چھوئی موئی وزیر اعظم جان بچا کر لوٹ آئے؟

(Dr Salim Khan, India)

فلم شعلے میں سلیم جاوید کا مشہور مکالمہ: ’کتنے آدمی تھے ؟ پھر بھی لوٹ آئے ؟؟ بہت ناانصافی ہے‘،پھر سے پنجاب میں زندہ ہوگیا اور گبرکی گرجدار آواز ’جو ڈر گیا وہ مرگیا ‘ فضا میں گونجنے لگی۔کتنے آدمی کا مطلب ریلی میں کتنے آدمی تھے بھی ہوسکتا ہے۔ وطن عزیز میں فی الحال ایک 56؍انچ کا سینہ رکھنے والا وزیر اعظم ہے۔ اس کی حفاظت کے لیے تین ہزار تربیت یافتہ ماہر ترین جوانوں کا ایس پی جی نامی جتھا ہے۔ اس پر سالانہ 580 کروڈ روپئے خرچ کیے جاتے ہیں ۔ وزیر اعظم جب عوام کو خطاب فرماتے ہیں تو مقامی پولس اور نیم فوجی دستوں کے تقریباً دس ہزارجوان تعینات کیے جاتے ہیں ۔ اس کے باوجود وزیر اعظم پنجاب کے اندر ریلی سے خطاب کرنے کا ارادہ ترک کرکے دہلی واپس آگئے اور وزیر اعلیٰ کا اپنی جان بچا کرلوٹنے پر شکریہ ادا کیا۔ کیا یہ جرأتمندانہ بیان ہےکہ پڑوسی ملک کے گھر میں گھس کر مارنے کا دعویٰ کرنے والا وزیر اعظم اپنے ہی ملک میں جان بچا کر لوٹ آیا؟ یہ متضاد باتیں درست نہیں ہوسکتی ہیں ۔ ان میں سے ایک یا دونوں کا غلط ہونا لازمی ہے ۔ پچھلے دو سالوں میں وزیر اعظم پنجاب کی یاد نہیں آئی کیونکہ وہاں انتخاب نہیں تھا بلکہ کسان تحریک چل رہی تھی۔ مودی جی کے اس رویہ پر 1983کی فلم’ ایک جان ہیں ہم‘ کا یہ نغمہ صادق آتا ہے:
یاد تیری آئے گی مجھ کو بڑ استائے گی ضد یہ سچی تیرا میراووٹ لے کر جائے گی
کسانوں کی سچی ضد مودی اور امریندر کا بیڑہ غرق کردے گی اس لیےاب جان کو خطرےکا زاویہ ڈالا جارہا ہے۔ ویسے یہ مودی جی کا پرانا گھسا پٹا فارمولا ہے لیکن چونکہ عوام کی یادداشت بہت کمزور ہوتی ہے اس لیے لوگ اسے بھول کرپھر سے جھانسے میں آجاتے ہیں۔ شہزادے کی جان جس طرح طوطے میں ہوتی تھی ویسے ہی مودی جی کی آتما کرسی میں ہے۔ ان کے اقتدار کوجب بھی خطرہ لاحق ہوتا ہے ، جان کے خطرےکا بگل بجا دیا جاتا ہے۔ 2004 میں مودی جی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے اور بی جے پی قومی انتخاب ہار گئی ۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے اس کی اہم ترین وجہ فساد کے بعدمودی کو برخواست نہ کرنا بتایا۔ اس سے ان کی کرسی کو خطرہ لاحق ہوگیا اور دو دن بعد15 جون 2004 کو مقبولیت کی بحالی کےلیے احمد آباد شہر کے باہر عشرت جہاں کے ساتھ تین لوگوں کا انکاونٹر ہوگیا اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ لشکر طیبہ سے منسلک دہشتگرد گجرات فساد کا انتقام لینے کی خاطر مودی کو قتل کرنے کے لیے آرہے تھے ۔ستمبر 2009 کو احمد آباد میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ ایس پی تمنگ نے اپنے 243 صفحات پر مشتمل مفصل فیصلے میں اسے فیک انکاونٹر (جعلی ماورائے قانون قتل) قراردے دیا لیکن اس وقت تک مودی جی کی کرسی محفوظ ہوچکی تھی جبکہ جان کا خطرہ جعلی ثابت ہوا ۔
گجرات کا پہلا انتخاب تو فساد کے سبب جیت لیا گیا دوسرے کی تیاری میں 22 نومبر 2005 کو سہراب الدین شیخ کا انکاونٹر ہوگیا ۔ سہراب الدین کے ساتھ ان کی بیوی کوثر بی اور بعد میں ساتھی پرجاپتی کو بھی پولس نے ماردیا ۔ گجرات پولس نے سہراب الدین پربھی لشکر سے تعلق اور مودی جی کے قتل کا الزام لگایا لیکن جب مقتول کے بھائی رباب الدین نے عدالتِ عظمیٰ سے رجوع کیا تو یہ معاملہ سی بی آئی کو سونپا گیا۔ سی بی آئی کی فردِ جرم میں اسے فیک انکاونٹر تسلیم کیاگیا۔یہ معاملہ ہنوز زیر سماعت ہے۔ 2013 میں بی جے پی نے مودی جی کو وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار بنادیا اوروہ انتخابی مہم میں جٹ گئے ۔ اس دوران 27 اکتوبر2013 کو پٹنہ کے گاندھی میدان کی ریلی میں کئی دھماکے ہوئے۔یہ معاملہ این آئی اے کے حوالے کیا گیا اور اس نے اپنی فردِ جرم مودی جی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد داخل کی۔ چارج شیٹ میں دھماکوں کو وزیر اعظم پر حملے کی سازش قرار دے کر گودھرا فسادکے انتقام کی کہانی دوہرائی گئی۔ دہلی میں اقتدار کی پہلی سالگرہ سے دودن قبل متھرا کے کسی رام ویر سنگھ اور لکشمن سنگھ نے وزیر اعظم کو واٹس ایپ کا پیغام بھیج کر مارنے کی دھمکی دی۔ رام لکشمن برادران پر مقدمہ قائم کرنے کی بات تو ہوئی مگر پھر آئی گئی ہوگئی۔

