چراغ

چراغ
تحریر ۔۔۔۔ بابرالیاس

شام کی ہلکی ہلکی لالی زمین پر اتر آئی تھی، آسمان کے کناروں پر سورج کی ڈوبتی کرنیں جیسے تھکی ہوئی سانسیں لے رہی تھیں۔
پرندے اپنے گھونسلوں کو لوٹ رہے تھے، فضا میں ایک اداس سا سکوت بکھرا ہوا تھا۔

اسی خاموشی کے بیچ صحن میں ایک جوان بیٹا اپنے باپ سے لپٹا ہوا تھا۔ اس کے شانے ہچکولے کھا رہے تھے، آنسوؤں کی بارش باپ کے سینے کو تر کر رہی تھی۔
وہ لفظوں میں کچھ نہ کہہ سکا، بس دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا۔ جیسے برسوں کا بوجھ، دل میں چھپی ساری بے بسی اور اندر کے سارے زخم ایک ساتھ پھوٹ نکلے ہوں۔

باپ کی آنکھیں بھی بھیگ چکی تھیں، لیکن وہ بیٹے کے بال سہلا رہا تھا۔
اس کے ہاتھ میں ایک عجیب سی طاقت تھی، جو بیٹے کے ٹوٹے وجود کو سہارا دیتی جا رہی تھی۔ اس نے دھیرے سے کہا:
"بیٹا، زندگی رونے کے لیے نہیں، جینے کے لیے ہے… مگر آنسو روک لینا بھی ہر کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔"

بیٹے نے مزید لپٹتے ہوئے کہا:
"ابا جی! میں تھک گیا ہوں… دنیا کی سختیوں سے، لوگوں کے رویوں سے…! بس آپ کا سایہ ہے جس میں مجھے سکون ملتا ہے۔"

شام کی ہوا نے ان دونوں کو اپنی بانہوں میں لے لیا۔ اس لمحے ایسا لگا جیسے کائنات رک گئی ہو، جیسے ہر دکھ تھم گیا ہو، جیسے بیٹے کی سسکیوں اور باپ کی ڈھارس میں ایک پوری دنیا سمٹ آئی ہو۔
شام کی اداسی جیسے ان دونوں کی سسکیوں میں تحلیل ہو رہی تھی۔
بیٹے نے اشکوں سے بھیگی آنکھیں اٹھا کر باپ کی طرف دیکھا تو وہاں تسلی اور محبت کا سمندر موجزن تھا۔

باپ نے بیٹے کے کندھے تھپتھپائے اور کہا:
"بیٹا! زندگی کے راستے کٹھن ضرور ہیں، مگر انسان جب تک اپنے قدموں میں ہمت رکھے اور دل میں اللہ پر بھروسہ کرے، کوئی طاقت اُسے گرا نہیں سکتی۔ میں ہوں نا… تمہارے ساتھ۔"

یہ سن کر بیٹے کے آنسو تھم گئے، جیسے دل کے اندھیروں میں چراغ جل اٹھا ہو۔ اس نے مضبوطی سے باپ کا ہاتھ تھاما اور دل ہی دل میں سوچا کہ جب تک باپ کا سایہ سر پر ہے، کوئی مشکل ناممکن نہیں۔

ڈوبتے سورج کے پیچھے امید کی کرنیں ابھی باقی تھیں… اور یہی کرنیں زندگی کا اصل سرمایہ تھیں۔

 

Babar Alyas
About the Author: Babar Alyas Read More Articles by Babar Alyas : 926 Articles with 683745 views استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More