انصاف، تحریک انصاف کے ساتھ

(Tanvir Sadiq, Lahore)

تحریک انصاف کا ساتھ یہ انصاف ہونا ہی تھا اور آئندہ بھی بہت زور شور سے ہوتا رہے گا، وہ کوئی بھی الیکشن ہو ، ہار اس کا مقدرٹھہرے گی۔ لوگ کیوں اسے ووٹ دیں۔ پہلی دفعہ عوام نے ووٹ بہت سی امیدوں کو دئیے تھے، بہت سی آسوں کو دئیے تھے۔ ان ساڑھے تین سالوں میں کوئی امید بھر نہیں آئی۔ کوئی آس پوری نہیں ہوئی۔عوام کی مشکلات حد سے زیادہ بڑھ گئی ہیں۔مہنگائی سمجھ سے باہر ہے۔ لوگ روٹی سے تنگ ہیں۔ افراتفری پھل پھول رہی ہے۔ کرپٹ لیڈر آپ کی پالیسیوں کے سبب اپنے بونے قد خوفناک حد تک بڑھا چکے ہیں۔ وہ کرپشن جس کو آپ نے ختم کرنا تھا۔ آپ کی غلط پالیسیوں کے سبب پہلے سے بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ عوام کی مالی مشکلات جینے سے نجات کا تقاضہ کرنے لگی ہیں۔یہ سمجھنا کہ عوام کی معاشی مشکلات کو اتنا بڑھا کر بھی عوام میں زندہ رہا جا سکتا ہے عبث ہے۔ہر معاشرے میں ایک مڈل کلاس ہوتی ہے۔ مڈل کلاس سیاسی بیرومیٹر کا کام کرتی ہے۔ یہی لوگ تھے جو تحریک انصاف کی اصل طاقت تھے۔ آپ نے مڈل کلاس کو عملی طور پر ختم کر دیا ہے۔اب آپ ووٹر ڈھونڈرہے ہیں، کیسے اور کہاں مل سکتے ہیں۔ بھوک انسانی کمزوری ہے۔ آپ نے بھوک اتنی عام کردی ہے کہ جس کی کوئی انتہا نہیں۔ اس کا علاج آپ کے نزدیک وہ قیام گاہوں کی شکل کے یتیم خانے ہیں جو آپ بنا کر سمجھتے ہیں کہ بہت کام ہو گیا۔مڈل کلاس وہاں جاتی نہیں اور غریبوں کا جو حال وہاں ہوتا ہے وہاں آپ کی سوچ جا نہیں سکتی۔افسوس تو اس بات کا ہے کہ وہ کام جو اپوزیشن کے لوگ تا حیات نہیں کر سکتے تھے۔ آپ کی نا اہلیوں اور غلط فیصلوں نے کر دیا ہے۔