2016 میں مودی جی نوٹ نے بندی کا کارنامہ انجام دے دیا۔ لوگ ناراض ہوئے تو آنسو بہا کر جھولا اٹھانے اور چل پڑنے کی بات کی ۔ کسی بھی چوراہے پر پھانسی چڑھنے کا آفر دیا اس کے باوجود مقبولیت کا گراف گرتا ہی چلا گیا تو دس دن بعد یعنی 19 نومبر 2016 کو ٹائمز آف انڈیا میں دہلی پولس کے حوالے سے یہ خبر آئی کہ وزیر اعظم کو قتل کی دھمکی ملی ہے۔بعد میں پتہ چلا کہ کسی شخص کے اُدھار سم کارڈ سے کسی اجنبی نے فون کیا تھا ۔ اس طرح سارا معاملہ ٹائیں ٹائیں فش ہوگیا۔ 2017 میں اترپردیش کی انتخابی مہم کے دوران فروری میں ایڈیشنل ایس پی آر کے سنگھ نے وزیر اعظم پر حملے کے خطرے سے آگاہ کیا۔ ہرین پنڈیا کے قتل میں ملزم رسول پاتی مودی کے قافلے پر راکٹ لانچر اور دھماکہ خیز اشیاء سے حملہ کرنے کا منصوبہ بنارہاہے ایسا بتایا گیا لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ انڈیا ٹوڈے کے مطابق دہلی پولس نے مئو کے ایک نوجوان کو جعلی فون کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ۔ اس طرح یہ معاملہ بھی ہوا ہوائی ہوگیا ۔

2018میں کرناٹک انتخاب سےدو دن قبل 10 مئی کو ٹائمز ناو اور زی ٹی وی نے گجرات اے ٹی ایس کی ایک فردِ جرم کا حوالہ دے کربتایا کہ داعش کے ذریعہ مودی جی کو سنائپر بندوق سے قتل کرنے کا واٹس ایپ ملا ہے۔ قومی انتخاب سے قبل جب رافیل نے ہوا بگاڑ دی اور ملک بھر میں’ چوکیدار چور ہے‘ کانعرہ گونجنے لگا تو جون 2018 میں پونے پولس نے دہلی سے رونا ولسن سمیت پانچ لوگوں کو بھیما کورے گاوں فسادکے الزام میں گرفتار کرکے الزام لگایا کہ وہ راجیو گاندھی واقعہ کو دوہرانے پر غور کررہے ہیں۔ اس طرح شہری نکسل نامی نئی اصطلاح گڑھ کی آڑ میں ملک کے نامور دانشوروں اور سماجی کارکنان کو جیل بھیج دیا گیا ۔ ان میں سے اسٹین سوامی کا تو حراست میں انتقال ہوگیا ا ور سدھا بھاردواج بے شمار پابندیوں کے ساتھ تکنیکی ضمانت پر باہر آسکیں دیگر لوگ بے یارو مددگار ایک خیالی الزام کی سزا بھگت رہے ہیں ۔

