ایشیائی انفراسٹرکچر بینک اور پائیدار ترقی کا نیا ماڈل
(Shahid Afraz Khan, Beijing)
|
ایشیائی انفراسٹرکچر بینک اور پائیدار ترقی کا نیا ماڈل تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلی، توانائی کے بحران اور ترقی پذیر ممالک میں بنیادی ڈھانچے کی کمی جیسے چیلنجز دن بدن سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ ان حالات میں پائیدار ترقی، صاف توانائی اور کثیرالجہتی تعاون کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو چکی ہے۔ اسی پس منظر میں ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک ایک ایسے عالمی مالیاتی ادارے کے طور پر ابھرا ہے جو ترقی اور ماحول کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایشیائی انفراسٹرکچر بینک کا قیام 2015 میں عمل میں آیا، جبکہ اس نے باضابطہ طور پر جنوری 2016 میں بیجنگ میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ افتتاحی تقریب کے موقع پر چینی صدر شی جن پھنگ نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ یہ ادارہ اکیسویں صدی کا ایک پیشہ ور، مؤثر اور شفاف کثیرالجہتی ترقیاتی بینک بنے گا۔
گزشتہ تقریباً دس برسوں میں ایشیائی انفراسٹرکچر بینک نے غیر معمولی ترقی کی ہے۔ آغاز میں 57 بانی اراکین کے ساتھ قائم ہونے والا یہ بینک اب 110 رکن ممالک پر مشتمل ہو چکا ہے، جو دنیا کی 81 فیصد آبادی اور 65 فیصد عالمی مجموعی پیداوار کی نمائندگی کرتے ہیں۔ نومبر 2025 میں کولمبیا نے بطور متوقع رکن اس میں شمولیت اختیار کی، جو بینک کے بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد کا ثبوت ہے۔
مزید برآں، 2017 سے ایشیائی انفراسٹرکچر بینک کو اسٹینڈرڈ اینڈ پورز، موڈیز اور فِچ جیسے عالمی اداروں کی جانب سے مسلسل "ٹرپل اے "کریڈٹ ریٹنگ حاصل رہی ہے، جو اس کی مالی مضبوطی اور شفافیت کو ظاہر کرتی ہے۔
ایشیائی انفراسٹرکچر بینک اب تک تقریباً 70 ارب ڈالر کی فنانسنگ کے ذریعے 360 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے چکا ہے، جن کے نتیجے میں مجموعی طور پر 200 ارب ڈالر سے زائد کی انفراسٹرکچر سرمایہ کاری ممکن ہوئی۔
ان منصوبوں کے نتیجے میں 51 ہزار کلومیٹر سے زائد ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر بہتر بنایا گیا، جس سے 41 کروڑ افراد کو سفری سہولت ملی۔ توانائی کے منصوبے سالانہ تقریباً 30 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لا رہے ہیں۔اسی طرح 87 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ پینے کے پانی تک رسائی حاصل ہوئی، جبکہ سیلاب سے بچاؤ کے منصوبوں کے ذریعے 5 ہزار ہیکٹر زمین محفوظ اور 1 کروڑ 30 لاکھ افراد کو فائدہ پہنچا۔
دیہی بنگلہ دیش میں بجلی کی فراہمی اس کی ایک نمایاں مثال ہے، جہاں 2016 میں ایشیائی انفراسٹرکچر بینک نے 165 ملین ڈالر فراہم کر کے بجلی کے نظام کو بہتر بنایا، جس سے 1 کروڑ 25 لاکھ دیہی آبادی مستفید ہوئی۔اسی طرح آئیوری کوسٹ میں 2023 میں مکمل ہونے والا دیہی سڑکوں کا منصوبہ نقل و حمل کی مشکلات کم کرنے کا سبب بنا، جس کے بعد مقامی آبادی کو سیلابی موسم میں بھی اسپتالوں اور منڈیوں تک رسائی ممکن ہوئی۔
ایشیائی انفراسٹرکچر بینک صرف مالی معاونت تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مضبوط کثیرالجہتی تعاون کا پلیٹ فارم بھی بن چکا ہے۔ بینک میں ترقی پذیر ممالک کے پاس تقریباً 70 فیصد جبکہ ترقی یافتہ ممالک کے پاس 30 فیصد حصص ہیں، جس سے شراکت اور اتفاقِ رائے پر مبنی نظام کو فروغ ملتا ہے۔ بینک نے اب تک 100 سے زائد عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ شراکت داری قائم کی ہے اور دیگر کثیرالجہتی بینکوں کے ساتھ مل کر 130 سے زائد منصوبے مکمل کیے ہیں۔ لاؤس کا مون سون ونڈ پاور منصوبہ اسی بین الاقوامی تعاون کی عملی مثال ہے۔
مجموعی طور پر، ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک نے مختصر مدت میں عالمی ترقیاتی منظرنامے میں ایک مؤثر اور ذمہ دار ادارے کے طور پر اپنی شناخت قائم کی ہے۔ صاف توانائی، بنیادی ڈھانچے اور عوامی فلاح پر مرکوز منصوبے نہ صرف ترقی پذیر ممالک کی ضروریات پوری کر رہے ہیں بلکہ عالمی ماحولیاتی اہداف کے حصول میں بھی مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، بڑھتے ہوئے یکطرفہ رجحانات اور تجارتی تحفظ پسندی کے اس دور میں ایشیائی انفراسٹرکچر بینک جیسے ادارے کثیرالجہتی تعاون کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے، اور مستقبل میں عالمی ترقی اور گورننس کے عمل کو مزید مستحکم بنانے کا ذریعہ بنیں گے۔ |
|