ڈر سے بچے کو ماں نے صندوق میں بند کر کے دریا میں چھوڑ دیا تھا اور پھر ۔۔ 2 رمضان کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ﷲ تعالیٰ کی طرف سے کیا تحفہ دیا گیا تھا؟

 
ایک نومولود صندوق میں بند، دریا میں بہتے ہوئے بچے کا زندہ بچ جانا معجزہ نہیں تو کیا ہے؟ لیکن اس بچے کو ابھی رب پاک نے اور بہت سے معجزوں سے نوازنا تھا۔
 
دیائے نیل میں صندوق کے اندر بہتا یہ بچہ حضرت موسیٰ علیہِ السّلام تھے جنھیں اس وقت مصر کے حکمران فرعون رعمیس دوم نے قتل کرنے کا حکم دیا تھا اور اسی ڈر سے بچے کی ماں نے اسے صندوق میں بند کرکے اللہ کے سپرد کرتے ہوئے دریا میں چھوڑ دیا۔ اللہ کی شان دیکھیے وہ بچہ جسے ظالم حکمران مارنا چاہتا تھا وہ بہتے بہتے اسی کے گھر اس کی بیوی آسیہ کو مل گیا۔ بچےکی خوبصورتی دیکھتے ہوئے آسیہ نے اسے پالنے کا فیصلہ کیا۔
 
اللہ سے ہم کلام ہونے کا شرف
بچہ محل میں پلتے پلتے جوان ہوگیا اوراس کا نام موسیٰ رکھا گیا۔ ایک دن جب موسیٰ علیہِ السّلام  سفر میں آگ لینے کوہِ طور پہنچے تو اللہ نے ان سے کلام کیا اور نبوت کی خوشخبری دی۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہِ السّلام  واپس محل پہنچے اور فرعون کو اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دی اور لوگوں پر ظلم و ستم کرنے سے روکا جو فرعون نہ مانا اور حضرت موسیٰ علیہِ السّلام  کا پیچھا کرنے اور قتل کے ارادے سے دریائے نیل میں سفر کرنے کے بالآخر عذابِ الیٰ کے تحت سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوگیا۔ اللہ سے ہم کلام ہونے کا شرف ملنے پر حضرت موسیٰ علیہِ السّلام  کو “کلیم اللہ “ کا لقب حاصل ہوا۔
 
 
حضرت موسیٰ علیہِ السّلام  کو ملنے والے معجزات
حضرت موسیٰ علیہِ السّلام  کو اللہ نے بہت سے معجزات سے نوازا جن کا زکر قرآن مجید میں بھی موجود ہے۔ ان معجزات میں حضرت موسیٰ علیہِ السّلام  کا ہاتھ چمکنے لگنا، عصا(لاٹھی) کا اژدھے میں تبدیل ہوجانا، دریائے نیل کا دو حصوں میں تقسیم ہو کر آپ کے لئے راستہ بنانااور توریت کا نزول شامل ہیں۔
 
2 رمضان، توریت کے نزول کا دن ہے
توریت اللہ کی بھیجی گئی چار الہامی کتابوں میں سے ایک ہے۔ جس کا نزول حضرت موسیٰ پر علیہِ السّلام 2 رمضان کو ہوا۔ توریت کے معنی “قانون“ کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمام الہامی کتابیں رمضان کے مبارک مہینے میں ہی نازل فرمائیں۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
14 Apr, 2021 Views: 1591

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