امریکہ بہادرکی شکست اور پاک افغان صورتحال

(راجہ منیب , Rawalpindi)

افغانستان کی عوام مسلسل چالیس سال سے اپنے اور غیروں کے وار سہتے چلے آرہے ہیں۔افغانستان پر پہلے روس نے قبضہ کیااس کے امریکہ نے نائن الیون کے بہانے اس پر ہلہ بول دیا۔دونوں ہی بڑی طاقتوں نے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔جنوبی ایشیاء کا امن افغانستان کے امن و استحکام کیساتھ جڑا ہے۔ گزشتہ چالیس برسوں سے افغان عوام کی تین نسلیں نامساعد حالات، مایوسی و بے یقینی کے ساتھ پل رہی ہیں جس کے مضر اثرات سے پورے خطے کے مستقبل کو خطرات کا سامنا ہے، اس کی ذمے داری یکساں طور پر تمام حملہ آوروں پر عائد ہوتی ہے ۔ہم کہتے تھے کہ امریکی فوج افغانستان سے نکل جائے تو خطہ میں امن بحال ہو جائے گا۔مگر جب امریکہ نے فوجوں کو نکالنا شروع کیا تو پاکستان میں سب نے چلانا شروع کر دیا کہ امریکہ کو ایک دم اپنی فوجیں نہیں نکالنا چاہئیے۔بدلے بدلے سے میرے سرکار نظر آتے ہیں کے مصداق اب تو بہت غصے میں طالبان نظر آتے ہیں اور طالبان نے افغانستان کے مختلف علاقوں پر دھڑادھڑ قبضہ شروع کر دیا۔ دو دہائیوں تک امارات اسلامیہ افغانستان میں امریکی فوج اپنا راج کرنے کے بعد ناکام ہوکر بے مروتی سے شکست خردہ حالت میں بھاگ رہی ہے۔ امریکیوں نے افغان کٹ پتلی حکومت کو اس قابل نہیں سمجھا کہ اس کو اپنی روانگی سے آگاہ کر رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاکر بھاگ رہی ہے۔امریکہ جس طرح افغانستان سے ناکام و نامراد بھاگ رہا ہے اس سے ویت نام کی امریکی ناکامی کی یاد تازہ ہوگئی۔ادھر دوسری طرف طالبان کی پیش قدمی جاری ہے۔اور افغان فوجی طالبان کے سامنے ہتھیار پھینک کر بھاگ رہے ہیں۔طالبان امریکی انخلا میں رکاوٹ بنے بغیر امریکیوں کو بھاگنے دے رہے ہیں۔افغانستان میں جیسے جیسے لڑائی میں شدت آٗے گی ویسے ویسے خطہ میں امن کو درپیش خطرات میں اضافہ ہوگا۔امریکی ایجنسیوں کے مطابق امریکہ فوج کے جاتے ہی چھ ماہ کے اندر افغان حکومت تبدیل ہوجائے گی مگر ہمارے خیال سے ایک یا دو ماہ ہی لگیں گے امریکہ بہادر کی شکست کے بعد طالبان کو امارات اسلامیہ افغانستان میں حکومت بنانے میں ۔کیونکہ افغان نیشنل فوج کومار سے بچنے کے لیے لوسی کتے کی طرح بھاگ رہی ہے۔اب رہی بات امریکہ بہادر کی کہ وہ بہت سے جنگی جرائم سے کیسے بری الذمہ ہوسکتا ہے۔ ؟؟ امریکہ کہ مطابق بیس سال میں چوبیس لاکھ لوگ مارے گئے۔ سات لاکھ سول ، چوبیس سو امریکی ، سات لاکھ افغان فوجی و پولیس اور آٹھ لاکھ طالبان۔امریکہ بہادر کو سوچنا چاہیے کہ اس کو کیا فائدہ ہوا اس سب خانہ جنگی کا؟

