رواں دواں فرید پراچہ

(Tanvir Sadiq, Lahore)

جماعت اسلامی کے نائب امیر جناب فرید احمد پراچہ سے میرے تعلقات پانچ صدیوں پر محیط ہیں۔ انتہائی سادہ دل، درویش، ملنسار اور ہر وقت مسکرا کر خوش آمدید کہنے والے انتہائی نفیس آدمی ۔ میں ہمیشہ ان کی شفقتوں اور محبتوں کا قائل رہا ہوں۔ان کی تازہ ترین شفقت ان کا اپنی نئی خوبصورت کتاب ’’عمر رواں‘‘ کا محبت بھرا تحفہ ہے۔ شاندار کتاب جو پراچہ حاحب کی داستان حیات کے قیمتی لمحوں کی یاد داشتوں کے ساتھ ساتھ تاریخ بھی ہے، پراچہ صاحب کی ذاتی زندگی کی تاریخ، پچھلی کئی دہائیوں کی طلبا تحریکوں کی تاریخ،جماعت اسلامی کی تاریخ۔جہاں جہاں وہ رہے ان علاقوں کی ان کے قلم سے خوبصورت منظر کشی ۔ پراچہ صاحب کا لکھنا اور بولنا دونوں ہمیشہ ہی سے بے مثل ہیں جس کا میں زمانہ طالب علمی سے قائل ہوں۔زمانہ طالب علمی میں مجھے یاد ہے آپ بے تھکن بولتے تھے۔ اتنے خوبصورت فقرے اور دبنگ انداز، آپ کو جلسے میں موجود لوگوں کا دل موہ لینے کا فن آتا تھا۔

اس کتاب میں بھی ان کے جوہر بڑے نمایاں ہیں۔لکھنے کا انداز اس قدر پرکشش ہے کہ آدمی کتاب کی ابتدا کر لے تو چھوڑنے کو جی نہیں چاہتا۔ آپ کی یاد داشت بھی بہت خوب ہے۔ اتنے سارے لوگوں کو یاد رکھنا اور ان کا نام لے کر ذکر کرنا اس عمر میں ایک اوسط درجے کے ذہانت والے میرے جیسے شخص کے لئے ایک بہت مشکل کام ہے۔پراچہ صاحب کے بیان کردہ کچھ ادوار وہ بھی ہیں جب میں ذاتی طور پر بہت متحرک تھا اور مجھے وہ جدوجہد کا شاندار دور ذہن کی سکرین پر بڑا نمایاں نظر آرہا ہے۔ شاید انہیں یاد نہ ہو کہ میں اچھرہ اور مزنگ میں ان کا ایک انتہائی فعال کارکن تھا۔بہت خوب دن تھے اب نہ وہ ورکر ہیں نہ وہ لیڈر۔ پچھلے دنوں ایک ضمنی انتخاب میں اس حلقے سے جس میں مزنگ بھی شامل ہے جماعت کے امیدوار نے کل پانچ سو ووٹ لئے تو میں سوچ رہا تھا کہ حلقہ تو بہت بڑا ہے ۔ایک وقت تھا کہ میں صرف مزنگ ہی سے اکیلا پانچ سو سے زیادہ قربانی کی کھالیں اکٹھا کر لیتا تھا۔ نواز لیگ کے ساتھ اشتراک کا نقصان یہ ہوا کہ ہمارے ساتھیوں نے ان کی الیکشن مہم چلائی اور جواب میں انہوں نے لوگوں کو خوب نوازا۔ پھر ہمارے ورکر ہمارے نہ رہے یہ بھی اس دور کا اک عظیم المیہ ہے۔

پراچہ صاحب نے اپنی جماعت اسلامی میں باقاعدہ شمولیت کا YMCA میں ہونے والے اجلاس کا ذکر کیا۔بہت زوردار اجلاس تھا۔ اس کے لئے اخباروں میں باقاعدہ اشتہار دئیے گئے کہ یونیورسٹیوں کے چھ صدور اور دیگر طالب علم رہنما جماعت اسلامی میں شمولیت کریں گے۔ اتفاق سے ان چھ صدور میں میرے سمیت کچھ دوسرے نام بھی شامل تھے جو کسی مصلحت کے تحت کتاب میں درج نہیں کئے گئے۔ گو اس مجلس میں عملاً پراچہ صاحب کی شمولیت ہی محفل کی روح تھی ، ہماری شمولیت تو واجبی سی تھی مگر اﷲ کا احسان ہے کہ جماعت مجھ میں یوں شامل ہے کہ گھر میں ایک ایسے شخص، میرے بہنوئی جہانگیر بدر، کی موجودگی جو ایک بڑی سیاسی پارٹی کا روح رواں تھے ، کے باوجودآج تک ہم بھائیوں نے جماعت کے علاوہ نہ تو ووٹ کسی دوسری پارٹی کو دیا نہ دینے کا سوچا۔قربانی کی کھالیں میں اب اکٹھی تو نہیں کرتا مگر ہم بھائیوں سے جماعت کے سوا کوئی کھال وصول کرنے کی سوچتا بھی نہیں۔

