موسم گرما کے لذیذ پھل

گرم موسم میں گرمی کی شدت،لوڈشیڈنگ اور پسینے کے اخراج کے باعث جسم میں نمکیات کی کمی ہو جاتی ہے اوپرسے سن سٹروک (لوکے لگنے) کا اندیشہ بھی لگا رہتاہے اس موسم میں دودھ ،دہی سے بنی ہوئی نمکین اور میٹھی لسی بہت فرحت بخش ثابت ہوتی ہے اس کے ساتھ ساتھ گرمی کی شدت کم کرنے والے مزیدار پھلوں کااستعمال بھی کرنا انتہائی ضروری ہے چونکہ موسم گرما کی شدت میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے اور اندازہ ہورہا ہے کہ آنے والے مہینے کتنے سخت ہوسکتے ہیں اس موسم میں پانی کی زیادہ مقدار کو پینا اور ہلکے پھلکے کپڑوں کا استعمال گرمی کی شدت کو کسی حد تک کم کرسکتا ہے خاص طورپر بچوں کو دھوپ سے بچانے کے لئے والدین کو خصوصی احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ بچے موسموں کی شدت سے زیادہ متاثرہوتے ہیں۔ گرمی کے موسم میں چند مخصوص پھلوں کو اپنی غذا کا حصہ بناکر بھی آپ جسم کو پانی کی کمی سے محفوظ رکھ کر شدیدگرمی کے اثرات سے بچ سکتے ہیں۔ اس موسم میں لیموں کی سکنجین پینے کااپنا ہی مزاہے یہ ایک نیچرل مشروب ہے جس کے بہت سے فوائدہیں جولوگ سوفٹ ڈرنک کے شوقین ہیں ان کو اس سے احترازکرنا چاہیے کیونکہ یہ معدے کی بہت سی بیماریوں کل سبب ہے شدید گرمی صرف پریشانی کا باعث ہی نہیں بنتی بلکہ اس سے پیٹ ،معدے،انٹریوں اور سانس کے امراض کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے جبکہ سونے میں مشکلات، جسمانی تھکاوٹ اور ذہنی توجہ بھی متاثر ہوتی ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے موسم گرماکے اعتبارسے بہت سے پھل پیدا کئے ہیں جو جسم کو ٹھنڈک دینے کے ساتھ زہریلے مواد کو خارج کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں اگر آپ کو کیلے کھانا پسند نہیں تو گرم موسم میں اسے کھانا ضرور عادت بنالیں، یہ پھل پانی کو جذب کرنے میں مدد دیتا ہے جس سے زیادہ پسینے کے اخراج سے جسم میں ہونے والی پانی کی کمی کے اثر کو دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ پھل پوٹاشیم سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ جسمانی توانائی بحال رکھنے کے لئے بھی انتہائی فائدہ مند ہے۔ جبکہ خربوزہ رسیلا اور مزیدار ہونے کے ساتھ ساتھ یہ صحت کے لئے انتہائی مفید بھی ہے جس میں اینٹی آکسائیڈنٹس، وٹامنز اور دیگر اجزا موجود ہیں، جن کی بدولت بینائی بہتر ہوتی ہے، بلڈ پریشر مستحکم رہتا ہے، دورانِ خون بڑھتا ہے۔ اس میں پانی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو اس موسم میں پانی کی کمی دور کرنے میں مدد دیتی ہے۔ خربوزہ پیٹ ،معدے،گردے اور پتے کی بیماری میں اکسیرکا درجہ رکھتاہے اس کا مسلسل استعمال انسان کو کئی بیماریوں سے محفوظ رکھتاہے۔ کھیرا اور ککڑی موسم گرمی کے خاص پھل ہیں کچھ لوگ اسے سبزی بھی قراردیتے ہیں لیکن یہ پھل ہی ہیں اور یہ جسم کو پانی کی وافر مقدار ہی فراہم نہیں کرتے بلکہ متعدد اقسام کے وٹامنز اور منرلز بھی بھرپور ہوتے ہیں۔ یہ اضافی جسمانی وزن میں کمی کے مقصد میں مدد بھی دیتا ہے جبکہ اس میں موجود وٹامن بی، پوٹاشیم اور میگنیشم دیگر فوائد فراہم کرتے ہیں کولیسٹرول،یوروکیسڈ، اور ہائی بلڈپریشر میں اسے کچا کھانا اعلیٰ درجہ کی دوا ہے جن لوگوں کو پیشاپ جلن کے ساتھ آتاہو وہ کھیرا چھلکے سمیت کھائیں انہیں فائدہ ہوگا۔ کھیروں کی طرح اسٹرابیری میں بھی پانی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کو کھانا گرم موسم کی شدت سے نمٹنے میں مدد دیتا ہے، اور اس پھل کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ بہت مزیدار بھی ہوتا ہے۔ اس میں موجود پوٹاشیم بلڈپریشر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے جبکہ اس میں موجود فائبر قبض سے تحفظ فراہم کرتا ہے اسے ہر عمرکے لوگ شوق سے کھاتے ہیں اسٹرابیری کی ملک شیک بہت لذیذاورفرحت بخش ہوتی ہے۔موسم گرما کاایک اہم پھل تربوزبھی ہے جس کے ذکرکے بغیرگرمیوں کے پھلوں کا ذکرادھورا رہتاہے تربوز میں پانی کی مقدار 92 فیصد ہوتی ہے اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور پھل ہے جو گرمیوں میں ہی دستیاب ہوتا ہے۔ ٹھنڈا میٹھا تربوز موسم گرماکی سوغات ہے اسے ضرور کھانا چاہیے لیکن اس کے کھانے کے بعدپانی پینا بہت مضرِ صحت ہے اس لئے احتیاط لازم ہے آڑو بھی اس موسم کا انتہائی لذیذ پھل ہے ہے جسے بچے بڑے،بوڑھے سب ہی شوق سے کھاتے ہیں یہ پھل قوت کاایک خزانہ ہے ایسے پھلوں کے استعمال سے آپ بھی موسم گرما کی شدت سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
 

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.

Ilyas Mohammad Hussain
About the Author: Ilyas Mohammad Hussain Read More Articles by Ilyas Mohammad Hussain: 463 Articles with 250035 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.