ظریفانہ: تیری جیت میری جیت ، تیری ہار میری ہار، ایسا اپنا پیار

(Dr Salim Khan, India)
للن خان نے کلن سنگھ سے پوچھا کیوں بھائی دیوالی تو گزر گئی اب یہ اتوار کے دن صبح صبح تلک لگا کر کہاں کے لیے نکل پڑے؟
کلن بولا بھیا میں ہوون کے لیے جارہا ہوں ۔
آج تو بھارت کا میچ بھی نہیں ہے ۔ اب کون سا ہوون کرنے جارہے ہو؟
ارے بھائی بھارت کا نہیں تو کیا ہوا؟ افغانستان کا میچ تو ہے ۔ اس کے لیے اپنےمحلے میں ہوون کا اہتمام کیا گیا ہے؟
اوہو سنگھ صاحب ہمارے گاوں کے ہوون کا میچ پر کیا اثر پڑے گا۔ پچھلے ہفتے جودو ہوون کیے وہ دونوں اکارت گئے بعدمیں بغیر ہوون کے جیت گئے۔
جی ہاں خاں صاحب لیکن اپنا کام تو کوشش کرتے رہنا ہے کبھی نہ کبھی تو کامیابی مل ہی جاتی ہے۔
ارے بھائی کلن کھیل میں کبھی کبھار کامیابی بغیر ہوون کے بھی مل جاتی ہے ۔ اب تم ہی بتاو کہ افغانستان والے کون سا ہوون کرتے ہیں؟
وہ نہیں کرتے تو نہ کریں لیکن ہمیں تو اپنا فرض ادا کرنا ہی پڑے گا ۔
لیکن آپ کے ہوون کرنے سے کیا افغانستان ہار جائے گا ؟
ارے خاں صاحب آپ اس ٹورنامنٹ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اسی لیے یہ سوال کررہے ہیں؟
ہاں بھائی ہمارا میدان تو سیاست ہے ۔ ویسے تم کرکٹ کے کیڑے ہو اس لیے ہمیں بتاو کہ آخر قصہ کیا ہے؟
وہ ایسا ہے کہ اگر آج نیوزی لینڈ کی ٹیم افغانستان کو ہرا دے تو غضب ہوجائے گا ۔
ارے بھائی فی الحال افغانستان میں طالبان کی سرکار ہے۔ اور طالبان ہمارے دشمن ہیں۔ ان کی ٹیم کو تو ہارنا ہی چاہیے ۔
کلن بگڑ کر بولا پھر وہی اناڑی دلیل ۔ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کا مقدر آج افغانستان کی ہار یا جیت پر منحصر ہے۔
کیسی باتیں کرتے ہو کلن ۔ افغانستان کی ٹیم کو ہمیں نے تیار کیا ہے ۔ وہ ہماری تقدیر کی مالک کیسے بن گئی؟
جی ہاں لیکن کیا کریں ؟ وقت وقت کی بات ہے ۔ اب افغانستان کے لیے موقع ہے کہ احسانمندی کا بدلہ چکاتے ہوئے نیوزی لینڈ کو ہرائے۔
نیوزی لینڈ کو ؟ کہاں راجہ بھوج اور کہاں گنگوا تیلی ؟َ؟ افغانستان بھلا نیوزی لینڈ جیسی طاقتور ٹیم کو کیسے ہرا سکتا ہے؟
کیوں نہیں ہرا سکتا ۔ کرکٹ میں کچھ بھی ہوسکتا ہے؟ ہمارے بشن سنگھ بیدی نے راشد خان کو دنیا کا سب سے اچھا سپنر آج ہی کے لیےبنایا ہے۔
اچھا لیکن نیوزی لینڈ ہارے یا افغانستان جیتے ہم کو کیا فرق پڑتا ہے؟
ارے بھائی للن، اگر آج افغانستان ہار جائےتو ہماری ٹیم کو بوریہ بستر لپیٹ کر واپس آنا پڑے گا۔
ٹھیک ہے لیکن کھیل کود میں توہارجیت ہوتی ہی رہتی ہے۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟
ارے بھائی آج کل یہ دھن دولت کا کھیل ہوگیا ہے اس لیے بہت کچھ الٹ پھیر ہوجائے گا۔
میں نہیں سمجھا کیونکہ اگر ہندوستان فائنل نہ بھی کھیلے تب بھی ٹورنامنٹ تو جاری رہے گا ۔ یہ زندگی میلے دنیا میں کم نہ ہوں گے افسوس ہم نہ ہوں گے۔
ہاں وہ تو ہے لیکن میچ دیکھے گا کون؟
جن ممالک کی ٹیمیں کھیلیں گی ان کے باشندے تو دیکھیں گے ہی دیکھیں اور ہم بھی پاکستان کی ہار کے لیے دیکھیں گے۔
لیکن شاید آپ نہیں جانتے کہ جن12 ممالک میں کرکٹ کھیلا جاتا ہے ان میں سے 11 کی کل آبادی 64 کروڈ ہے اور اکیلے ہندوستان کی 135کروڈ ۔
اچھا اب سمجھا ! اگر ہم نہ دیکھیں تو ناظرین کی تعداد کم ہوجائے گی اور مشتہرین کا بھٹاّ بیٹھ جائے گا ۔
جی ہاں یہی بات ہے۔ اس کے نتیجے میں کرکٹ کی صنعت کا ایک ہزار کروڈ نقصان ہوسکتا ہے۔ کیا سمجھے ؟
لیکن کلن کیا تم نے سوچا ہے کہ اگر آج افغانستان کی ٹیم جیت جائے تو طالبان کو کتنی خوشی ہوگی۔ ان کی آمد کے بعد پہلی بار وہ ٹیم کوارٹر فائنل کھیلے گی ۔
