وزیراعظم شہباز شریف یا امید صبح نو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ٍ


قوموں کی ترقی و خوشحالی کا راز باہمی اتحاد، عدل و انصاف ، آئین و قانون کی بالادستی اور ریاست کی تعظیم میں پوشیدہ ہے۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے بھی ایمان، اتحاد اور تنظیم کا درس دیتے ہوئے اسے ملت کی کامیابی کا ذریعہ قرار دیا۔سیاستدان قوم کے رہنما ہوتے ہیں ان کی بنیادی ضروریات ، جان و مال کا تحفظ ان کی ذمہ داری ہوتی ہے۔میاں شہباز شریف صاحب حقیقی تبدیلی تب ہی رونما ہو گی جب آئین کی بالادستی قانون کی حکمرانی ہو گی۔شہباز شریف وطن عزیز پاکستان کے 23ویں منتخب وزیراعظم بن چکے ہیں۔قوم کو ان سے بہت سی نہیں بلکہ تمام امیدیں وابستہ ہیں۔قوم کے پاس وہ اب آخری امید کے سامنے آئے ہیں۔شہباز شریف نے حالانکہ قوم کو کوئی ایسی غیر حقیقی یا لاحاصل امید نہیں دلائی، انہوں نے اقتدار میں آنے سے پہلے ، وزرات عظمیٰ کا منصب سنبھالنے سے پہلے کوئی عہد و پیما نہیں کیے کہ ان کے ہاتھ میں الہ دین کا چراغ ہے جس سے وہ عوام و ملک کو بدل دیں گے۔ وہ کسی قسم کے عہد وپیمان سے مبرا ہیں لیکن وطن عزیز کی عوام نے ان سے اپنی تمام امیدیں وابستہ کررکھی ہیں ۔متوسط طبقہ مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے مہنگائی کی شرح گزشتہ دس سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے جس کی وجہ سے عوام کے چہروں پر مایوسی ہی مایوسی ہے۔ اشیائے ضروریہ تو دور اشیائے خوردنوش بھی اپن کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہے۔بجلی، گیس، پانی کے بل معمولی تنخواہ والوں کو حکمرانوں کو کوسنے پر مجبور کر چکی ہے ۔ شہباز شریف کو حکومت میں آنے کے بعد جو سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے وہ معاشی چیلنج ہے۔ اس میں گزشتہ حکومت کی جانب سے آئی ۔ایم۔ ایف کے ساتھ کیا جانے والا معاہدہ کو ہینڈل کرنا ہے۔

حالیہ دنوں میری ملاقات لاہور کے ایک مایہ ناز ماہر فلکیات نعیم الرحمن سے ہوئی جن کی پیشن گوئی تھی کہ عمران خان اپنی مدت حکومت پوری نہ کر سکیں گے ۔ نعیم الرحمن کے مطابق میاں نواز شریف کو جیل میں بیشتر مرتبہ ملاقات کے لیے گیا اور ان کی میاں نواز شریف کے بارے میں تمام تر پیشن گوئیاں سچ ثابت ہوئیں اور سیاہ بادل چھٹ گئے۔وزیراعظم شہباز شریف کے حوالے سے پیشن گوئی کا پوچھا تو ان سے ایک دلچسپ معلومات حاصل ہوئی وہ یہ کہ میاں محمد شہباز شریف نے حلف لیا تھا۔ اس وقت فلکیات کے اعتبار سے شمس و قمر اچھی نظر سے دیکھ رہے تھے۔ اور جن برج میں حلف لیا تھا وہ ثابت برج ہیں یہی وجہ ہے کہ میاں محمد شہباز شریف ایک مضبوط وزیراعظم بنے گے۔مشکلات کا سامنا ہو گا۔ لیکن سورج و چاند گرہین کے بعد میاں محمد شہباز شریف کی پوزیشن اور ملکی صورتحال واضح ہو جائے گی مسائل سے دو چار ہونے کے باوجود میاں محمد شہباز شریف بطور وزیراعظم اپنا وقت مکمل کریں گے۔انہوں نے کہا میں شہباز شریف کو انتھک طریقے سے اور نہایت حب وطنی کے جذبہ سے سرشار ہو کر کام کرتے دیکھ رہا ہوں۔امن ،ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے سفر کا آغاز ہونے والا ہے، قائد اعظم محمد علی جناح کے خوابوں کے مطابق ایک حققی پاکستان بننے والا ہے۔

