سقوط خلافت عثمانیہ اور افغان طالبان کا امتحان

(رفیق چوہدری ۔لاہور, لاہور)
عالمی طاقتیں افغانستان میں ایک ایسا سیکولر ذہن پیدا کرنے میں کامیاب ہو چکی ہیں جو نیوورلڈ آڈر کو فالو کرنا چاہتا ہے ۔ یہی ذہن اب افغان طالبان کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے کیونکہ اس کے ہوتے ہوئے اگر افغان طالبان اسلامی نظام قائم کر بھی لیں تو اس کا دیر پا اور پائیدار ہونا مشکل ہوگا ۔

افغان طالبان اب جس جنگ میں داخل ہوئے ہیں وہ میدان میں نہیں بلکہ دلوں اور دماغوں میں لڑی جائیگی

افغان طالبان کے لیے اصل امتحان اب شروع ہوا ہے یہ وہ خود بھی مانتے ہیں اور وہ امتحان ہے نیوورلڈ آڈر کے Against اسلامی نظام کا پائیدار قیام اور اس سے بھی بڑھ کر اس کا دیرپا استحکام ۔ نظام تو انہوں نے پہلے بھی قائم کر لیا تھا مگر چار سال بعد ہی امریکہ کی قیادت میں دنیا بھر کی قوتیں اسے ملیا میٹ کرنے پر تل پڑیں ۔ نائن الیون تو محض ایک بہانہ تھا اصل جرم افغان طالبان کا نیوورلڈ آڈر کے خلاف بغاوت تھا جو کہ اُن قوتوں کو کسی صورت قبول نہ تھا جو پوری دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام کو غالب کرنا چاہتی ہیں ۔ اسی آرڈر کے نفاذ کے لیے خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کیا گیا اور اسی مقصد کے تحت سوویت یونین کو بکھیرا گیا ۔ اب یہ کیسے ممکن تھا کہ جس افغانستان کے ذریعے سوویت یونین کا خاتمہ کیا گیا وہی نیوورلڈ آڈر کے خلاف کھڑا ہو جائے۔ محض یہی وجہ تھی کہ افغانستان کے خلاف 20سال تک جنگ مسلط کی گئی اور اس جنگ کا واحد مقصدنیوورلڈ آرڈر کے خلاف بغاوت کو کچل کر وہاں از سر نو سرمایہ دارانہ نظام کا قیام تھا ۔ اس کے لیے افغانستان میں سیکولر نظام تعلیم کا آغاز کیا گیا ، سیکولر ازم کو پروموٹ کرنے والے میڈیا کی بنیاد رکھی گئی ، فوج سمیت تمام ریاستی اور حکومتی اداروںکی بنیاد سیکولر بنیادوں پر رکھی گئی اور سرمایہ دارانہ نظام کے تحت سول سروسز کا پورا ڈھانچہ تشکیل دیا گیا ۔ ان تمام کوششوں کے زیر اثر افغانستان میں جو نسل پروان چڑھی وہ سکولر ذہن کی حامل بن چکی ہے ۔ گویا عالمی طاقتیں افغانستان میں ایک ایسا سیکولر ذہن پیدا کرنے میں کامیاب ہو چکی ہیں جو نیوورلڈ آڈر کو فالو کرنا چاہتا ہے ۔ یہی ذہن ہے جو موجودہ صورتحال میں افغان طالبان کے نظام کے خوف سے بھاگ رہا ہے اور یہی ذہنیت اب افغان طالبان کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے کیونکہ اس کے ہوتے ہوئے اگر افغان طالبان اسلامی نظام قائم کر بھی لیں تو اس کا دیر پا اور پائیدار ہونا مشکل ہوگا ۔

میدان جنگ میں تو افغان طالبان پوری دنیا کی سیکولر طاقتوں کو شکست دے چکے ہیں لیکن کیا وہ اس سیکولر ذہن کو شکست دے پائیں گے جو بیس سالوں میں افغانستان میں پروان چڑھ چکا ہے؟ میرے خیال سے افغان طالبان کے لیے اصل جنگ اب شروع ہوئی ہے اور یہ جنگ عسکری جنگ سے بھی زیادہ مہلک اور خطرناک ہے کیونکہ یہ جنگ میدان میں نہیں بلکہ دلوں اور دماغوں میں لڑی جاتی ہے ۔ یہی جنگ تھی جس نے تین براعظموں پر پھیلی ہوئی عظیم سلطنت عثمانیہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے بکھیر دیا تھا ۔