وہ خوش ہوں یا ناراض اس سے ہم کو کیا ؟ ہمارے کوارٹر فائنل کھیلنے کا امکان توروشن ہوجائے گا ۔
کیسی باتیں کرتے ہو کلن ۔ تمہیں یاد ہے اپنے رکن پارلیمان شفیق الرحمٰن برق پر طالبان کی وجہ سے غداری کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
کلن بولا کیا بات کرتے ہو ! وہ بزرگ تو بڑے اچھے آدمی ہیں۔ ہمیشہ میل جول کے ساتھ رہنے کی تلقین کرتے ہیں ۔
جی ہاں لیکن اگست میں ان کے ساتھ فیضان چودھری اور محمد مقیم کے خلاف دفع 124اے،153اے اور 295اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
اچھا میں تو یہ تعزیرات کی یہ دفع نہیں جانتا لیکن آخر ان کا جرم کیا تھا؟
ارے بھائی راجیش سنگھل نامی کسی جنونی کو شکایت تھی کہ طالبان کا موازنہ ہندوستان کے تحریک آزادی سے کیوں کیا گیا ؟
عجیب بے وقوفی ہے۔ موازنہ کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ ہم لوگ جنوبی افریقہ کی جنگ آزادی سے تو اپنا موازنہ کرتے ہی رہتے ہیں۔
ہاں مگر سنگھل کو اس پر بھی اعتراض تھا کہ ڈاکٹر برق نے افغانستان میں طالبان کی تعریف کیوں کی؟ اس لیے وہ غدارِ وطن ہیں ۔
ارے بھائی افغانستان میں کوئی اقتدار میں آئے یا جائے ہمیں کیا لینا دینا؟
یہی بات تو برق نے کہی کہ افغانستان کی آزادی اس کا اپنا معاملہ ہے۔ طالبان وہاں کی طاقت ہےجس نے امریکہ ، روس کے پاؤں نہیں جمنے دئے۔
یہ تو ایک سچائی ہے للن بھیا ۔ اس میں کیا شک ہے ۔ کسی کو اس حقیقت بیانی پر کیونکر اعتراض ہوسکتا ہے؟
اعتراض یہ ہے کہ برق نے کیوں کہا افغان طالبان کی قیادت میں آزادی چاہتے ہیں۔ ہندوستان میں بھی پورا ملک انگریزوں سے لڑاہے۔
یہ بھی درست ہے ہم لوگوں نے انگریزوں کو یہاں سے نکالا طالبان نے امریکہ کو افغانستان سے بھگایا ۔ ایک ہی بات ہے۔
لیکن برق نے افغانستان میں طالبان کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا اس لیے غدار کہلائے اور اب آپ بھی افغانی ٹیم کے لیے دعا کررہے ہیں۰۰۰۰
بھائی للن آپ مجھے ڈرا تو نہیں رہے ہیں لیکن میں نہیں ڈروں گا۔ ہوون میں ضرور جاوں کیونکہ افغانستان کی جیت ضروری ہے۔
اور اگر وہ جیت جائے تو خوشی بھی مناوگے؟
ہاں ہاں کیوں نہیں۔خوشی بھی منائیں گے بلکہ پٹاخے بھی پھوڑیں گے ۔ ہم کسی سنگھل ونگھل سے نہیں ڈرتے۔
دیکھو کلن اپنے اترپردیش میں بھی آسام کے بسوا کی طرح یوگی کی حکومت ہے اس لیے احتیاط ضروری ہے۔
اچھا تو کیا آسام میں بھی کسی رکن پارلیمان یا اسمبلی پر مقدمہ جڑ دیا گیا؟
جی نہیں وہاں 14 افراد کوطالبان کی کامیابی پر مبارکباد دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
لیکن وہ کون لوگ تھے خاں صاحب؟
کیا بتاوں ، ان میں سےایک ایم بی بی ایس کا طالب علم، ایک پولس کانسٹبل اور ایک اے آئی یو ڈی ایف کےسکریٹری فضل کریم قاسمی شامل تھے ۔
اچھا ! ان بیچاروں پر کیا الزام لگایا گیا؟
انہیں انسداد دہشت گردی کےعلاوہ مجرمانہ سازش اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ۔
دھاندلی کی حد ہوگئی! اچھا تو اب ان بیچاروں کا کیا حال ہے؟
ہونا کیا تھا ؟ عدالت نے سرکار کو پھٹکار لگا کر سب کو ضمانت دے دی۔
تب تو ٹھیک ہے افغانستان کی جیت پر خوشی منانے کی پاداش میں اگرہم گرفتار بھی ہوگئے تو ضمانت ہوجائے گی ۔ اپنی بلا سے پورا ملک خوشی منائے گا۔
اچھا تو گویا ہر حال میں ’ بھاگ ملکھا بھاگ ‘کی طرح ’ہوون کنڈ مستوں کا جھنڈاب ہوون کرے گا‘۔ہوون کرے گا ۔ ہوون کرے گا۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1505 Articles with 667705 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Nov, 2021 Views: 448

Comments

آپ کی رائے