پنجاب کے اندر مودی جی کے جان کو خطرہ اسی زنجیر کی ایک کڑی ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق وزیر اعظم کا طیارہ صبح سویرے بھٹنڈا میں اترا جہاں سے انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعہ حسینی والا میں واقع قومی شہید یادگار جانا تھا۔ بارش اور موسم کی خرابی کے سبب ہیلی کاپٹر پرواز نہیں بھر سکا اس لیے سڑک کے راستے جا نے کا فیصلہ ہوا۔ دورانِ سفر کسانوں کے احتجاج کی وجہ سے راستہ بند تھا اس لیے وزیر اعظم کا قافلہ تقریباً 20-15 منٹ تک فلائی اوور پر پھنسا رہا۔اس کے بعد انھیں واپس بھٹنڈاہوائی اڈے لوٹنا پڑا۔ یہاں تک تو سب ٹھیک تھا مگرائیر پورٹ پہنچ کر وزیر اعظم نے یہ شوشہ چھوڑکر تنازع کھڑا کر دیا کہ ’ اپنے سی ایم (وزیر اعلیٰ ) کو تھینکس(شکریہ) کہنا ۔ میں ہوائی اڈے زندہ لوٹ پایا‘۔ میڈیا میں یہ جملہ اے این آئی نے شائع کیا لیکن نہیں بتایاکہ وزیر اعظم نے اسے کس سے کہا ؟ اس کا مقصد وزیر اعلیٰ پر طنز کسنا اور زندہ لوٹنے سے مراد وہی جان کو خطرہ والا گھسا پٹا حربہ استعمال کرنا تھا۔

پنجاب میں تو خیرکوئی وزیر اعظم کے قریب نہیں پھٹکا مگر بی جے پی والے ایسے شور مچا رہے ہیں جیسے کوئی آسمان پھٹ پڑا ہو حالانکہ اس سے قبل وزیر اعظم کے حفاظتی حصار میں پروٹو کول کو پھلانگ کر کئی لوگ داخل ہوچکے ہیں ۔ 2 فروری 2019 کو مغربی بنگال کے اندر اشوک نگر میں ایک بھیڑ بیریکیڈ توڑ کر اسٹیج کی جانب بڑھنے لگی ۔ اس سے بھگدڑ کی کیفیت بن گئی ۔ وزیر اعظم نے اپنی تقریر 20 منٹ میں نمٹ دی اور ایس پی جی انہیں وہاں سے لے گئی۔ اس ہنگامہ میں کئی لوگ زخمی بھی ہوئے۔ اس سے قبل 26 مئی 2018 کو بھی بنگال کے وشو بھارتی یونیورسٹی کنوکیشن کے دوران نادیہ کا ایک شخص نےحفاظتی دستے کو چکما دے کر مودی کی قدمبوسی کی ۔ اس کو دیکھ کر مودی سمیت سارے لوگ حیران رہ گئے،بعد میں پولس اس کو تفتیش کے لیے اپنے ساتھ لے گئی۔ 25 دسمبر 2017 کو نوئیڈا کے اندر آگے چلنے والے پولس والوں نے غلط موڑ لے لیا تو مودی کا قافلہ مہا مایا پل پر دو منٹ کے لیے پھنس گیا ۔ یوگی کی سرکارنے پولس والوں کو معطلی کرکے معاملہ رفع دفع کردیا۔ 7 نومبر 2014 کو انل مشرا نامی ایک شخص دیویندر فردنویس کی حلف برداری میں مودی اور شاہ کے اسٹیج پر پہنچ گیا ۔اس نے امیت شاہ کے ساتھ سیلفی بھی لی اس کو انعام کے طور پر جیل بھیج دیا گیا۔ مودی جی نے خود بھی کئی بار حفاظتی پروٹو کول کی خلاف ورزی کی ہے لیکن چونکہ اس بار سیاسی فائدہ اٹھانا مقصود ہے اس لیے شور شرابہ کیا جارہا ہے لیکن اس سے ہندو ہردیہ سمراٹ کے ہاتھ بدنامی کے سوا کچھ نہیں آئے گا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1626 Articles with 784822 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Jan, 2022 Views: 757

Comments

آپ کی رائے