ذرا یاد کیجئے !1784ء میںمیری مارتھا آف مارٹینیق ( فرانسیسی صدر نپولین کی سالی )کو کنیزکے بھیس میں عثمانی حرم میں داخل کیا گیا ۔یہ خصوصی مغربی تربیت کے بل بوتے پر عثمانی خلیفہ عبدالحمید اول کے دل پر نقش ہو کر سلطنت عثمانیہ میں ’’ نقش ِ دل ‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی ۔ 28جولائی 1808ء کو اس کا بیٹا محموددوم سلطنت عثمانیہ کا خلیفہ بن گیا اور وہی میری مارتھاآف مارٹینیق اور نپولین کی سالی اب مسلمانوں کے بادشاہ کی بااثر فرانسیسی ماں تھی جو اسی حیثیت سے اگلے 29برس تک زندہ رہی اور ان 29سالوں میں اسلامی خلافت عثمانیہ کا پورے کا پورا ڈھانچہ سیکولر سلطنت عثمانیہ میں بدل چکا تھا۔ برائے نام خلیفہ محمود دوم نے اپنی فرانسیسی ماں کے زیر اثر روایتی پگڑی اور روایتی لباس ترک کر دیا اور اس کی بجائے یورپی لباس اپنایا اور تمام سرکاری عہدیداران اور اہلکاروں کو بھی مغربی لباس اپنانے کا پابند کیا ۔ اس نے ہیلمٹ وان مولنکی کو اپنی فوج کا جنرل مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ فرانسیسی اور جرمن انسٹریکٹرز کی ایک بہت بڑی تعداد کی خدمات حاصل کیں ۔ جنرل مولنکی بعدازاں جرمن فیلڈ مارشل بنا ۔ یورپی ماہرین کی نگرانی میں ایک میڈیکل سکول قائم کیا گیا ۔ یورپی نظام کے مطابق سول سروسز کا ڈھانچہ بنایا گیا ۔ طلباء کی ایک بہت بڑی تعداد پہلی دفعہ یورپ بھجوائی گئی ۔ سیکولر میڈیا اور سرکاری پرنٹنگ پریس کا اجراء ہوا جس نے صرف سیکولرازم کو پروموٹ کرنے کا کام کیا ۔ ایک شاہی فرمان کے مطابق عصری تعلیم لازمی قرار دی گئی اس فرمان کے تحت لوگوں کو بنیادی تعلیم کے بغیر کوئی ملازمت یا پیشہ اختیار کرنا ممنوع قراردے دیا گیا ۔ اسی طرح طلبا کی جو کھیپ یورپ میں حصول تعلیم کے لیے بھیجی گئی تھی انہوں نے واپس آکر صرف ایک کام کیا اور وہ تھا سیکولر نظام کا قیام ۔ ان یورپ پلٹ طلباء میں مصطفی راشد بھی تھا جو بعدازاں ترک وزیر خارجہ بنا ۔ اس نے یورپی نظام کو مسلط کرنے میں سب سے بڑا کردار ادا کیا ۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا مصطفی راشد کے بارے میں لکھتا ہے :
’’عظیم مدبر اور اصلاحات کے دور کے مغرب نواز مصطفی راشد نے اپنے اردگرد پائے جانے والے مغرب زدہ اور پوری طرح قائل افراد کے ذریعے ہر شعبہ زندگی میں نئے اصول نافذ کرنے کی زبردست کوششیں کیں ۔‘‘