بیالیس ممالک فتح کرنے والا امیر تیمور جو دنیا کے نادر لوگوں میں شامل ہے جو ایک وقت میں اپنے دونوں ہاتھوں سے کام لے سکتا تھا وہ اپنے ایک ہاتھ سے تلوار اور دوسرے ہاتھ سے کلہاڑا چلانے کا فن رکھتا تھااور دشمنوں کو ناکوں چنے چبواتا۔تزک تیموری میں کہتا ہے کہ اچھے حکمران کو ہمیشہ مشاورت اور دوراندیشی سے کام لینا چاہے دوستوں اور دشمنوں دونوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہیے نرمی، درگزر اور صبر وتحمل کو شعار بنانا چاہیے۔ میں نے عوام کو عدل و انصاف دیا۔ نہ تو عوام کے ساتھ زیادہ سختی کی کہ وہ مجھ سے ناراض ہو ں نہ انہیں اتنی آزادی دے کہ وہ بے قابو ہو جائیں۔میں نے ہمشہ علماء اور مشائخ کو اپنے قریب رکھا ۔ میں شریر اور بدنفس لوگوں سے دور رہنے کی کوشش کرتا تھا۔اپنی رعایا کے حالات سے باخبر رہنے کی کوشش کرتا تھا۔تیمور نے لکھا کہ ایک اچھے حکمران کا قول اس کے فعل کے مطابق ہونا چاہے وہ جو قانون دوسروں پر نافذ کرے اس کا خود پر بھی احترام کرے۔اچھے حکمران کو مستقل مزاج ہونا چاہیے وہ اپنے وزیروں کی کہی ہوئی باتوں کو آنکھیں بند کر کے تسلیم نہ کرے بلکہ ان کی تفتیش کرے۔ اچھے حکمران کو کانوں کا کچا نہیں ہونا چاہیے۔تزک تیموری میں امیر تیمور کہتا ہے کہ اچھے حکمران کو ایسے وفاراد کا انتخاب کرنا چاہیے جو امور حکومت نیکی اور حسن سلوک سے چلائیں۔نفاق کی باتیں نے کریں اور نہ ہی کسی کو برا کہیں نہ کسی کی برائی سنیں۔ہماری سابقہ حکومتوں کا جائزہ لیا جائے تو ہمارے اکثر حکمران اہل علم کی بجائے اہل ستم میں گھرے رہے۔
حکو متوں اور حکمرانوں کی غلطیاں ، کمیاں اور خامیاں روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔جو ان کی ناکامی کا پیش خیمہ ثابت ہوئیں۔وزیراعظم شہباز شریف کو چاہیے کہ ماضی کی ان مثالوں اور فاش غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے ایک ایسی حکومت کی تشکیل کا منشور بنائیں جو کم از کم ماضی کی ان غلطیوں کو نہ ہرائیں اور عوام سکون کا سانس لے سکیں۔شہباز شریف صاحب کی سابقہ کارکردگی کی پیش نظر عوام ان سے بڑی توقعات ہیں۔ لوگ اس وقت بہت تکلیف میں ہیں اور شہباز شریف صاحب کو مسیحا کے طور پر دیکھ رہے ہیں شہباز شریف صاحب کو فوری غریب عوام ریلیف اناونس کرنا ہو گا۔ اشیاء خوردونوش ،پٹرول، اور ڈالر فوری طور پر سستا کیا جائے۔ کرپشن کے خلاف واضح حکمت عملی دیں۔ پولیس ریفارمز ان کا اولین ایجنڈا ہونا چاہیے تاکہ انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور ہو سکیں۔پاکستان کی عوام کی تعلیم، صحت اور روزگار کی فراہمی ہر صورت اولین ترجیح ہونی چاہیے تاکہ عوام سکون کا سانس لے سکیں ۔ پاکستان زندہ باد
 

Raheel Qureshi
About the Author: Raheel Qureshi Read More Articles by Raheel Qureshi: 18 Articles with 9349 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.