چین کے لیے زیرو کووڈ پالیسی کیوں لازم ؟

(Shahid Afraz Khan, 北京市)

حالیہ عرصے میں مختلف حلقوں کی جانب سے چین کے انسداد وبا اقدامات پر بات کرتے ہوئے کہا گیا کہ چین کی اپنائی جانے والی ڈائنیمک زیرو کووڈ پالیسی کی شائد اب ضرورت نہیں کیونکہ دنیا میں وبا کی روک تھام کے دیگر کئی موئثر طریقے فعال ہیں۔اس ضمن میں ایک نقطہ نظر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ اب ہمیں "وائرس" کے ساتھ ہی جینا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیا ایسی وجوہات ہیں یا بنیادی حقائق ہیں جو چین کو بدستور زیرو کووڈ پالیسی پر عمل پیرا رکھے ہوئے ہیں۔

پہلی بات تو بڑی واضح ہے کہ اس پالیسی کا مقصد انسانی زندگیوں کی حفاظت اور نظام صحت کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔یہ پالیسی ہر گز "زیرو انفیکشن" کا پیچھا کرنے کے لئے نہیں ہے بلکہ کم سے کم سماجی قیمت پر کم سے کم وقت میں وبائی صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہے، تاکہ لوگوں کی زندگیوں اور صحت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ معمولات زندگی کو زیادہ سے زیادہ حد تک برقرار رکھا جا سکے۔ دوسری جانب عالمی ادارے بشمول ڈبلیو ایچ او بدستور خبردار کر رہے ہیں کہ کووڈ۔19 کو اس قدر غیر سنجیدہ نہ لیا جائے کیونکہ وائرس میں تغیرات کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور دنیا کو مزید محتاط ہونے کی ضرورت ہے ۔پاکستان کی ہی بات کی جائے تو ابھی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے اومیکرون کے نئے " سب ویرینٹ بی اے.2.12.1" کے پہلے کیس کی تصدیق کی ہے جو دنیا کے کئی خطوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے ۔
یہاں اگر کچھ حقائق کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال چین کی زیرو کووڈ پالیسی کی اہمیت کو مزید واضح کرتی ہے۔ معروف طبی جریدے "لانسیٹ" نے مارچ کے ایک مقالے میں بتایا کہ اموات کے عالمی تخمینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کووڈ۔19 وبا کے باعث اموات کی مجموعی تعداد 18.2 ملین ہو سکتی ہے۔ ان میں عالمی سطح پر ہر ایک لاکھ آبادی میں 120 اموات کا تخمینہ ہے۔دوسری جانب امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک کی بات کی جائے تو یہاں صورتحال تشویشناک بتائی گئی ہے جہاں ہر ایک لاکھ آبادی میں اموات کا تخمینہ 179 لگایا گیا ہے۔اب اگر چین کا رخ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہاں ہر ایک لاکھ آبادی میں اموات کا تخمینہ صرف 0.6 ہے۔یہ صورتحال بڑی حد تک واضح کرتی ہے کہ کیوں چین کی ڈائنیمک زیرو کووڈ پالیسی اتنی کامیاب اور موئثر ثابت ہو رہی ہے۔

اب اگر چین اس پالیسی سے یک دم ہٹتا ہے تو کیا مضمرات ہو سکتے ہیں ، یہ سوال بھی اہم ہے۔اس حوالے سے چینی اور امریکی محققین کی حالیہ تحقیق یہ کہتی ہے کہ اگر یہ پالیسی ترک کر دی جاتی ہے تو چین کو 1.5 ملین تک اموات کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ، یعنیٰ پندرہ لاکھ لوگوں کو موت کے گڑھے کی جانب دھکیلا جا سکتا ہے، جو یقیناً کوئی بھی ملک نہیں چاہے گا۔یوں دنیا میں سب سے زیادہ 1.4 بلین آبادی کے حامل ملک کے طور پر، چین اس وائرس کے بلا روک ٹوک پھیلاؤ کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ وبا کی وجہ سے ملک میں بزرگوں کی بڑی تعداد سب سے زیادہ متاثر ہو گی اور اسی طبقے میں اموات کا خطرہ زیادہ ہے۔ ملک میں 80 سال سے زائد عمر کے بزرگوں میں سے صرف 19.7 فیصد کو کووڈ۔19 ویکسین کے بوسٹر شاٹس لگائے گئے ہیں جبکہ اس عمر کے صرف 50.7 فیصد لوگوں نے اپنی ابتدائی ویکسینیشن مکمل کی ہے۔یہ چین کی اسی زیرو کووڈ پالیسی کے ثمرات ہی ہیں کہ ملک بھر میں معمر افراد اور دیگر مخصوص طبی امراض میں مبتلا افراد کو مؤثر طریقے سے تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
اس کامیابی کے باوجود، چین کی مؤثر انسداد وبا کوششوں جیسے کہ عارضی لاک ڈاؤن، فیکٹریوں اور کاروباری اداروں کی قلیل مدتی بندش، اور اسکولوں میں آف لائن کلاسز کی معطلی، کو متعدد مغربی میڈیا اداروں نے بے جا سخت قرار دیتے ہوئے بار بار سوال کیا ہے۔تاہم اس کا بہترین جواب یہی ہے کہ دنیا بھر میں اس وائرس نے پندرہ سے اٹھارہ ملین جانیں لی ہیں، اس کے برعکس ایک ارب چالیس کروڑ آبادی کے حامل ملک چین میں اموات کی تعداد صرف تقریباً 05 ہزار رہی ہے۔ زیرو کووڈ پالیسی کو اپناتے ہوئے، چین نے لوگوں کی زندگیوں اور فلاح و بہبود کی حفاظت کی ہے اور اقتصادی و سماجی ترقی پر وبا کے اثرات کو ممکنہ حد تک کم کیا ہے۔ حقائق کے تناظر میں، یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں ہے کہ چین کی یہ پالیسی معیشت اور معاشرے کے معمولات کی تکمیل سے اسے تقویت دیتی ہے اور اس پالیسی نے 1.4 بلین چینی شہریوں کے لیے ایک مضبوط حفاظتی جال کے طور پر کام کیا ہے۔

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahid Afraz Khan

Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 350 Articles with 108542 views »
Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More
12 May, 2022 Views: 346

Comments

آپ کی رائے