اس میں کوئی شک نہیں کہ عالمی سطح پر چین کی ترقی کو ایک
اہم محرک کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے، اور "چین میں سرمایہ کاری بڑھانا"
عالمی کاروبار کے لیے ایک اہم ترجیح بن چکا ہے۔اسی کڑی کو آگے بڑھاتے ہوئے
ابھی حال ہی میں چائنا ڈویلپمنٹ فورم کا انعقاد بیجنگ میں کیا گیا، جس کا
موضوع "عالمی معیشت کی مستحکم ترقی کے لیے ترقی کی رفتار کو بڑھانا" تھا۔اس
موقع پر شرکاء نے عالمی معیشت کے چیلنجز اور مواقع پر تبادلہ خیال کیا،
ساتھ ہی چین کی معاشی قوت اور عالمی استحکام میں اس کے کردار کو سراہا۔ اس
فورم میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے علاوہ اہم ممالک کے صنعتی رہنماؤں نے بھی
شرکت کی، جو چین کے معاشی مواقع میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔
چین پر اعتماد اور طویل مدتی تعاون کے تناظر میں شرکاء نے چین کے معاشی
مواقع پر اعتماد کا اظہار کیا اور طویل مدتی تعاون کے عزم کو دہرایا۔ جرمن
کار سازوں نے کہا کہ انہیں چین کی تیز رفتار ترقی سے فائدہ ہوا ہے اور وہ
چین میں سرمایہ کاری جاری رکھیں گے۔ انہوں نے چین کی رفتار سے جدت اور
مقامی پیداوار کو تیز کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ اسی طرح مالیاتی اداروں کے
سربراہان نے کہا کہ عالمی تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھ رہے ہیں، اور
وہ چین کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرامید ہیں۔ انہوں نے چین
اور عالمی معیشت کے درمیان گہرے تعلقات کو فروغ دینے پر زور دیا۔
اس سال کے فورم میں چین کی معیشت کی مضبوطی، صلاحیت اور ترقی کے نئے راستوں
پر روشنی ڈالی گئی۔ فلمیں، سرمائی کھیل اور سیاحت جیسے شعبوں میں صارفین کی
بڑھتی ہوئی دلچسپی گھریلو معیشت کی بڑھتی ہوئی طاقت کو ظاہر کرتی ہے۔ ساتھ
ہی، چینی شہروں میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئی کمپنیوں کی کامیابیوں نے چین
کی جدت طرازی کی صلاحیت کو بھرپور انداز سے ثابت کیا۔
اسی طرح،ملک میں سبز گھریلو آلات اور نئی توانائی کی صنعتوں کی تیز رفتار
ترقی، پائیدار ترقی کے نئے مواقع فراہم کر رہی ہے۔ یہ تمام عوامل چین کی
معیشت کو طویل مدتی ترقی کی جانب گامزن کر رہے ہیں۔مالیاتی اداروں کے نزدیک
چین "دنیا کی فیکٹری" سے "عالمی جدت کا مرکز" بن گیا ہے۔ چین نے منصوبہ بند
حکمت عملی اور مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے قابل تجدید توانائی اور مصنوعی
ذہانت جیسے شعبوں میں اپنی قیادت کو مستحکم کیا ہے۔ عالمی غیر یقینی
صورتحال کے باوجود، چین "اعلیٰ معیار کی ترقی" پر توجہ مرکوز کرکے عالمی
معیشت کے لیے استحکام کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔
آج دنیا میں یکطرفہ پن، تحفظ پسندی اور عالمگیریت کے خلاف رجحانات بڑھ رہے
ہیں، لیکن تاریخ ثابت کرتی ہے کہ کھلے پن اور تعاون ہی مشترکہ خوشحالی کا
واحد راستہ ہے۔ عالمی معاشی ماہرین کے خیال میں ٹیرف جنگوں میں کوئی فاتح
نہیں ہوتا،البتہ سب کو نقصان ہوتا ہے۔ ایسے میں چین، ایک ذمہ دار بڑی طاقت
کے طور پر، کھلے تجارتی نظام کی حمایت کرتا ہے اور جامع معاشی عالمگیریت کو
فروغ دے رہا ہے۔
چین آج بھی کھلے پن اور بین الاقوامی تعاون کی وکالت کرتا ہے، اور عالمی
تجارت اور سپلائی چینز کے استحکام کے لیے کام کر رہا ہے۔ اسی باعث دنیا نے
چین کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور مختلف ملٹی نیشنل
کمپنیوں نے چین میں اپنی سرمایہ کاری، تحقیق اور مقامی شراکت داریوں کو تیز
کرنے کا اعلان کیا۔
اس حقیقت کا صحیح معنوں میں ادراک لازم ہے کہ ترقی انسانی معاشرے کا اہم
مقصد ہے۔ چین ہمیشہ اپنی ترقی کو عالمی ترقی کے ساتھ جوڑتا ہے، معاشی
عالمگیریت کو صحیح سمت دیتا ہے، اور کثیرالجہتی تعاون کو فروغ دیتا ہے۔آج
، چین عالمی امن اور ترقی میں استحکام کا ذریعہ بننے کے لیے پرعزم ہے اور
تمام ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ خوشحالی کے لیے کام کرنے کا جذبہ مسلسل
بلند ہو رہا ہے۔
|