امریکہ ایک مرتبہ پھر افغانستان میں غلطیاں دہرا رہا ہے۔ لگ بھگ دو دہائیاں جنگ میں گذارنے کے بعد وہاں سے نکلتے ہوئے ایک مرتبہ پھر افغانستان کو جنگ میں دھکیلنا چاہتا ہے۔ صرف افغانستان ہی نہیں بلکہ پاکستان کے امن کو خراب کرنے کے لیے بھی بذریعہ بھارت کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ پاکستان نے گذشتہ بیس برس میں پرامن دنیا کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں لیکن اس کے باوجود امریکہ کا افغانستان سے نکلتے ہوئے بھارت کی طرف جھکاؤ واضح کرتا ہے کہ دنیا کے امن کے لیے پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کا غیر جانبدار رہنا امریکہ کو کھٹک رہا ہے۔ اب ایک مرتبہ پھر حالات خراب ہو رہے ہیں کیونکہ امریکہ معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ کچھ بھی معمول اور طے شدہ چیزوں سے ہٹ کر ہوا تو سب کا نقصان ہو گا۔امریکہ کی طرف سے معاہدے کی خلاف ورزی سے فریقین کے مابین کشیدگی آئے گی اور امریکہ اس کشیدگی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔ غیر ملکی میڈیا کی طرف سے مسلسل پاکستان پر افغان طالبان کی مدد و معاونت کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ پاکستان باخبر ہے کہ امریکہ کیا کھیل کھیل رہا ہے۔ میڈیا کے ذریعے بحث کا رخ موڑنا، لوگوں کی توجہ تقسیم کرنا اور رائے عامہ ہموار کرتے کرتے امریکہ بہادر اپنی کارروائی مکمل کرنے کی کوشش کرے گا۔ امریکہ یہ سارے کام اپنی ناکامی چھپانے کے لیے کر رہا ہے۔ حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ امریکہ کی موجودگی کے دوران ہی افغانستان میں بنیادی ڈھانچے کی تشکیلِ نو میں ناکامی اور دیگر معاملات بہتر انداز میں نہ چلائے جانے کی وجہ سے بھی مقامی لوگوں کا بہت نقصان ہوا ہے۔ اب امریکہ پھر من مانی کرے گا تو حالات مزید خراب ہوں گے۔ کیا خانہ جنگی کے سبب ایک مرتبہ پھر افغانستان سے بڑی تعداد میں لوگوں کی نقل مکانی پر مجبور ہوجائیں گے؟ اور اگر افغانستان میں سیاسی عدم استحکام کی لہر آئی تو اس کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ سوال بھی ہنوز جواب طلب ہے کہ غیر ملکی فورسز کے انخلا کے بعد افغانستان میں قوت حاکمہ کس کے پاس ہوگی،اقتدار اور طاقت کے مراکز پر کون قابص ہوگا، کیا طالبان اور افغان حکومت مفاہمت کے تحت معاملات حال کرلیں گے یا یہ خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کریں گے؟ ماضی کی مثالیں سامنے ہیں جب روس کے افغانستان سے چلے جانے کے بعد حالات کسی کے قابو میں نہیں رہے تھے اور مجاہدین آپس میں لڑنے لگے تھے۔ ایسے حالات میں عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ جانی نقصان زیادہ ہوتا ہے اور ملک کا انفرا سٹرکچر بھی تباہ ہوتا ہے۔غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد کیا ہو سکتا ہے اور اس کے افغانستان اور پڑوسی ممالک پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں، یہ جانچنے کے لیے پہلے افغانستان کی موجودہ صورت حال کاجائزہ لینا ضروری ہے ذرائع کے مطابق اس وقت افغانستان میں خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔عوام اور خواص ایک انجانے خوف میں مبتلا ہیں۔ماضی کے حالات کی روشنی میں مستقبل ایک ڈراؤنے خواب کی مانند معلوم ہوتا ہے۔ انخلا سے پہلے افغانستان میں کسی حد تک سیاسی سطح پراستحکام پیدا ہو گیا تھا،افغانستان میں کوئی بھی دھڑا طاقت میں آئے یا عالمی سطح پر جیسی بھی افغان پالیسی سامنے آئے، اس کے اثرات ہمسایہ ممالک خاص طور پر پاکستان پر ضرورت پڑتے ہیں۔غیر ملکی اخبارات میں شائع ہونے والے بعض مضامین سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعدافغانستان میں خانہ جنگی کے اشارے مل رہے ہیں۔امریکہ کو پاکستان کے خودمختاری کے سفر پر چلنے کی کوشش ایک بار پھر اچھی نہیں لگی ہے جو وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے امریکہ کو افغانستان کی مانیٹرنگ اور شر پسندوں کے خلاف ڈرون حملوں کے لئے مانگے گئے اڈوں پر انکار کی صورت میں کی گئی ہے۔گو کہ پاکستان میں امن کو قائم رکھنے کے لئے یہ حکومت کا اہم اور اچھا فیصلہ ہے ۔افغانستان میں امن پاکستان کے بہتر مفاد میں ہے، اسی لئے پاکستان وہاں مستقل قیام امن کے لئے بھرپور کوششیں کررہا ہے۔افغانستان میں مکمل استحکام اور امن کے قیام کے لئے عالمی برادری کی حمایت سب سے ضروری امر ہے۔خطے کے کچھ عناصر افغانستان میں امن عمل کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں۔افغانستان میں امن کے قیام کا سب سے بڑا دشمن بھارت ہے جس سے متعلق پاکستان دنیا کے سامنے اہم دستاویزات پیش کرچکا ہے۔بھارت شروع سے پاکستان اور افغانستان کے مابین خوشگوار تعلقات کو خراب کرنے کے لئے پراکسیز کا استعمال کرتا آرہا ہے۔بھارتی میڈیا واویلا مچا رہا ہے کہ بھارت اور افغان طالبان کے مابین بات چیت اب شروع ہوگئی ہے اور اب پاکستان کے خلاف وہ اپنی پراکسیز کا استعمال بخوبی کرے گا۔