بچت بھی ، صحت بھی

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

بہت بڑا کاروباری سودا طے کرنے کے لئے ہم وقت سے پہلے پہنچ گئے، ایکسپورٹ منیجر کا انتظار ہو رہا تھا ، وقت مقررہ پر میٹینگ شروع ہوئی اور تھوڑی دیر میں سودا طے پا گیا، منیجر ہمیں عالی شان گاڑی میں ظہرانے پر لے گئے، پرتکلف کھانے سے ہماری تواضع کی ، شہر کی سیر کرائی اور شام گئے دفتر واپس آگئے۔

ڈرائیورکو حکم دیا کہ وہ ہمیں ہوٹل میں چھوڑ دے ہم نے پوچھا کہ آپ کہاں جائیں گے ، کہا گھر جاؤں گا، میری سواری یہاں کھڑی ہے ، ہم نے دیکھا کہ ایک طرف بہت ساری سائیکلیں کھڑی تھیں ، کڑروں کا سودا کر نے والا ایکسپورٹ مینجر نے اپنی سائیکل نکالی اور چلتا بنا، ہم حیران ہو کر اس کو تکتے رہ گئے۔

یہ چین کی بہت بڑی فیکٹری کے ایکسپورٹ مینجر کا حال ہے، قومیں یوں ہی ترقی نہیں کرتیں ، اس کے لئے قربانی دینی پڑتی ہے ، آج چین کے پاس فنڈز کی کمی نہیں ہے ۔ لیکن پھر بھی سائیکل کا رواج عام ہے ، جبکہ سائیکل کا استعمال ہماری ضرورت اور مجبوری ہے اس کے باوجود ہماری لاپروائی کی انتہا ہے ، سائیکل کا استعمال ایک بہترین ایکسرسائز ہے اپنی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی ہمیں اس کا استعمال شروع کر دینا چاہئے ،ہماری قوم قرض میں ڈوبی ہوئی ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ پیڑول پر کثیر زرمبادلہ خرچ کرنے پر توجہ مبذول کی جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں کہ جس سے بچت ممکن ہو سکے ۔

پاکستان کا شمار دنیا کے آلودہ ترین ممالک میں ہوتا ہے جس کی وجہ سے بے شمار بیماریاں جنم لیتی ہیں ، ہوا میں اس آلودگی کا تقاضہ بھی یہ ہے کہ ہم کم سے کم ایندھن جلائیں ، بائیسکل اس کے لئے بہترین سواری ہے ، بائیسکل کے استعمال سے صحت پر بڑے اچھے اثرات پڑتے ہیں مثلا سائیکلنگ کرنے والے چاق و چابند ہوتے ہیں، دل کی سریانیں بہترکام کرتی ہیں، پٹھوں میں طاقت اور لچک پیدا ہوتی ہے، جوڑوں کی حرکت میں اضافہ ہوتا ہے، ذہنی ڈباؤ کم ہوتا ہے، جسم کی چربی کم ہوتی ہے، وزن کنٹرول میں رہتا ہے اور موٹاپے سے نجات ملتی ہے وغیرہ

بائیسکل روحانی بیماری کا بھی اس اعتبار سے علاج ہے کہ ہمارے معاشرے میں اسے غریبوں کی سواری تصور کیا جاتا ہے، سائیکلنگ کرنے سے کبر کا بھی علاج ہو گا۔

ہم بائیسکل سے ناآشنا ہوتے جارہے ہیں ، غالبا ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ترقی کا دور ہے ، لیکن شاید ہمیں یہ معلوم نہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں بائیسکل کس قدر عام ہے مثلا ہالینڈ میں سب سے زیادہ بائیسکل چلائی جاتی ہے ، دوسرے نمبر پر ڈنمارک ہے۔ تیسرے نمبر پر جرمنی جہاں کی آبادی کا 76 فیصد بائیسکل چلاتا ہے ، جاپان میں 57 فیصد، چین 37 فیصد لوگ بائیسکل چلاتے ہیں ، افسوس کہ ہم دوسروں کی تقلید میں ہر الٹے کے لئے کمر بستہ رہتے ہیں ، لیکن مثبت کاموں کی طرف ہماری توجہ ہی نہیں جاتی ۔
بیت السلام مسجد ڈیفینس کراچی میں پچھلے دو سالوں سے یہ سلسلہ شروع ہوا ہے کہ بچوں میں نماز کا شوق پیدا کرنے کے لئے ۴۰ روز مسلسل پانچ وقت نماز کی ادائیگی پر بطور انعام سائیکلیں تقسیم کی گئیں ، جس سے بچوں میں نماز کے ساتھ ساتھ سائیکل کے ساتھ مناسبت بھی پیدا ہوتی ہے، اسی طرح سی ویو پر بائیسکل کے لئے الگ سے ٹریک بنایا گیا ہے۔

ہر گھر میں کم از کم ایک بائیسکل ہونی چاہئے اور اپنا ایک معمول بنا لینا چاہئے کہ ۳ کلو میٹر سفر کرنے کے لئے بائیسکل ہی استعمال کی جائے، جس سے نہ صرف یہ کہ ہماری صحت اچھی ہو گی بلکہ اچھی خاصی بچت بھی ہو جائے گی۔

اگر اس دنیا میں عزت اور آزادی کے ساتھ جینا چاہتے ہیں تو ہمیں سہل پسندی کو خیر آباد کہنا ہو گا ورنہ جس طرح آج آئی ایم ایف کے فیصلے ہم پر مسلط ہو رہے ہیں اسی طرح دوسری اقوام بھی ہمیں اپنے اشاروں پر چلائی گی۔
 

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.

Ilyas Katchi
About the Author: Ilyas Katchi Read More Articles by Ilyas Katchi: 40 Articles with 28999 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.