محکمہ جنگلات کا رورل وویمن امپاورمنٹ پروگرام

(Noor Ul Huda, )

محکمہ جنگلات پنجاب جہاں صوبے بھر میں وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے سرسبز پاکستان و پنجاب ویژن کی تکمیل کیلئے خصوصی اقدامات کر رہا ہے ، وہیں ’’سیری کلچر‘‘ کے فروغ پر بھی خصوصی توجہ دئیے ہوئے ہے ۔ محکمہ جنگلات کا شعبہ سیری کلچر دیہاتوں کے ضرورت مند خاندانوں ، بالخصوص خواتین کو روزگار کی فراہمی میں بہت معاون ثابت ہو رہا ہے۔ ریشم کے کیڑوں کے ذریعے خواتین کو ہنر آزمانے کے مواقع فراہم کئے ہوئے ہے ۔ مذکورہ خاندان اس ہنر سے ماہانہ کم از کم پچیس سے تیس ہزار روپے سے زائد تک کما رہے ہیں۔ اس ضمن میں جہاں شعبہ سیری کلچر کا کردار بہت نمایاں ہے، وہیں یہ شعبہ کامیابیوں کی بے شمار داستانیں بھی سمیٹے ہوئے ہے۔

سیری کلچر بنیادی طور پر ریشم کے کیڑے کی کاشت اور اس سے ریشم کو نکالنے کا عمل ہے ۔ پاکستان میں بہت سی اشیاء سیری کلچر سے حاصل کی جاتی ہیں جبکہ اس سے بیشتر ادویات بھی تیار ہوتی ہیں ۔ کئی ممالک میں سیری کلچر ایک اہم کاٹیج انڈسٹری بن چکی ہے جبکہ پاکستان میں بھی کسی نہ کسی حد تک یہ انڈسٹری اپنا وجود اور مقام رکھتی ہے ۔ ریشم عالمی ٹیکسٹائل مارکیٹ کا بھی لازمی حصہ ہے ۔ پاکستان میں بے شمار لوگ اس صنعت پر انحصار کرتے ہیں ۔ بالخصوص گھریلو صنعت میں اسے اہم درجہ حاصل ہے ۔

خام ریشم کی پیداوار کیلئے ریشم کے کیڑے بڑھانا اس صنعت کی بنیادی ضرورت ہے ۔ اسی ضمن میں محکمہ جنگلات کے شعبہ سیری کلچر کے تحت بے روزگار خواتین و حضرات کو ریشم کے کیڑوں کے انڈے دئیے جاتے ہیں ، جنہیں پرورش کے مطلوبہ مراحل سے گزار کر ریشم کے کیڑے پیدا کئے جاتے ہیں ۔ اس لاروے سے نہ صرف مزید کیڑے تیار کئے جاتے ہیں بلکہ ان سے حاصل ہونے والے مواد (ریشم) سے مختلف اشیاء بھی بنائی جاتی ہیں ، جنہیں یہ خواتین و حضرات بیچ کر اپنا گزر بسر کرتے ہیں ۔ محکمہ جنگلات کا شعبہ سیری کلچر ، ان خاندانوں کو ریشم سازی کی تربیت اور تکنیکی مدد فراہم کرتا ہے ۔یوں سیری کلچر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے مفت میں حاصل ہونے والا ایک ریشم کے کیڑوں کے انڈوں والا پیکٹ کم و بیش 30 سے 40 کلو سلک تیار کر لیتا ہے جو ہزاروں روپے منافع کا باعث بنتی ہے ۔ اس کاوش کی وجہ سے کتنے ہی خاندان ریشم سازی کو اپنا ذریعہ معاش بنا چکے ہیں ۔ اس طرح ’’سیری کلچر‘‘ ایک منافع بخش گھریلو صنعت ثابت ہو رہی ہے جس سے مرد و خواتین خام ریشم تیار کر کے گھر بیٹھے ہزاروں روپے کما رہے ہیں ۔

چھانگا مانگا کی 38 سالہ حاجرہ بی بی ریشم کے انڈوں سے سلک کوکون تیار کر کے بیچتی اور اپنا گزر بسر کرتی ہے ۔ اس کے 3 بچے ہیں جبکہ شوہر کی دو سال قبل وفات ہو چکی۔ اس نے گذشتہ سیزن میں مذکورہ ایک پیکٹ سے 29 کلو کوکون بنائی جسے بیچ کر 32 ہزار جبکہ گذشتہ سے پیوستہ سیزن میں 36 ہزار روپے کمائے ۔ حاجرہ بی بی کا کہنا ہے کہ سیری کلچر ڈیپارٹمنٹ اس کے یتیم بچوں کیلئے ہوا کا خوشگوار جھونکا ثابت ہوا ہے ۔ اس نے محکمہ جنگلات کا شکریہ ادا کیا اور مالی سرپرستی پر انہیں دعاؤں سے نوازا ۔