سب سے زیادہ بھارت مشکل سے دو چار ہے، بھارت نے افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ عدم استحکام ہوا اور طالبان کا غلبہ ہوا تو بھارتی سرمایہ کاری کا کیا بنے گا۔ افغانستان کی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے۔ ان حالات میں پاکستان کے سیاسی قائدین کو اتحاد کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان نے اسوقت ۳۰ لاکھ کے قریب افغان مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے، افغانستان کے ساتھ ۲۵۰۰ کلومیٹر طویل بارڈر پر باڑ لگانے کا منصوبے پر تقریبا ۹۰ فیصد کام مکمل کرچکا ہے۔پاکستان خطے میں اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن اور بھائی چارے کے تعلقات کا سب سے بڑا حامی ہے خصوصا برادر ملک افغانستان کے ساتھ جبکہ راء این ڈی ایس کی ملی بھگت کے ساتھ پاکستان کے اس نظرئیے کو نقصان پہنچا رہا ہے۔امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے پاکستان کی افغان امن کوششوں کی تعریف کی ہے۔برطانوی دفاع کے سربراہ سر نکولاس کارٹر نے پاکستان کی خطے میں استحکام کے لئے کوششوں کو سراہا ہے۔افغانستان میں امن کے قیام کا مطلب پاکستان میں امن کا قائم ہونا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے افغانستان میں کارروائی کیلئے امریکا کو اڈے دینے سے صاف انکار ہے۔افغان راہنماوں کے مابین اتحاد و اتفاق کے فقدان کی وجہ سے افغان امن عمل کو کافی نقصان پہنچا ہے، ان کو حالات کا صحیح ادراک کرنا ضروری ہے۔ اب عمران حکومت یہ اڈے دوبارہ امریکہ کو نہ دینے پر ڈٹ گئی ہے اور یہی ہمارے لئے آزمائش کے مراحل ہیں کیونکہ طالبان نے افغانستان سے مکمل امریکی انخلاء کیلئے اپنی مزاحمت تیز کردی ہے اور کابل انتظامیہ کو عملاً بے بس کر دیا ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق طالبان اور کابل انتظامیہ میں مار دھاڑ جاری ہے۔ دونوں جانب سے سینکڑوں ہلاکتوں کے دعوے چل رہے ہیں اور طالبان آدھے سے زیادہ افغانستان پر قابض ہو چکے ہیں۔ آئندہ ستمبر تک افغان دھرتی پر کیا قیامت ٹوٹتی ہے‘ اسکی تو آنیوالے لمحات میں پل پل خبر ملتی رہے گی مگر ہم پر یہ افتاد ٹوٹنے والی ہے کہ 70ء کی دہائی سے موجود افغان مہاجرین کی موجودگی میں ہی ہم نئے افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھانے کو بھی مجبور ہونگے۔ امریکہ نے ہمیں فرنٹ لائن اتحادی والا صلہ نہیں دیا تو اب وہ ہماری نئی مجبوری کا تماشا ہی دیکھے گا۔اللہ تعالی کا شکر ہے کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہے جو مختلف چیلنجزز سے گزرتا ہوا آج اہم موڑ پر پہنچ چکا ہے ۔الحمدللہ آج ہمارا دفاع ناقابل تسخیر ہے۔ ایٹمی قوت کے ساتھ ساتھ ہماری بہارد افواج اپنی سرحدوں کی حفاظت کی خاطر ہر قربانی دے رہی ہے ۔ ایک وقت آتا ہے جب قومیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرتی ہیں مجھے لگتا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے پاکستان کا وہ وقت آچکا ہے ۔ دنیا سویت یونین کا ٹوٹتا دیکھ چکی ہے ۔ عراق کے بعد افغانستان سے ناکامی سے دوچار امریکہ کی مصنوعی بہادری بھی افلاک عالم کے سامنے عیاں ہو چکی ہے ۔ آج امریکہ نہ صرف معاشی طور پر کمزور ہو چکا ہے بلکہ اندرون امریکہ نسل پرستی کی بنا پر قتل و غارت میں غیر متوقع اضافہ ہو چکا ہے ۔اسرائیل کا بھارت کا ساتھ دے کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا خواب چکنا چور ہو چکا ہے۔ قوم کو ایک بات کا خیال رکھنا پڑے گا کہ خودداری اور خودانحصاری کی منزل اتنی اسانی سے حاصل نہیں ہوتی ۔ ہمیں مشکل دور اور متعدد عالمی پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے ۔ یاد رکھیں بہتر مستقبل اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک نسل کو قربانی دینی پڑتی ہے ۔ ہمیں اپنے ملکی وقار کی خاطر اپنے اداروں کی قدر کرنی ہو گی جنکی قربانیوں کی وجہ سے بھارت امریکہ اور اسرائیلی ایجنڈے پر پاکستان میں قتل و غارت کا بازار گرم کیا گیا تھا خودکش بم دھماکوں سے ہمارے ملک میں افراتفری اور ذہنی کوفت کا شکار کیا گیا۔ آج الحمداللہ مشرقی باڈر پر باڑھ کے ساتھ ساتھ مغربی بارڈر پر باڑھ لگانے کا عمل حتمی مراحل میں ہے اور عنقریب مکمل ہو جائے گا۔ یقننا اس کے بعد ملکی سالمیت کو لاحق خطرات مزید کم ہو جائیں گے ۔ پاکستان کی مثالی حکمت عملی کی وجہ سے آج سارے ناکام اور نامراد ہو چکے ہیں ۔ خودانحصاری کی طرف سفر میں پاکستان کو امریکہ اور اسکے اتحادی ممالک کی جانب سے فیٹف ، معاشی،اقتصادی، تجارتی اور دفاعی تعاون سمیت دیگر پابندیوں کا سامنا ہو سکتا ہے ۔ امریکہ نواز اندرونی اور بیرونی دشمنوں کو پاکستان مخالف ایجنڈے کا ٹاسک مل سکتے ہیں ۔ کئی حکومت مخالف تحریکوں کا آغاز ہو سکتا ہے لیکن یہ تمام حربے پاکستانی قوم کے سامنے ناکارہ ہو جاہیں گے ۔انشاءاللہ۔ ملکی دفاع، ترقی اور سالمیت کی خاطر اپنے اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہے

