اس آرٹیکل کا مرکزی خیال یسٹ سیلرکتاب Unlearn One Hundred and One Simple Truths for a Better Life سے لیا گیا ہے۔ ایک فرضی کہانی ہے بادشاہ نے دعا کی کہ وہ جس بھی چیز کو ہاتھ لگائے وہ سونے کی بن جائے۔ دعا قبول ہوگئی۔ صبح سے شام تک وہ ہر چیز کو ہاتھ لگا لگا کر خوش ہوتا رہا کیونکہ ہر چیز سونے کی بن رہی تھی۔ جب دن گزرنے کے بعد بیٹی اس سے ملنے آئی اور اس نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تو بیٹی سونے کی بن گئی۔ کھانا کھانے کے لئے برتن کو ہاتھ لگایا وہ سونے کا بن گیا۔ تب اسے احساس ہوا۔ ہر چیز سونے سے بنی ہو ،تب بھی وہ سونا نہیں ہوتی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ ہر خواہش کا پورا ہونا اور ہر چیز کا ،مل جانا موجب خوشی ہے۔ جب ایک چیز مل جائے انسان اگلی کے لئے تڑپنے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ ایک بڑی وجہ آجکے بچے جو اتنے ناخوش اور ڈپریس نظر آتے ہیں یہی ہے کہ ہر آئٹم آنلائن منگوا لیا اور گھر والوں نے دلوا بھی دیا تاکہ ہمارے بچے کو یہ نہ لگے کہ پیار نہیں کیا جاتا۔ مگر پھر اسطرح سے کوئی چاہ باقی نہیں رہتی۔
ہر خواہش کا پورا نہ ہونا ایک عظیم نعمت ہے۔ ہر شخص ہی بلکہ میچور شخص اگر اپنی زندگی کو دس سال پیچھے دیکھے، تو وہ خود کو موجودہ زندگی میں گزشتہ دس سال کے مقابلے میں سمجھدار دیکھے گا
اور اپنے ماضی کے واقعات کو ایک مختلف نقطہ نگاہ سے دیکھے گا مگراگلے دس سال گزرنے پر وہی واقعات جو دس سال پہلے ایک مختلف نظر سے دیکھے گئے تھے اب وہی خیالات بالکل الگ طرح بدلے ہوئے نظر آئیں گے۔
زندگی ایک کینوس کی طرح ہے۔ جیسا کہ پینٹنگ بنانے کے لئے کینوس کے اوپر برش سے نشانات لگانے شروع کئے جاتے ہیں اور انکو سٹروکس کہتے ہیں۔ اسی طرح ہر انسان کو ایک کینوس ملا ہے۔ اس میں کچھ سٹروکس لگے ہوئے آپکو ملتے ہیں جن پر آپکا کوئی اختیار نہیں ہے۔
کچھ سٹروکس آپکے کینوس پر لوگ لگاتے ہیں ان پر بھی آپکا اختیار نہیں ہوتا مگر
جو سٹروک خود لگانے کا اختیار رکھتے ہیں ان کو بہتر بنا کر لگائیں گے تاکہ رنگ اچھی کوالٹی کا لگے تو زندگی بہتر لگنے لگے گی جیسا کہ
نیلے سٹروک کے اوپر پیلا سٹروک لگا دیا جائے تو وہ سبز بن جاتا ہے۔
|