کونسی کوششیں ؟ ملٹری سکولز قائم کیے گئے اور ان میں غیر ملکیوں کو انسٹرکٹرز مقرر کیا گیا ، دینی مدرسے ذاتی عطیات پر چل رہے تھے جبکہ سیکولر تعلیم کے لیے سرکاری سطح پر ایک مرکزی کونسل آف ایجوکیشن قائم کی گئی۔ اسلام میں اور اسلام کے نام پر اصلاحات ضروری قرار پائیں ۔ دیوانی عدالتیں یورپی قوانین کے ساتھ قائم ہوئیں ۔عیسائی تمام عہدوں اور انتظامیہ میں شامل تھے ۔ یہاں تک کہ کابینہ کے ممبران بھی تھے ۔لہٰذا اب عثمانی خلیفہ محض کٹھ پتلی تھا ۔ سلطنت کے تمام اموراور فیصلے اب غیروں کے ہاتھ میں تھے ، خلیفہ سے صرف وہی فیصلہ صادر کروایا جاتا جو عوامی مفاد کے خلاف ہوتا اور جس کا مقصد عوامی جذبات کو خلافت اور خلیفہ کے خلاف بھڑکانا ہوتا ۔ یوں جس خلافت عثمانیہ کو 600سال تک عسکری میدانوں میں شکست نہ دی جاسکی وہ مغربی تربیت یافتہ ’’ نقش دل ‘‘ اور مغربی تعلیم یافتہ مصطفی راشد نے اندرونی طور پر ڈھیر کر دی ۔

اس تناظر میں افغانستان کا جائزہ لیجئے اور سوچئے ! ان 20سالوں میں افغانستان میں کتنی ’’ نقش دل ‘‘ اور کتنے ’’مصطفی راشد‘‘ پیدا ہو چکے ہوں گے ؟(ایک نقش دل ہمارے لیے بھی ملالہ کی شکل میں مغرب کی کرشمہ ساز فیکٹری میں تیار ہورہی ہے حالانکہ ہماری اسمبلیوں اور اداروں میں پہلے ہی نقش دلوں اور مصطفی راشدوں کی کمی نہیں ہے)عالمی طاقتوں نے بیس سال کی طویل جنگ سے یہی تو حاصل کیا ہے اور یہی ذہن افغانستان میں طاغوتی طاقتوں کی واحد اُمید ہے ۔ کیوں پوری دنیا افغان طالبان سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ تمام طبقات کو ساتھ ملا کر حکومت بنائیں ۔ یہی دنیا اسرائیل کو کیوں نہیں کہتی کہ وہ فسلطینیوں کو بھی وہی حقوق دے جو صہیونیوں کو حاصل ہیں ، یہی دنیا بھارت پر کیوں دباؤ نہیں ڈالتی کہ وہ مسلمانوں کو بھی برابری کی بنیاد پر حقوق دے ۔ یہی دنیا امریکہ کو آئینہ کیوں نہیں دکھاتی کہ وہ کالوں کو بھی وہی حیثیت دے جو گوروں کو حاصل ہے ؟ صرف افغان طالبان کو ہی یہ مشورے کیوں دیے جارہے ہیں ؟ صرف اس لیے کہ جو ہزاروں ’’ نقش دل‘‘ اور’’ مصطفی راشد‘‘ ان بیس سالوں میں کثیر سرمایہ خرچ کرکے پیدا کیے گئے ہیں وہ نظام میں اپنی جگہ بنا سکیں اور پھر آہستہ آہستہ افغان طالبان کی امارت اسلامیہ کو سیکولر افغانستان میں بدل سکیں ۔