امریکی فوج کے انخلاء کے بعد افغانستان کے حالات کو پرامن اور معمول پر رکھنا ایک مشکل ٹاسک ہوگا۔افغانستان کے طول و عرض میں طالبان کی صف بندی ایک مرتبہ پھر نئے سرے سے ہو رہی ہیں۔افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد اس کے مستقبل کے بارے میں عالمی سطح پر یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا افغان طالبان دوبارہ وہاں قابض ہونے والے ہیں اور کیا وہاں دوبارہ 90 کی دہائی والے حالات پیدا ہونے جا رہے ہیں؟ ۔افغانستان سے غیر ملکی افواج کے کامل انخلاء کے بعد اگر اس ملک میں خانہ جنگی شدت سے پھوٹ پڑی تو ممکنہ طورپر کتنے لوگ دیگر ممالک کا وہاں پناہ لینے کی خاطر رخ کریں گے۔پاکستان اس ضمن میں اہم ترین شمار ہوتا ہے۔اس حقیقت کو نگاہ میں رکھتے ہوئے اندازہ لگایا گیا ہے کہ کم از کم شروع میں دو یا تین اور بعد میں کل ملا کر پانچ یا دس لاکھ افغان ہمارے ہاں آنا چاہیں گے۔مگرہمارے عوام کی اکثریت افغان مہاجرین کی آمدسے خفا رہی۔کہ ان کی وجہ سے ہمارے ملک میں بدامنی پھیل رہی ہے۔خونی اسلحہ اور منشیات پاکستان کے ہر شہر میں بآسانی دستیاب ہونا شروع ہوگئے ہیں۔چند افغان گروہ ہمارے ہاں مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینے کا سبب بھی ہیں۔اب بہت سے عالمی ادارے یہ جاننے کو بے چین ہیں کہ پاکستان افغان مہاجرین کے ایک اور ممکنہ سیلاب کی بابت کیا رویہ اختیار کرے گا۔انہیں یہ خوف لاحق ہے کہ پاکستان اب کی بار ماضی والی کشادہ دلی نہیں دکھائے گا۔کشادہ دلی نہ برتی گئی تو چمن اور طورخم کے اس پار افغان شہریوں کے ہجوم جمع ہوجائیں گے۔مگر پھر بھی میرا ماننا ہے کہ پاکستان کو کسی صورت بھی افغانیوں کو پناہ نہیں دینی چاہیے کیونکہ اب پاکستان اور علاقہ غیر کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔۔ہ پاکستان کی بنیادی خواہش یہ ہوگی کہ مہاجرین کے ممکنہ سیلاب کو پاکستانی سرحدوں کے اس پار افغان سرزمین ہی کے چند علاقوں کو عالمی برادری کی بھرپور معاونت سے ’’محفوظ‘‘ بناکر وہیں تک محدود رکھا جائے۔