جب کوئی پارٹی عوام میں مقبول ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ وہ کھمبا بھی کھڑا کر دے تووہ کامیاب ہو جاتا ہے اور واقعی ایسا ہوتا رہا ہے لوگوں نے یہ جانے بغیر کہ امیدوار کون ہے، اپنی محبوب پارٹی کو ووٹ دئیے۔ایسے ایسے لوگ منتخب ہوئے کہ جن کو عام حالات میں آپ ووٹ تو کیا ، دیکھنے کو بھی تیار نہ ہوں مگر یہ پارٹی کا کمال تھا کہ ایسے لوگ بھی لیڈر ہو گئے۔مگر جب پارٹی کے پاؤں اکھڑ رہے ہوں تو وہی ہوتا ہے جو آپ کے ساتھ خیبر پختونمخواہ میں ہوا ہے۔یہ آپ کی بری گورننس اور نا اہلیوں کا ثمر ہے۔ ابھی آپ حکومت میں ہیں اور خیبر پختون خواہ میں لوگ کچھ مروت بھی کر جاتے ہیں۔ پنجاب میں جو ہو گا وہ بس اﷲہی اﷲ۔آپ کے مخالفین خوش ہیں انہیں آنے والے حالات کا اندازہ ہے۔ آپ کے ارسطو کہتے ہیں کہ ہارنالائقی سے ہوئی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نالائقی تحریک انصاف کا ایک وصف ہے۔ لیکن مزید نالائقی یہ ہے کہ آپ ہار کی اصل وجوہات تک پہنچنے میں بھی پوری طرح ناکام ہیں۔کون سی جماعت ہے جس میں اندرونی جھگڑے نہیں ہوتے۔ کون سی جماعت میں رشتہ داروں اور عزیزواقارب کو ٹکٹ نہیں دئیے جاتے۔ چوہدری شجاعت چوہدری پرویز الہی رشتہ دار ہیں ،وہ سیاسی طور پر مگر ایک دوسرے کے بغیر نا مکمل ہیں۔ ان کے پورے ضلعے میں ساری سیٹوں کی بندر بانٹ وہ اپنے گھر ہی میں کرتے ہیں اور جیتتے بھی ہیں۔ان کے بھائی ،بیٹے، بھتیجے اور بہت سے رشتہ دار سیاسی عہدیداراور منتخب لوگ ہیں۔کوئی اعتراض نہیں کرتا۔ بہت ساری جماعتوں کے سربراہوں نے اپنے انتہائی وفادار ملازموں تک کو ٹکٹ دئیے جن کو پارٹی میں کوئی جانتا بھی نہیں تھا۔پھر وہ نامور لیڈر ہو گئے اور پارٹی میں بہتر مقام پا گئے کہ وفاداری تو ان کی صفت اولین ہے۔ آپ کے ہارنے کی واحد وجہ آپ کی بری گورننس ہے۔ آپ کے غلط فیصلے ہیں۔ آپ کو لوگوں کی پہچان نہ ہونا ہے۔آپ نے ایسے لوگ چن چن کر لگائے ہیں جنہیں نہ تو سیاسی سمجھ بوجھ ہے اور نہ ہی وہ زمینی حقائق کا علم رکھتے ہیں۔ جنہوں نے اس ملک کے لوگوں میں زندگی کے دن گزارے ہی نہیں۔ان لوگوں کو ہمارے مسائل سے غرض ہی نہیں۔ وہ مخصوص مفادات کے لئے کام کرتے ہیں۔وہی اس ملک کی تباہی کے ذمہ دار ہیں مگر آپ ہمیشہ اسی عطار کے لونڈے سے دعا لیتے ہیں کہ جس کے سبب یہ قوم بیمار ہوئی ہے۔ آپ کا ہر مشیر کسی مافیا کا نمائندہ ہے۔ جب آپ پر یہ راز آشکار ہوتا ہے آپ اسے بدل دیتے ہیں مگر اس وقت تک بگاڑ اپنی انتہا کو ہوتا ہے اور آپ کے پاس صبر اور شکر کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔یہ مسلسل ہوتا آرہا ہے۔ آپ کی مجبوریاں کیا ہیں، کوئی نہیں جانتا۔آپ پہلے دن سے کہتے آ رہے ہیں کہ کسی کو چھوڑوں گا نہیں۔ آپ نے ابھی تک کسی کو پکڑا ہی کب ہے کہ نہ چھوڑیں گے۔عملی طور پر آپ کی اس ناکامی نے آپ کے ورکرز کو انتہائی مایوس کیا ہے۔آپ کے مخالفین غلط نعرے لگا کر نفسیاتی طور پر آپ کو خائف رکھتے ، آپ کو کمزور کرتے اور آپ پر اپنی سیاسی اور نفسیاتی برتری ثابت کررہے ہیں۔ آپ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے مخالفوں کو مضبوط کر رہے ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف نے پارٹی تنظیمیں توڑ دی ہیں۔اسد عمر نئے جنرل سیکرٹری مقرر ہوئے ہیں ۔پنجاب کے جس علاقے سے میرا تعلق ہے وہاں شفقت محمود نئے صدر ہونگے ۔یہ ٹھیک ہے کہ پہلی تنظیم ایک کمزور تنظیم تھی۔مگر اختیارات کے بغیر کمزوری کے علاوہ کچھ بھی پاس نہیں ہو سکتا۔ نئے انتظامی ڈھانچے میں دونوں نئے اشخاص وزیر ہونے کے ناطے با اختیار بھی ہونگے۔ لیکن ان کی سیاسی سمجھ بوجھ پر لوگوں کو اعتراض ہو گا۔ اسد عمر منتخب ممبر قومی اسمبلی ہونے کے باوجود عوامی آدمی نہیں۔ ان کا رابطہ اپنے حلقے کے سوا کہیں بھی نہیں۔ تنظیم سازی اور رابطہ جتنی محنت، مشقت اور بھاگ دوڑ مانگتا ہے ۔ اسد عمر کھاتے پیتے گھر کے نونہال ہیں جو ساری عمر لاڈ پیار میں مقید رہے ہیں یہ محنت ، مشقت اور بھاگ دوڑ ان کے بس کی بات ہی نہیں،وہ نہیں کر سکتے۔ جناب شفقت محمود ایک روایتی بیوروکریٹ ہیں۔ کاغذی کاروائی کے ماسٹر مگر تحقیقی اور تخلیقی صلاحیتوں سے محروم۔ ساڑھے تین سال سے تعلیم کا قلمدان ان کے پاس مگر اس میں کوئی تبدیلی۔ بالکل بھی نہیں بلکہ ان کے کمزور فیصلوں نے تعلیم نظام کو حد سے زیادہ بگاڑ دیا ہے۔ تعلیم میں بہتری ان کے بس کی بات نہیں۔ وہ کام جو فقط چھ ماہ میں ممکن تھا اس پر کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی۔ تعلیم کا مکمل ڈھانچہ تباہی کی طرف گامزن ہے اور شفقت صاحب ابھی پلاننگ کر رہے ہیں۔یونیورسٹیوں میں کوئی پڑھانے کو تیار نہیں وہاں عہدوں اور گریڈوں کی ایک ریس ہے جس کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ ہر کالج اورہر ادارہ ان افراد سے محروم ہوتا جا رہا ہے کہ جو پڑھاتے اور پڑھانے کا شوق رکھتے تھے۔وہ تبدیلی جس کی تحریک انصاف داعی تھی اس کے لئے وہ ابھی تک بندے تلاش نہیں کر سکے۔پنجاب میں اگر کوئی تبدیلی فرق ڈال سکتی ہے تو وہ جناب بزدار کی ذات سے وابستہ ہے۔ صورت حال اب روحانیت سے بہت آگے جا چکی۔ بس بلدیاتی انتخابات کی دیر ہے، ہر چیز واضع ہو جائے گی۔شاید پھر سر چھپانے کی جگہ بھی میسر نہ آ سکے۔


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 488 Articles with 308362 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
03 Jan, 2022 Views: 561

Comments

آپ کی رائے