افغان طالبان کو مصر کے الاخوان ، پاکستان کی جماعت اسلامی اور دیگر ہمعصر دینی قوتوں کے انجام سے سبق حاصل کرنا ہوگا کہ جنہوں نے سیکولر نظام کو مسلمان کرنے کوشش کی لیکن خود سیکولرنظام ان کے لیے مکڑی کا ایسا جال ثابت ہوا کہ رفتہ رفتہ ان دینی قوتوں کی ساری طاقت اور توانائی سلب کر لی ۔ اس لیے کہ مشروب میں اگر تھوڑا سا بھی زہر ملا دیا جائے تو وہ مشروب نہیں رہتا بلکہ زہر بن جاتاہے۔ اگر طالبان بھی یہی غلطی دہراتے ہیں کہ امریکہ کے قائم کردہ سیکولر ڈھانچہ کے اوپر ہی اسلامی امارت قائم کرتے ہیں یا کم از کم کوئی ایک شعبہ بھی سیکولر بنیادوں پر قائم ہو چاہے تو تعلیم کا شعبہ ہو ، میڈیا ہو ، سول سروسز کا کوئی شعبہ ہویا بینکاری نظام ہو تو ان کا انجام بھی دیگر ہمعصر دینی جماعتوں کے انجام سے مختلف نہیں ہوگا ۔ میری نظر میں اگر افغان طالبان کو دیرپا اور پائیدار اسلامی حکومت قائم کرنی ہے تو سیکولر ڈھانچے کو پوری طرح مسمار کرکے ہر شعبہ زندگی میں خالصتاً اسلامی اصولوں کے مطابق نظام قائم کرنا ہوگا ۔ خاص طورپر تعلیمی نظام کو خالص اسلامی بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا جس میں جدید تعلیم بھی ہو مگر اس کی بنیاد اقراء بسم ربک الذی خلق پر ہو ۔ یہی تعلیم مسلمانوں کی اصل طاقت تھی جس نے آج بھی اپنا فرق شاندار طریقے سے ظاہر کیا ہے ۔ یہ اسی تعلیم کی طاقت تھی کہ نہتے اور بھوکے پیاسے افغان طالبان پوری دنیا کی طاقتوں کے ساتھ بھڑ گئے لیکن اپنی آزادی پر سمجھوتہ نہ کیا۔ جبکہ دوسری طرف جدید تعلیم یافتہ نوجوان غلامی کے اس قدر رسیا (شیدائی) نکلے کہ سامراجی طاقتوں کے جہازوں کے ساتھ لٹک کر مر گئے ۔ یہی بنیادی فرق ہے اس تعلیم میں جس کی بنیاد اقراء بسم ربک الذی خلق پر ہوتی ہے اور سیکولر تعلیم میں ۔ ایک میں طاقت، برکت اور اپنی آزادی کے لیے پوری دنیا سے ٹکرا جانے کا جذبہ اس لیے ہے کہ اس کا مقصود و مطلوب رب کی رضا اور آخرت ہے ۔ جبکہ دوسری میں غلامی کا چسکا ، بزدلی اور ووہن کی بیماری اس لیے ہے کہ اس کا مطلوب و مقصود صرف دنیا ہے ۔ یہ ووہن کی بیماری اور دنیا کی لالچ ہی تھی جس نے انہی افغان نوجوانوں کو آزادی سے بھاگ کر غلامی کے طیاروں سے لٹکنے اور مرنے پر مجبور کیا جن کے باپ دادا برطانیہ ، روس اور امریکہ جیسی بڑی طاقتوں سے ٹکرا گئے تھے ۔ سیکولر تعلیم ووہن کی وہ بیماری ہے جس نے عالم اسلام کو اغیار کی غلامی پر خوشی خوشی راضی کر لیا ۔ یہ غلام ذہنیت ہے جو نام نہاد حقوق اور ترقی کے نام پر قوموں کو ورلڈ بینک ، آئی ایم ایف کے دام فریب میں گرفتار کرتی ہے اور پھر سیکولر پالیسی سازی کے راستے ہموارکرتی ہے ۔ یہی بھوکی ذہنیت اسلامی نظام سے بھاگ رہی ہے ۔ طالبان کا سب سے بڑا امتحان اسی بھوکی اور ووہن زدہ ذہنیت کو دوبارہ اسلامی سانچے میں ڈھالنا ہے۔ اگر افغان طالبان اس جن کو دوبارہ بوتل میں ڈالنے میں کامیاب ہو جائیں تو ان کی دیر پا امارت اسلامیہ قائم ہو سکتی ہے اور افغان اقدار بھی باقی رہ سکتی ہیں ورنہ ووہن زدہ یہ عفریت افغان قوم کی بہادری اور خودداری پر مبنی اسلامی اقدار کودیمک کی طرح چاٹ کر انہیں بھی پورے عالم اسلام کی طرح طاغوتی طاقتوں کا غلام بنا دے گا۔چنانچہ افغان طالبان کی اصل جنگ اب طاغوتی طاقتوں کے ساتھ نہیں بلکہ ان کی چھوڑی ہوئی ووہن زدہ ذہنیت کے ساتھ ہے اور اس کا واحد اور فطری حل اقراء بسم ربک الذی خلق ہے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: رفیق چوہدری ۔لاہور

Read More Articles by رفیق چوہدری ۔لاہور: 37 Articles with 30086 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Sep, 2021 Views: 563

Comments

آپ کی رائے