلم بلند اورنوجوانوں کوشریک اقتدارکرناہوگا۔


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Nasir Iqbal Khan

Read More Articles by Muhammad Nasir Iqbal Khan: 86 Articles with 27492 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Apr, 2021 Views: 408

Comments

آپ کی رائے