اچھرہ کی تنظیم جناب پراچہ صاحب اور میاں مقصود کی قیادت میں بڑی فعال تھی۔ برادرم میاں عثمان سے لے کر زاہد مسعود ناصر تک جن لوگوں کا ذکر آیا وہ بے مثال اور انتھک ورکر تھے۔

ان کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ ان میں بہت سے اب اس دنیا میں نہیں مگر ان سب سے میرا ذاتی تعلق رہا۔ پراچہ صاحب آپ کو یاد ہو گا، جناب چوہدری رحمت الہی صاحب کی الیکشن مہم کی ابتدا میرے گھر کی کارنر میٹنگ سے ہوئی تھی۔ آپا نثار فاطمہ میرے گھر میں درس قرآن دیا کرتی تھیں۔، میری اہلیہ ،آپ کی مرحومہ بیگم، بیگم میاں عثمان اور دیگر خواتین اپنے شعبے میں بہت فعال تھیں، اکٹھے کام کرتیں اور ان کے آپس میں گہرے تعلقات تھے۔آپ نے ایک دفتر کی بات کی تو مجھے یاد ہے اس دفتر میں، میں بہت سی مہریں بنوا کر لایا اور پھر کرنسی نوٹ ان کی زد میں تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نوٹوں پر پابندی لگ گئی۔ پراچہ صاحب آپ کی خود نوشت نے مجھے بڑے پرانے دور اورمیری جوانی دونوں کی یاد دلا دی۔
 
مجھے ایک بار پھر مختار مسعود کا ایک واقعہ یاد آرہا ہے۔ لکھتے ہیں کہ کوئی نو آبادی آزادی کی جنگ لڑ رہی تھی۔ ایک آدمی بہت بے جگری سے آزادی کے لئے لڑا اور ایک لڑائی میں اس کی ایک ٹانگ ضائع ہو گئی۔ اس کے بعد وہ دشمنوں سے جا ملا۔ چند دن بعد جب آزادی ملی تو لوگوں نے اپنے ہیروز کے مجسمے بنا شہر بھر کے چوکوں میں لگا دییے۔ جب اس شخص کا ذکر ،جس نے ٹانگ کٹوائی تھی، ہوا تو فیصلہ ہوا کہ کہ چونکہ وہ بدل گیا تھا مگر اس کی قربانیاں بے پناہ تھیں اس لئے مکمل شخص کی بجائے اس کی ایک ٹانگ کا مجسمہ چوک میں نصب کر دیا جائے۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ وہ تمام لوگ جو جماعت کو چھوڑ گئے یا غیر متحرک ہو گئے آپ نے ان کا ذکر ہی نہیں کیا۔جب سفر لمبے ہوں تو بہت سے لوگ تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں، کچھ راستہ بدل لیتے ہیں ۔ کچھ تیز رفتار لوگوں کی اڑائی ہوئی دھول میں غائب ہو جاتے ہیں۔ اس حوالے سے کچھ تشنگی محسوس ہوتی ہے کہ جہاں آپ نے ہزاروں نام لکھے وہاں مکمل ذکر نہ سہی۔ ایسے لوگوں کے لئے کوئی ٹانگ نما اشارہ ان کے نام بھی ہو جاتا تو بہت سے اور لوگ بھی تاریخی حوالے سے آسودگی پاتے۔بہر حال پراچہ صاحب کی زندگی پر محیط یہ کتاب ان کی ذاتی، تحریکی اور پالیمانی زندگی کی بھرپور عکاس ہے جس میں الفاظ کی سادگی اور کشش قاری کی دلچسپی کہیں ختم نہیں ہونے دیتی۔ دعا ہے کہ پراچہ صاحب یوں ہی رواں دواں رہیں اور لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرتے رہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 449 Articles with 245654 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
18 May, 2021 Views: 926

Comments

آپ کی رائے