لعل دین کا تعلق چیچہ وطنی کے نواحی علاقے سے ہے ۔ لعل دین کہتا ہے کہ ریشم کے انڈوں کی ہارویسٹنگ کے بدلے ہونے والی آمدن سے وہ خوشحال ہو رہا ہے ۔ نہ صرف وہ اپنے بچوں کیلئے نئے کپڑے لے لیتا ہے بلکہ گھر کا اناج بھی وافر مقدار میں لے سکتا ہے ، جس سے اس کی بہت اچھی گزر بسر ہو رہی ہے۔ لعل دین شعبہ سیری کلچر کے توسط سے محکمہ جنگلات کا شکریہ ادا کرتا ہے اور بیشتر مواقعوں پر سیری کلچر ماہرین کیلئے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار بھی کرتا دکھائی دیتا ہے ۔

ایسی کتنی ہی مثالیں اور کامیاب کہانیاں (سکسیس سٹوریز) ہیں جو شعبہ سیری کلچر کا اثاثہ ہیں ۔ ایسے دیہی خاندان جن کے پاس آمدن کے کوئی ذرائع نہیں یا جو محدود وسائل رکھتے ہیں ، انہیں ریشم سازی کی مفت سہولت دے کر معاشی طور پر خودمختار اور مناسب گزر بسر کے قابل بنانا یقینا محکمہ جنگلات کے انقلابی اقدامات میں شمار کیا جا سکتا ہے۔

ریشم کے کیڑوں کی خوراک توت کے تازہ پتے ہیں ۔ اس ضمن میں ہر ضلع میں 50 سے 100 ایکڑ رقبے پر توت کی شجرکاری ہو رہی ہے جبکہ ایونیو مائلز (نہری ذخیرہ جات) پر بھی توت کی کاشت کی جا رہی ہے ۔ یہ ذخیرہ جات ریشم سازی کی صنعت کے فروغ اور استحکام میں انتہائی معاون ثابت ہوں گے اور ان سے ہزاروں خاندان توت کے پتے حاصل کر کے معاشی استحکام کے ضامن بنیں گے ۔ اسی تناظر میں چین سے درآمد کئے گئے جاپانی ہائیبرڈ شہتوت کے پودوں کی پیوند کاری سے شہتوت کی ایسی قسم بھی تیار کی جارہی ہے جسے گھروں میں گملوں میں بھی کاشت کیا جا سکتا ہے ۔ یہ کاشت ریشم کے کیڑوں کو پالنے میں معاون حیثیت کی حامل ہے ۔

قابل ذکر امر یہ بھی ہے کہ شعبہ سیری کلچر کو 1966ء میں انڈسٹری ڈیپارٹمنٹ لے کر محکمہ جنگلات سے منسلک کیا گیا ۔ اہم بات یہ کہ ماضی میں یہ ادارہ نظر انداز رہا جس کی وجہ سے ریشم کی گھریلو صنعت کو فروغ نہ مل سکا ۔ 2018ء میں تحریک انصاف کی حکومت ، بالخصوص وزیر جنگلات سبطین خان کی ذاتی دلچسپی کی بدولت اس سمال گھریلو انڈسٹری کو توجہ ملنا شروع ہوئی ۔ ’’سیری کلچر‘‘ کے ذمہ دار افسران نے ماحول سے معاون آبادیوں کا انتخاب کر کے ایک بار پھر غریب لوگوں کو ریشم کے انڈے فراہم کرنا شروع کئے ۔ یہ ایسا وقت تھا جب برباد ہوتی سلک انڈسٹری کو دوبارہ سے اپنانے پر لوگ تیار نہیں تھے …… لیکن سیری کلچر افسران نے اس صنعت پر ان کا اعتماد بحال کیا ۔ اس صورتحال میں پرائیویٹ سیکٹر نے بھی محکمہ جنگلات کے سیری کلچر ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ بھرپور تعاون کیا ۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ شعبہ سیری کلچر اپنی مدد آپ کے تحت ریشم کے انڈے امپورٹ کر کے غریب گھرانوں میں تقسیم کر رہا ہے ۔ فی الوقت ایک سیزن میں تقریباً ایک ہزار کے قریب مستحق فیملیوں کو ریشم کے انڈے فراہم کئے جا رہے ہیں ، تاہم مستقبل قریب میں اس کا دائرہ کار دو ہزار فیملیوں تک بڑھانے کی منصوبہ بندی بھی محکمہ جنگلات کے حاصلات میں شامل ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریباً 500 میٹرک ٹن سلک امپورٹ ہو رہا ہے ۔ اکنامک سروے کی رپورٹ 2020ء کے مطابق پاکستان 67 ارب روپے کا سلک مختلف شکلوں میں امپورٹ کرتا ہے ۔ اگر یہی سلک پاکستان میں بننا شروع ہو جائے تو کم و بیش 6 لاکھ 70 ہزار فیملیوں کو 1 لاکھ روپے سالانہ کے حساب سے روزگار ملنا شروع ہو جائے گا اور ان کی ضروریات آسانی سے پوری ہو جائیں گی ۔

پس، ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سمال گھریلو صنعت کے فروغ کیلئے حکومتی اقدامات کا دائرہ کار بڑھایا جائے اور اس شعبہ کی بھرپور سرپرستی کرتے ہوئے وسائل کی وافر اور متواتر فراہمی یقینی بنائی جائے …… تاکہ زیادہ سے زیادہ پسماندہ طبقات کو روزگار میسر آتا رہے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Noor Ul Huda

Read More Articles by Noor Ul Huda: 57 Articles with 29216 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Oct, 2021 Views: 334

Comments

آپ کی رائے