پاکستان کی اب یہ خواہش ہے کہ افغان مہاجرین کے ممکنہ سیلاب کو ڈیورنڈ لائن کے اس پار افغان سرزمین تک ہی محدود رکھنا اگر ممکن نہ رہے تو ہم اس بار افغان مہاجرین کے بارے میں ایرانی حکومت جیسا رویہ اپنائیں۔اس خواہش پر حقیقی عملدرآمد پاکستان کے مخصوص سیاسی اور ثقافتی ماحول کی وجہ سے غالباََ بہت دشوار ہوگا۔ہمارے ہاں گزشتہ چند برسوں سے پشتون قوم پرستی کی ایک نئی تحریک یا جماعت بھی ابھری ہے جو ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب آباد افغانوں کو’’ایک‘‘ پکارتی ہے۔یہ پشتون تحفظ موومنٹ پاک افغان سرحد پر لگائی باڑ کی بھی مخالف ہے۔ہماری حکومت کو افغانستان سے ممکنہ طورپر آئے مہاجرین کے نئے سیلاب کے بار ے میں حکمت عملی تیار کرتے ہوئے اس پشتون تحفظ موومنٹ کی بھی پرواہ کیے بغیر فیصلہ کرے کہ افغانیوں کے لیے پاکستان کے دل میں تو جگہ ہے مگر گھر یا زمین میں نہیں کیونکہ ان فسادیوں کی وجہ سے ہی پاکستان کو آپریشن ردالفساد کرنا پڑا کیونکہ بھارتی دہشت گردی کا راستہ افغانستان سے ہوکر ہی پاکستان تک آتا ہے۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر یہ بات کلیئر ہے کہ افغانستان میں خونریزی میں اضافہ ہو گا اور اس خونریزی کے اثرات سے سب سے زیادہ ایک بار پھر پاکستان ہی متاثر ہو سکتا ہے، وسطی ایشیائی ریاستیں نقل مکانی کر کے آنے والوں کیلئے پہلے ہی انکار کر چکی ہیں بلکہ بعض ریاستوں نے تو سرحدوں پر باقاعدہ فوج بھی تعینات کر دی ہے ایران کی طرف سے بھی ابھی تک کسی نرمی کا اظہار نہیں کیا گیا پاکستان نے گو کہ اپنی سرحدوں کو ابھی تک بند کر رکھا ہے مگر کب تک پاکستان اس یلغار کو روک سکتا ہے یہ فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا مگر 40 لاکھ افغان پہلے سے پاکستان میں موجود ہیں جو نئے آنے والوں کیلئے سہولت کاری کے فرائض بھی انجام دینے کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔طالبان اس بار سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر انحصار نہیں کر رہے۔ انہیں اقوام متحدہ میں اپنے دفاع کے لیے ایک مضبوط علاقائی اتحاد اور ویٹو طاقت کی ضرورت ہے۔ پاکستان‘ چین‘ روس‘ ایران اور ترکی اس کی یہ ضرورت پوری کرسکتے ہیں۔پاکستان چونکہ افغانستان کا قریب ترین ہمسایہ ملک ہے، اس لیے پاکستان کے لیے افغانستان کی صورتحال سے مکمل طور پر لا تعلق ہوجانا ممکن نہیں۔ افغانستان کی داخلی صورتحال پاکستان پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے یہ ایک کھلی حقیقت ہے۔ سرحد پار سے دہشت گردی، سمگلنگ اور تخریب کاری کی وارداتوں سے ہماری تاریخ بھری پڑی ہے۔ چنانچہ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ ان حالات میں جب افغانستان ایک بڑی تبدیلی کے مرحلے میں ہے دنیا کو اپنے خدشات باور کروائے

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: راجہ منیب

Read More Articles by راجہ منیب : 14 Articles with 7136 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Jul, 2021 Views: 372

Comments

آپ کی رائے